دولت اور حکمت والا بادشاہ
آپ کے خیال میں کیا دولت آپ کو خوشی بخش سکے گی؟ اگر کوئی شخص آپ کو خطیر رقم دے تو کیا آپ خوش نہیں ہونگے؟ غالباً آپ ہونگے۔ یقیناً آپ اُسے صرف کرنے کے مختلف طریقوں کی بابت سوچ سکتے ہیں۔
بِلاشُبہ زندگی کو زیادہ پُرآسائش اور پُرلطف بنانے کے لئے بہت سی چیزیں خریدی جا سکتی ہیں۔ پیسہ، بیماری یا بیروزگاری جیسے غیرمتوقع مسائل کے خلاف ”پناہگاہ“ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔—واعظ ۷:۱۲۔
تاہم پیسے اور خوشی کے درمیان کیا تعلق ہے؟ کیا آپ بھی بیشتر لوگوں کی طرح خوشی کو دولت کی ضمنی پیداوار خیال کرتے ہیں؟ اِن سوالات کے جواب حاصل کرنا شاید مشکل ہو کیونکہ پیسے کا بآسانی حساب لگایا جا سکتا یا اسے گنا جا سکتا ہے جبکہ خوشی کا نہیں۔ آپ خوشی کو ترازو میں نہیں تول سکتے۔
علاوہازیں، بعض امیر لوگ خوش دکھائی دیتے ہیں جبکہ دیگر کی حالت افسوسناک ہوتی ہے۔ غریب لوگوں کی بابت بھی یہ سچ ہے۔ پھر بھی، بہتیرے لوگ—جو پہلے ہی دولتمند ہیں—یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ اُنہیں مزید خوشی دے گا۔
ایک شخص جس نے ایسے معاملات کی بابت لکھا، وہ قدیم اسرائیل کا بادشاہ سلیمان تھا۔ وہ اس صفحۂہستی پر رہنے والا امیرترین شخص تھا۔ آپ بائبل میں ۱-سلاطین کی کتاب کے ۱۰ ویں باب میں اس کی دولت کی افراط کا بیان پڑھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، غور کریں کہ ۱۴ آیت بیان کرتی ہے: ”جتنا سونا ایک برس میں سلیمان کے پاس آتا تھا اُس کا وزن سونے کا چھ سو چھیاسٹھ قنطار تھا۔“ یہ سونے کے ۲۵ ٹن کے برابر تھا۔ اگر آج اس کا حساب لگایا جائے تو اتنے سونے کی مالیت ۲۰،۰۰،۰۰،۰۰۰ امریکی ڈالر سے بھی زیادہ ہوگی!
تاہم، سلیمان صرف دولتمند ہی نہیں تھا؛ خدا نے اُسے حکمت سے بھی مالامال کر رکھا تھا۔ بائبل بیان کرتی ہے: ”سلیماؔن بادشاہ دولت اور حکمت میں زمین کے سب بادشاہوں پر سبقت لے گیا۔ اور سارا جہان سلیماؔن کے دیدار کا طالب تھا تاکہ اُس کی حکمت کو جو خدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سنے۔“ (۱-سلاطین ۱۰:۲۳، ۲۴) ہم بھی سلیمان کی حکمت سے مستفید ہو سکتے ہیں کیونکہ اُس کی تحریریں بائبل ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ آئیے دیکھیں اُس نے دولت اور خوشی کے درمیان تعلق کی بابت کیا بیان کِیا۔
[صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]
Die Heilige Schrift - Übersetzt von Reproduced from
Dr. Joseph Franz von Allioli. Druck und Verlag von
Eduard Hallberger, Stuttgart