خدا کی راستی پر اپنے اعتماد کو مضبوط کریں
”تاکہ تیرا توکل خداوند پر ہو مَیں نے آج کے دن تجھکو ہاں تجھ ہی کو جتا دیا ہے۔“—امثال ۲۲:۱۹۔
۱، ۲. (ا) یہوواہ کے گواہ یہوواہ پر اعتماد کیوں ظاہر کرتے ہیں؟ (امثال ۲۲:۱۹) (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ بعض اشخاص کو یہوواہ پر اپنے اعتماد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے؟
سچے مسیحیوں کو یہوواہ اور اُس کے مقاصد کی بابت صحیح علم سے نوازا گیا ہے۔ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ پُرمحبت طریقے سے اُنہیں ”وقت پر“ روحانی ”کھانا“ فراہم کرتا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) یہ علم اُنہیں خدا پر اعتماد رکھنے کی ٹھوس بنیاد مہیا کرتا ہے۔ لہٰذا، ایک گروہ کے طور پر، یہوواہ کے گواہ یہوواہ اور اُس کی راستی پر غیرمعمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
۲ تاہم، ایسے لگتا ہے کہ بعض گواہوں کو انفرادی طور پر ایسے اعتماد کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ کبھیکبھار سوسائٹی کو ایسے خطوط موصول ہوتے ہیں جن میں اس کی مطبوعات کے اندر پیش کی جانے والی تشریحات پر شک کا اظہار کِیا جاتا ہے۔ ایسے شکوک کسی بات میں بہتری لانے سے پیدا ہو سکتے ہیں یا پھر ان کا تعلق دریافتکنندہ پر بالخصوص جذباتی اثر ڈالنے والے معاملات سے ہو سکتا ہے۔—مقابلہ کریں یوحنا ۶:۶۰، ۶۱۔
۳. یہوواہ کے وفادار خادموں کے ساتھ بھی کیا واقع ہو سکتا ہے اور کیوں؟
۳ یہوواہ کے سچے خادم بھی واعظ ۹:۱۱ کی صداقت کا تجربہ کرتے ہیں: ”پھر مَیں نے توجہ کی اور دیکھا کہ دُنیا میں نہ تو دوڑ میں تیزرفتار کو سبقت ہے نہ جنگ میں زورآور کو فتح اور نہ روٹی دانشمند کو ملتی ہے نہ دولت عقلمندوں کو اور نہ عزت اہلِخرد کو بلکہ اُن سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔“ یہ بات وسیع یا روحانی مفہوم میں کیسے سچ ثابت ہو سکتی ہے؟ شاید ہم ایسے مسیحیوں کو جانتے ہوں جو بائبل مشورت کا اطلاق کرنے میں تیزرفتار، سچائی کا دفاع کرنے میں زورآور، بائبل اصولوں کو لاگو کرنے میں دانشمند اور صحیح علم کے حصول کے لئے پُرجوش ہوتے تھے۔ تاہم، ”وقت اور حادثے“ کی وجہ سے بعض اب شاید خود کو کسی ناگہانی مصیبت یا بڑھاپے کی وجہ سے محدود خیال کرتے ہیں۔ وہ سوچ سکتے ہیں کہ آیا وہ موت کا مزہ چکھے بغیر خدا کی نئی دُنیا میں داخل ہونگے۔
۴، ۵. مسیحیوں کے پاس یہوواہ کی راستی پر اعتماد کھو دینے کی وجہ کیوں نہیں ہے؟
۴ جب ایک مسیحی کا بیاہتا ساتھی وفات پا جاتا ہے تو دُکھ اور احساسِمحرومیت بہت شدید ہوتا ہے۔ ایک جوڑے کے طور پر اُنہوں نے شاید اکٹھے مل کر برسوں یا عشروں تک یہوواہ کی خدمت کی ہو۔ سوگوار ساتھی جانتا ہے کہ موت ازدواجی بندھن کو ختم کر دیتی ہے۔a (۱-کرنتھیوں ۷:۳۹) اب، اُسے اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے مبادا کہ اُس کا اعتماد کمزور نہ پڑ جائے۔—مقابلہ کریں مرقس ۱۶:۸۔
