قیامت پر آپکا ایمان کتنا مضبوط ہے؟
”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تَو بھی زندہ رہیگا۔“—یوحنا ۱۱:۲۵۔
۱، ۲. یہوواہ کے ایک پرستار کو اُمیدِقیامت پر ایمان کی ضرورت کیوں ہے؟
قیامت پر آپکی اُمید کتنی مضبوط ہے؟ کیا یہ آپ کو موت کے ڈر کیخلاف استحکام اور آپ کے عزیزوں کی موت کے وقت آپ کو تسلی بخشتی ہے؟ (متی ۱۰:۲۸؛ ۱-تھسلنیکیوں ۴:۱۳) کیا آپ خدا کے بیشتر قدیمی خادموں کی مانند ہیں جنہوں نے کوڑوں، تمسخر، اذیت، قیدوبند کی برداشت کی اور قیامت پر ایمان سے تقویت حاصل کی؟—عبرانیوں ۱۱:۳۵-۳۸۔
۲ جیہاں، یہوواہ کے ایک خلوصدل پرستار کو اس بات کی بابت کسی قسم کا شک نہیں کرنا چاہئے کہ آیا قیامت ہوگی اور اُس کے اِس اعتماد کو اُس کے زندگی بسر کرنے کے طریقے پر اثرانداز ہونا چاہئے۔ اس حقیقت پر غور کرنا حیرتانگیز ہے کہ خدا کے مقررہ وقت پر سمندر، موت اور قبر اپنے اندر کے مُردوں کو دے ڈالینگے اور ان قیامتیافتہ لوگوں کو فردوسی زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کا موقع حاصل ہوگا۔—مکاشفہ ۲۰:۱۳؛ ۲۱:۴، ۵۔
آئندہ زندگی کی بابت شکوک
۳، ۴. بعدازموت زندگی کی بابت بہتیرے ابھی تک کیا اعتقاد رکھتے ہیں؟
۳ مسیحی دُنیا نے طویل عرصے سے موت کے بعد زندگی کی تعلیم دی ہے۔ یو.ایس. کیتھولک میگزین میں ایک مضمون نے بیان کِیا: ”مُدتوں سے مسیحیوں نے ایک امن اور اطمینان، احساسِتکمیل اور شادمانی والی زندگی کے انتظار میں اس زندگی کی مایوسیوں اور دُکھوں سے نپٹنے کی مقدوربھر کوشش کی ہے۔“ اگرچہ مسیحی دُنیا کے بیشتر ممالک میں لوگوں نے مذہب کو مسترد کر دیا ہے اور کسی حد تک مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے توبھی بہتیرے ابھی تک محسوس کرتے ہیں کہ موت کے بعد کچھ تو ضرور ہوگا۔ تاہم ایسی بہت سی باتیں ہیں جن کی بابت وہ پُریقین نہیں ہیں۔
۴ ٹائم میگزین کے ایک مضمون نے بیان کِیا: ”لوگ ابھی تک [بعدازموت زندگی] پر ایمان رکھتے ہیں: بس اس بات کی بابت اُنکا نظریہ ماند پڑ گیا ہے کہ یہ درحقیقت کیسی ہوگی اور اُن کے پادری بھی شاذونادر ہی اسکا ذکر کرتے ہیں۔“ مذہبی پیشوا اب بعدازموت زندگی کی بابت پہلے سے کم گفتگو کیوں کرتے ہیں؟ مذہبی سکالر جیفری برٹن رسل کہتا ہے: ”میرے خیال میں [پادری] اس موضوع سے اسلئے کنی کتراتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اُنہیں مقبولِعام میلانِتشکک کی دیوار کو پھلانگنا ہوگا۔“
۵. آجکل بہتیرے آتشی دوزخ کے عقیدے کی بابت کیا خیال کرتے ہیں؟
