”لڑکے کی . . . تربیت کر“
چند بیج بکھیر کر کچھ ماہ بعد فصل کی کٹائی کے لئے واپس آنا ہی کامیاب باغبانی کے لئے کافی نہیں ہے۔ زمین تیار کرنے، بیج بونے اور آبیاری کرنے اور پودوں کی دیکھبھال کرنے کے لئے سخت محنت درکار ہے۔
یہ عمل امثال ۲۲:۶ کی صداقت کی عمدہ تصویرکشی کرتا ہے جو کہتی ہے: ”لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مڑیگا۔“ درحقیقت، بچے کی پرورش کرنے میں والدین کی تربیت ایک اہم عنصر ہے۔
تاہم آجکل کی اباحتی دُنیا میں بہت سے والدین اس مشورت پر دھیان نہیں دیتے۔ جب وہ اس روایتی مشورت کی پیروی کرتے ہیں کہ بچوں کو اپنے مسائل خود حل کرنا سیکھنا چاہئے تو وہ اکثر اپنے بچوں کو اپنا دفاع خود کرنے کیلئے اکیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسا رویہ نوعمروں کو بےاصول اور بےایمان افراد کے مضر اثر سے متاثر ہونے کا باعث بنتا ہے۔—امثال ۱۳:۲۰۔
والدین کیلئے خداپرستانہ تربیت کے ذریعے کمعمری ہی میں مسیحی اصول اپنے بچوں کے ذہننشین کرنا کتنا اہم ہے! کونسی عمر میں؟ ”بچپن سے،“ رسول پولس کہتا ہے۔ نوجوان شخص تیمتھیس کیساتھ یہی معاملہ تھا۔ اُسکی ماں یونیکے اور اُسکی نانی لوئس نے ”پاک نوشتوں“ کو تیمتھیس کے ذہننشین کِیا تاکہ وہ ”سیکھے“ اور ”یقین رکھے۔“ نتیجہ؟ ایسی تربیت نے اُسے ”نجات کیلئے دانا“ بنانے میں ایک اہم کردار ادا کِیا۔—۲-تیمتھیس ۱:۵؛ ۳:۱۴، ۱۵، اینڈبلیو۔
اسی طرح آجکل جو والدین ”نیک کام کرنے میں ہمت“ نہیں ہارتے وہ ”بےدل نہ“ ہونے کے باعث بیشمار برکات حاصل کرینگے۔ (گلتیوں ۶:۹) دانشمند بادشاہ سلیمان کہتا ہے: ”صادق کا باپ نہایت خوش ہوگا۔“—امثال ۲۳:۲۴۔