خاندان کیلئے حقیقی مدد
”یہ کہنا بجا ہے کہ امریکہ میں خاندانی بحران ہے۔ طلاق کی شرح، شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش سے متعلق اعدادوشمار نیز نوجوانوں اور شریکِحیات سے بدسلوکی جیسے واقعات سے یہی نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا ہے۔“
ٹیلیویژن مبصر ٹام بروکا کے یہ الفاظ بیشتر ممالک کی بابت سچ ثابت ہوتے ہیں۔ اس بحران کا کیا مطلب ہے؟
کئی طریقوں سے خاندان معاشرے کی تعمیروترقی کیلئے بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر خاندان مشکلات کا شکار ہے تو معاشرہ بھی مشکلات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ مزیدبرآں، خاندان بچوں کیلئے جذباتی اور مالی مدد کا ذریعہ ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں وہ زندگی کے ابتدائی اور اہم حقائق سے رُوشناس ہوتے ہیں۔ اگر خاندان مشکلات کا شکار ہے تو بچے کیا سیکھ رہے ہیں؟ اُنکے تحفظ کی بابت کیا ہے؟ وہ کس قسم کے بالغ اشخاص بنیں گے؟
بحران کے اس وقت میں کیا خاندان کیلئے کوئی مدد دستیاب ہے؟ جیہاں۔ خاندان ایک ایسا ادارہ ہے جسکی بنیاد خدا نے خود رکھی تھی۔ (پیدایش ۱:۲۷، ۲۸) نیز اُس نے اپنے کلام، بائبل میں خاندان کیلئے ضروری راہنمائی فراہم کی ہے۔ (کلسیوں ۳:۱۸-۲۱) درست ہے کہ ہم مجموعی طور پر سارے معاشرے کو نہیں بدل سکتے تاہم، ہم اپنے خاندان میں بائبل مشورت کا اطلاق کر سکتے ہیں۔ ہم آپ کو چند ایسے لوگوں کی بابت بتانا چاہیں گے جنہوں نے ایسا کِیا اور عمدہ نتائج حاصل کئے۔
طلاق سے گریز کرنا
کئی ممالک کے اندر تمام شادیوں میں سے کوئی ۵۰ فیصد کا انجام طلاق ہوتا ہے۔ یہ انسانی رشتوں کی بہت بڑی ناکامی ہے! درست ہے کہ اس وجہ سے بہتیرے جو تنہا والدین کے طور پر اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں قابلِتحسین کام انجام دیتے ہیں۔ تاہم بیشتر اس بات سے اتفاق کریں گے کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ جوڑا اکٹھا رہے اور اپنے مسائل حل کرے۔
سلیمان جزائر میں ایک جوڑے کی بیاہتا زندگی نازک مراحل میں تھی۔ شوہر جو ایک چیف کا بیٹا تھا، متشدّد اور بُری عادات کا مالک تھا۔ اُس کی بیوی کیلئے زندگی اسقدر مشکل تھی کہ اُس نے خودکشی کرنے کی بھی کوشش کی۔ ایسی صورتحال میں شوہر یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ کرنے پر رضامند ہو گیا۔ اُس نے سیکھا کہ جو شخص خدا کو خوش کرنے کا خواہاں ہے اُسے نہ صرف یہ جاننا چاہئے کہ کیا غلط ہے بلکہ ”بدی سے نفرت“ بھی رکھنی چاہئے۔ (زبور ۹۷:۱۰) اس میں جھوٹ، چوری، تشدد اور نشےبازی جیسی چیزوں سے نفرت کرنا بھی شامل ہے۔ اُس نے اس پر دل لگایا اور جلد ہی اپنی بُری عادات اور تُندمزاجی پر قابو پا لیا۔ اس کی بیوی اس تبدیلی پر حیران تھی اور خدا کے کلام کی اثرآفرینی نے اُنکی بیاہتا زندگی کو بہت بہتر بنا دیا۔
