یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏7 ص.‏ 21-‏23
  • صحتمندانہ رابطہ ایک مضبوط شادی کی کُنجی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • صحتمندانہ رابطہ ایک مضبوط شادی کی کُنجی
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • صحتمندانہ رابطے میں کیا کچھ شامل ہے
  • صحتمندانہ رابطے کی راہ میں حائل رکاوٹیں
  • صحتمندانہ رابطہ کیسے فروغ دیں
  • خاندان کے اندر اور کلیسیا میں رابطہ قائم رکھنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • آپس میں بات کرنے سے شادی کے بندھن کو مضبوط بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2013ء
  • اپنی شادی کو ایک دائمی بندھن بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • شادی کو کامیاب بنانے کے نسخے
    جاگو!‏—‏2008ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏7 ص.‏ 21-‏23

صحتمندانہ رابطہ ایک مضبوط شادی کی کُنجی

رابرٹ بیرن نے ۱۷۷۸ میں ایک دوہرے عمل والا حفاظتی تالا متعارف کروایا جو آج تک جدید تالوں کی بنیاد ہے۔ ایک ہی چابی سے اس تالے کے دو کنڈے اکٹھے کھولے جا سکتے تھے۔‏

اسی طرح، ایک کامیاب شادی کا انحصار شوہر اور بیوی کے متحد ہو کر کام کرنے پر ہے۔ مضبوط شادی کی بیش‌بہا خوشیوں کے قُفل کھولنے اور انکا تجربہ کرنے کیلئے ایک اہم چیز صحتمندانہ رابطہ ہے۔‏

صحتمندانہ رابطے میں کیا کچھ شامل ہے

صحتمندانہ رابطے میں کیا کچھ شامل ہے؟ ایک لغت رابطے کی تعریف ”‏بات‌چیت، تحریر یا اشاروں کے ذریعے خیالات، آراء یا معلومات بہم پہنچانے یا ان کے باہمی تبادلے“‏ کے طور پر کرتی ہے۔ پس، رابطے میں احساسات اور خیالات کو ایک دوسرے تک منتقل کرنا شامل ہے۔ نیز، صحتمندانہ رابطے میں ایسی باتیں شامل ہیں جو تعمیری، تازگی‌بخش، راست، قابلِ‌ستائش اور تسلی‌بخش ہوں۔—‏افسیوں ۴:‏۲۹-‏۳۲؛‏ فلپیوں ۴:‏۸‏۔‏

صحتمندانہ رابطہ بھروسے، اعتماد اور باہمی مفاہمت کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ جب شادی کو عمربھر کا بندھن خیال کِیا جائے اور اسے کامیاب بنانے کے لئے دلی عزم موجود ہو تو یہ خوبیاں سامنے آتی ہیں۔ ایسے تعلق پر تبصرہ کرتے ہوئے ۱۸ویں صدی کے ایک مضمون‌نویس جوزف ایڈیسن نے لکھا:‏ ”‏دو اشخاص جو باہمی تسلی اور خوشی کا باعث بننے کیلئے تمام انسانوں میں سے ایک دوسرے کا انتخاب کرتے ہیں وہ اس عمل سے خود کو پابند کرتے ہیں کہ زندگی‌بھر وہ ایک دوسرے کی تمام خامیوں اور خوبیوں کے سلسلے میں خوش‌مزاج، خوش‌اخلاق، فہیم، معاف کرنے والے، صابر اور مسرور بنیں گے۔“‏ ایسا بندھن کسقدر خوش‌کُن ہوتا ہے!‏ نیز، یہ موتیوں جیسی خصوصیات آپکی شادی کو آراستہ کر سکتی ہیں کیونکہ صرف صحتمندانہ رابطے کے ذریعے ہی آپ انہیں حاصل کر سکتے ہیں۔‏

صحتمندانہ رابطے کی راہ میں حائل رکاوٹیں

بہتیرے جوڑے بڑی رجائیت‌پسندی اور بے‌انتہا خوشی کے احساس کے ساتھ شادی تک پہنچتے ہیں۔ تاہم بیشتر کے لئے یہ رجائیت‌پسندی اور بے‌انتہا خوشی جلد ہی کافور ہو جاتی ہے۔ تیقّن کی جگہ افسردگی، غصہ، مخالفت حتیٰ‌کہ شدید ناپسندیدگی کا تلخ امتزاج لے سکتا ہے۔ پھر شادی صرف برداشت کا معاملہ بن جاتی ہے جب تک کہ ”‏موت انہیں جدا نہ کر دے۔“‏ لہٰذا، مضبوط شادی کے لئے درکار صحتمندانہ رابطے کو بہتر بنانے یا اسے برقرار رکھنے کے لئے بعض رکاوٹوں پر قابو پانا ضروری ہے۔‏

صحتمندانہ رابطے کے لئے ایک حقیقی رکاوٹ یہ خوف ہے کہ بیاہتا ساتھی بعض معلومات یا خواہش کے اظہار پر کیسا ردِعمل دکھائیگا۔ مثال کے طور پر، کسی سنگین معذوری کا انکشاف کسی شخص کے اندر رد کر دئے جانے کا خوف پیدا کر سکتا ہے۔ کیسے کوئی شخص اپنے ساتھی پر یہ واضح کر سکتا ہے کہ آنے والا وقت کسی کی شکل‌وصورت یا کام کرنے کی صلاحیت کو بالکل تبدیل کر دیگا؟ ایسے حالات میں دیانتدارانہ رابطہ اور پہلے کی نسبت اب مستقبل کیلئے محتاط منصوبہ‌سازی نہایت اہم ہے۔ اکثروپیشتر مشفقانہ انداز اور الفاظ کے ذریعے محبت کی یقین‌دہانی ذاتی دلچسپی کی نشاندہی کریگی جو ایک حقیقی مطمئن شادی کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔ شادی پر یہ مثل پورے طور پر صادق آتی ہے:‏ ”‏دوست ہر وقت محبت دکھاتا ہے اور بھائی مصیبت کے دن کے لئے پیدا ہؤا ہے۔“‏—‏امثال ۱۷:‏۱۷‏۔‏

صحتمندانہ رابطے میں ایک اَور رکاوٹ آزردگی ہے۔ یہ قول نہایت موزوں ہے کہ خوشحال شادی دو معاف کرنے والوں کا ملاپ ہے۔ ایک شادی‌شُدہ جوڑا اس بیان پر پورا اترنے کیلئے پولس کی اس عملی مشورت کی پیروی کرنے کی ہر ممکن کوشش کریگا:‏ ”‏سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی نہ رہے۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۲۶‏)‏ غصے یا آزردگی کی نشوونما کرنے کی بجائے اس مشورت کا اطلاق کرنے کیلئے یقیناً انکسارانہ رابطہ ضروری ہے۔ ایک مضبوط شادی میں بیاہتا ساتھی غصے، جھگڑے اور بغض کے آگے نہیں جھکتے ہیں۔ (‏امثال ۳۰:‏۳۳‏)‏ وہ یہوواہ کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو آزردگی کو قائم نہیں رکھتا ہے۔ (‏یرمیاہ ۳:‏۱۲‏)‏ وہ یقیناً ایک دوسرے کو دل سے معاف کرتے ہیں۔—‏متی ۱۸:‏۳۵‏۔‏

کسی بھی قسم کے رابطے میں ایک یقینی رکاوٹ چپ سادھ لینے کا عمل ہے۔ اس میں بیزاری کا اظہار، ٹھنڈی آہیں، میکانکی انداز اور ایک طرف سے بات‌چیت کرنے سے انکار شامل ہے۔ ایک بیاہتا ساتھی جو ایسا کرتا ہے وہ کسی حد تک اپنی خفگی کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم ایک شادی کو بہتر بنانے کیلئے خاموش اور روٹھے رہنے کی بجائے ذاتی احساسات کو بِلاتکلف اور خوشگوار انداز سے بیان کرنا بہت کچھ سرانجام دے سکتا ہے۔‏