۵ کسی بیاہتا ساتھی، ماں یا باپ، بچے یا کسی قریبی مسیحی دوست کی موت کو یہوواہ کی راستی پر اعتماد ظاہر کرنے کا موقع خیال کرنا کتنی دانشمندی کی بات ہے! ذاتی نقصان اُٹھانے کے باوجود ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ناانصافی نہیں کرتا۔ ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ زندہ بچ جانے یا قیامت کے ذریعے جتنے بھی لوگ ابدی زندگی حاصل کریں گے وہ خوش ہوں گے۔ زبورنویس خدا کی بابت بیان کرتا ہے: ”تُو اپنی مٹھی کھولتا ہے اور ہر جاندار کی خواہش پوری کرتا ہے۔ خداوند اپنی سب راہوں میں صادق اور اپنے سب کاموں میں رحیم ہے۔ خداوند اُس کے قریب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔ جو اُس سے ڈرتے ہیں وہ اُن کی مُراد پوری کرے گا۔ وہ اُن کی فریاد سنے گا اور اُن کو بچا لے گا۔“—زبور ۱۴۵:۱۶-۱۹۔
بیفائدہ تکلیف اُٹھانے کے احساسات
۶، ۷. (ا) ماضی میں تکلیف اُٹھانے والے بعض گواہ اب فرق سمجھ کیوں رکھتے ہیں؟ (ب) ماضی میں ایسی تکلیف کی اجازت دینے کو ہمیں یہوواہ کی طرف سے ناانصافی کیوں خیال نہیں کرنا چاہئے؟
۶ ماضی میں بعض لوگوں نے ایسی کارگزاری میں شریک ہونے سے انکار کرنے کی وجہ سے تکلیف اُٹھائی جسکی شاید ہی اُنکا ضمیر اب اجازت دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، برسوں پہلے شاید اُنہوں نے بعض قسم کی کشوری خدمت میں شریک نہ ہونے کا انتخاب کِیا ہو۔ تاہم اب شاید کوئی بھائی محسوس کرے کہ وہ موجودہ نظامالعمل کے سلسلے میں اپنی مسیحی غیرجانبداری کی خلافورزی کئے بغیر دیانتداری سے ایسی خدمت انجام دے سکتا ہے۔
۷ کیا اُس شخص کو ایسے کام کو ردّ کرنے کی وجہ سے تکلیف اُٹھانے کی اجازت دینا یہوواہ کا غیرمنصفانہ عمل تھا جسے اب وہ بلانتائج کر سکتا ہے؟ اس تجربے سے گزرنے والے بہتیرے لوگ ایسا خیال نہیں کرتے۔ اس کی بجائے وہ خوش ہوتے ہیں کہ اُنہیں علانیہ اور نمایاں طور پر یہ ظاہر کرنے کا موقع ملا کہ وہ عالمگیر حاکمیت کے مسئلے کے سلسلے میں ٹھوس موقف اختیار کرنے پر اٹل تھے۔ (مقابلہ کریں ایوب ۲۷:۵) کیا کسی کے پاس یہوواہ کے لئے ٹھوس موقف اختیار کرنے کے معاملے میں اپنے ضمیر کی پیروی کرنے پر پشیمان ہونے کی کوئی وجہ ہو سکتی ہے؟ اپنی سمجھ کے مطابق وفاداری سے مسیحی اصولوں کی پابندی کرنے یا ضمیر کی آواز پر دھیان دینے سے اُنہوں نے خود کو یہوواہ کی دوستی کے لائق ثابت کِیا۔ واقعی، ایسی روِش سے بچنا دانشمندانہ بات ہے جو کسی کے ضمیر میں خلِش پیدا کر دے یا جو دوسروں کے لئے ٹھوکر کا باعث بنے۔ اس سلسلے میں ہم پولس کے نمونے پر غور کر سکتے ہیں۔—۱-کرنتھیوں ۸:۱۲، ۱۳؛ ۱۰:۳۱-۳۳۔
۸. پہلے شریعت کی پابندی کرنے والے یہودی مسیحیوں کے پاس یہوواہ کی راستی پر اعتراض کرنے کی کوئی وجہ کیوں نہیں تھی؟
۸ یہوواہ کو خوش کرنے کے لئے یہودیوں سے دس احکام کے علاوہ تقریباً ۶۰۰ اضافی قوانین کی اطاعت کرنے کا تقاضا کِیا گیا تھا۔ بعدازاں، مسیحی انتظام کے تحت حتیٰکہ جسمانی یہودیوں کے لئے بھی یہوواہ کی خدمت کرنے کے لئے ان قوانین کی تابعداری ضروری نہیں تھی۔ ان متروک قوانین میں ختنہ، سبت کی پابندی، جانوروں کی قربانیاں پیش کرنا اور کچھ غذائی حدبندیوں کا لحاظ رکھنا شامل تھا۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۱۹؛ ۱۰:۲۵؛ کلسیوں ۲:۱۶، ۱۷؛ عبرانیوں ۱۰:۱، ۱۱-۱۴) رسولوں سمیت جتنے بھی یہودی مسیحی بنے وہ اُن قوانین کی پابندی کرنے سے آزاد ہو گئے جنکی شریعتی عہد کے تحت تابعداری کرنا لازمی تھا۔ کیا اُنہوں نے شکایت کی کہ جو کام ضروری نہیں تھے پہلے اُن کا تقاضا کرنے کے سلسلے میں خدا کا بندوبست غیرمنصفانہ تھا؟ نہیں، وہ یہوواہ کے مقصد کی وسیع سمجھ حاصل کر کے خوش ہوئے تھے۔—اعمال ۱۶:۴، ۵۔
۹. بعض گواہوں کے حق میں کیا بات سچ ثابت ہوئی لیکن اُنہیں پچھتانے کی ضرورت کیوں نہیں؟
۹ جدید وقتوں میں، بعض ایسے گواہ بھی ہو گزرے ہیں جو کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کی بابت نہایت بےلوچ نظریہ رکھتے تھے۔ اس وجہ سے اُنہوں نے دوسروں کی نسبت زیادہ تکلیف اُٹھائی۔ بعدازاں، اضافی علم نے مختلف معاملات کی بابت اُنکی سوچ میں وسعت پیدا کی۔ تاہم اُن کے پاس اس بات پر پچھتانے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اُنہوں نے پہلے اپنے ضمیر کے مطابق عمل کر کے کچھ زیادہ ہی تکلیف اُٹھائی تھی۔ یہ بات واقعی قابلِتعریف ہے کہ اُنہوں نے یہوواہ کے وفادار رہنے اور ”سب کچھ انجیل کی خاطر“ کرنے کے لئے رضامندی کا اظہار کِیا تھا۔ یہوواہ اِس قسم کی خدائیعقیدت کو برکت بخشتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۹:۲۳؛ عبرانیوں ۶:۱۰) پطرس رسول نے بصیرت سے لکھا: ”اگر نیکی کر کے دکھ پاتے اور صبر کرتے ہو تو یہ خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے۔“—۱-پطرس ۲:۲۰۔
یوناہ سے سبق سیکھنا
۱۰، ۱۱. یوناہ نے کیسے یہوواہ پر اعتماد کی کمی ظاہر کی (ا) جب اُسے نینوہ جانے کی تفویض ملی؟ (ب) جب خدا نے نینوہ کے لوگوں کو تباہ نہ کِیا؟
۱۰ جب یوناہ کو نینوہ جانے کی ہدایت ملی تو اُس نے اُس اعتماد کے لئے قدردانی کی کمی کا مظاہرہ کِیا جو یہوواہ اُس پر کر رہا تھا۔ اپنی نافرمانی کے باعث ایک ہولناک تجربے سے گزرنے کے بعد یوناہ ہوش میں آیا، اپنی غلطی کو تسلیم کِیا اور اپنی غیرملکی تفویض کو قبول کر کے نینوہ کے لوگوں کو جلد آنے والی تباہی کی بابت آگاہ کِیا۔ تاہم نتیجہ اس کے بالکل اُلٹ نکلا: نینوہ کے لوگوں کے تائب رُجحان کی وجہ سے یہوواہ نے اُنہیں تباہ نہ کرنے کا فیصلہ کِیا۔—یوناہ ۱:۱–۳:۱۰۔
۱۱ یوناہ کا ردِعمل؟ اُس نے برہم ہو کر دُعا میں خدا سے شکوہ کِیا۔ اُس کی شکایت کا لبِلباب یہ تھا: ’مجھے معلوم تھا کہ یہی ہوگا اسی لئے مَیں شروع ہی میں نینوہ آنا نہیں چاہتا تھا۔ اب جبکہ مَیں ایک بہت بڑی مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی دہشت اور تذلیل کا سامنا کر چکا ہوں اور نینوہ کے لوگوں کو آنے والی تباہی سے آگاہ کرنے کے لئے سخت محنت کر چکا ہوں تو نتیجہ یہ ہے! میری ساری محنت اور مصیبت رائیگاں گئی! مَیں مر ہی جاؤں تو اچھا ہے!‘—یوناہ ۴:۱-۳۔
۱۲. ہم یوناہ کے تجربے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۱۲ کیا یوناہ کے پاس شکایت کرنے کی کوئی جائز وجہ تھی؟ کیا خدا کا تائب خطاکاروں کے لئے رحم دکھانا ناانصافی تھی؟ دراصل، یوناہ کو خوش ہونا چاہئے تھا کیونکہ لاکھوں لوگ تباہی سے بچ گئے تھے! (یوناہ ۴:۱۱) تاہم اُس کے گستاخانہ، شکایتی رُجحان نے ظاہر کِیا کہ وہ یہوواہ کی راستی پر پُختہ اعتماد کا مظاہرہ نہیں کر رہا تھا۔ وہ دوسروں کی نسبت اپنی بابت زیادہ سوچ رہا تھا۔ آئیے اپنے آپ کو اور اپنے ذاتی احساسات کو پسِپُشت ڈالنے سے یوناہ سے سبق سیکھیں۔ آئیے یہ یقین رکھیں کہ اُس کی تنظیم کی ہدایت پر چلنے اور اُس کے فیصلوں کو قبول کرنے سے یہوواہ کی اطاعت کرنا درست عمل ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ”اُن ہی کا بھلا ہوگا جو خداترس ہیں۔“—واعظ ۸:۱۲۔
اپنے اعتماد کو مضبوط کرنے کا وقت اب ہے!
۱۳. ہم سب یہوواہ پر اپنے اعتماد کو کیسے مضبوط کر سکتے ہیں؟
۱۳ یہوواہ پر اپنے اعتماد کو مضبوط کرنا دانشمندانہ روِش ہے۔ (امثال ۳:۵-۸) بِلاشُبہ، ہمیں محض یہ دُعا کرنے سے زیادہ کچھ کرنا چاہئے کہ خدا مزید پُراعتماد بننے میں ہماری مدد کرے۔ اعتماد صحیح علم سے بڑھتا ہے اسلئے ہمیں ذاتی بائبل مطالعے یعنی بائبل اور اس کی وضاحت کرنے والی مطبوعات کی پڑھائی کو اپنے روزمرّہ معمول کا حصہ بنانا چاہئے۔ مسیحی اجلاسوں پر باقاعدہ حاضری اور حتیالوسع اچھی تیاری اور شرکت بھی نہایت اہم ہے۔ موقعشناسی سے اعتراضات پر قابو پاتے ہوئے دوسروں کو بائبل سچائیوں سے واقف کرنے کو اپنا شیوہ بنا لینا بھی یہوواہ اور اُس کے کلام پر ہمارے اعتماد کو گہرا کرتا ہے۔ یوں ہم روزانہ اُس کی رفاقت سے محظوظ ہوتے ہیں۔
۱۴. جلد ہی خدا کے لوگوں سے یہوواہ پر پہلے کی نسبت کہیں زیادہ اعتماد کرنے کا تقاضا کیوں کِیا جائے گا؟
۱۴ مستقبل قریب میں، نسلِانسانی پر آنے والی سب سے بڑی مصیبت اچانک شروع ہو جائے گی۔ (متی ۲۴:۲۱) جب اس کا آغاز ہوگا تو خدا کے خادموں کو پہلے سے کہیں زیادہ یہوواہ کی راستی اور اُس کی تنظیم کی طرف سے فراہمکردہ ہدایت پر اعتماد دکھانے کی ضرورت ہوگی۔ علامتی مفہوم میں، وہ اُس وقت بڑے اعتماد سے اس خدائی فرمان پر عمل کریں گے: ”اَے میرے لوگو! اپنے خلوتخانوں میں داخل ہو اور اپنے پیچھے دروازے بند کر لو اور اپنے آپ کو تھوڑی دیر تک چھپا رکھو جب تک کہ غضب ٹل نہ جائے۔“ (یسعیاہ ۲۶:۲۰) وہ ۲۳۲ ممالک میں ۸۵،۰۰۰ سے زائد کلیسیاؤں کے اندر پہلے ہی سے محفوظ ماحول میں داخل ہو چکے ہیں۔ ”اپنے خلوتخانوں میں داخل“ ہونے کے فرمان میں اگر کوئی اضافہ ہو بھی تو ہمیں پورا اعتماد ہے کہ یہوواہ اُس کو بھی پورا کرنے میں ہماری مدد کرے گا۔
۱۵. اعتماد کے معاملے پر ۱۹۹۸ میں کیسے زور دیا گیا ہے اور یہ کیوں درست ہے؟
۱۵ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اب اپنے اعتماد کو مضبوط کریں۔ اپنے مسیحی بھائیوں، یہوواہ کی تنظیم اور سب سے بڑھ کر خود یہوواہ پر اعتماد کے بغیر بچنا ناممکن ہوگا۔ پس یہ کس قدر موزوں ہے کہ پوری دُنیا میں یہوواہ کے گواہوں کو سالانہ آیت کے الفاظ کے ذریعے یاد دلایا گیا ہے کہ ”جو کوئی خداوند [”یہوواہ، اینڈبلیو] کا نام لے گا نجات پائے گا“! (رومیوں ۱۰:۱۳) ہمیں اس بات پر ہمیشہ اعتماد رکھنا چاہئے۔ اگر ہمیں اس اعتماد پر شک کا ذرا سا بھی گمان گزرے تو ہمیں اب، جیہاں، آج ہی اسے دُور کرنے کے لئے قدم اُٹھانا چاہئے۔
یہوواہ کی عدالت راست ہوگی
۱۶. اگر اعتماد کو بڑھایا نہ جائے تو اس کے ساتھ کیا واقع ہو سکتا ہے اور ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
۱۶ عبرانیوں ۳:۱۴ میں ممسوح مسیحیوں کو آگاہ کِیا گیا ہے: ”ہم مسیح میں شریک ہوئے ہیں بشرطیکہ اپنے ابتدائی بھروسے پر آخر تک مضبوطی سے قائم رہیں۔“ اصولی طور پر، زمینی اُمید رکھنے والے مسیحیوں پر بھی ان الفاظ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اگر ابتدائی اعتماد کو بڑھایا نہ جائے تو یہ رفتہرفتہ ختم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا کتنا ضروری ہے کہ ہم صحیح علم کے طالب رہیں اور یوں اپنے اعتماد کی بنیاد کو مضبوط کرتے رہیں!
۱۷. ہم کیوں پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ بچاؤ کے سلسلے میں یسوع راستی سے عدالت کریگا؟
۱۷ جلد ہی مسیح تمام قوموں کا ملاحظہ کرے گا تاکہ ”ایک کو دوسرے سے جدا کر“ سکے ”جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جدا کرتا ہے۔“ (متی ۲۵:۳۱-۳۳) ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ مسیح یہ فیصلہ کرنے میں راستی سے کام لے گا کہ بچنے کے لائق کون ہے۔ یہوواہ نے اُسے ”راستی سے دُنیا کی عدالت“ کرنے کے لئے حکمت، بصیرت اور دیگر ضروری لیاقتیں عطا کی ہیں۔ (اعمال ۱۷:۳۰، ۳۱) آئیے ابرہام جیسا یقین رکھیں جس نے کہا: ”ایسا کرنا تجھ [یہوواہ] سے بعید ہے کہ نیک کو بد کے ساتھ مار ڈالے اور نیک بد کے برابر ہو جائیں۔ یہ تجھ سے بعید ہے۔ کیا تمام دُنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کرے گا؟“—پیدایش ۱۸:۲۵۔
۱۸. ہمیں جس بات کا ابھی علم نہیں ہو سکتا اُس کی بابت ہمیں حد سے زیادہ پریشان کیوں نہیں ہونا چاہئے؟
۱۸ یہوواہ کی راستی پر پورے اعتماد کیساتھ، ہمیں ایسے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی بابت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جیسےکہ ’شِیرخواروں اور ننھے بچوں کی عدالت کیسے ہوگی؟ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں تک ابھی خوشخبری نہیں پہنچے گی کہ ہرمجدون آ جائیگی؟ ذہنی مریضوں کی بابت کیا ہے؟ وغیرہوغیرہ؟‘ یہ مانتے ہیں کہ اس وقت شاید ہم نہیں جانتے کہ یہوواہ ان معاملات کو کیسے حل کریگا۔ بہرحال، وہ ایک راست اور مہربانہ طریقے سے ایسا کریگا۔ ہمیں کبھی بھی اس پر شک نہیں کرنا چاہئے۔ دراصل، اُسے ان معاملات کو ایسے طریقے سے نپٹاتے ہوئے دیکھ کر شاید ہم حیران اور شادمان ہوں جسکی بابت ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔—مقابلہ کریں ایوب ۴۲:۳؛ زبور ۷۸:۱۱-۱۶؛ ۱۳۶: ۴-۹؛ متی ۱۵:۳۱؛ لوقا ۲:۴۷۔
۱۹، ۲۰. (ا) معقول سوال پوچھنا کیوں غلط نہیں ہے؟ (ب) یہوواہ درکار جواب کب فراہم کریگا؟
۱۹ بعض مخالفین کے جھوٹے دعوؤں کے برعکس، یہوواہ کی تنظیم خلوصدلی سے پوچھے گئے بروقت سوالات کی مذمت نہیں کرتی۔ (۱-پطرس ۱:۱۰-۱۲) تاہم، بائبل مشورہ دیتی ہے کہ ہم احمقانہ، فرضی سوالات سے گریز کریں۔ (ططس ۳:۹) معقول سوالات پوچھنا اور صحیفائی جوابات تلاش کرنے کے لئے خدا کے کلام اور مسیحی مطبوعات سے تحقیق کرنا ہمارے صحیح علم کو فروغ دے سکتا اور یوں یہوواہ پر ہمارے اعتماد کو مضبوط کر سکتا ہے۔ تنظیم یسوع کے نقشِقدم پر چلتی ہے۔ اُس نے ایسے سوالوں پر رائےزنی کرنے سے احتراز کِیا جن کے جواب کا ابھی موزوں وقت نہیں آیا تھا۔ اُس نے وضاحت کی: ”مجھے تم سے اَور بھی بہت سی باتیں کہنا ہے مگر اب تم اُنکی برداشت نہیں کر سکتے۔“ (یوحنا ۱۶:۱۲) اُس نے یہ بھی تسلیم کِیا کہ کچھ باتیں تو وہ خود بھی اُس وقت نہیں جانتا تھا۔—متی ۲۴:۳۶۔
۲۰ یہوواہ نے ابھی بہت سی باتوں کا انکشاف کرنا ہے۔ اس اعتماد کے ساتھ اُس کے منتظر رہنا کتنی دانشمندی کی بات ہے کہ اپنے مقاصد کو آشکارا کرنے کا اُس کا وقت اُس لمحے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بالکل موزوں ہوگا۔ ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ جب یہوواہ کا مقررہ وقت آ جائے گا تو ہم اُس کی راہوں کی اضافی سمجھ حاصل کرنے سے شادمان ہونگے۔ جیہاں، ہمیں اجر ضرور ملیگا بشرطیکہ ہم یہوواہ پر اور جس تنظیم کو وہ استعمال کر رہا ہے اُس پر مکمل اعتماد رکھیں۔ امثال ۱۴:۲۶ ہمیں یقین دلاتی ہے: ”خداوند کے خوف میں قوی اُمید [”توکل،“ اینڈبلیو] ہے اور اُس کے فرزندوں کو پناہ کی جگہ ملتی ہے۔“
[فٹنوٹ]
a دیکھیں دی واچٹاور، اکتوبر ۱۵، ۱۹۶۷، صفحہ ۶۳۸؛ جون ۱، ۱۹۸۷، صفحہ ۳۰۔
آپکا کیا خیال ہے؟
◻اپنے جذبات کو یہوواہ پر اعتماد کو کمزور کرنے کی اجازت دینا غیردانشمندانہ بات کیوں ہے؟
◻ہم یوناہ کے تجربے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
◻بائبل مطالعہ اور اجلاسوں پر حاضری اسقدر اہم کیوں ہے؟
[صفحہ 16 پر تصویر]
ذاتی نقصان اُٹھانے کے باوجود ہم پُراعتماد ہو سکتے ہیں کہ یہوواہ راست ہے
[صفحہ 18 پر تصویر]
کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کا اعتماد یہوواہ پر ہے؟