یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏12 ص.‏ 20-‏24
  • ہمارے والدین نے ہمیں خدا سے محبت کرنا سکھایا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ہمارے والدین نے ہمیں خدا سے محبت کرنا سکھایا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بائبل سچائی سیکھنا
  • جوکچھ انہوں نے سیکھا اس پر عمل کِیا
  • ہمیں سچائی سکھانا
  • سیلمہ میں لوگوں کی طرف سے بلوہ
  • گلئیڈ مشنری سکول میں
  • اپنے والدین کیساتھ مشنری خدمت
  • اپنے والدین کی دیکھ‌بھال کرنا
  • مَیں یہوواہ خدا اور اپنی امی کے قریب آ گئی ہوں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • ‏”‏مَیں کوئی تبدیلی نہیں چاہونگی!‏“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • پہلے بادشاہت کی تلاش کرنا—‏ایک خوشحال اور بے‌فکر زندگی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2003ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏12 ص.‏ 20-‏24

ہمارے والدین نے ہمیں خدا سے محبت کرنا سکھایا

الزبتھ ٹریسی کی زبانی

مسلح آدمی جنہوں نے اُس دن کے شروع میں ہمارے خلاف جلوس نکالا تھا، اُنہوں نے امی اور ابو کو زبردستی کار سے باہر نکالا۔ میری بہن اور مجھے پچھلی سیٹ پر اس سوچ میں ڈوبا ہوا تنہا چھوڑ دیا گیا کہ آیا ہم کبھی دوبارہ اپنے والدین کو دیکھیں گی۔ کونسی چیز ۱۹۴۱ میں، سیلمہ، الابامہ یو.‏ایس.‏اے.‏ کے نزدیک اس دہشتناک واقعہ کا باعث بنی؟ نیز جو تعلیم ہم نے اپنے والدین سے حاصل کی تھی اُسکا اس سے کیا تعلق ہے؟‏

میرے والد ڈیوئی فاؤنٹن کے والدین کی وفات اُسکے بچپن ہی میں ہو گئی جسکے بعد اُنکی پرورش ٹیکساس میں ایک فارم پر اُنکے ایک رشتہ‌دار نے کی تھی۔ بعدازاں اُس نے معدنی تیل کے کنوؤں پر کام شروع کر دیا تھا۔ اُس نے، ۱۹۲۲ میں، ۲۳ سال کی عمر میں ٹیکساس کی ایک خوبصورت لڑکی وَنی سے شادی کر لی اور مطمئن اور پُرسکون زندگی اور خاندان بڑھانے کی منصوبہ‌سازی میں لگ گیا۔‏

اُس نے مشرقی ٹیکساس میں چھاؤنی کے ایک چھوٹے قصبے کے نزدیک جنگلاتی علاقے میں ایک گھر تعمیر کِیا۔ وہاں اُس نے کپاس اور مکئی سمیت مختلف فصلوں کی کاشت کی۔ اُس نے ہر قسم کے پالتو جانور بھی رکھے ہوئے تھے۔ کچھ عرصے بعد ہماری پیدائش ہوئی—‏ڈیوئی جونیئر مئی ۱۹۲۴ میں، ایڈوینا دسمبر ۱۹۲۵ میں اور مَیں جون ۱۹۲۹ میں پیدا ہوئی۔‏

بائبل سچائی سیکھنا

امی اور ابو سمجھتے تھے کہ چرچ آف کرائسٹ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے وہ بائبل کو سمجھتے ہیں۔ لیکن ۱۹۳۲ میں، جی.‏ڈبلیو.‏کک نے واچ‌ٹاور سوسائٹی کی شائع‌کردہ کتابیں ڈلیورنس اور گورنمنٹ ہمارے تایا مونرو فاؤنٹن کو دیں۔ جو کچھ وہ سیکھ رہے تھے میرے والدین کو اُس میں شریک کرنے کے شوق میں، مونرو اکثر ناشتے کے وقت آ جایا کرتے تھے، مینارِنگہبانی سے ایک مضمون پڑھکر پھر ”‏اتفاقاً“‏ وہیں پر رسالہ چھوڑ جاتے تھے۔ بعد میں امی اور ابو اسے پڑھتے تھے۔‏