۵ متعدد چرچ تعلیم دیتے ہیں کہ بعدازموت زندگی میں جنت اور آتشی دوزخ شامل ہے۔ لہٰذا اگر پادری حضرات جنت کی بابت گفتگو کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں تو وہ دوزخ کی بابت گفتگو کرنے سے اَور بھی زیادہ ہچکچاتے ہیں۔ ایک اخبار کے مضمون نے بیان کِیا: ”آجکل طبیعی دوزخ میں ابدی سزا پر ایمان رکھنے والے چرچ بھی . . . اس نظریے پر بہت کم زور دیتے ہیں۔“ درحقیقت، جیسےکہ قرونِوسطیٰ میں سکھایا جاتا تھا، بہتیرے مذہبی علماء اب دوزخ پر عذاب کے کسی حقیقی مقام کے طور پر کوئی ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ، وہ دوزخ کی بابت ”رحمانہ“ نقطۂنظر کی زیادہ حمایت کرتے ہیں۔ بہت سے جدتپسند اشخاص کے خیال میں، گنہگاروں کو دوزخ میں حقیقی طور پر اذیت نہیں پہنچائی جاتی بلکہ وہ ”خدا سے روحانی جدائی“ کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا رہتے ہیں۔
۶. المناک صورتحال کے پیشِنظر بعض لوگ کیسے سمجھ جاتے ہیں کہ اُنکا ایمان ناکافی ہے؟
۶ جدید احساسات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کرنے کی غرض سے چرچ کے عقیدے میں لچک پیدا کر دینا نامقبولیت سے بچنے میں تو بعض کی مدد کر سکتا ہے مگر یہ خلوصدلی سے چرچ جانے والے لاکھوں لوگوں کو اس ششوپنج میں مبتلا کر دیتا ہے کہ کیا مانیں۔ لہٰذا جب موت سامنے دکھائی دیتی ہے تو اِن میں سے اکثر کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اُن کا ایمان کمزور ہے۔ اُن کا رجحان اُس خاتون جیسا ہے جس کے خاندان کے کئی افراد ایک المناک حادثے میں ہلاک ہو گئے۔ جب یہ پوچھا گیا کہ آیا اُس کے مذہبی ایمان نے اُسے کوئی تسلی فراہم کی ہے تو اُس نے تذبذب کے ساتھ جواب دیا، ”میرا خیال ہے۔“ تاہم اُس کے پُراعتماد جواب کے باوجود کہ اُس کے ایمان نے اُس کی مدد کی ہے اگر اُس کے اعتقادات ٹھوس بنیاد پر استوار نہ ہوتے تو اس سے کیا دیرپا فائدہ ہوتا؟ یہ نہایت غورطلب معاملہ ہے کیونکہ درحقیقت آئندہ زندگی کی بابت بہتیرے مذاہب کی تعلیم بائبل کی تعلیم سے بہت مختلف ہے۔
موت کے بعد زندگی کی بابت دُنیائےمسیحیت کا نظریہ
۷. (ا) بہتیرے چرچ کونسا مشترک اعتقاد رکھتے ہیں؟ (ب) ایک مذہبی عالم نے غیرفانی جان کے عقیدے کی بابت کیا بیان کِیا؟
۷ اپنے اختلافات کے باوجود، دُنیائےمسیحیت کے تقریباً تمام فرقے اس بات سے متفق ہیں کہ انسان ایک غیرفانی جان رکھتے ہیں جو جسم کی موت کے بعد زندہ بچ جاتی ہے۔ بہتیرے یہ ایمان رکھتے ہیں کہ جب ایک شخص مرتا ہے تو اُسکی جان شاید آسمان پر چلی جاتی ہے۔ بعض شاید اس بات سے ڈرتے ہوں کہ اُنکی جان یا تو آتشی دوزخ میں یا پھر اعراف میں جائیگی۔ تاہم غیرفانی جان کا نظریہ آئندہ زندگی کی بابت اُنکی سوچ کا محور ہے۔ مذہبی عالم آسکر کولمین نے کتاب امورٹیلیٹی اینڈ ریزوریکشن میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں اس پر تبصرہ کِیا۔ اُس نے لکھا: ”اگر آج ہم کسی عام مسیحی سے یہ پوچھیں کہ . . . اُسکے خیال میں موت کے بعد انسان کے انجام کی بابت نئے عہدنامے کی تعلیم کیا ہے تو چند ایک کے علاوہ ہمیں یہی جواب ملیگا: ’جان کی غیرفانیت۔‘“ تاہم، کولمین نے مزید بیان کِیا: ”یہ عام نظریہ مسیحیت کی بڑی غلطفہمیوں میں سے ایک ہے۔“ کولمین نے رائےزنی کی کہ جب اُس نے پہلےپہل یہ کہا تو اس بات نے ہنگامہ برپا کر دیا۔ پھربھی، اُسکی بات درست تھی۔
۸. یہوواہ نے پہلے مرد اور عورت کے سامنے کیا اُمید رکھی تھی؟
۸ یہوواہ خدا نے انسانوں کو مرنے کے بعد آسمان پر جانے کیلئے خلق نہیں کِیا تھا۔ اُس کا ابتدائی مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ کبھی مریں۔ آدم اور حوّا کو کامل خلق کِیا گیا تھا اور یہ موقع بخشا گیا تھا کہ وہ زمین کو راست اولاد سے معمور کریں۔ (پیدایش ۱:۲۸؛ استثنا ۳۲:۴) ہمارے پہلے والدین کو بتایا گیا تھا کہ وہ فقط خدا کی نافرمانی کرنے کی صورت میں ہی مرینگے۔ (پیدایش ۲:۱۷) اگر وہ اپنے آسمانی باپ کے فرمانبردار رہتے تو وہ زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہتے۔
۹. (ا) انسانی جان کی بابت سچائی کیا ہے؟ (ب) جب جان مرتی ہے تو اس کیساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟
۹ تاہم، افسوس کی بات ہے کہ آدم اور حوّا خدا کی فرمانبرداری کرنے میں ناکام ہو گئے۔ (پیدایش ۳:۶، ۷) پولس رسول نے اسکے المناک نتائج بیان کئے ہیں: ”پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے سب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اسلئےکہ سب نے گُناہ کِیا۔“ (رومیوں ۵:۱۲) زمین پر ہمیشہ تک زندہ رہنے کی بجائے آدم اور حوّا مر گئے۔ اسکے بعد کیا ہوا؟ کیا وہ ایسی غیرفانی جانیں رکھتے تھے جنہیں اب اُنکے گناہ کی پاداش میں آتشی دوزخ میں بھیجا جا سکتا تھا؟ اسکے برعکس، بائبل بیان کرتی ہے کہ پہلے جب اُسے خلق کِیا گیا تو آدم ”جیتی جان ہوا۔“ (پیدایش ۲:۷) انسان کو جان دی نہیں گئی تھی؛ وہ ایک جان، ایک زندہ شخص بن گیا تھا۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۴۵) چنانچہ، صرف آدم ہی ”جیتی جان“ نہیں تھا بلکہ، جیسے عبرانی زبان میں ظاہر کِیا گیا ہے جس میں پیدایش کی کتاب لکھی گئی تھی، ادنیٰ جانور بھی ”جاندار [”زندہ جانیں،“ اینڈبلیو]“ تھے! (پیدایش ۱:۲۴) جب آدم اور حوّا مر گئے تو وہ مردہ جانیں بن گئے۔ آخرکار اُنکے ساتھ وہی ہوا جسکی بابت یہوواہ آدم سے کہہ چکا تھا: ”تُو اپنے مُنہ کے پسینے کی روٹی کھائیگا جب تک کہ زمین میں تُو پھر لوٹ نہ جائے اسلئےکہ تُو اُس سے نکالا گیا ہے کیونکہ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائیگا۔“—پیدایش ۳:۱۹۔
