یہوواہ میں خوشوخرم رہیں
کسی بھی بامقصد پراجیکٹ کی کامیابی ہمیشہ خوشی کا موقع ہوتی ہے۔ واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کی ۱۰۶ویں کلاس کے ۴۸ طالبعلموں کے لئے پیٹرسن، نیو یارک میں واچٹاور ایجوکیشنل سنٹر میں مارچ ۱۳، ۱۹۹۹ کو گریجوایشن کے سلسلے میں تقریبات کا انعقاد یقیناً ایک ایسا ہی موقع تھا۔
گورننگ باڈی کے ایک رُکن، گلئیڈ کی ساتویں کلاس کے گریجوایٹ اور گریجوایشن پروگرام کے چیئرمین، تھیوڈور جیرس کے افتتاحی کلمات نے زبور ۳۲:۱۱ کے ان الفاظ کو نمایاں کِیا تھا: ”اَے صادقو! خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] میں خوشوخرم رہو۔“ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اس موقع پر سب کا خوش ہونا کیوں موزوں ہے، اُس نے کہا: ”یہوواہ ان راستدل لوگوں کے ذریعے جن میں ہمارے گلئیڈ طالبعلم بھی شامل ہیں جوکچھ انجام دے رہا ہے اس کی وجہ سے ہم اس طرح کے مواقع پر نہایت خوش ہوتے ہیں۔“ اگرچہ طالبعلموں نے گلئیڈ سکول آنے کی منصوبہسازی کی اور مشنری خدمت کے لائق ٹھہرنے کے لئے مستعد کوشش کی توبھی یہوواہ ہی نے یہ ممکن بنایا ہے کہ ہر کام کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچے۔ (امثال ۲۱:۵؛ ۲۷:۱) بھائی جیرس نے زور دیکر کہا ’یہوواہ میں خوش ہونے‘ کی یہی وجہ ہے۔
پیٹرسن آڈیٹوریم میں موجود لوگوں میں طالبعلموں کے خاندانوں کے افراد اور مہمان موجود تھے جو اس پُرمسرت موقع کو دیکھنے کے لئے ۱۲ ممالک سے آئے تھے۔ ۵،۱۹۸ حاضرین کے علاوہ آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے منسلک بروکلن، پیٹرسن اور والکل کے بیتایل خاندان کے اراکین بھی پیش کئے جانے والے پروگرام کے بڑے اشتیاق کے ساتھ منتظر تھے، اس سے صاف ظاہر تھا کہ وہاں پُرمسرت جذبہ موجود تھا۔
پُرمسرت جذبہ برقرار رکھنے کی نصیحت
بھائی جیرس نے اپنے افتتاحی بیان کے اختتام پر پہلے پانچ مقررین کو متعارف کرایا جنہوں نے نہ صرف گلئیڈ گریجوایٹس کے علاوہ تمام حاضرین کے لئے حوصلہافزا صحیفائی مشورت ترتیب دے رکھی تھی۔
پہلے مقرر ولیم میلنفونٹ تھے جو کہ گلئیڈ کی ۳۴ویں کلاس کے گریجوایٹ اور اب گورننگ باڈی کی ٹیچنگ کمیٹی کے معاون کے طور پر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ واعظ ۱:۲ پر مبنی اپنے موضوع، ”سب کچھ بطلان نہیں!“ کے سلسلے میں اُنہوں نے ایک سوال اُٹھایا: ”کیا سلیمان کا واقعی یہ مطلب تھا کہ قطعی مفہوم میں سب کچھ بطلان ہے؟“ جواب ہے: ”نہیں۔ وہ یہ سمجھا رہا تھا کہ الہٰی مرضی کے برعکس تمام کام اور حاصلات بطلان ہیں۔“ اس کے برعکس، سچے خدا، یہوواہ کی پرستش کرنا اور خدا کے کلام بائبل کا مطالعہ کرنا اور دوسروں کو اس کی تعلیم دینا بطلان نہیں ہے۔ خدا اپنے خادموں کی ایسی کاوشوں کو فراموش نہیں کرتا۔ (عبرانیوں ۶:۱۰) حقیقت تو یہ ہے کہ اگر خدا کے مقبول بندوں کی راہ میں کوئی مصیبت حائل ہو بھی جاتی ہے تو وہ ”زندگی کے بقچہ میں خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] . . . کے ساتھ بندھے“ ہوئے نظر آئیں گے۔ (۱-سموئیل ۲۵:۲۹) دل کو گرما دینے والا کیا ہی شاندار خیال! ان نکات کو یاد رکھنا یہوواہ کے تمام پرستاروں کو شادمانی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
گورننگ باڈی کے ایک رُکن، جان بار نے گریجوایشن کرنے والی کلاس کی حوصلہافزائی اپنی اس تقریر کے ذریعے کی، جسکا عنوان تھا ”اپنی مشنری تفویض سے خوشی حاصل کریں۔“ اُس نے بیان کِیا کہ مشنری خدمت ایک ایسی چیز ہے جسے یہوواہ خدا ہمیشہ عزیز رکھتا ہے۔ ”یہ ایک ایسی چیز ہے جو دُنیا کے لئے خدا کی محبت کے اظہار کا ایک اہم حصہ تھی۔ اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر بھیجا۔ یسوع عظیمترین، اوّلین مشنری تھا۔“ گریجوایٹس اُن تبدیلیوں پر سوچبچار کر سکتے ہیں جو یسوع کو زمین پر اپنی تفویض کو کامیاب بنانے کے لئے کرنی پڑیں تھیں، تاہم یسوع کی مشنری خدمت کے فوائد ابھی تک اُن سب کے لئے دستیاب ہیں جو ان سے استفادہ کرینگے۔ بھائی بار نے نشاندہی کی، یہ سب اس وجہ سے ہے کہ یسوع خدا کا کام کر کے خوش ہوتا تھا اور وہ نسلِانسانی سے محبت بھی رکھتا تھا۔ (امثال ۸:۳۰، ۳۱) بھائی بار نے گریجوایٹس کو تاکید کی کہ اپنی تفویضات پر ڈٹے رہیں اور اُنہیں محض برداشت کا معاملہ نہیں بلکہ خوشی کا ذریعہ خیال کریں۔ اُس نے کلاس سے پُرزور استدعا کی: ”اپنا بوجھ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] پر ڈال [دو]۔ وہ [تمہیں] سنبھالیگا۔“—زبور ۵۵:۲۲۔
اگلے مقرر، گورننگ باڈی کے ایک دوسرے رُکن لائیڈ بیری نے جس عنوان کا انتخاب کِیا، وہ تھا ”ابد تک یہوواہ کے نام سے چلتے رہنا۔“ گلئیڈ کی ۱۱ویں کلاس سے فارغ ہونے کے بعد، جاپان میں ۲۵ سال تک مشنری خدمت انجام دینے والے بھائی بیری نے ابتدائی مشنریوں کے چند تجربات بیان کئے اور اُن چیلنجوں کا ذکر کِیا جنکا اُنہیں سامنا کرنا پڑا تھا۔ گریجوایشن کرنے والی کلاس کے لئے اُس کے پاس کونسی عملی مشورت تھی؟ ”سب سے بڑھکر اپنی روحانیت کو برقرار رکھیں۔ نیز، زبان اور ثقافت کی بابت سیکھیں۔ مزاح کی حس کو قائم رکھیں۔ کام پر ڈٹے رہیں؛ تھک نہ جائیں یا بیدل نہ ہوں۔“ بھائی بیری نے گریجوایٹس کو بتایا کہ اپنی غیرملکی تفویضات میں وہ بہت سے ایسے لوگوں سے ملیں گے جو مختلف خداؤں اور دیوتاؤں کے نام سے چلتے ہیں اور اُس نے اُنہیں میکاہ کے الفاظ یاد دلائے: ”سب اُمتیں اپنے اپنے معبود کے نام سے چلیں گی پر ہم ابدالآباد تک خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے خدا کے نام سے چلینگے۔“ (میکاہ ۴:۵) سابقہ مشنریوں کا نمونہ یہوواہ کے نام سے چلتے رہنے اور وفاداری کے ساتھ اُس کی خدمت انجام دینے کے لئے واقعی ایک طاقتور محرک ہے۔
پروگرام کا اگلا حصہ گلئیڈ کے انسٹرکٹر لارنس بوئن کا تھا۔ اُس کی پیشکش کے موضوع نے یہ سوال اُٹھایا ”آپ کیا ثابت ہوں گے؟“ اُس نے سمجھایا کہ خدا کی خدمت میں کامیابی یہوواہ پر ایمان اور بھروسے پر منحصر ہے۔ آسا بادشاہ کے لئے یہوواہ پر مکمل بھروسہ دُشمن کی ایک ملین فوج پر مکمل فتح کا باعث ہوا تھا۔ اس کے باوجود عزریاہ نبی نے اُسے مسلسل خدا پر بھروسہ کرنے کی ضرورت کی یاددہانی کرائی: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] تمہارے ساتھ ہے جبتک تم اُسکے ساتھ ہو۔“ (۲-تواریخ ۱۴:۹-۱۲؛ ۱۵:۱، ۲) چونکہ خدا کا نام یہوواہ یہ خیال پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے ضرورت کے مطابق سب کچھ بن سکتا ہے—خواہ اس کا مطلب ایک عطا کرنے والا، حفاظت کرنے والا یا انصاف کرنے والا بننا ہی کیوں نہ ہو—اس لئے یہوواہ پر بھروسہ کرنے اور اُس کے مقصد کی مطابقت میں کام کرنے والے مشنری بھی اپنی تفویضات میں کامیاب ثابت ہونگے۔ (خروج ۳:۱۴) آخر میں بھائی بوئن نے کہا، ”یہ کبھی نہ بھولیں کہ جب تک آپ یہوواہ کے مقصد کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں، وہ آپکو اپنی تفویض کو پورا کرنے کے لئے سب کچھ بننے کی توفیق بخشے گا۔“