ایک اتوار کی صبح انکل مونرو نے ابو کو پڑوسیوں کے گھر بائبل مطالعے کیلئے مدعو کِیا۔ اس نے انہیں یقین دلایا کہ مسٹر کک اُنکے تمام سوالوں کا جواب بائبل سے دے سکتے ہیں۔ جب ابو مطالعے سے واپس لوٹے تو انہوں نے بڑے جوش سے خاندان کو بتایا:‏ ”‏مجھے میرے تمام سوالوں کا جواب اور اضافی معلومات بھی مل گئی ہیں!‏ میرا خیال تھا میں سب جانتا ہوں لیکن جب مسٹر کک نے دوزخ، جان، زمین کے متعلق خدا کے مقاصد اور کیسے خدا کی بادشاہت اسے پورا کریگی کی وضاحت کرنا شروع کی تو مَیں نے محسوس کِیا کہ مجھے تو واقعی بائبل کے متعلق کچھ بھی نہیں آتا!‏“‏

ہمارا گھر ایک طرح سے سماجی میل‌جول کا مرکز تھا۔ رشتہ‌دار اور دوست میل‌ملاقات کیلئے آتے، مکھن اور دودھ کی بنی ہوئی نرم‌قندی اور مکئی کے دانے (‏پاپ‌کارن)‏ بناتے اور جب امی پیانو بجاتی تو ساتھ ساتھ گانے گاتے تھے۔ رفتہ‌رفتہ بائبل موضوعات پر مباحثوں نے ان تقریبات کی جگہ لے لی۔ اگرچہ ہم بچے زیرِبحث تمام باتوں کو تو نہیں سمجھ سکتے تھے توبھی خدا اور بائبل کے لئے ہمارے والدین کی گہری محبت اس قدر نمایاں تھی کہ ہم بچوں میں سے ہر ایک نے خدا اور اس کے کلام کیلئے ویسی ہی محبت پیدا کر لی تھی۔‏

دیگر خاندانوں نے بھی اپنے گھر ہفتہ‌وار بائبل مباحثوں کیلئے فراہم کر دئے تھے جو عام طور پر حالیہ مینارِنگہبانی کے کسی ایک مضمون پر مرکوز ہوتے تھے۔ جب ایپل‌بائی اور ناکوڈوچز کے قریبی قصبوں کے خاندان اجلاس منعقد کِیا کرتے تھے تو ہم بارش یا سخت دھوپ کے باوجود، اپنی ماڈل اے فورڈ گاڑی کو بھر کر وہاں لے جایا کرتے تھے۔‏

جوکچھ انہوں نے سیکھا اس پر عمل کِیا

ہمارے والدین نے عمل کرنے کی ضرورت کو محسوس کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی تھی۔ خدا کی محبت کا تقاضا تھا کہ جو کچھ سیکھا گیا ہے اس میں دوسروں کو بھی شریک کِیا جائے۔ (‏اعمال ۲۰:‏۳۵‏)‏ لیکن اپنے ایمان کا علانیہ اقرار کرنا ایک چیلنج تھا، خاص طور پر جب ہمارے والدین فطرتی طور پر شرمیلے اور سادہ‌مزاج تھے۔ تاہم، خدا کیلئے ان کی محبت نے انہیں تحریک دی اور یوں اس چیز نے اُنہیں مدد دی کہ ہمیں خدا پر مضبوط توکل رکھنے کی تعلیم دیں۔ ابو نے اس کا اظہار یوں کیا:‏ ”‏یہوواہ مٹر چننے والوں میں سے مناد تیار کر رہا ہے!‏“‏ امی اور ابو نے ۱۹۳۳ میں یہوواہ کے حضور اپنی مخصوصیت کی علامت میں ہینڈرسن، ٹیکساس کے نزدیک مچھلیوں کے ایک تالاب کے اندر پانی میں بپتسمہ لیا۔‏

