وہ ”خدا سے ڈرتی تھیں“
جب اِسرائیلی مصر کی غلامی میں تھے تو عبرانی دائیوں، سفرہ اور فوعہ کو نہایت پریشانکُن حالت کا سامنا ہوا۔ یہودیوں کی آبادی میں اضافے کو روکنے کی کوشش میں فرعون نے اِن عورتوں کو حکم دیا: ”جب تم بچہ جناؤ . . . تو اگر بیٹا ہو تو اُسے مار ڈالنا۔“—خروج ۱۵:۱، ۱۶۔
سفرہ اور فوعہ ”خدا سے ڈرتی تھیں“ لہٰذا، اُنہوں نے ہمت سے کام لیا اور ”مصرؔ کے بادشاہ کا حکم نہ مانا۔“ اسکے برعکس، اُنہوں نے لڑکوں کو جیتا چھوڑ دیا حالانکہ یہ دلیرانہ مؤقف اُن کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ یہوواہ نے ”دائیوں کا بھلا کِیا“ اور اُنہیں اُن کے زندگی بچانے والے کاموں کا اجر دیا۔—خروج ۱۷:۱-۲۱۔
یہ سرگزشت ظاہر کرتی ہے کہ جو لوگ یہوواہ کی خدمت کرتے ہیں وہ اُن کی بڑی قدر کرتا ہے۔ سفرہ اور فوعہ کے دلیرانہ کام کو وہ محض انساندوستی خیال کر سکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ معقول ذہنیت کی مالک کوئی بھی عورت بچوں کو قتل نہیں کرے گی! تاہم، یہوواہ نے اِس حقیقت کو بِلاشُبہ ذہن میں رکھا کہ کچھ لوگوں نے انسانی خوف کے باعث گھناؤنے کام کئے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ دائیوں نے انسانی ہمدردی کی بجائے خدائی خوف اور عقیدت سے تحریک پائی تھی۔
ہم کسقدر شکرگزار ہو سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے خدا کی خدمت کرتے ہیں جو ہمارے وفادارانہ کاموں کو یاد رکھتا ہے! سچ ہے کہ ہم میں سے شاید کسی نے بھی ایمان کی ایسی آزمائش کا سامنا نہ کِیا ہو جو سفرہ اور فوعہ پر آئی تھی۔ تاہم جب ہم سکول میں، اپنی جائےملازمت پر یا کسی بھی دوسری صورتحال میں راستی پر قائم رہتے ہیں تو یہوواہ ہماری وفادارانہ محبت کو معمولی خیال نہیں کرتا۔ اِسکے برعکس، ”وہ اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۶) واقعی، ”خدا بےانصاف نہیں جو تمہارے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو تُم نے اُس کے نام کے واسطے اِس طرح ظاہر کی کہ مُقدسوں کی خدمت کی اور کر رہے ہو۔“—عبرانیوں ۶:۱۰۔