”ہم اپنے پیرشز کو کیسے بیدار کر سکتے ہیں؟“
فرنچ کیتھولک رسالے فیملی کریٹینی (مسیحی خاندان) کی طرف سے حال ہی میں پوچھا جانے والا یہ سوال بہتیروں کیلئے کسی قسم کی حیرانی کا باعث نہیں ہے۔ برطانیہ کے کارڈینل ہیوم نے تو پیرشز کو ”خوابیدہ عفریت“ کا نام دیا تھا۔ دوسروں میں مُنادی کرنے والے پیرش کے گروپوں کو محض غنودگی کو روکنے کا ذریعہ خیال کِیا جاتا ہے۔ ایک اطالوی پادری اسے ”نئے طریقوں کیساتھ براہِراست بشارت دینا“ کہتا ہے۔ اگرچہ پوپ نے حال ہی میں ایسے اقدام کی حوصلہافزائی کی ہے تاہم، سب لوگ دوسروں کو اپنے ایمان کی بابت بتانے کی ضرورت کو محسوس نہیں کرتے۔
حال ہی میں، میلان کے ایک نائب پادری، پیگی پیرینی نے افریقہ کا دورہ کِیا، جہاں ایک راہبہ نے اُسے بتایا: ”مجھے یہاں آئے ہوئے ۴۰ برس ہو گئے ہیں اور افریقی تہذیب کے تہسنہس ہونے کے ڈر سے مَیں ابھی تک اپنی زبان سے یسوع کا نام نہ لینے میں کامیاب رہی ہوں۔“ آخر میں نائب پادری نے کہا: ”ہم یسوع کی بابت کلام نہیں کرتے، ہم یسوع کو اپنے ساتھ شریک نہیں کرتے، ہم انجیل کی مُنادی نہیں کرتے!“ تاہم، کئی دوسرے لوگوں کیلئے، مُنادی اُنکی زندگیوں کا ایک اہم حصہ اور روحانی طور پر بیدار رہنے کا ذریعہ ہے۔ پیگی پیرینی تسلیم کرتا ہے: ”اگر آپکا سامنا ایسے دو اشخاص سے ہوتا ہے جو بازار میں مسیح کی بابت گفتگو کر رہے ہیں یا جن کی بغل میں بائبل ہے تو آپ بِلاہچکچاہٹ خود سے کہتے ہیں: یہ تو یہوواہ کے گواہ ہیں!“
لاکھوں لوگ یہوواہ کے گواہوں کیساتھ خدا کے کلام کی بابت گفتگو کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ بِلاشُبہ گواہوں نے آپکے علاقے میں بھی بائبل مباحثوں کا بندوبست کر رکھا ہے۔ پہلی صدی کی طرح، یہ سرگرم مسیحی ایک دوسرے کی حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ دوسروں کو اپنے ایمان کی بابت بتائیں۔ اُنکی عبادت کی جگہیں (جنہیں کنگڈم ہال کہا جاتا ہے) محبت اور باہمی احترام کی جگہیں ہیں۔ یہوواہ کے گواہوں کی طرف سے ترتیب دئے گئے کسی اجلاس پر کیوں نہ حاضر ہوں اور یہ دیکھیں کہ آپ روحانی غنودگی کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