ابو نے، ۱۹۳۵ کے اوائل میں، ایک خط کے ذریعے واچ‌ٹاور سوسائٹی سے ابدی زندگی کی مسیحی اُمید کے متعلق کئی ایک سوال پوچھے۔ (‏یوحنا ۱۴:‏۲؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۱، ۱۲؛‏ مکاشفہ ۱۴:‏۱،‏ ۳؛‏ ۲۰:‏۶‏)‏ اُنہیں اس وقت سوسائٹی کے صدر جوزف ایف.‏ رتھرفورڈ سے براہِ‌راست جواب موصول ہوا۔ ان کے سوالوں کے جواب دینے کی بجائے، بھائی رتھرفورڈ نے ابو کو مئی میں، واشنگٹن ڈی.‏سی.‏ میں، یہوواہ کے گواہوں کے کنونشن پر حاضر ہونے کی دعوت دی۔‏

‏’‏ناممکن!‏‘‏ ابو نے سوچا۔ ’‏ہم ۶۵ ایکڑ پر سبزیاں کاشت کرنے والے کسان ہیں۔ اس وقت ان کی کٹائی کرنی اور پھر منڈی لیجانا ہوگا۔‘‏ تاہم، اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک سیلاب آیا اور اس کے حیلے بہانوں—‏اُسکی فصلوں، احاطہ‌بندیوں اور گزرگاہوں—‏کو بہا لے گیا۔ پس ہم دوسرے گواہوں کیساتھ ایک چارٹرڈ سکول بس پر سوار ہو گئے جو ہمیں ۱،۶۰۰ کلومیٹر شمال‌مشرق کی طرف کنونشن کی جگہ لے گئی۔‏

کنونشن پر امی اور ابو ”‏بڑی مصیبت“‏ سے بچنے والی ”‏بڑی بِھیڑ“‏ کی شاخت سے متعلق واضح تشریح سن کر بہت خوش ہوئے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹،‏ ۱۴‏)‏ اُنکی باقی زندگی کے دوران فردوسی زمین پر ابدی زندگی کی اُمید نے امی ابو کو تحریک دی اور انہوں نے ہم بچوں کی ”‏حقیقی زندگی پر قبضہ کرنے“‏ کیلئے حوصلہ‌افزائی کی جس کا مطلب ہمارے لئے زمین پر ابدی زندگی حاصل کرنا تھا جسکی پیشکش یہوواہ کرتا ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۹؛‏ زبور ۳۷:‏۲۹؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۳، ۴‏)‏ اگرچہ مَیں صرف پانچ سال کی تھی توبھی مَیں نے اس خوش‌کُن موقع پر اپنے خاندان کیساتھ واقعی لطف اُٹھایا۔‏

کنونشن سے واپس آنے کے بعد، خاندان نے دوبارہ فصلوں کی کاشت شروع کر دی اور بعدازاں ہمیں پہلے کی نسبت کہیں اچھی فصل حاصل ہوئی۔ یہ چیز یقیناً امی اور ابو کو اس بات کیلئے قائل کرنے میں معاون ثابت ہوئی کہ یہوواہ پر پورا بھروسہ رکھنا کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتا۔ انہوں نے مُنادی کے کام کے سلسلے میں ایک خاص فارم پُر کِیا جس میں اُنہوں نے آمادگی ظاہر کی کہ وہ دونوں ہر مہینے خدمتگزاری میں ۵۲ گھنٹے صرف کرینگے۔ اس کے بعد، جب فصل کاشت کرنے کا اگلا موسم آیا تو انہوں سب کچھ بیچ ڈالا!‏ ابو کے پاس ۲۰ ضربِ ۸ فٹ کا ٹریلر تھا جو ہم پانچوں کے رہنے کیلئے تعمیر کِیا گیا تھا، اور اسے کھینچنے کیلئے اُس نے دو دروازوں والی نئی برانڈ کی فورڈ سیڈن خرید لی تھی۔ انکل مونرو نے بھی ایسا ہی کِیا اور وہ بھی اپنے خاندان سمیت ایک ٹریلر میں منتقل ہو گئے۔‏

ہمیں سچائی سکھانا

اکتوبر ۱۹۳۶ میں امی اور ابو نے پائنیرنگ شروع کر دی جیساکہ کُل‌وقتی خدمتگزاری کو کہا جاتا ہے۔ ایک خاندان کے طور پر ہم نے مشرقی ٹیکساس کے علاقوں میں منادی کرنا شروع کر دی جن میں شاید ہی بادشاہتی پیغام دیا گیا تھا۔ تقریباً ایک سال تک ہم ایک سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے، بہرحال ہم نے ایسی زندگی سے واقعی لطف اُٹھایا تھا۔ امی اور ابو نے ہمیں اپنے قول‌وفعل سے ابتدائی مسیحیوں کی طرح بننے کی تعلیم دی جنہوں نے خود کو دوسروں تک بائبل سچائی پہنچانے کیلئے وقف کر دیا تھا۔‏

ہم بچے بالخصوص اپنی ماں کی اُن قربانیوں کی تعریف کرتے تھے جو کہ اُس نے اپنا گھربار ترک کر دینے کے سلسلے میں دی تھیں۔ تاہم، اُس نے ایک چیز کو خود سے جُدا نہیں کِیا تھا اور وہ اس کی سلائی مشین تھی۔ یہ ایک اچھی بات تھی۔ ایک درزن کے طور پر وہ ہمیں ہمیشہ اچھا لباس پہناتی تھی۔ ہر کنونشن پر، ہمارے پاس پہننے کیلئے ہمیشہ جاذبِ‌نظر نئے کپڑے ہوتے تھے۔‏

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب ہرمن جی.‏ ہینشل اپنے خاندان سمیت واچ‌ٹاور سوسائٹی کے ایک ساؤنڈ ٹرک میں ہمارے علاقے میں آئے تھے۔ وہ ٹرک کو ایک گنجان‌آباد علاقے میں پارک کرتے، ایک مختصر سی ریکارڈشُدہ تقریر سنواتے اور پھر مزید معلومات دینے کیلئے لوگوں سے ذاتی ملاقات کرتے تھے۔ ڈیوئی جونیئر ہرمن کے بیٹے ملٹن کی رفاقت سے خوش ہوتا تھا جو کہ اس وقت ۱۳ سے ۱۶ سال تک کی درمیانی عمر میں تھا۔ اس وقت ملٹن واچ‌ٹاور سوسائٹی کا صدر ہے۔‏

سن ۱۹۳۷ میں کولمبس اوہائیو میں، کنونشن کے دوران ایڈوینا نے بپتسمہ لے لیا اور امی اور ابو کو سپیشل پائنیر کے طور پر خدمت انجام دینے کی پیشکش کی گئی۔ اس وقت اس کام میں ہر مہینے مُنادی میں ۲۰۰ گھنٹے صرف کرنا شامل تھا۔ جب مَیں ماضی پر نگاہ ڈالتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ امی کے عمدہ نمونے نے مسیحی تفویضات میں اپنے شوہر کی حمایت کرنے میں میری کس قدر مدد کی ہے۔‏