۱۰، ۱۱. جان کی بابت بائبل کی تعلیم کے سلسلے میں نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا کیا تسلیم کرتا ہے اور یہ بائبل سے کیسے مطابقت رکھتا ہے؟
۱۰ دراصل، نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا اس سے متفق ہے۔ اپنے مضمون ”جان (ازروئےبائبل)“ میں یہ بیان کرتا ہے: ”پُرانے عہدنامے یا عبرانی صحائف میں جسم اور جان کی کوئی تقسیم [دو حصوں میں تقسیم] نہیں ہے۔“ یہ مزید بیان کرتا ہے کہ بائبل میں، لفظ ”جان“ سے ”مُراد کبھی بھی جسم یا انفرادی شخص سے علیٰحدہ چیز نہیں ہے۔“ درحقیقت، اکثر جان سے ”مُراد انفرادی ہستی ہے خواہ وہ جانوروں کی ہو یا انسانوں کی۔“ ایسی صافگوئی تازگیبخش ہے، تاہم کوئی سوچ سکتا ہے کہ بالعموم چرچ جانے والوں کو ان حقائق سے آگاہ کیوں نہیں کِیا گیا۔
۱۱ چرچ جانے والوں نے اگر بائبل کی اس سادہ سی سچائی کو جان لیا ہوتا تو وہ کتنی پریشانی اور خوف سے بچ گئے ہوتے: ”جو جان گناہ کرتی ہے وہی مریگی،“ دوزخ کی آگ میں اذیت نہیں اُٹھائے گی! (حزقیایل ۱۸:۴) اگرچہ اس میں اور دُنیائےمسیحیت کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق ہے توبھی یہ دانشمند آدمی سلیمان کے الہامی سخن کیساتھ پوری طرح ہمآہنگ ہے: ”زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے اور اُنکے لئے [اِس زندگی میں] اَور کچھ اجر نہیں کیونکہ اُنکی یاد جاتی رہی ہے۔ جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدور بھر کر کیونکہ پاتال میں جہاں تُو جاتا ہے نہ کام ہے نہ منصوبہ۔ نہ علم نہ حکمت۔“—واعظ ۹:۵، ۱۰۔
۱۲. دُنیائےمسیحیت نے غیرفانی جان کی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
۱۲ دُنیائےمسیحیت بائبل کی تعلیم سے بالکل فرق تعلیم کیوں دیتی ہے؟ نیو کیتھولک انسائیکلوپیڈیا اپنے مضمون ”جان، انسان کی غیرفانیت،“ میں بیان کرتا ہے کہ ابتدائی روحانی سرداروں کو غیرفانی جان کے عقیدے کیلئے بائبل سے نہیں بلکہ ”یونانی فلسفے کے شعراء اور فلاسفروں اور عام روایت“ سے حمایت ملی تھی ”بعدازاں علماء نے افلاطون یا ارسطو کے اصولوں کے استعمال کو ترجیح دی۔“ یہ بیان کرتا ہے کہ غیرفانی جان کے عقیدے سمیت—”افلاطونی اور نوفلاطونی فلسفے کے اثر“ کو بالآخر ”مسیحی تعلیمات کے مرکزی حصے“ میں داخل کر دیا گیا تھا۔
۱۳، ۱۴. مُلحد یونانی فلاسفروں سے روشنخیالی حاصل کرنے کی اُمید کرنا کیوں نامعقول ہے؟
