حوصلہشکنی کی بابت کیا کِیا جا سکتا ہے؟
ایک شخص حوصلہشکنی کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا جو یہوواہ کے گواہوں کی کلیسیاؤں کا باقاعدگی سے دورہ کرنے والے مختلف سفری نگہبانوں سے پوچھا گیا تھا۔ ان کے جوابات حوصلہشکنی کے اسباب اور کسی بھی مسیحی پر اثرانداز ہونے والی اس حالت کے تدارک کا جائزہ لینے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔
حوصلہشکنی سے نپٹنے کیلئے محض جائزہ لینے سے کچھ زیادہ کی ضرورت ہے تاہم، علامات میں دُعا یا ذاتی مطالعہ میں دلچسپی کی کمی، اجلاسوں پر حاضری میں بےقاعدگی، جوشوخروش کا فقدان یا پھر مسیحی ساتھیوں کیلئے کسی حد تک سردمہری شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، سب سے نمایاں نشانات میں سے ایک بشارتی کام کیلئے سرگرمی میں کمی ہے۔ آئیے علامات کی جانچ کریں اور اُنکے تدارک پر غور کریں۔
ہمارے بشارتی کام میں حوصلہشکنی
یسوع مسیح شاگرد بنانے کے کام سے وابستہ مشکلات سے بخوبی واقف تھا۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) اس نے اپنے پیروکاروں کو گویا ”بھیڑوں کو بھیڑیوں کے بیچ میں“ بھیجا تھا، یہ جانتے ہوئے کہ ان کی منادی کی کارگزاری ان پر اذیت لائے گی۔ (متی ۱۰:۱۶-۲۳) تاہم، ان کے لئے یہ بےحوصلہ ہونے کی وجہ نہیں تھی۔ درحقیقت، یہوواہ پر دُعائیہ توکل رکھنے والے خدا کے خادموں نے اکثر اذیت سے تقویت حاصل کی ہے۔—اعمال ۴:۲۹-۳۱؛ ۵:۴۱، ۴۲۔
جب مسیح کے شاگرد سخت اذیت میں مبتلا نہیں بھی ہوتے تھے تو بھی اُنہیں ہمیشہ خوشی سے قبول نہیں کِیا جاتا تھا۔ (متی ۱۰:۱۱-۱۵) اِسی طرح، آجکل یہوواہ کے گواہوں کا منادی کا کام آسانی سے سرانجام نہیں پاتا۔a بیشتر لوگوں کے لئے خدا پر ایمان ایک ذاتی معاملہ ہے جس پر وہ باتچیت کرنا نہیں چاہتے۔ دیگر لوگ جس مذہبی تنظیم سے تعصب رکھتے ہیں اُس سے وہ کسی قسم کا واسطہ نہیں رکھنا چاہتے۔ بِلاشُبہ، بےاعتنائی، نتائج کی کمی یا دیگر مختلف ناگزیر مسائل حوصلہشکنی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان رکاوٹوں پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے؟
بہتر نتائج حاصل کرنا
خدمتگزاری سے ہمیں جو خوشی ملتی ہے وہ جزوی طور پر حاصل ہونے والے نتائج سے منسلک ہے۔ توپھر، ہم اپنی خدمتگزاری کو مزید پھلدار کیسے بنا سکتے ہیں؟ ہم ”آدمگیر“ ہیں۔ (مرقس ۱:۱۶-۱۸) قدیم اسرائیل میں ماہیگیر رات کو مچھلیاں پکڑنے جاتے تھے کیونکہ وہ رات کے وقت زیادہ مچھلیاں پکڑ سکتے تھے۔ ہمیں بھی اپنے علاقے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ ہم بھی اس وقت ”مچھلیاں“ پکڑنے جائیں جب لوگوں کی اکثریت گھر پر موجود ہو اور ہمارے پیغام کو سننے کے لئے تیار ہوتی ہے۔ ایسا شام میں، ہفتے کے آخر پر یا کسی دوسرے وقت پر کِیا جا سکتا ہے۔ ایک سفری نگہبان کے مطابق، یہ اُن علاقوں میں عملی ثابت ہوتا ہے جہاں لوگ سارا دن کام کرتے ہیں۔ اُس کی رائے میں شام کی گواہی سے اکثر شاندار نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ٹیلیفون کے ذریعے یا غیررسمی طور پر گواہی دینے سے ہم زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہے۔
خدمتگزاری میں مستقلمزاجی اچھے نتائج لاتی ہے۔ مشرقی یورپ اور بعض افریقی ممالک میں بادشاہتی منادی کا کام خوب ترقی کر رہا ہے اور یہ عمدہ اضافوں پر منتج ہؤا ہے۔ اسی طرح بیشتر کلیسیائیں ایسے علاقوں میں تشکیل دی گئی ہیں جہاں اکثروبیشتر کام کِیا جاتا ہے یا جنہیں عرصۂدراز سے بےپھل سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، اگر آپ کے علاقے سے ایسے نتائج برآمد نہیں ہو رہے تو کیا ہو؟
اچھا رُجحان برقرار رکھنا
یسوع کے قائمکردہ نشانوں کو واضح طور پر ذہننشین کر لینے سے ہماری مدد ہوگی کہ خدمتگزاری میں بےاعتنائی کی وجہ سے حوصلہشکن نہ ہو جائیں۔ مسیح چاہتا تھا کہ اس کے شاگرد بڑی تعداد میں لوگوں کا مذہب تبدیل کرنے کی بجائے مستحق اشخاص کو تلاش کریں۔ کئی مواقع پر اُس نے نشاندہی کی کہ جیسے بیشتر اسرائیلیوں نے قدیم نبیوں کی نہیں سنی تھی اُسی طرح لوگوں کی بڑی تعداد خوشخبری قبول نہیں کریگی۔—حزقیایل ۹:۴؛ متی ۱۰:۱۱-۱۵؛ مرقس ۴:۱۴-۲۰۔
”اپنی روحانی ضروریات سے باخبر“ اشخاص نے شکرگزاری کیساتھ ”بادشاہی کی . . . خوشخبری“ کو قبول کِیا ہے۔ (متی ۵:۳، اینڈبلیو؛ ۲۴:۱۴) وہ خدا کے وضعکردہ طریقے سے ہی اُسکی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا، ہماری کارگزاری کے نتائج پیغام کو پیش کرنے کی ہماری فطرتی صلاحیت سے زیادہ لوگوں کی دلی حالت سے منسلک ہیں۔ بِلاشُبہ، ہمیں خوشخبری کو جاذبِتوجہ بنانے کیلئے اپنی پوری کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم، نتائج کا انحصار خدا پر ہے کیونکہ یسوع نے کہا: ”کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جس نے مجھے بھیجا ہے اسے کھینچ نہ لے۔“—یوحنا ۶:۴۴۔
ہمارا بشارتی کام یہوواہ کے نام کو مشہور کرتا ہے۔ خواہ لوگ سنتے ہیں یا نہیں، ہماری منادی کی کارگزاری یہوواہ کے پاک نام کی تقدیس کرتی ہے۔ مزیدبرآں، ہم اپنے بشارتی کام کی بدولت یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم مسیح کے شاگرد ہیں اور ہمیں اِس زمانے میں کئے جانے والے اہمترین کام میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے۔—متی ۶:۹؛ یوحنا ۱۵:۸۔
حوصلہشکنی اور تعلقات