جب ابو نے ایک خاندان کیساتھ بائبل مطالعہ شروع کِیا تو ان کے بچوں کیلئے ایک مثبت نمونہ فراہم کرنے کیلئے وہ ہم بچوں کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ وہ ہم سے بائبل آیات تلاش کرنے اور پڑھنے کو کہتے تھے اور بعض بنیادی سوالات کے جواب بھی پوچھتے تھے۔ نتیجتاً، جن نوجوانوں کیساتھ ہم نے مطالعہ کیا ان میں سے بیشتر آج تک وفاداری کیساتھ یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ بیشک، ہمارے لئے ہمیشہ خدا سے محبت رکھنے کیلئے ایک پُختہ بنیاد ڈال دی گئی تھی۔‏

جب ڈیوئی جونیئر بڑا ہؤا تو اس نے دو چھوٹی بہنوں کیساتھ ایسے تنگ کوارٹروں میں رہنا مشکل پایا۔ پس ۱۹۴۰ میں اس نے اسے چھوڑنے اور ایک دوسرے گواہ کیساتھ پائنیر خدمتگزاری کا آغاز کرنے کا فیصلہ کِیا۔ بالآخر اس نے آڈری بیرون سے شادی کر لی۔ یوں آڈری کو بھی ہمارے والدین نے بہت سی باتوں کی تعلیم دی اور وہ بھی امی اور ابو سے بہت محبت کرنے لگی۔ ڈیوئی جونیئر کے اپنی مسیحی غیرجانبداری کے باعث ۱۹۴۴ میں قید میں چلے جانے کے بعد، وہ کچھ عرصہ ہمارے ساتھ رہنے کیلئے ہمارے تنگ ٹریلر میں آ گئی۔‏

سینٹ لوئیز، میسوری میں، ۱۹۴۱ میں ایک بڑے کنونشن پر، بھائی رتھرفورڈ ۵ تا ۱۸ سال کی عمر کے اُن بچوں سے براہِ‌راست ہمکلام ہوئے جو سامنے ایک خاص سیکشن میں بیٹھے ہوئے تھے۔ مَیں نے اور ایڈوینا نے اُنکی پُرسکون، واضح آواز کو سنا؛ وہ گھر پر اپنے بچوں کو ہدایت دینے والے ایک شفیق باپ کی مانند تھے۔ اُس نے والدین کی حوصلہ‌افزائی کی:‏ ”‏آج مسیح یسوع نے اپنے حضور عہد میں بندھے ہوئے اپنے لوگوں کو اکٹھا کِیا ہے اور نہایت ہی پُرزور طریقے سے وہ انہیں حکم دیتا ہے کہ اپنے بچوں کو راستبازی کی راہ میں تعلیم دیں۔“‏ اُس نے اضافہ کِیا:‏ ”‏انہیں گھر پر رکھیں اور سچائی کی تعلیم دیں!‏“‏ خوشی کی بات ہے کہ ہمارے والدین نے ایسا ہی کِیا!‏

کنونشن پر ہم نے نیا کتابچہ جیہوواز سرونٹس ڈیفینڈڈ حاصل کِیا جس نے ان عدالتی مقدمات کا اعادہ کِیا جن میں یہوواہ کے گواہوں کی جیت ہوئی تھی، اس میں ریاستہائے متحدہ کے سپریم کورٹ کے مقدمے بھی شامل تھے۔ ابو نے خاندان کے طور پر ہمارے ساتھ اس کا مطالعہ کِیا۔ ہمیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ ہمیں سیلمہ، الابامہ میں چند ہفتے بعد ہونے والے واقعات کے لئے تیار کِیا جا رہا تھا۔‏

سیلمہ میں لوگوں کی طرف سے بلوہ

اس دہشتناک تجربے کی صبح، ابو سیلمہ میں اس خط کی نقول شیرف، میئر اور پولیس چیف کو دے چکے تھے جس میں بیان کِیا گیا تھا کہ قانون کے زیرِتحفظ ہمیں خدمتگزاری کو جاری رکھنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ تاہم، انہوں نے ہمیں شہر سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا۔‏