جنوبی افریقہ میں یہوواہ کی گواہ ایک خاتون نے سنا کہ اُسکی آجر اور اُسکا شوہر طلاق لینے کی بابت سوچ رہے ہیں۔ گواہ نے اپنی آجر کیساتھ شادی کی بابت خدائی نقطۂنظر پر باتچیت کی اور اُسے ایک کتاب بعنوان خاندانی خوشی کا راز دکھائی۔ یہوواہ کے گواہوں کی طرف سے شائعکردہ یہ کتاب اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بائبل جوڑوں کی مسائل حل کرنے میں کیسے مدد کرتی ہے، ایسے بائبل اصولوں کو اجاگر کرتی ہے جنکا اطلاق شادی پر ہوتا ہے۔ آجر اور اُس کے شوہر دونوں نے کتاب کا مطالعہ کِیا اور اُس میں پیش کئے گئے بائبل اصولوں کا اطلاق کرنے کی مخلصانہ کوشش کی۔ نتیجتاً اُنہوں نے طلاق نہ لینے کا فیصلہ کِیا—ایک اور شادی جو بائبل اصولوں کے اطلاق کی وجہ سے بچ گئی۔
مختلف مذاہب
ایسی شادی کی بابت کیا ہے جس میں شریکِحیات کے مذاہب مختلف ہوں؟ بائبل حقیقتپسندانہ طور پر مسیحیوں کو ”صرف خداوند میں“ شادی کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۹) تاہم بعضاوقات ایک شریکِحیات اپنا مذہب تبدیل کر لیتا ہے۔ کیا اس سے شادی ختم ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
بوٹسوانا میں حال ہی میں یہوواہ کی گواہ بننے والی ایک خاتون سے پوچھا گیا کہ اُس کے نئے ایمان نے اُس میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ اُس نے اپنے شوہر سے اس سوال کا جواب دینے کے لئے کہا جس نے یوں بیان کِیا: ”جب سے میری بیوی یہوواہ کی گواہ بنی ہے، مَیں نے اس میں بہت سی مثبت تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ دھیمی طبیعت کی مالک بن گئی ہے۔ اُس کے پاس سگریٹنوشی جیسی بُری عادت ترک کرنے کے لئے قوت اعتماد ہے جس پر مَیں ابھی تک غالب نہیں آ سکا۔ میری بیوی میرے اور میرے بچوں کے علاوہ وہ دیگر لوگوں کے ساتھ بھی زیادہ محبت اور شفقت سے پیش آتی ہے۔ بچوں کے سلسلے میں بالخصوص وہ زیادہ بُردبار ہو گئی ہے۔ مَیں اُسے دوسروں کو اپنی زندگیاں بہتر بنانے میں مدد دینے کے لئے خدمتگزاری میں وقت صرف کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ مَیں نے خود اپنے اندر بھی مثبت تبدیلیاں محسوس کی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ صرف اور صرف اُسکے نمونے کی وجہ سے ہے۔“ بائبل اصولوں نے اس شادی پر کیا ہی شاندار طریقے سے اثر ڈالا ہے! بہت سے لوگوں نے جو گواہ نہیں ہیں، اپنے گواہ شریکِحیات کی بابت ایسے ہی تبصرے کئے ہیں۔
جب باپ اپنی ذمہداریوں سے غفلت برتتا ہے
باپ اور بچوں کا باہمی تعلق مستحکم خاندان تعمیر کرنے کی کنجی ہے۔ پولس رسول نے نصیحت کی: ”اے اولاد والو! تم اپنے فرزندوں کو غصہ نہ دلاؤ بلکہ خداوند کی طرف سے تربیت اور نصیحت دے دے کر ان کی پرورش کرو۔“ (افسیوں ۶:۴) واضح طور پر دی ولسن کواٹرلی کے ایک مضمون نے بہت سے سماجی مسائل کا ذمہدار ایسے والدوں کو ٹھہرایا جو اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ مضمون نے بیان کِیا: ”۱۹۶۰ اور ۱۹۹۰ کے دوران اپنے حقیقی والد سے دُور رہنے والے بچوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے . . . امریکی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لینے والے متعدد تشویشناک مسائل کی ایک بڑی وجہ والدوں کا انحطاطپذیر کردار ہے۔“
کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ جن بچوں کی راہنمائی اُن کے والد نہیں کرتے، ناکامی اُن کا مقدر ہے۔ ہرگز نہیں۔ قدیم زمانے کے زبورنویس نے کہا: ”جب میرا باپ اور میری ماں مجھے چھوڑ دیں تو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] مجھے سنبھالیگا۔“ (زبور ۲۷:۱۰) تھائیلینڈ میں ایک نو سالہ لڑکے نے اس بات کو سچ پایا۔ اُس کی ماں اُس کے بچپن میں ہی فوت ہو گئی اور اُس کا باپ اُسے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتا تھا اسلئے وہ اُسے اُس کی دادی کے پاس چھوڑ گیا۔ چاہت اور پیار کے احساسِمحرومیت کی وجہ سے وہ باغی اور متشدّد بن گیا۔ حتیٰکہ وہ اپنی دادی کو بھی دھمکایا کرتا تھا۔ یہوواہ کے گواہوں کی دو کُلوقتی منادوں نے جب عموماً اُسے مقامی کنگڈمہال کے باہر کھڑے دیکھا تو ایک دن اُسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔
اُنہوں نے اُسے خدا کی بابت بتایا کہ وہ ایک باپ کی طرح اپنے بچوں سے محبت کرتا ہے۔ اُنہوں نے زمینی فردوس کی بابت بھی باتچیت کی جسکا خدا نے وفادار انسانوں سے وعدہ کِیا ہے۔ (مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) یہ سب کچھ لڑکے کو بہت اچھا لگا اور وہ مزید سیکھنے کیلئے روزانہ آنے لگا۔ گواہوں نے اُسے بتایا کہ اگر وہ واقعی چاہتا ہے کہ خدا اُسکا باپ ہو تو اُسے لڑائیجھگڑا چھوڑنا ہوگا۔ یہ رومیوں کے نام پولس کے الفاظ کی مطابقت میں تھا: ”جہاں تک ہو سکے تُم اپنی طرف سے سب آدمیوں کے ساتھ میل ملاپ رکھو۔“ (رومیوں ۱۲:۱۸) اُسے اپنی دادی سے بھی مہربانہ سلوک کرنا ہوگا۔ (۱-تیمتھیس ۵:۱، ۲) جلد ہی وہ بائبل اصولوں پر عمل کرنے لگا—بلاشُبہ اپنی دادی کیساتھ اپنی خاندانی زندگی کو بہتر بنا رہا تھا۔ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) اُس کے اندر پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے متاثر ہو کر پڑوسی چاہتے تھے کہ اُنکے بچے بھی یہوواہ کے گواہوں کیساتھ مطالعہ کریں!
امنپسند روح
پولس رسول نے کلسیوں کو لکھا: ”محبت کو جو کمال کا پٹکا ہے باندھ لو۔ اور مسیح کا اطمینان . . . تمہارے دلوں پر حکومت کرے۔“ (کلسیوں ۳:۱۴، ۱۵) امنپسند روح اور دلی محبت یقیناً ایک خاندان کو متحد رکھ سکتی ہیں۔ نیز یہ طویلاُلمدتی خاندانی تفرقات کو بھی ختم کر سکتی ہیں۔ البانیہ میں رہنے والی رقیہ نے ایک خاندانی جھگڑے کے باعث ۱۷ سال سے اپنے بھائی سے باتچیت بند کر رکھی تھی۔ جب اُس نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کِیا تو اُس نے سیکھا کہ خدا کے ہر خادم کو دوسروں کے ساتھ صلح کے طالب ہونے کی تلقین کی جاتی ہے۔ ”صلح [”امن،“ اینڈبلیو] کا طالب ہو اور اُس کی کوشش میں رہے۔“—۱-پطرس ۳:۱۱۔
رقیہ نے محسوس کِیا کہ اُسے اپنے بھائی کیساتھ صلح کرنے کی ضرورت ہے۔ اُس نے ساری رات دُعا کی اور اگلی صبح دھڑکتے دل کیساتھ اپنے بھائی کے گھر کی جانب چل دی۔ رقیہ کی بھتیجی نے دروازہ کھولا اور حیرت سے پوچھا: ”آپ یہاں کیسے؟“ رقیہ نے بڑے پُرسکون انداز میں یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ وہ اپنے بھائی سے صلح کرنا چاہتی ہے اُس سے ملنے کی درخواست کی۔ کیوں؟ اس لئے کہ اُس نے سمجھ لیا ہے کہ خدا کی یہی مرضی ہے۔ اُس کے بھائی نے جوابیعمل دکھایا اور اُن کا ملاپ ایک دوسرے کو گلے لگانے اور خوشی کے آنسوؤں پر منتج ہوا—بائبل اصولوں کی پیروی کی بدولت ایک خاندان دوبارہ متحد ہو گیا۔
بُری صحبتیں
”آجکل ایک عام بچہ روزانہ ۷ گھنٹے ٹیلیویژن دیکھتا ہے۔ پانچویں جماعت کے اختتام تک وہ آٹھ ہزار سے زیادہ قتل اور دس ہزار تشددآمیز مناظر دیکھ چکا ہوتا ہے۔“ دی سیون ہیبٹس آف ہائیلی ایفیکٹو فیملیز نامی کتاب بیان کرتی ہے۔ ایسی آگہی کا بچوں پر کیا اثر ہوتا ہے؟ ”ماہرین“ اس بات پر متفق نہیں ہیں تاہم، بائبل بُری صحبتوں کی بابت سختی سے آگاہ کرتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ بیان کرتی ہے: ”وہ جو داناؤں کے ساتھ چلتا ہے دانا ہوگا پر احمقوں کا ساتھی ہلاک کِیا جائیگا۔“ (امثال ۱۳:۲۰) یہ مزید بیان کرتی ہے: ”بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگاڑ دیتی ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) بُری صحبتیں خواہ لوگ ہیں یا ٹیلیویژن پروگرام اگر ہم دانشمندی کیساتھ اس اصول کو ذہننشین کرتے ہیں تو خاندانی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
لکسمبرگ میں ایک ماں یہوواہ کی ایک گواہ کے ساتھ بائبل مطالعہ کر رہی تھی۔ ایک دن اُس نے گواہ کو بتایا کہ اُس کی سات اور آٹھ سالہ بیٹیاں شام کو بہت لڑائیجھگڑا کرتی ہیں۔ گواہ نے پوچھا کہ بچیاں شام کے اوقات میں کیا کرتی ہیں۔ ماں نے بتایا کہ وہ ٹیلیویژن دیکھتی ہیں جب کہ وہ باروچیخانہ صاف کرتی ہے۔ کونسے پروگرام دیکھتی ہیں؟ ”کارٹونز،“ ماں نے جواب دیا۔ جب گواہ نے بتایا کہ ایسے پروگرام اکثر تشدد پر مبنی ہوتے ہیں تو ماں نے وعدہ کِیا کہ وہ اس پر نظر رکھے گی۔
اگلے ہی دن ماں نے بیان کِیا کہ اُس کی بچیاں جو کارٹون دیکھ رہی تھیں وہ اُنہیں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ وہ فرضی بلاؤں کو پیش کر رہے تھے جو خلا سے آئی تھیں اور اپنی راہ میں حائل ہر شے کو بےدردی سے تباہ کر دیتی تھیں۔ اُس نے اپنی بیٹیوں کو سمجھایا کہ یہوواہ تشدد سے نفرت کرتا ہے اور جب ہم سفاکی کے کاموں کو دیکھتے ہیں تو وہ اس سے خوش نہیں ہوتا۔ (زبور ۱۱:۵) لڑکیاں یہوواہ کو خوش کرنے کی خواہش کے پیشِنظر ٹیلیویژن دیکھنے کی بجائے وہ تصاویر بنانے اور اُن میں رنگ بھرنے کے لئے رضامند ہو گئیں۔ فوراً ہی اُن کا جارحانہ انداز بدل گیا اور خاندانی ماحول بہتر ہو گیا۔
یہ صرف چند مثالیں ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ بائبل اصولوں کا اطلاق کرنا خاندانی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ بائبل مشورت ہر قسم کی صورتحال کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ مستند ہے اور عمدہ نتائج کیلئے اثرآفریں ہے۔ (عبرانیوں ۴:۱۲) جب لوگ بائبل کا مطالعہ کرتے اور جو کچھ یہ کہتی ہے خلوصدلی سے اُس کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خاندان مضبوط ہوتے ہیں، شخصیت سنورتی ہے اور غلطیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ اگر خاندان کا ایک فرد بھی خدائی مشورت کی پیروی کرے تو معاملات بہتر ہو جاتے ہیں۔ بجا طور پر زندگی کے تمام حلقوں میں ہمیں خدا کے کلام کی بابت زبورنویس جیسا رجحان رکھنا چاہئے جس نے لکھا: ”تیرا کلام میرے قدموں کیلئے چراغ اور میری راہ کیلئے روشنی ہے۔“—زبور ۱۱۹: ۱۰۵۔
[صفحہ 5 پر تصویر]
بائبل اصولوں کے اطلاق سے خاندانی مسائل حل ہو گئے ہیں