جب ایک ساتھی بات کرے تو سننے میں کوتاہی کرنا یا بالکل نہ سننا بھی ایک رکاوٹ ہے جس پر شادی جیسے قریبی رشتے میں عمدہ رابطہ قائم رکھنے کیلئے قابو پایا جانا چاہئے۔ شاید ہم بہت تھک چکے ہیں یا بے‌حد مصروف ہیں اور ایک دوسرے کی بات سننے کیلئے ذہنی اور جذباتی قوت کو یکجا نہیں کر سکتے۔ غلط‌فہمی پر مبنی انتظامات کی بابت تکرار ہو سکتی ہے جنکی بابت ایک ساتھی سوچتا ہے کہ واضح طور پر بات‌چیت کر لی گئی تھی جبکہ دوسرا بضد ہے کہ ان پر پہلی مرتبہ بات ہو رہی ہے۔ ظاہری طور پر کمزور رابطہ ہی ایسے مسائل کی جڑ ہے۔‏

صحتمندانہ رابطہ کیسے فروغ دیں

پُرمحبت، صحتمندانہ رابطہ قائم کرنے کے لئے وقت نکالنا کسقدر اہم ہے!‏ بعض ٹی‌وی پر دوسروں کی زندگیوں کی بابت دیکھنے میں اسقدر وقت صرف کرتے ہیں کہ اُنکے پاس اپنی زندگی کیلئے بہت کم وقت رہ جاتا ہے۔ پس ٹی‌وی کو بند رکھنا صحتمندانہ رابطے کے لئے بہت ضروری ہے۔‏

جس طرح بولنے کا ایک مناسب وقت ہے اُسی طرح چپ رہنے کا بھی ایک وقت ہے۔ دانشمند آدمی نے کہا:‏ ”‏ہر چیز کا .‏ .‏ .‏ ایک وقت ہے۔ .‏ .‏ .‏ چپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔“‏ یقیناً یہ موزوں الفاظ ہیں۔ ”‏باموقع بات کیا خوب ہے!‏“‏ امثال بیان کرتی ہے۔ (‏واعظ ۳:‏۱،‏ ۷؛‏ امثال ۱۵:‏۲۳‏)‏ لہٰذا، اس بات کا تعیّن کریں کہ اپنا نقطۂ‌نظر یا اپنے دل کی بات بیان کرنے کیلئے کونسا وقت مناسب ہے۔ خود سے پوچھیں:‏ ’‏کیا میرا ساتھی تھکا ہوا ہے یا پُرسکون اور ذہنی طور پر تازہ‌دم ہے؟ کیا جس موضوع کا مَیں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ فوری طور پر مشتعل کر دینے والا ہے؟ آخری مرتبہ جب ہم نے اس موضوع پر بات‌چیت کی تھی تو میرے ساتھی نے کن الفاظ پر اعتراض کِیا تھا؟‘‏

یہ یاد رکھنا اچھا ہے کہ لوگ اُس صورت میں موافق ردِعمل دکھاتے ہیں جب وہ دیکھ سکتے ہیں کہ تعاون کرنا یا کسی درخواست کے مطابق عمل کرنا اُنہیں کیسے فائدہ پہنچائے گا۔ اگر بیاہتا ساتھیوں میں کوئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے تو اُن میں سے کوئی یہ کہہ سکتا ہے، ”‏مَیں کسی وجہ سے پریشان ہوں اس لئے ہم ابھی اسے سلجھائیں گے!‏“‏ بِلاشُبہ، موزوں الفاظ کا انحصار تو حالات پر ہوگا لیکن کچھ اسطرح سے کہنا بہتر ہو سکتا ہے، ”‏جان، مَیں اُسی معاملے کی بابت سوچ رہا تھا/‏رہی تھی جس پر ہم نے پہلے گفتگو کی تھی کہ ہم صورتحال کو بہتر کیسے بنا سکتے ہیں۔“‏ آپ کا بیاہتا ساتھی کس اندازِگفتگو کو زیادہ پسند کرے گا؟‏

جی‌ہاں، یہ نہایت اہم ہے کہ کوئی بات کیسے کہی جاتی ہے۔ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏تمہارا کلام ہمیشہ .‏ .‏ .‏ پُرفضل اور نمکین ہو۔“‏ (‏کلسیوں ۴:‏۶‏)‏ اپنے لب‌ولہجے اور الفاظ کے انتخاب میں پُرفضل بننے کی کوشش کریں۔ یہ یاد رکھیں کہ ”‏دل‌پسند باتیں شہد کا چھتا ہیں وہ جی کو میٹھی لگتی ہیں اور ہڈیوں کے لئے شفا ہیں۔“‏—‏امثال ۱۶:‏۲۴‏۔‏

بعض بیاہتا جوڑوں کیلئے گھر میں ملکر کام کرنا رابطے کے لئے عمدہ فضا پیدا کر سکتا ہے۔ ایسا تعاون خوشگوار گفتگو کے ساتھ ساتھ شراکت کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔ دیگر بیاہتا ساتھیوں کیلئے کسی بھی کام کے بغیر اکٹھے آرام کرنا بہتر اور صحتمندانہ رابطے کیلئے زیادہ موثر ہے۔‏

موافقت رکھنے والے بیاہتا ساتھی جس طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھتے ہیں اُس پر غور کرنے سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اُن کے لئے کونسی چیز اسکا باعث بنی ہے؟ غالباً، اُنکی موافقت اور جس آسانی کے ساتھ وہ رابطہ رکھتے ہیں درحقیقت وہ ذاتی کوشش، صبر اور مشفقانہ پاس‌ولحاظ کا نتیجہ ہے۔ بدیہی طور پر، اُنہیں بھی بہت کچھ سیکھنا پڑا تھا کیونکہ شادیاں خودبخود ہی اچھی ثابت نہیں ہوتیں۔ لہٰذا، اپنے ساتھی کے نقطۂ‌نظر پر غور کرنا، اُس کی ضروریات کو سمجھنا اور کشیدگی پیدا کرنے والی امکانی حالت کو دانشمندانہ بات سے ختم کرنا کتنا اہم ہے۔ (‏امثال ۱۶:‏۲۳‏)‏ اگر آپ شادی‌شُدہ ہیں تو اپنے آپ کو ایسا شخص ثابت کرنے کی کوشش کریں جس کیساتھ زندگی گزارنا خوشگوار اور جس سے معذرت کرنا آسان ہو۔ یہ بات آپ کی شادی کو خوشحال بنانے میں بہت مدد کرے گی۔‏

یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ لوگ خوشحال، دیرپا شادیوں سے لطف‌اندوز ہوں۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۸،‏ ۲۱‏)‏ تاہم، اسکی کُنجی ازدواجی بندھن میں بندھے ہوئے لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ اس کیلئے دو پُرمحبت اشخاص کی ضرورت ہے جو واقعی صحتمندانہ رابطے کے فن میں مہارت حاصل کرنے سے کامیاب شادی کا دروازہ کھولنے کیلئے ملکر کر کام کرتے ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 22 پر تصویر]‏

ٹی‌وی بند کر دینے سے رابطے کیلئے زیادہ وقت ملتا ہے

‏[‏صفحہ 23 پر تصویریں]‏

صحتمندانہ رابطہ دلوں کو دائمی محبت میں باندھنے کیلئے مدد کرتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں