زندگی کی بہترین راہ میں متحد
اگر دُنیا کی آبادی اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو جلد ہی زمین پر چھ بلین لوگ ہو جائینگے۔ سب کا اک ہی جد ہونے کے باوجود اکژیت اس حقیقت سےبےبہرہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ ایک عالمی خاندان کا حصہ ہیں اور ایک ذہین اور پُرمحبت خالق کے سامنے جوابدہ ہیں۔ قوموں، نسلوں اور ثقافتوں کے مابین اختلاف اور جھگڑا افسوسناک واقعات کی واضح شہادت دیتے ہیں۔
دُنیا کے موجودہ حالات کے پیشِنظر عالمی اتحاد شاید ایک ناقابلِرسائی نشانہ دکھائی دیتا ہے۔ دی کولمبیا ہسٹری آف دی ورلڈ بیان کرتی ہے: ”اس اہم سوال کے لئے کہ ملجُل کر اکھٹے کیسے رہا جائے، معاصر دُنیا کے پاس کوئی نیا خیال نہیں، ایک بھی نہیں۔“
تاہم دُنیا کے تمام باشندوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے لئے کسی نئے خیال کی ضرورت نہیں۔ اتحاد کی راہ کا تعیّن پاک صحائف میں کر دیا گیا ہے۔ اس کا محور اُس خالق کی پرستش ہے جس نے زمین اور اس پر کی تمام زندگی کو خلق کِیا ہے۔ خدا کے لوگوں کے درمیان سوچ، مقصد اور زندگی کی راہ کے سلسلے میں پہلے ہی حقیقی ہمآہنگی پائی جاتی ہے۔ ان کی تعداد ۲۳۳ ممالک میں ساڑھے پانچ ملین سے زیادہ ہے اور وہ اس یقین میں متحد ہیں کہ زندگی کی خدائی راہ ہی بہترین راہ ہے۔ زبورنویس کی طرح وہ دُعا کرتے ہیں: ”اے خداوند! مجھکو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ مَیں تیری راستی میں چلوں گا۔ میرے دل کو یکسوئی بخش تاکہ تیرے نام کا خوف مانوں۔“—زبور ۸۶:۱۱۔
سچی پرستش کے لئے لوگوں کے اس اتحاد کی بابت صدیوں پہلے یسعیاہ نبی نے پیشینگوئی کی تھی۔ اُس نے لکھا: ”آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کِیا جائیگا اور ٹیلوں سے بلند ہوگا اور سب قومیں وہاں پہنچیں گی۔ بلکہ بہت سی اُمتیں آئینگی اور کہینگی آؤ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوؔب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہمکو بتائیگا اور ہم اُس کے راستوں پر چلینگے کیونکہ شریعت صیوؔن سے اور خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کا کلام یرؔوشلیم سے صادر ہوگا۔“—یسعیاہ ۲:۲، ۳۔
یہوواہ کے گواہوں کا اتحاد منفرد ہے۔ ساری دُنیا میں ۸۷،۰۰۰ سے زیادہ کلیسیاؤں میں وہ ہر ہفتے ایک جیسی روحانی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) تاہم، ۱۹۹۸ کے درمیانی عرصے سے ۱۹۹۹ کے اوائل تک گواہوں نے ایک اَور طریقے—ساری دُنیا میں سہروزہ کنونشن ”زندگی کی خدائی راہ“ پر حاضر ہونے سے اتحاد کا مظاہرہ کِیا ہے۔ ۱۳ ممالک میں ایسے اجتماعات پر مختلف ممالک سے مندوبین نے بھی شرکت کی جس کی بدولت وہ انٹرنیشنل کنونشن کہلائے۔ دیگر کو ڈسٹرکٹ کنونشن کا نام دیا گیا۔ تاہم ان تمام کنونشنوں پر عمدہ روحانی چیزوں پر مشتمل ایک ہی پروگرام پیش کِیا گیا۔
یہوواہ سے تعلیم پانے کیلئے خوشباش، خوشلباس مندوبین کو آڈیٹوریمز اور سٹیڈیمز کی جانب رواں دیکھنا کتنا خوشگوار تھا! میشیگن، یو.ایس.اے میں منعقد ہونے والی ایک انٹرنیشنل کنونشن پر حاضر ہونے والی ایک مندوب نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کِیا۔ اُس نے کہا: ”تمام دُنیا—چیک ریپبلک، بربادس، نائیجیریا، ہنگری، برطانیہ، ہالینڈ، ایتھیوپیا، کینیا اور دیگر ممالک—سے آئے ہوئے اپنے بھائیوں کو ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے دیکھنا واقعی خوشی کی بات تھی! اپنے عظیم خدا یہوواہ اور اپنی باہمی محبت کی بدولت بھائیوں کو باہم ملکر رہتے اور خوشی کے آنسو بہاتے دیکھنا کتنا دلکش تھا!“ اگلا مضمون اُس کنونشن پروگرام کا تجزیہ کرے گا جس سے ساری زمین پر لاکھوں لوگوں نے لطف اُٹھایا۔
[صفحہ 3 پر تصویروں کے حوالہجات]
.Mountain High Maps® Copyright © 1997 Digital Wisdom, Inc