طویل زندگی کیلئے ہماری جستجو
”انسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے۔ تھوڑے دنوں کا ہے اور دُکھ سے بھرا ہے۔ وہ پھول کی طرح نکلتا اور کاٹ ڈالا جاتا ہے۔ وہ سایہ کی طرح اُڑ جاتا ہے اور ٹھہرتا نہیں۔“—ایوب ۱۴:۱، ۲۔
اگرچہ یہ بات ۳،۵۰۰ سال پہلے تحریر کی گئی ہے توبھی آجکل چند ہی لوگ قلیل دورِحیات کے اِس نظریے کی تردید کریں گے۔ لوگوں نے زندگی کے جوبن کا مختصر تجربہ کرنے اور پھر بوڑھے ہونے اور مرنے کو ہمیشہ ہی سے غیراطمینانبخش پایا ہے۔ لہٰذا، طویل زندگی حاصل کرنے کے طریقوں میں تاریخ کے شروع ہی سے لیکر اضافہ ہؤا ہے۔
ایوب کے زمانے میں مصری اپنی جوانی بحال کرنے کی باطل کوشش میں جانوروں کے کپورے کھاتے تھے۔ قرونِوسطیٰ کی کیمیاگری کے اہم مقاصد میں سے ایک مقصد ایک ایسا اکسیرِحیات بنانا تھا جو طویل زندگی کا باعث بن سکے۔ بہتیرے کیمیاگر یہ یقین رکھتے تھے کہ مصنوعی طریقے سے بنایا گیا سونا غیرفانی زندگی عطا کرے گا اور یہ کہ سونے کی پلیٹوں میں کھانا کھانے سے زندگی طویل ہو جائے گی۔ قدیم تاؤمت کے ماننے والے چینی یہ خیال کرتے تھے کہ وہ مرُاقبہ کرنے، سانس لینے کی مشق کرنے اور غذائی تکنیکیں استعمال کرنے سے جسم کی کیمیاگری بدل سکتے ہیں اور یوں غیرفانیت حاصل کر سکتے ہیں۔
ہسپانوی سیاح ژاں پونس دے لےآں چشمہشباب کی خاطر اپنی حریصانہ تلاش کیلئے مشہور ہے۔ ۱۸ویں صدی کے ایک ڈاکٹر نے اپنی کتاب ہرمیپس ریڈوائیوس میں سفارش کی کہ نوجوان کنواریوں کو موسمِبہار میں ایک چھوٹے کمرے میں رکھیں اور انکے مُنہ کی سانسوں کو بوتلوں میں بند کر لیں اور زندگی بڑھانے والے عرق کے طور پر استعمال کریں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ان طریقوں میں سے کسی کو بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
آجکل، موسیٰ کے ایوب کے بیان کو مرقوم کرنے کے کوئی ۳،۵۰۰ سال بعد، انسان نے چاند پر چہلقدمی کی ہے، کاریں اور کمپیوٹر ایجاد کئے ہیں اور ایٹم اور خلیے پر تحقیق کی ہے۔ تاہم، ان تمام تکنیکی ترقیوں کے باوجود، ہم پھر بھی ”تھوڑے دنوں [کے ہیں] اور دُکھ سے [بھرے ہیں]۔“ یہ بات سچ ہے کہ گزشتہ صدی کی نسبت ترقیپذیر ممالک میں عرصۂحیات میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہؤا ہے۔ لیکن یہ نمایاں طور پر صحت کی بہتر نگہداشت، حفظانِصحت کے مؤثر اقدام اور بہتر غذا کا نتیجہ ہے۔ مثال کے طور پر، ۱۹ویں صدی سے لیکر ۱۹۹۰ کے دہے کے اوائل تک، سویڈن میں اوسط عرصۂحیات آدمیوں کیلئے ۴۰ سے ۷۵ سال تک اور عورتوں کیلئے ۴۴ سے ۸۰ سال تک بڑھ گیا ہے۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ طویل عمر پانے کی انسان کی خواہش پوری ہو گئی ہے؟
ایسا نہیں ہے کیونکہ بعض ممالک میں زیادہ لوگوں کے بڑھاپا دیکھنے کے باوجود بھی سالوں پہلے لکھے گئے موسیٰ کے الفاظ کا اطلاق آج بھی ہوتا ہے: ”ہماری عمر کی میعاد ستر برس ہے۔ یا قوت ہو تو اَسی برس۔ . . . کیونکہ وہ جلد جاتی رہتی ہے اور ہم اُڑ جاتے ہیں۔“ (زبور ۹۰:۱۰) مستقبل قریب میں کیا ہم کوئی تبدیلی دیکھیں گے؟ کیا انسان نمایاں طور پر طویل عمر پانے کے لائق ہوگا؟ اگلا مضمون ایسے سوالات پر باتچیت کریگا۔