۱۳ کیا اقبالی مسیحیوں کو موت کے بعد زندگی کی اُمید جیسے بنیادی عقیدے کی بابت سیکھنے کیلئے مُلحد یونانی فلاسفروں کی طرف رجوع کرنا چاہئے تھا؟ ہرگز نہیں۔ جب پولس نے کرنتھس، یونان میں رہنے والے مسیحیوں کو لکھا تو اُس نے کہا: ”دُنیا کی حکمت خدا کے نزدیک بیوقوفی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ وہ حکیموں کو اُن ہی کی چالاکی میں پھنسا دیتا ہے اور یہ بھی کہ خداوند حکیموں کے خیالوں کو جانتا ہے کہ باطل ہیں۔“ (۱-کرنتھیوں ۳:۱۹، ۲۰) قدیم یونانی بُتپرست تھے۔ لہٰذا، وہ سچائی کا ماخذ کیسے ہو سکتے تھے؟ پولس نے کرنتھیوں سے پوچھا: ”خدا کے مُقدسوں کو بُتوں سے کیا مناسبت ہے؟ کیونکہ ہم زندہ خدا کا مقدِس ہیں۔ چنانچہ خدا نے فرمایا ہے کہ مَیں اُن میں بسونگا اور اُن میں چلوں پھرونگا اور مَیں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میری اُمت ہونگے۔“—۲-کرنتھیوں ۶:۱۶۔
۱۴ شروع میں تو پاک سچائیوں کا مکاشفہ اسرائیلیوں کے ذریعے دیا گیا تھا۔ (رومیوں ۳:۱، ۲) تاہم، ۳۳ س.ع. کے بعد یہ پہلی صدی کی ممسوح مسیحی کلیسیا کے ذریعے دیا گیا تھا۔ پولس نے پہلی صدی کے مسیحیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ”ہم پر خدا نے اُن کو [اُس سے محبت رکھنے والوں کے لئے تیارکردہ چیزوں کو] روح کے وسیلہ سے ظاہر کِیا۔“ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۰؛ نیز مکاشفہ ۱:۱، ۲ کو دیکھیں) دُنیائےمسیحیت کا جان کی غیرفانیت کا عقیدہ یونانی فیلسوفی سے مشتق ہے۔ اسے اسرائیل کو دئے گئے خدا کے مکاشفوں کے ذریعے یا پہلی صدی کی ممسوح مسیحیوں کی کلیسیا کے ذریعے آشکارا نہیں کِیا گیا تھا۔
مُردوں کیلئے حقیقی اُمید
۱۵. یسوع کے مطابق، مُردوں کیلئے حقیقی اُمید کیا ہے؟
۱۵ اگر کوئی غیرفانی جان نہیں تو پھر مُردوں کیلئے کیا اُمید ہے؟ بِلاشُبہ، یہ قیامت ہے، بائبل کی بنیادی تعلیم اور حقیقتاً ایک شاندار الہٰی وعدہ۔ یسوع نے اُمیدِقیامت کو ایک قابلِحصول چیز کے طور پر پیش کِیا جب اُس نے لعزر کی بہن مرتھا سے کہا: ”قیامت اور زندگی تو مَیں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہیگا۔“ (یوحنا ۱۱:۲۵) یسوع پر ایمان رکھنے کا مطلب غیرفانی جان پر نہیں بلکہ قیامت پر ایمان رکھنا ہے۔
۱۶. قیامت پر ایمان رکھنا کیوں معقول ہے؟
۱۶ یسوع پہلے ہی قیامت کا ذکر کر چکا تھا جب اُس نے چند یہودیوں سے کہا: ”اس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اُسکی آواز سنکر نکلینگے۔“ (یوحنا ۵:۲۸، ۲۹) جوکچھ یسوع یہاں بیان کرتا ہے وہ جسم کی موت سے بچ کر سیدھا آسمان پر جانے والی غیرفانی جان سے بہت فرق ہے۔ یہ مستقبل میں اُن لوگوں کیلئے ’نکل آنے‘ کا وقت ہے جو صدیوں یا ہزاروں سال سے قبروں میں تھے۔ یہ مُردہ جانوں کا دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ ناممکن؟ خدا کے لئے نہیں ”جو مُردوں کو زندہ کرتا ہے اور جو چیزیں نہیں ہیں اُنکو اس طرح بلا لیتا ہے کہ گویا وہ ہیں۔“ (رومیوں ۴:۱۷) مُتشکِک حضرات شاید لوگوں کے مُردوں میں سے زندہ ہونے کے خیال کا مذاق اڑائیں لیکن یہ اس حقیقت سے بالکل ہمآہنگ ہے کہ ”خدا محبت ہے“ اور وہ ”اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“—۱-یوحنا ۴:۱۶؛ عبرانیوں ۱۱:۶۔
۱۷. قیامت کے ذریعے خدا کیا سرانجام دیگا؟
۱۷ بہرصورت، اگر خدا ”جان دینے تک وفادار“ رہنے والے لوگوں کو دوبارہ زندہ نہ کرتا تو وہ اُنہیں اجر کیسے دے سکتا تھا؟ (مکاشفہ ۲:۱۰) قیامت خدا کیلئے اُس کام کو بھی سرانجام دینا ممکن بناتی ہے جسکی بابت رسول یوحنا نے لکھا: ”خدا کا بیٹا اِسی لئے ظاہر ہؤا تھا کہ ابلیس کے کاموں کو مٹائے۔“ (۱-یوحنا ۳:۸) پیچھے باغِعدن میں، شیطان ہمارے پہلے والدین کیلئے گناہ اور موت کا سبب بننے سے پوری نسلِانسانی کا قاتل بن گیا۔ (پیدایش ۳:۱-۶؛ یوحنا ۸:۴۴) یسوع نے شیطان کے کاموں کو اُس وقت مٹانا شروع کر دیا جب اُس نے آدم کی قصداً نافرمانی کے نتیجے میں گناہ کی موروثی غلامی سے نوعِانسان کو آزاد کرانے کی راہ کھولتے ہوئے فدیے کے طور پر اپنی کامل زندگی دے دی۔ (رومیوں ۵:۱۸) آدم کے گناہ کی وجہ سے مرنے والے لوگوں کی قیامت شیطان کے کاموں کے مٹائے جانے کا مزید ثبوت ہوگی۔
جسم اور جان
۱۸. یسوع کے زندہ کئے جانے کی بابت پولس کے بیان کیلئے بعض یونانی فلاسفروں نے کیسا ردِعمل دکھایا اور کیوں؟
۱۸ جب پولس رسول اتھینے میں تھا تو اُس نے ایک گروہ کو منادی کی جس میں کچھ یونانی فلاسفر بھی شامل تھے۔ اُنہوں نے واحد خدائےبرحق کی بابت اُسکی گفتگو اور اُسکی طرف سے توبہ کی دعوت کو سنا۔ تاہم اسکے بعد کیا واقع ہوا؟ پولس نے یہ کہتے ہوئے اپنی تقریر کا اختتام کِیا: ”[خدا] نے ایک دن ٹھہرایا ہے جس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت اُس آدمی کی معرفت کریگا جسے اُس نے مقرر کِیا اور اُسے مُردوں میں سے جلا کر یہ بات سب پر ثابت کر دی ہے۔“ ان الفاظ نے ہلچل پیدا کر دی۔ ”جب اُنہوں نے مُردوں کی قیامت کا ذکر سنا تو بعض ٹھٹھا مارنے لگے۔“ (اعمال ۱۷:۲۲-۳۲) مذہبی عالم آسکر کولمین مشاہدہ کرتا ہے: ”جان کی غیرفانیت پر ایمان رکھنے والے یونانیوں کو قیامت کی بابت مسیحی منادی کو تسلیم کرنا دوسروں کی نسبت شاید زیادہ مشکل معلوم ہوا ہو . . . سقراط اور افلاطون جیسے عظیم فلاسفروں کی تعلیم کو کسی بھی طرح نئے عہدنامے کی تعلیم سے ہمآہنگ نہیں کِیا جا سکتا۔“
۱۹. دُنیائےمسیحیت کے مذہبی علماء نے قیامت کی تعلیم کو غیرفانی جان کے عقیدے سے ہمآہنگ کرنے کی کوشش کیسے کی؟
۱۹ اس کے باوجود، رسولوں کی موت کے بعد برگشتگی میں پڑ جانے سے مذہبی علماء نے قیامت کی بابت مسیحی تعلیم کو غیرفانی جان کے افلاطونی عقیدے کے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ ایک وقت آیا کہ جب بعض اس عجیب حل پر متفق ہو گئے: موت کے وقت، جان جسم سے علیٰحدہ (بعض کے مطابق ”آزاد“) ہو جاتی ہے۔ پھر، آر.جے. کک کی آؤٹلائینز آف دی ڈاکٹرین آف دی ریزوریکشن کے مطابق، یومِحساب پر ”ہر جسم کو اُس کی جان سے اور ہر جان کو اُس کے جسم سے ملا دیا جائے گا۔“ مستقبل میں جسم کا غیرفانی جان سے ازسرِنو ملاپ ہی قیامت کہلاتا ہے۔
۲۰، ۲۱. کن لوگوں نے ہمیشہ قیامت کی بابت سچائی کی تعلیم دی ہے اور اس سے اُنہیں کیسے فائدہ پہنچا ہے؟
۲۰ ابھی تک بڑے بڑے چرچ اِس نظریے کی ایک باضابطہ عقیدے کے طور پر پابندی کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ خیال کسی مذہبی عالم کو تو منطقی دکھائی دے سکتا ہے مگر چرچ جانے والے زیادہتر لوگ اس سے ناواقف ہیں۔ وہ صرف یہ مانتے ہیں کہ مرنے پر وہ سیدھے آسمان پر جائینگے۔ اس وجہ سے مئی ۵، ۱۹۹۵ کے کامنویل کے شمارے میں، مصنف جان گاروے نے الزام لگایا: ”[موت کے بعد زندگی کی بابت] بہتیرے مسیحیوں کا اعتقاد کسی بھی حقیقی مسیحی تعلیم کی نسبت نوفلاطونیت کے زیادہ قریب دکھائی دیتا ہے اور یہ بائبل پر مبنی نہیں۔“ دراصل، افلاطون کو بائبل کی جگہ دے دینے سے دُنیائےمسیحیت کے پادری طبقے نے اپنے گلّوں کیلئے بائبل کی اُمیدِقیامت کو ختم کر دیا ہے۔
۲۱ اسکے برعکس، یہوواہ کے گواہ جھوٹے فلسفے کو رد کرتے ہیں اور قیامت کی بابت بائبل کی تعلیم کی پابندی کرتے ہیں۔ وہ ایسی تعلیم کو ترقیبخش، اطمینانبخش اور تسلیبخش پاتے ہیں۔ اگلے مضامین میں، ہم یہ دیکھینگے کہ زمینی اُمید رکھنے والے اور آسمانی زندگی کیلئے قیامت کا امکان رکھنے والے دونوں طرح کے لوگوں کے نزدیک قیامت کی بابت بائبل کی تعلیم کسقدر منطقی اور ٹھوس بنیاد پر مبنی ہے۔ ان مضامین پر غوروخوض کیلئے تیاری کرنے کے سلسلے میں، ہم تجویز کرتے ہیں کہ آپ کرنتھیوں کے نام پہلے خط کے ۱۵ باب کو بغور پڑھیں۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
◻ہمیں قیامت پر مضبوط اعتماد کیوں رکھنا چاہئے؟
◻یہوواہ نے آدم اور حوّا کے سامنے کیا امکان رکھا تھا؟
◻یونانی فلسفے میں سچائی کی تلاش کرنا کیوں غیرمنطقی ہے؟
◻قیامت کیوں ایک معقول اُمید ہے؟
[صفحہ 18 پر تصویر]
جب ہمارے پہلے والدین نے گناہ کِیا تو اُنہوں نے زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید کھو دی
[صفحہ 21 پر تصویر]
چرچ سکالر جان کی غیرفانیت کی بابت افلاطون کے اعتقاد سے متاثر ہو گئے تھے
[تصویر کا حوالہ]
Musei Capitolini, Roma