خاندان یا کلیسیا میں، مخصوص انسانی تعلقات حوصلہشکنی کا سبب بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، احساسِاپنائیت کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔ ساتھی ایمانداروں کی ناکاملیتیں بھی ہماری حوصلہشکنی کر سکتی ہیں۔ ایک مرتبہ پھر صحائف ہمارے لئے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
عالمگیر ”برادری“ ایک بہت بڑا روحانی خاندان تشکیل دیتی ہے۔ (۱-پطرس ۲:۱۷) تاہم شخصیتی اختلافات کی وجہ سے اُٹھنے والی مشکلات کے وقت ایک متحد اُمت کا حصہ ہونے کا احساس ختم ہو سکتا ہے۔ بدیہی طور پر، پہلی صدی کے مسیحی بھی ایسے مسائل سے مستثنیٰ نہیں تھے اِسی لئے پولس رسول کو انہیں متحد رہنے کی بارہا یاددہانی کرانی پڑی تھی۔ مثال کے طور پر، اس نے دو مسیحی عورتوں—یوؤدیہ اور سنتخے—کو اپنے اختلافات نپٹانے کی نصیحت کی تھی۔—۱-کرنتھیوں ۱:۱۰؛ افسیوں ۴:۱-۳؛ فلپیوں ۴:۲، ۳۔
اگر یہ مسئلہ ہے توپھر، ہم اپنے بہن بھائیوں کیلئے مخلصانہ محبت کو پھر سے کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟ خود کو یہ یاد دلانے سے کہ مسیح انکی خاطر بھی مؤا اور یہ کہ ہماری طرح، وہ بھی اس کے فدیہ کی قربانی پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم یہ بھی یاد رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے بہتیرے بھائی مسیح کی نقل میں ہماری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالنے کیلئے تیار ہیں۔
چند سال پہلے، پیرس، فرانس میں ایک نوجوان گواہ نے کنگڈم ہال کے باہر رکھے گئے اس سوٹکیس کو بِلاہچکچاہٹ اُٹھا لیا جس میں بم رکھا ہؤا تھا۔ اسے دوڑ کر کئی منزلہ عمارت کی سیڑھیوں سے نیچے اترنا پڑا تاکہ اُسے ایک فوارے پر پھینک دے جہاں وہ پھٹ گیا۔ جب اُس سے پوچھا گیا کہ کس چیز نے اُسے اس طرح اپنی جان خطرے میں ڈالنے کی تحریک دی تو اُس نے جواب دیا: ”مَیں نے محسوس کِیا کہ ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں۔ پس مَیں نے سوچا کہ ہم سب کے ہلاک ہو جانے سے یہ بہتر ہے کہ مَیں اکیلا ہی مروں۔“b یسوع کے نمونے کی اس حد تک پیروی کرنے کیلئے تیار ایسے ساتھیوں کا موجود ہونا کتنی بڑی برکت ہے!
علاوہازیں، ہم اُن یہوواہ کے گواہوں کے درمیان پائے جانے والے تعاون کے جذبے پر غوروخوض کر سکتے ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے دوران مراکزِاسیران میں تھے۔c ابھی حال ہی میں ملاوی میں بھی ہمارے بہنبھائیوں نے سچے مسیحیوں کے طور پر، ایسی ہی وفاداری سے اپنی راستی برقرار رکھی۔ کیا یہ خیال کہ مقامی کلیسیا کے ہمارے بھائی سخت حالات میں اسی طرح سے عمل کریں گے ہمیں روزمرّہ کی پریشانیوں اور مشکلات کو نظرانداز کرنے یا کمازکم انہیں کم کرنے کی تحریک نہیں دیتا؟ اگر ہم مسیح جیسا ذہن پیدا کر لیتے ہیں تو ساتھی پرستاروں کے ساتھ ہمارے روزمرّہ کے تعلقات حوصلہشکن ہونے کی بجائے تازگیبخش ہونگے۔
حوصلہشکنی کے ذاتی احساسات
”اُمید کے بَر آنے میں تاخیر دل کو بیمار کرتی ہے پر آرزو کا پورا ہونا زندگی کا درخت ہے۔“ (امثال ۱۳:۱۲) یہوواہ کے بعض خادموں کی نظروں میں اس نظاماُلعمل کا خاتمہ اتنی جلدی نہیں آ رہا ہے۔ جس دور میں ہم رہ رہے ہیں بیشتر بےایمانوں کی طرح مسیحی بھی اسے ’تشویشناک اور کٹھن‘ پاتے ہیں۔—۲-تیمتھیس ۳:۱-۵۔
تاہم، بےایمانوں کے بالکل برعکس، مسیحیوں کو ان صبرآزما حالتوں میں مسیح کی موجودگی کا ”نشان“ دیکھ کر خوش ہونا چاہئے جو ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی بادشاہت بہت جلد اس شریر نظاماُلعمل کا خاتمہ لائے گی۔ (متی ۲۴:۳-۱۴) جب صورتحال اَور زیادہ خراب بھی ہو جاتی ہے—جیسے کہ ”بڑی مصیبت“ کے دوران یقیناً ہوگا—توبھی یہ واقعات ہمارے لئے خوشی کا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ خدا کی آنے والی نئی دنیا کا پیشخیمہ ہیں۔—متی ۲۴:۲۱؛ ۲-پطرس ۳:۱۳۔
موجودہ دَور کے معاملات کے پیشِنظر بادشاہتی مداخلت کو ذہنی طور پر التوا میں ڈالنا ایک مسیحی کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت مادی حاصلات کے لئے وقف کر دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر وہ دنیاوی کام اور تفریح جیسی چیزوں کو اپنا تمام وقت اور توانائی لینے کی اجازت دے دیتا ہے تو پھر اس کے لئے اپنی صحیفائی ذمہداریوں کو موزوں طریقے سے پورا کرنا مشکل ہوگا۔ (متی ۶:۲۴، ۳۳، ۳۴) ایسا رویہ مایوسی اور اس طرح حوصلہشکنی کو فروغ دیتا ہے۔ ایک سفری نگہبان نے تبصرہ کِیا: ”اس نظاماُلعمل میں رہتے ہوئے نئے نظام میں زندگی حاصل کرنے کی کوشش کرنا غیرحقیقتپسندانہ ہے۔“
دو بہترین تدارک
ایک مرتبہ جب تشخیص کر لی جاتی ہے تو کیسے کوئی شخص ایک مؤثر علاج حاصل کر سکتا ہے؟ ذاتی مطالعہ بہترین طریقۂکاروں میں سے ایک ہے۔ کیوں؟ ”یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جو کچھ ہم کرتے ہیں ہمیں کیوں کرنا چاہئے،“ ایک سفری نگہبان نے تبصرہ کِیا۔ ایک اَور بھائی نے وضاحت کی: ”محض فرض سمجھ کر منادی کرنا وقت آنے پر بوجھ بن جاتی ہے۔“ لیکن جب ہم خاتمہ کے نزدیک پہنچتے ہیں تو اچھا ذاتی مطالعہ ہمارے کردار کی بابت واضح سمجھ حاصل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اسی خیال کے سلسلے میں صحائف باربار ہمیں روحانی خوراک سے خوب سیر ہونے کی یاددہانی کراتے ہیں تاکہ خدا کی مرضی پوری کرنے میں حقیقی خوشی حاصل کر سکیں۔—زبور ۱:۱-۳؛ ۱۹:۷-۱۰؛ ۱۱۹:۱، ۲۔
بزرگ دوسروں کیساتھ حوصلہافزا گلہبانی کی ملاقاتیں کرنے سے حوصلہشکنی پر غالب آنے میں اُن کی مدد کر سکتے ہیں۔ اِن نجی ملاقاتوں کے دوران، بزرگ ظاہر کر سکتے ہیں کہ یہوواہ کے لوگوں کے درمیان ہم میں سے ہر ایک کی بڑی قدر کی جاتی ہے اور ہر ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۲:۲۰-۲۶) ساتھی مسیحیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بزرگ نے کہا: ”اُنکی قدروقیمت پر زور دینے کیلئے مَیں اُنہیں اُنکی گزشتہ کامیابیاں یاد دلاتا ہوں۔ مَیں وضاحت کرتا ہوں کہ یہوواہ کی نظر میں انکی بڑی قدروقیمت ہے اور اِسی لئے اس کے بیٹے کا خون اُنکے واسطے بہایا گیا ہے۔ ایسا استدلال ہمیشہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ جب ان دلائل کی پُشتپناہی بائبل کے ٹھوس حوالہجات سے کی جاتی ہے تو بےحوصلہ اشخاص خاندانی دُعا اور مطالعہ اور بائبل پڑھائی جیسے نئے ہدف قائم کرنے کی حالت میں آ جاتے ہیں۔“—عبرانیوں ۶:۱۰۔
گلہبانی کی ملاقاتوں کے دوران بزرگوں کو یہ تاثر دینے سے احتیاط برتنے کی ضرورت ہے کہ خدا کو خوش کرنا ناممکن ہے۔ اسکے برعکس بزرگوں کو بےحوصلہ ساتھی ایمانداروں کی یہ سمجھنے میں مدد کرنی چاہئے کہ یسوع کے پیروکاروں کا بوجھ ہلکا ہے۔ نتیجتاً، ہماری مسیحی خدمت خوشی کا ذریعہ ہے۔—متی ۱۱:۲۸-۳۰۔
حوصلہشکنی پر فتح پانا
اسباب خواہ کچھ بھی ہوں حوصلہشکنی ایک ایسی بیماری ہے جسکے خلاف ہمیں لڑنا چاہئے۔ تاہم، یاد رکھیں اس لڑائی میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ہم بےحوصلہ ہیں تو آئیے اپنے مسیحی ساتھیوں، بالخصوص بزرگوں کی مدد قبول کریں۔ ایسا کرنے سے ہم حوصلہشکنی کے احساسات کو کم کر سکتے ہیں۔
سب سے بڑھکر، ہمیں حوصلہشکنی پر غالب آنے میں مدد کیلئے خدا سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم دُعا میں یہوواہ پر توکل کریں تو وہ حوصلہشکنی پر مکمل طور پر فتح پانے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔ (زبور ۵۵:۲۲؛ فلپیوں ۴:۶، ۷) بہرکیف، اُس کے لوگوں کے طور پر ہم زبورنویس کے جذبات میں شریک ہو سکتے ہیں جس نے گیت گایا: ”مبارک ہے وہ قوم جو خوشی کی للکار کو پہچانتی ہے۔ وہ اَے [یہوواہ!] جو تیرے چہرہ کے نور میں چلتے ہیں۔ وہ دنبھر تیرے نام سے خوشی مناتے ہیں اور تیری صداقت سے سرفراز ہوتے ہیں۔ کیونکہ اُنکی قوت کی شان تُو ہی ہے اور تیرے کرم سے ہمارا سینگ بلند ہوگا۔“—زبور ۸۹:۱۵-۱۷۔
[فٹنوٹ]
a دی واچٹاور مئی ۱۵، ۱۹۸۱ میں مضمون ”گھربہگھر کا چیلنج“ دیکھیں۔
b واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کے شائعکردہ دسمبر ۱۹۸۵ کے جاگو! کے صفحات ۲۶-۲۷ دیکھیں۔
c اگست ۱۵، ۱۹۸۰ کے دی واچٹاور میں ”مَیں ’موت کے سفر‘ سے بچ گیا“ اور جون ۲۲، ۱۹۸۵ کے اویک! میں ”نازی جرمنی میں راستی برقرار رکھنا“ کے مضامین کو دیکھیں۔
[صفحہ 31 پر تصویر]
پُرمحبت بزرگوں کی طرف سے گلہبانی کی تقویتبخش ملاقاتیں حوصلہشکنی پر غالب آنے میں مسیحیوں کی مدد کر سکتی ہیں