شام کے وقت، پانچ مسلح آدمی ہمارے ٹریلر میں آئے اور امی، میری بہن اور مجھے یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے کسی تخریبی چیز کی تلاش میں ہر چیز کی مکمل تلاشی لینا شروع کر دی۔ ابو باہر تھے اور تمام وقت اپنی پستولوں کا رُخ ابو کی طرف کئے ہوئے اُنہوں نے حکم دیا کہ وہ ٹریلر کو کار سے باندھ لیں۔ اس وقت تک مَیں بالکل خوفزدہ نہیں تھی۔ یہ اس قدر مضحکہ‌خیز لگ رہا تھا کہ ان آدمیوں کا خیال تھا کہ ہم خطرناک لوگ ہیں لہٰذا مَیں اور میری بہن ہنسنے لگیں۔ تاہم، ابو کے غصے کو دیکھ کر ہم سنجیدہ ہو گئیں۔‏

جب ہم جانے کیلئے تیار تھے تو اُن آدمیوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایڈوینا اور مَیں انکی کار میں سوار ہوں۔ ابو نے سختی سے کہا:‏ ”‏اس کیلئے تمہیں میری لاش سے گزرنا ہوگا!‏“‏ کچھ بحث‌وتکرار کے بعد ہمارے خاندان کو اکٹھے سفر کرنے کی اجازت دے دی گئی جبکہ مسلح آدمیوں نے اپنی کار میں ہمارا تعاقب کِیا۔ قصبے سے کوئی ۱۵ میل دُور آ کر، انہوں نے ہمیں شاہراہ کے ایک طرف پارک کرنے کا اشارہ کیا اور امی اور ابو کو اپنے ساتھ لے گئے۔ وہ آدمی باری باری اُنہیں قائل کرنے لگے:‏ ”‏اس مذہب کو چھوڑ دو۔ اپنے فارم پر واپس چلے جاؤ اور اپنی لڑکیوں کی صحیح پرورش کرو!‏“‏ ابو نے ان کیساتھ استدلال کرنے کی کوشش کی مگر کچھ فائدہ نہ ہؤا۔‏

آخرکار ایک آدمی نے کہا:‏ ”‏جاؤ اور اگر تم ڈیلاس کاؤنٹی میں پھر واپس آئے تو ہم تم سب کو قتل کر دیں گے!‏“‏

چھٹکارا حاصل کرنے اور پھر سے اکٹھے ہو کر ہم نے کئی گھنٹے سفر کِیا اور پھر رات گزارنے کیلئے ٹریلر کو پارک کِیا۔ ہم نے انکی کار کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔ ابو نے فوراً ساری رپورٹ واچ‌ٹاور سوسائٹی کو دی اور کچھ ماہ بعد ان آدمیوں کو شناخت کر کے گرفتار کر لیا گیا۔‏

گلئیڈ مشنری سکول میں

ایڈوینا کو ۱۹۴۶ میں ساؤتھ لانسنگ، نیو یارک میں واچ‌ٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کی ۷ویں کلاس میں حاضر ہونے کی دعوت دی گئی۔ انسٹرکٹروں میں سے ایک، البرٹ شروڈر نے ایک سابق ساتھی پائنیر بِل ایلروڈ سے جو اس وقت بیت‌ایل، بروکلن نیو یارک میں یہوواہ کے گواہوں کے عالمی ہیڈکوارٹرز میں خدمت کر رہا تھا ایڈوینا کی عمدہ خوبیوں کا تذکرہ کِیا۔‏a ایڈوینا اور بِل کا تعارف ہؤا اور گلئیڈ سے اُس کی گریجویشن کے تقریباً ایک سال بعد اُن کی شادی ہو گئی۔ وہ کئی سال تک کُل‌وقتی خدمت کرتے رہے جس میں پانچ سال بیت‌ایل میں خدمت کرنا بھی شامل تھا۔ پھر ایک دن ۱۹۵۹ میں، بھائی شروڈر نے گلئیڈ کی ۳۴ویں کلاس میں اعلان کِیا کہ اس کا عزیز دوست جڑواں بچوں، ایک لڑکے اور ایک لڑکی کا باپ بن گیا ہے۔‏