پروگرام کے اس حصے کا آخری مقرر والس لیورنس تھا جو کہ ایک سابق مشنری اور اب سکول کا رجسٹرار ہے۔ اُس کی تقریر کا عنوان تھا، ”خدا کے کلام کو زندہ اور اپنے اندر فعال رکھیں،“ اس نے خدا کے قابلِاعتماد پیغام یا وعدے کی طرف توجہ دلائی جو ہمیشہ تکمیل کی طرف گامزن رہتا ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) یہ اُن لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتا ہے جو اسے ایسا کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ (۱-تھسلنیکیوں ۲:۱۳) یہ کلام ہماری زندگیوں میں زندہ اور فعال کیسے رہ سکتا ہے؟ مستعد بائبل مطالعے کے ذریعے۔ بھائی لیورنس نے گریجوایٹس کو بائبل مطالعے کے وہ طریقے یاد دلائے جو گلئیڈ میں سکھائے گئے تھے جن میں پڑھائی اور مفہوم کی توضیح اور خدا کے کلام کا اطلاق شامل تھا۔ اُنہوں نے گورننگ باڈی کے رُکن البرٹ شروڈر کے الفاظ کا حوالہ دیا جنہوں نے اُس کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمت انجام دی جس نے ۵۰ سال قبل گلئیڈ سکول کی ابتدا کی تھی: ”سیاقوسباق کو استعمال کرنے سے، ایک شخص اُس مکمل، صحیح، روحانی قوتِمحرکہ حاصل کرنے کے قابل ہوتا ہے جو خدا نے اپنے کلام میں عطا فرمائی ہے۔“ بائبل مطالعے کا یہ طریقہ خدا کے کلام کو زندہ اور فعال رکھتا ہے۔
مسرتبخش تجربات اور انٹرویو
تقاریر کے بعد، سامعین کی خدمت میں طالبعلموں کی جانب سے چند ایک مسرتبخش تجربات پیش کئے گئے۔ مارک نومیر، سابق مشنری اور گلئیڈ کے حالیہ انسٹرکٹر کی زیرِہدایت، طالبعلموں کے ایک گروہ نے اس بات کا مظاہرہ پیش کِیا اور بتایا کہ اُنہوں نے مختلف حالات کے تحت کیسے گواہی دینے کی کوشش کی تھی۔ بعض اپنے علاقے کے لوگوں کے حالات اور خیالات کا بغور مشاہدہ کرنے سے اور ذاتی دلچسپی دکھانے سے اُن کے ساتھ بائبل مطالعے شروع کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ پس طالبعلم ’اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر رہے تھے‘ اور وہ نجات حاصل کرنے کے لئے دوسروں کی مدد کرنے میں حقیقی دلچسپی رکھتے تھے۔—۱-تیمتھیس ۴:۱۶۔
بہت سی عملی تجاویز پیش کی گئیں اور کئی ایک تجربہکار بھائیوں نے مشنری خدمت سے متعلق خوشی کا اظہار کِیا جو واچٹاور ایجوکیشنل سنٹر میں منعقد ہونے والے برانچ کمیٹی کے اراکین کے سکول سے تربیت حاصل کر رہے تھے۔ ہیڈکواٹرز سٹاف کے بھائی سموئیل ہرڈ اور رابرٹ جانسن نے بولیویا، زمباوے، نکاراگوا، سنٹرل افریقن ریپبلک، ڈومینیکن ریپبلک، پاپوا نیو گنی اور کیمرون میں سوسائٹی کے برانچ دفاتر کے نمائندوں کے پُرجوش انٹرویو لئے۔
تجربات اور انٹرویو کے بعد، گلئیڈ کی ۴۱ویں کلاس کے گریجوایٹ اور گورننگ باڈی کے رُکن گیرٹ لوش نے سوچ کو تحریک دینے والے اس موضوع کے تحت اختتامی تقریر پیش کی، ”کیا آپ ایک ’مقبول شخص‘ ہیں؟“ سب سے پہلے بھائی لوش نے گریجوایٹس کو یہ یاد دلایا کہ خدا کا کامل بیٹا، یسوع، لوگوں کی نظر میں مقبول نہیں تھا بلکہ یہ کہ ”وہ آدمیوں میں حقیرومردود“ تھا۔ (یسعیاہ ۵۳؛۳) لہٰذا، یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ آجکل دُنیا کے بیشتر حصوں میں مشنریوں کو ناپسندیدہ، ناقابلِقبول اور ایک ایسا شخص خیال کِیا جاتا ہے جس کے آنے پر کوئی خوشی نہ ہو۔ اس کے برعکس، بابل میں دانیایل کی خدمت کے طویل عرصہ کے دوران، خالق نے ایک فرشتے کی معرفت دانیایل کو تین مرتبہ ”عزیز“ کہا تھا۔ (دانیایل ۹:۲۳؛ ۱۰:۱۱، ۱۹) کس چیز نے دانیایل کو ایسا بنا دیا؟ اُس نے بابل کی ثقافت کے مطابق ردوبدل کرنے کے لئے کبھی مصالحت نہیں کی تھی؛ اپنے رُتبے کو کبھی بھی ذاتی نفع کے لئے استعمال نہ کرتے ہوئے وہ ہر طرح سے دیانتدار تھا، نیز وہ خدا کے کلام کا ایک مستعد طالبعلم تھا۔ (دانیایل ۱:۸، ۹؛ ۶:۴؛ ۹:۲) وہ باقاعدگی کے ساتھ یہوواہ سے دُعا بھی کرتا تھا اور ہر وقت اپنے تمام کاموں کے لئے خدا کو جلال دینے کے لئے تیار رہتا تھا۔ (دانیایل ۲:۲۰) دانیایل کے نمونے کی پیروی کرنے سے، خدا کے خادم مقبول ٹھہر سکتے ہیں مگر ضروری نہیں کہ وہ دُنیا کی نظر میں بھی ایسے ہوں مگر یہوواہ کی نظر میں مقبول ہو سکتے ہیں۔
روحانی طور پر حوصلہافزا پروگرام کے اختتام پر چیئرمین نے چند ایک ٹیلیگرام اور پیغامات پڑھے جو پوری دُنیا سے موصول ہوئے تھے۔ اس کے بعد، ۲۴ جوڑوں میں سے ہر ایک نے اپنا ڈپلومہ حاصل کِیا اور جس مُلک میں اُنہیں بھیجا گیا تھا اُس کا بھی اعلان کِیا گیا۔ آخر میں، کلاس کے ایک نمائندے نے گورننگ باڈی اور بیتایل خاندان کے نام ایک خط پڑھ کر سنایا جس میں کلاس کی طرف سے اُس ٹریننگ اور تیاری کے لئے قدردانی کا اظہار کِیا گیا تھا جو اُنہوں نے گذشتہ پانچ مہینوں کے دوران حاصل کی تھی۔
جب پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا تو جُدا ہوتے ہوئے ہجوم کے اندر ”خوشی اور شکرگزاری“ کی صدا سنائی دے رہی تھی۔—نحمیاہ ۱۲:۲۷۔
[صفحہ 27 پر بکس]
کلاس کے اعدادوشمار
اُن ممالک کی تعداد جنکی نمائندگی کی گئی:۱۰
اُن ممالک کی تعداد جن کیلئے تفویض دی گئی:۱۹
طالبعلموں کی تعداد:۴۸
شادیشُدہ جوڑوں کی تعداد:۲۴
اوسط عمر:۳۳
سچائی میں اوسط سال:۱۶
کُلوقتی خدمت میں اوسط سال:۱۳
[صفحہ 25 پر تصویر]
واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ سے گریجوایشن کرنے والی ۱۰۶ویں جماعت
درجذیل فہرست میں قطاروں کے نمبر آگے سے پیچھے کی طرف اور ہر قطار میں نام بائیں سے دائیں درج کئے گئے ہیں۔
;.)1( Deakin, D.; Puopolo, M.; Laguna, M.; Davault, S
;.Dominguez, E.; Burke, J. )2( Gauter, S.; Vazquez, W
;.Seabrook, A.; Mosca, A.; Helly, L.; Breward, L. )3( Brandon, T
.Olivares, N.; Coleman, D.; Scott, V.; Petersen, L.; McLeod, K
;.)4( McLeod, J.; Thompson, J.; Luberisse, F.; Speta, B
;.Lehtimäki, M.; Laguna, J. )5( Gauter, U.; Dominguez, R
;.Helly, F.; Smith, M.; Beyer, D.; Mosca, A. )6( Scott, K
.Seabrook, V.; Speta, R.; Coleman, R.; Breward, L.; Davault, W
;.)7( Smith, D.; Lehtimäki, T.; Petersen, P.; Thompson, G
;.Vazquez, R.; Beyer, A. )8( Luberisse, M.; Deakin, C
.Brandon, D.; Puopolo, D.; Olivares, O.; Burke, S