جب مَیں ۱۹۴۷ کے آخر میں اپنے والدین کے ساتھ میریڈئین، مس‌سیسی‌پی، میں خدمت کر رہی تھی تو ہم تینوں کو گلئیڈ کی ۱۱ویں کلاس میں شامل ہونے کی دعوت ملی۔ ہم بہت حیران ہوئے کیونکہ شرائط کے مطابق میری عمر بہت کم اور امی اور ابو کی عمر بہت زیادہ تھی۔ تاہم چھوٹ برتی گئی اور ہمیں اعلیٰ بائبل تعلیم‌وتربیت حاصل کرنے کا غیرمستحق شرف ملا۔‏

اپنے والدین کیساتھ مشنری خدمت

ہمیں مشنری خدمت کیلئے کولمبیا، جنوبی امریکا بھیجا گیا۔ تاہم، ہماری گریجویشن کے ایک سال بعد، ۱۹۴۹ میں ہم بوگاٹا میں مشنری ہوم میں آئے جہاں پہلے ہی سے تین لوگ رہ رہے تھے۔ پہلے‌پہل تو ابو نے محسوس کِیا کہ ان کیلئے ہسپانوی زبان سیکھنے کی نسبت لوگوں کو انگریزی سکھانا آسان ہوگا!‏ جی‌ہاں، آزمائشیں تو آئیں لیکن برکات کتنی زیادہ ملیں!‏ کولمبیا میں ۱۹۴۹ میں ایک سو سے بھی کم گواہ تھے لیکن اس وقت ۱،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ ہیں!‏

پانچ سال تک بوگاٹا میں خدمت کرنے کے بعد امی اور ابو کو کیلی کے شہر بھیج دیا گیا۔ اسی دوران مَیں نے ۱۹۵۲ میں، کولمبیا میں ایک ساتھی مشنری، رابرٹ ٹریسی کیساتھ شادی کر لی۔‏b ہم کولمبیا میں ۱۹۸۲ تک رہے جس کے بعد ہمیں میکسیکو بھیج دیا گیا جہاں ہم اب تک خدمت کر رہے ہیں۔ بالآخر، ۱۹۶۸ میں، میرے والدین کو طبّی نگہداشت کیلئے ریاستہائے‌متحدہ واپس جانا پڑا۔ تندرست ہو جانے کے بعد، انہوں نے سپیشل پائنیروں کے طور پر موبیل، الابامہ کے نزدیک خدمت جاری رکھی۔‏

اپنے والدین کی دیکھ‌بھال کرنا

جیسے جیسے وقت گزرا، امی اور ابو کی صحت گرتی گئی اور انہیں زیادہ مدد اور توجہ کی ضرورت تھی۔ انکی درخواست پر انہیں خدمت کرنے کیلئے ایتھنز، الابامہ میں ایڈوینا اور بِل کے نزدیک بھیج دیا گیا۔ بعدازاں ہمارے بھائی، ڈیوئی جونیئر نے سوچا کہ جنوبی کیرولینا میں خاندان کا اکٹھا رہنا دانشمندی کی بات ہوگی۔ پس بِل امی اور ابو کیساتھ اپنے خاندان کو لیکر گرین‌وڈ میں منتقل ہو گیا۔ اس پُرمحبت تبدیلی نے رابرٹ اور میرے لئے یہ بات جانتے ہوئے کہ میرے والدین کی اچھی دیکھ‌بھال ہو رہی ہے کولمبیا میں اپنی مشنری خدمت کو جاری رکھنا ممکن بنایا۔‏

پھر ۱۹۸۵ میں، ابو پر فالج کا دورہ پڑا جس سے انکی زبان بند ہوگئی اور وہ صاحبِ‌فراش ہو گئے۔ ہم اس بات پر غور کرنے کیلئے بطور خاندان اکٹھے ہوئے کہ اپنے والدین کی دیکھ‌بھال کرنے کیلئے کونسا بہترین طریقہ اختیار کریں۔ یہ فیصلہ کِیا گیا کہ آڈری بنیادی طور پر دیکھ‌بھال کی ذمہ‌دار ہوگی اور رابرٹ اور مَیں حوصلہ‌افزا تجربات کے ساتھ ہر ہفتے خط بھیجنے اور اور اکثراوقات جس قدر بھی ممکن ہو ملاقاتیں کرنے سے بہترین مدد کر سکتے ہیں۔‏

ابو کے ساتھ میری آخری ملاقات میرے ذہن میں ابھی بھی تازہ ہے۔ عام طور پر وہ صاف تلفظ کیساتھ نہیں بول سکتے تھے لیکن ہمارے یہ بتانے کے بعد کہ ہم میکسیکو واپس جا رہے ہیں، انہوں نے کسی نہ کسی طرح بڑی کوشش اور جذبے سے ایک لفظ کہا، ”‏ایڈیوس!‏“‏ (‏خدا حافظ!‏)‏ اس سے ہم جان گئے کہ اپنے دل میں، وہ ہماری مشنری تفویض جاری رکھنے کے ہمارے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں۔ وہ جولائی ۱۹۸۷ میں فوت ہو گئے اور امی نو ماہ بعد وفات پا گئیں۔‏

ایک خط جو مَیں نے اپنی بیوہ بہن سے موصول کِیا وہ اس قدردانی کی خوب تلخیص کرتا ہے جو ہم سب اپنے والدین کیلئے محسوس کرتے ہیں۔ ”‏مَیں اپنے کثیر مسیحی ورثے کو عزیز رکھتی ہوں اور ایک لمحے کے لئے بھی محسوس نہیں کرتی کہ اگر ہمارے والدین نے مختلف طریقے سے ہماری پرورش کرنے کا انتخاب کِیا ہوتا تو مَیں زیادہ خوش ہوتی۔ مضبوط ایمان، خودایثاری اور یہوواہ پر مکمل بھروسے کے انکے نمونے نے زندگی میں افسردگی کے اوقات میں میری مدد کی ہے۔“‏ ایڈوینا نے اختتام پر یہ کہا:‏ ”‏میں ایسے والدین کے لئے یہوواہ کا شکر ادا کرتی ہوں جنہوں نے قول‌وفعل سے ہمارے لئے اس خوشی کو ظاہر کِیا جو ہم پُرمحبت خدا یہوواہ کی خدمت کرنے کے گرد اپنی زندگیاں تعمیر کرنے سے حاصل کر سکتے ہیں۔“‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a مارچ ۱، ۱۹۸۸ کے دی واچ‌ٹاور، صفحات ۱۱، ۱۲ کو دیکھیں۔‏

b مارچ ۱۵، ۱۹۶۰ کے دی واچ‌ٹاور، صفحات ۱۸۹-‏۱۹۱ کو دیکھیں۔‏

‏[‏صفحہ 22، 23 پر تصویریں]‏

فاؤنٹن خاندان:‏ (‏بائیں سے دائیں طرف‏)‏ ڈیوئی، ایڈوینا، وَنی، الزبتھ، ڈیوئی جونیئر؛ دائیں:‏ ہینشل کے ساؤنڈ ٹرک کے جنگلے پر الزبتھ اور ڈیوئی جونیئر (‏۱۹۳۷‏)‏‏؛ نیچے دائیں طرف:‏ الزبتھ ۱۶ سال کی عمر میں پلے‌کارڈ کے ذریعے منادی کر رہی ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں