یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م98 1/‏2 ص.‏ 18-‏22
  • یہوواہ خدائے‌عہود ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ خدائے‌عہود ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ابرہام کیساتھ عہد
  • ‏”‏پُرانا عہد“‏
  • شریعتی عہد کے ذریعے برکات
  • اسرائیل میں نومُرید
  • یہوواہ ابرہام کی نسل کو برکت دیتا ہے
  • ایک نئے عہد کی ضرورت
  • نئے عہد کے ذریعے عظیم برکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • تُم ”‏کاہنوں کی ایک مملکت“‏ ہو گے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
م98 1/‏2 ص.‏ 18-‏22

یہوواہ خدائے‌عہود ہے

‏”‏مَیں اؔسرائیل کے گھرانے اور یہوؔداہ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھونگا۔“‏—‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ یسوع نے نیسان ۱۴، ۳۳ س.‏ع.‏ کی رات کس تقریب کا آغاز کِیا؟ (‏ب)‏ یسوع نے اپنی موت سے متعلق کس عہد کا ذکر کِیا تھا؟‏

یسوع نے نیسان ۱۴، ۳۳ س.‏ع.‏ کی رات کو اپنے ۱۲ رسولوں کے ساتھ عیدِفسح منائی۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ اُن کے ساتھ اُس کا آخری کھانا ہوگا اور یہ کہ وہ جلد ہی اپنے دشمنوں کے ہاتھوں مارا جائے گا، یسوع نے اپنے قریبی شاگردوں کے سامنے بہت سے اہم معاملات کی وضاحت کرنے کے لئے اس موقع سے فائدہ اُٹھایا۔—‏یوحنا ۱۳:‏۱–‏۱۷:‏۲۶‏۔‏

۲ اِسی موقع پر، یہوداہ اسکریوتی کے چلے جانے کے بعد، یسوع نے اُس واحد سالانہ مذہبی تقریب کو رائج کِیا جسکا مسیحیوں کو حکم دیا گیا ہے—‏اپنی موت کی یادگاری۔ ریکارڈ بیان کرتا ہے:‏ ”‏جب وہ کھا رہے تھے تو یسوؔع نے روٹی لی اور برکت دیکر توڑی اور شاگردوں کو دیکر کہا لو کھاؤ۔ یہ میرا بدن ہے۔ پھر پیالہ لیکر شکر کِیا اور اُنکو دیکر کہا تم سب اس میں سے پیو۔ کیونکہ یہ میرا وہ عہد کا خون ہے جو بہتیروں کیلئے گناہوں کی معافی کے واسطے بہایا جاتا ہے۔“‏ (‏متی ۲۶:‏۲۶-‏۲۸‏)‏ یسوع کے پیروکاروں کو سادہ، باعزت طریقے سے اُسکی موت کی یادگار منانا تھی۔ نیز یسوع نے اپنی موت سے متعلق ایک عہد کا ذکر بھی کِیا۔ لوقا کے بیان میں اسے ”‏نیا عہد“‏ کہا گیا ہے۔—‏لوقا ۲۲:‏۲۰‏۔‏

۳.‏ نئے عہد کی بابت کونسے سوالات پوچھے گئے ہیں؟‏

۳ نیا عہد کیا ہے؟ اگر یہ نیا عہد ہے تو کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ کوئی پُرانا عہد بھی ہے؟ کیا دیگر عہود کا اس سے کوئی تعلق ہے؟ یہ اہم سوالات ہیں کیونکہ یسوع نے کہا تھا کہ یہ عہد کا خون ”‏گناہوں کی معافی کے واسطے“‏ بہایا جائیگا۔ ہم سب کو ایسی معافی کی اشد ضرورت ہے۔—‏رومیوں ۳:‏۲۳‏۔‏

ابرہام کیساتھ عہد

۴.‏ کونسا قدیم وعدہ نئے عہد کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتا ہے؟‏

۴ نئے عہد کو سمجھنے کیلئے ہمیں زمین پر یسوع کی خدمتگزاری کے وقت سے تقریباً ۲،۰۰۰ سال پیچھے جانا ہوگا جب تارح اور اُسکے خاندان—‏بشمول ابرام (‏بعد میں، ابرہام)‏ اور ابرام کی بیوی ساری (‏بعد میں، سارہ)‏—‏نے کسدیوں کے سرسبزوشاداب اُور سے شمالی مسوپتامیہ میں حاران تک کا کٹھن سفر کِیا۔ وہ تارح کی وفات تک وہیں رہے۔ پھر، یہوواہ کے حکم پر ابرہام نے ۷۵ سال کی عمر میں دریائے‌فرات کو پار کِیا اور ملکِ‌کنعان کے جنوب‌مغرب میں سفر کرتے ہوئے خیموں میں خانہ‌بدوشی کی زندگی بسر کرتا رہا۔ (‏پیدایش ۱۱:‏۳۱–‏۱۲:‏۱،‏ ۴، ۵؛‏ اعمال ۷:‏۲-‏۵‏)‏ یہ ۱۹۴۳ ق.‏س.‏ع.‏ کا وقت تھا۔ جب ابرہام ابھی حاران ہی میں تھا تو یہوواہ نے اُس سے کہا تھا:‏ ”‏مَیں تجھے ایک بڑی قوم بناؤنگا اور برکت دُونگا اور تیرا نام سرفراز کرونگا۔ سو تُو باعث برکت ہو!‏ جو تجھے مبارک کہیں اُنکو مَیں برکت دُونگا اور جو تجھ پر لعنت کرے اُس پر مَیں لعنت کرونگا اور زمین کے سب قبیلے تیرے وسیلہ سے برکت پائینگے۔“‏ بعدازاں، جب ابرہام کنعان میں آیا تو یہوواہ نے مزید بیان کِیا:‏ ”‏یہی مُلک مَیں تیری نسل کو دُونگا۔“‏—‏پیدایش ۱۲:‏۲، ۳،‏ ۷‏۔‏

۵.‏ ابرہام سے یہوواہ کا وعدہ کس تاریخی پیشینگوئی سے وابستہ ہے؟‏

۵ ابرہام سے وعدہ یہوواہ کے وعدوں میں سے کسی اَور سے تعلق رکھتا تھا۔ یقیناً، اس بات نے ابرہام کو انسانی تاریخ میں اہم شخصیت، کبھی تحریر کی جانے والی پہلی پیشینگوئی کی تکمیل کی کڑی بنا دیا۔ باغِ‌عدن میں آدم اور حوا کے گناہ کرنے کے بعد، یہوواہ نے اُن دونوں کو سزا سنائی اور اُسی موقع پر وہ شیطان سے جس نے حوا کو بہکایا تھا ان الفاظ کیساتھ مخاطب ہوا:‏ ”‏مَیں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُسکی ایڑی پر کاٹیگا۔“‏ (‏پیدایش ۳:‏۱۵‏)‏ ابرہام کیساتھ یہوواہ کے عہد نے واضح کر دیا کہ جس نسل کے وسیلے سے شیطان کے کاموں کو مٹایا جائیگا وہ اسی آبائی بزرگ کے شجرۂ‌نسب سے آئیگی۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ کس کے وسیلے سے ابرہام سے یہوواہ کا وعدہ تکمیل پائیگا؟ (‏ب)‏ ابرہامی عہد کیا ہے؟‏

۶ چونکہ یہوواہ کا وعدہ ایک نسل سے متعلق تھا اسلئے ابرہام کا ایک بیٹا ہونا ضروری تھا جس کے ذریعے نسل آ سکتی تھی۔ لیکن وہ اور سارہ بوڑھے ہو چکے تھے اور ابھی تک بے‌اولاد تھے۔ تاہم، یہوواہ نے بالآخر معجزانہ طور پر اُنکی افزائشِ‌نسل کی صلاحتیوں کو ازسرِنو بحال کرتے ہوئے اُنہیں برکت دی اور سارہ سے ابرہام کیلئے ایک بیٹا، اضحاق پیدا ہوا اور یوں نسل کے وعدے کو قائم رکھا گیا۔ (‏پیدایش ۱۷:‏۱۵-‏۱۷؛‏ ۲۱:‏۱-‏۷‏)‏ کئی سال بعد، ابرہام کے ایمان کو اپنے پیارے بیٹے اضحاق کو قربانی کے طور پر پیش کرنے کیلئے تیار ہونے کی حد تک آزمانے کے بعد—‏یہوواہ نے ابرہام کیساتھ اپنے وعدے کو دہرایا:‏ ”‏مَیں تجھے برکت پر برکت دُونگا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند کر دُونگا اور تیری اَولاد اپنے دشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی۔ اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائینگی کیونکہ تُو نے میری بات مانی۔“‏ (‏پیدایش ۲۲:‏۱۵-‏۱۸‏)‏ اس توسیعی وعدے کو اکثر ابرہامی عہد کہا جاتا ہے اور بعد کے نئے عہد کو اس سے مربوط کر دیا جائیگا۔‏

۷.‏ ابرہام کی نسل تعداد میں کیسے بڑھنے لگی اور کونسے حالات اُن کیلئے مصر میں آباد ہونے کا باعث بنے؟‏

۷ وقت آنے پر، اضحاق کے دو جڑواں بیٹے عیسو اور یعقوب پیدا ہوئے۔ یہوواہ نے یعقوب کو موعودہ نسل کے جد کے طور پر منتخب کِیا۔ (‏پیدایش ۲۸:‏۱۰-‏۱۵؛‏ رومیوں ۹:‏۱۰-‏۱۳‏)‏ یعقوب کے ۱۲ بیٹے ہوئے۔ واضح طور پر، اب ابرہام کی نسل کیلئے بڑھنے کا وقت آ گیا تھا۔ جب یعقوب کے بیٹے بالغ ہو گئے، جن میں سے بیشتر کے اپنے خاندان تھے تو ایک قحط نے اُن سب کو مصر جانے پر مجبور کر دیا جہاں، الہٰی فضل سے، یعقوب کے بیٹے یوسف نے راہ تیار کر رکھی تھی۔ (‏پیدایش ۴۵:‏۵-‏۱۳؛‏ ۴۶:‏۲۶، ۲۷‏)‏ چند سال بعد، کنعان میں قحط ختم ہو گیا۔ لیکن یعقوب کا خاندان—‏پہلے مہمانوں کے طور پر مگر بعد میں غلاموں کے طور پر—‏مصر ہی میں رہا۔ ابرہام کے دریائے‌فرات پار کرنے کے ۴۳۰ سال بعد، ۱۵۱۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں موسیٰ نے یعقوب کی اولاد کو مصر سے آزاد کرایا۔ (‏خروج ۱:‏۸-‏۱۴؛ ۱۲:‏۴۰، ۴۱؛‏ گلتیوں ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ یہوواہ اب ابرہام کیساتھ اپنے عہد پر خصوصی توجہ دیگا۔—‏خروج ۲:‏۲۴؛ ۶:‏۲-‏۵۔‏

‏”‏پُرانا عہد“‏

۸.‏ یہوواہ نے سینا پر یعقوب کی اولاد کے ساتھ کیا طے کِیا اور اسکا ابرہامی عہد کیساتھ کیا تعلق ہے؟‏

۸ جب یعقوب اور اُسکے بیٹے مصر گئے تو وہ ایک بہت بڑا خاندان تھا لیکن جب اُنکی اولاد مصر سے نکلی تو وہ کثیرالتعداد قبیلوں کے بہت بڑے گروہ کی شکل اختیار کر چکے تھے۔ (‏خروج ۱:‏۵-‏۷؛ ۱۲:‏۳۷، ۳۸)‏ اس سے قبل کہ یہوواہ اُنہیں کنعان میں لاتا، وہ اُنہیں عرب میں حورب (‏یا سینا)‏ نامی پہاڑ کے دامن میں لے گیا۔ وہاں اُس نے اُنکے ساتھ ایک عہد باندھا۔ یہ ”‏نئے عہد“‏ کے حوالے سے ”‏پُرانا عہد“‏ کہلانے لگا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۳:‏۱۴‏)‏ پُرانے عہد کے ذریعے یہوواہ علامتی مفہوم میں ابرہام کیساتھ اپنے عہد کی تکمیل کو عمل میں لایا۔‏

۹.‏ (‏ا)‏ ابرہامی عہد کے ذریعے یہوواہ نے کن چار چیزوں کا وعدہ فرمایا؟ (‏ب)‏ اسرائیل کیساتھ یہوواہ کے عہد نے مزید کونسے امکانات کو ممکن‌الحصول بنایا اور کس شرط پر؟‏

۹ یہوواہ نے اسرائیل کے سامنے اس عہد کی شرائط واضح کر دیں:‏ ”‏اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تُم ہی میری خاص ملکیت ٹھہرو گے کیونکہ ساری زمین میری ہے۔ اور تُم میرے لئے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مُقدس قوم ہو گے۔“‏ (‏خروج ۱۹:‏۵، ۶)‏ یہوواہ نے وعدہ کِیا تھا کہ ابرہام کی نسل (‏۱)‏ ایک بڑی قوم بنے گی، (‏۲)‏ اپنے دشمنوں پر فتح پائیگی، (‏۳)‏ ملکِ‌کنعان کی وارث ہوگی اور (‏۴)‏ دیگر قوموں کے لئے برکات کا ذریعہ ہوگی۔ اب اُس نے آشکارا کِیا کہ اگر وہ اُس کے حکموں کو مانیں گے تو وہ خود اُس کی خاص اُمت، اسرائیل، ”‏کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مُقدس قوم“‏ کے طور پر ان برکات کے وارث ہو سکتے ہیں۔ کیا اسرائیلی اس عہد میں شامل ہونے کے لئے تیار تھے؟ اُنہوں نے ملکر جواب دیا:‏ ”‏جوکچھ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ نے فرمایا وہ سب ہم کرینگے۔“‏—‏خروج ۱۹:‏۸۔‏

۱۰.‏ یہوواہ نے اسرائیل کو ایک قوم کی صورت میں کیسے منظم کِیا اور وہ اُن سے کیا توقع رکھتا تھا؟‏

۱۰ پس، یہوواہ نے اسرائیل کو ایک قوم کے طور پر منظم کِیا۔ اُس نے اُنہیں پرستش اور معاشری زندگی کے نظم‌ونسق کیلئے قوانین دئے۔ اُس نے اُنہیں خیمۂ‌اجتماع (‏بعد میں یروشلیم کی ہیکل)‏ اور خیمۂ‌اجتماع میں پاک خدمت بجا لانے کیلئے کہانت بھی عطا کی۔ عہد کے پابند رہنے کا مطلب یہوواہ کے قوانین کی فرمانبرداری کرنا اور بالخصوص اُسی کی پرستش کرنا تھا۔ اُن قوانین کے مرکزی حصے یعنی احکامِ‌عشرہ کا پہلا حکم یہ تھا:‏ ”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ تیرا خدا جو تجھے ملکِ‌مصرؔ سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا مَیں ہوں۔ میرے حضور تُو غیرمعبودوں کو نہ ماننا۔“‏—‏خروج ۲۰:‏۲، ۳۔‏

شریعتی عہد کے ذریعے برکات

۱۱، ۱۲.‏ اسرائیل کے حق میں پُرانے عہد کے وعدے کن طریقوں سے پورے ہوئے؟‏

۱۱ کیا شریعتی عہد کے وعدے اسرائیل کے حق میں پورے ہوئے تھے؟ کیا اسرائیل ”‏مُقدس قوم“‏ ثابت ہوا؟ آدم کی اولاد ہونے کے ناطے، اسرائیلی گنہگار تھے۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ تاہم، شریعت کے تحت، اُنکے گناہوں کو ڈھانپنے کیلئے قربانیاں پیش کی جاتی تھیں۔ سالانہ یومِ‌کفارہ پر پیش کی جانے والی قربانیوں کی بابت یہوواہ نے فرمایا:‏ ”‏اُس روز تمہارے واسطے تُم کو پاک کرنے کیلئے کفارہ دیا جائیگا۔ سو تُم اپنے سب گناہوں سے خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے حضور پاک ٹھہرو گے۔“‏ (‏احبار ۱۶:‏۳۰)‏ لہٰذا جب تک وہ وفادار رہے، اسرائیل یہوواہ کی خدمت کیلئے پاک، ایک مُقدس قوم تھا۔ لیکن اس پاک حالت کا انحصار اُن کے شریعت کی فرمانبرداری اور مسلسل قربانیاں پیش کرنے پر تھا۔‏

۱۲ کیا اسرائیل ”‏کاہنوں کی مملکت“‏ ثابت ہوا؟ شروع ہی سے، یہ ایک مملکت تھا جسکا آسمانی بادشاہ یہوواہ تھا۔ (‏یسعیاہ ۳۳:‏۲۲‏)‏ مزیدبرآں، شریعتی عہد میں انسانی حکمرانی کا بندوبست بھی شامل تھا اور اسطرح بعدازاں یہوواہ کی نمائندگی یروشلیم میں حکمرانی کرنے والے بادشاہوں کے ذریعے ہوتی تھی۔ (‏استثنا ۱۷:‏۱۴-‏۱۸)‏ لیکن کیا اسرائیل کاہنوں کی مملکت تھا؟ اس کی خیمۂ‌اجتماع میں پاک خدمت بجا لانے والی کہانت تو موجود تھی۔ خیمۂ‌اجتماع (‏بعد میں ہیکل)‏ اسرائیلیوں کیلئے اور غیراسرائیلیوں کیلئے بھی سچی پرستش کا مرکز تھا۔ نیز قوم نوعِ‌انسان کے لئے آشکاراکردہ سچائی کا واحد ذریعہ تھی۔ (‏۲-‏تواریخ ۶:‏۳۲، ۳۳؛‏ رومیوں ۳:‏۱، ۲‏)‏ صرف لاوی کاہن ہی نہیں بلکہ تمام وفادار اسرائیلی یہوواہ کے ”‏گواہ“‏ تھے۔ اسرائیل یہوواہ کا ”‏خادم“‏ تھا جسے ’‏اُسکی حمد کرنے‘‏ کیلئے بنایا گیا تھا۔ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۰،‏ ۲۱‏)‏ بہتیرے فروتن پردیسیوں نے اپنے لوگوں کے حق میں یہوواہ کی طاقت کو دیکھا تھا اور سچی پرستش کی طرف راغب ہوئے تھے۔ وہ نومُرید بن گئے۔ (‏یشوع ۲:‏۹-‏۱۳)‏ تاہم صرف ایک ہی قبیلہ درحقیقت ممسوح کاہنوں کے طور پر خدمت انجام دیتا تھا۔‏

اسرائیل میں نومُرید

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ نومُرید شریعتی عہد میں شریک نہیں تھے؟ (‏ب)‏ نومُرید شریعتی عہد کے تحت کیسے آ گئے؟‏

۱۳ ایسے نومُریدوں کا مقام کیا تھا؟ جب یہوواہ نے اپنا عہد باندھا تو یہ صرف اسرائیل کے ساتھ تھا؛ اُس ”‏ملی‌جلی گروہ“‏ کے لوگ اگرچہ موجود تو تھے مگر اس میں شریک نہیں تھے۔ (‏خروج ۱۲:‏۳۸؛ ۱۹:‏۳، ۷، ۸)‏ جب اسرائیل کے پہلوٹھوں کے لئے فدیے کی قیمت کا حساب لگایا گیا تو اُن کے پہلوٹھوں کی گنتی نہیں کی گئی تھی۔ (‏گنتی ۳:‏۴۴-‏۵۱)‏ عشروں بعد جب ملکِ‌کنعان کو اسرائیلی قبائل کے درمیان تقسیم کِیا گیا تو غیراسرائیلی ایمانداروں کے لئے کچھ بھی مقرر نہیں کِیا گیا تھا۔ (‏پیدایش ۱۲:‏۷؛‏ یشوع ۱۳:‏۱-‏۱۴)‏ کیوں؟ اسلئے‌کہ شریعتی عہد نومُریدوں کے ساتھ نہیں باندھا گیا تھا۔ لیکن شریعت کی اطاعت میں نومُرید مردوں کا ختنہ کِیا گیا تھا۔ اُنہوں نے اسکے قواعدوضوابط کی پابندی کی اور وہ اسکی فراہمیوں سے بھی مستفید ہوئے۔ نومُرید اور یہودی شریعتی عہد کے تحت آ گئے تھے۔—‏خروج ۱۲:‏۴۸، ۴۹؛ گنتی ۱۵:‏۱۴-‏۱۶؛‏ رومیوں ۳:‏۱۹‏۔‏

۱۴ مثال کے طور پر اگر کسی نومُرید کے ہاتھوں حادثاً کوئی شخص مارا جاتا تھا تو وہ ایک اسرائیلی کی طرح بھاگ کر پناہ کے شہر میں جا سکتا تھا۔ (‏گنتی ۳۵:‏۱۵، ۲۲-‏۲۵؛ یشوع ۲۰:‏۹)‏ یومِ‌کفارہ پر ”‏بنی‌اسرائیل کی ساری جماعت کے لئے“‏ قربانی پیش کی جاتی تھی۔ جماعت کے حصے کے طور پر نومُرید تمام کارگزاری میں شریک ہوتے تھے اور قربانی سے مستفید ہوتے تھے۔ (‏احبار ۱۶:‏۷-‏۱۰، ۱۵، ۱۷، ۲۹؛ استثنا ۲۳:‏۷، ۸)‏ شریعت کے تحت نومُرید اسرائیلیوں سے اسقدر وابستہ تھے کہ جب ۳۳ س.‏ع.‏ پنتِکُست پر یہودیوں کی خاطر پہلی ’‏بادشاہت کی کُنجی‘‏ کو استعمال کِیا گیا تو نومُرید بھی اس سے مستفید ہوئے۔ نتیجتاً، ”‏نیکلاؔؤس .‏ .‏ .‏ نومُرید یہودی انطاکی“‏ مسیحی بن گیا اور یروشلیم کی کلیسیا کی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے مقرر کئے جانے والے ”‏سات نیک‌نام شخصوں“‏ میں شمار ہوا۔—‏متی ۱۶:‏۱۹؛‏ اعمال ۲:‏۵-‏۱۰؛‏ ۶:‏۳-‏۶؛‏ ۸:‏۲۶-‏۳۹‏۔‏

یہوواہ ابرہام کی نسل کو برکت دیتا ہے

۱۵، ۱۶.‏ شریعتی عہد کے تحت ابرہام کیساتھ یہوواہ کے عہد کی تکمیل کیسے ہوئی تھی؟‏

۱۵ ابرہام کی اولاد کو شریعت کے تحت ایک قوم کی صورت میں منظم کرنے سے یہوواہ نے اُس آبائی بزرگ کیساتھ اپنے وعدے کے مطابق اُنہیں برکت دی۔ موسیٰ کے جانشین، یشوع نے ۱۴۷۳ ق.‏س.‏ع.‏ میں اسرائیل کی کنعان میں داخل ہونے کیلئے پیشوائی کی۔ بعدازاں قبائل کے درمیان مُلک کی تقسیم سے یہوواہ کے اس وعدے کی تکمیل ہوئی کہ مُلک ابرہام کی نسل کو دیا جائیگا۔ جبتک اسرائیل وفادار رہا یہوواہ اُنہیں اُنکے دشمنوں پر فتح عطا کرنے سے اپنا وعدہ پورا کرتا رہا۔ یہ بات بالخصوص داؤد بادشاہ کی حکومت کے دوران سچ ثابت ہوئی تھی۔ داؤد کے بیٹے سلیمان کے ایّام میں ابرہامی عہد کے تیسرے پہلو کی تکمیل ہوئی۔ ”‏یہوؔداہ اور اؔسرائیل کے لوگ کثرت میں سمندر کے کنارے کی ریت کی مانند تھے اور کھاتے پیتے اور خوش رہتے تھے۔“‏—‏۱-‏سلاطین ۴:‏۲۰‏۔‏

۱۶ تاہم، قومیں ابرہام کی نسل، اسرائیل کے وسیلہ سے کیسے برکت پائینگی؟ جیسے‌کہ پہلے ذکر کِیا جا چکا ہے، اسرائیل یہوواہ کی خاص اُمت، قوموں کے درمیان اُسکا نمائندہ تھا۔ اسرائیل کے کنعان میں داخل ہونے سے ذرا پہلے، موسیٰ نے کہا:‏ ”‏اَے قومو!‏ اُسکے لوگوں کیساتھ خوشی مناؤ۔“‏ (‏استثنا ۳۲:‏۴۳)‏ بہت سے پردیسی اس سے اثرپزیر ہوئے۔ ”‏ملی‌جلی گروہ“‏ جو پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ مصر سے نکل آئی تھی، بیابان میں یہوواہ کی قدرت کو دیکھ چکی تھی اور شادمان ہونے کیلئے موسیٰ کی دعوت کو سن چکی تھی۔ (‏خروج ۱۲:‏۳۷، ۳۸)‏ بعدازاں، موآبی روت نے اسرائیلی بوعز سے شادی کر لی اور مسیحا کی اُم‌الاسلاف بن گئی۔ (‏روت ۴:‏۱۳-‏۲۲‏)‏ جب بہتیرے اصلی اسرائیلی بیوفا ثابت ہوئے تو قینی یہوناداب اور اُسکی اولاد اور عبدملک کوشی نے راست اصولوں کی پیروی کرنے سے خود کو فرق ثابت کِیا۔ (‏۲-‏سلاطین ۱۰:‏۱۵-‏۱۷؛‏ یرمیاہ ۳۵:‏۱-‏۱۹؛‏ ۳۸:‏۷-‏۱۳‏)‏ فارس کی حکومت کے تحت، بہتیرے پردیسی نومُرید بن گئے اور اسرائیل کیساتھ مل کر اُسکے دشمنوں کے خلاف جنگ کی۔—‏آستر ۸:‏۱۷‏۔‏

ایک نئے عہد کی ضرورت

۱۷.‏ (‏ا)‏ یہوواہ نے اسرائیل کی شمالی اور جنوبی مملکتوں کو ردّ کیوں کر دیا؟ (‏ب)‏ کونسا عمل یہودیوں کے حتمی طور پر ردّ کئے جانے پر منتج ہوا؟‏

۱۷ پھربھی، خدا کے وعدے کی بھرپور تکمیل سے مستفید ہونے کیلئے خدا کی خاص قوم کو وفادار رہنا تھا۔ مگر یہ وفادار نہیں تھی۔ سچ ہے کہ ایسے اسرائیلی بھی تھے جو غیرمعمولی ایمان کے مالک تھے۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۳۲–‏۱۲:‏۱‏)‏ تاہم، زیادہ مواقع پر مادی فوائد کی اُمید میں قوم جھوٹے معبودوں کی طرف راغب ہوئی۔ (‏یرمیاہ ۳۴:‏۸-‏۱۶؛‏ ۴۴:‏۱۵-‏۱۸‏)‏ بعض افراد نے شریعت کا غلط اطلاق کِیا یا پھر اسے نظرانداز کر دیا۔ (‏نحمیاہ ۵:‏۱-‏۵؛‏ یسعیاہ ۵۹:‏۲-‏۸؛‏ ملاکی ۱:‏۱۲-‏۱۴)‏ سلیمان کی وفات کے بعد، اسرائیل شمالی اور جنوبی مملکت میں تقسیم ہو گیا۔ جب شمالی مملکت بیحد سرکش ثابت ہوئی تو یہوواہ نے اعلان کِیا:‏ ”‏چونکہ تُو نے معرفت کو ردّ کِیا اسلئے مَیں بھی تجھ کو ردّ کرونگا تاکہ تُو میرے حضور کاہن نہ ہو۔“‏ (‏ہوسیع ۴:‏۶)‏ جنوبی مملکت کو بھی عہد پر پورا نہ اُترنے کے باعث سخت سزا دی گئی۔ (‏یرمیاہ ۵:‏۲۹-‏۳۱‏)‏ جب یہودیوں نے یسوع کو مسیحا کے طور پر ردّ کر دیا تو یہوواہ نے بھی اُنہیں ردّ کر دیا۔ (‏اعمال ۳:‏۱۳-‏۱۵؛‏ رومیوں ۹:‏۳۱–‏۱۰:‏۴‏)‏ بالآخر، یہوواہ نے ابرہامی عہد کو مکمل طور پر پایۂ‌تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک نیا بندوبست کِیا۔—‏رومیوں ۳:‏۲۰‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ ابرہامی عہد کو مکمل طور پر پایۂ‌تکمیل تک پہنچانے کے لئے یہوواہ نے کونسا نیا بندوبست کِیا؟‏

۱۸ وہ نیا بندوبست نیا عہد تھا۔ یہوواہ ان الفاظ میں اسکی پیشینگوئی کر چکا تھا:‏ ‏”‏دیکھ وہ دن آتے ہیں خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ فرماتا ہے جب مَیں اؔسرائیل کے گھرانے اور یہوؔداہ کے گھرانے کیساتھ نیا عہد باندھونگا۔ .‏ .‏ .‏ بلکہ یہ وہ عہد ہے جو مَیں اُن دِنوں کے بعد اؔسرائیل کے گھرانے سے باندھونگا۔ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ فرماتا ہے مَیں اپنی شریعت اُنکے باطن میں رکھونگا اور اُنکے دل پر اُسے لکھونگا اور مَیں اُنکا خدا ہونگا اور وہ میرے لوگ ہونگے۔“‏—‏یرمیاہ ۳۱:‏۳۱-‏۳۳‏۔‏

۱۹ یہ وہی نیا عہد ہے جسکا ذکر یسوع نے نیسان ۱۴، ۳۳ س.‏ع.‏ کے وقت کِیا تھا۔ اُس موقع پر، اُس نے ظاہر کِیا کہ موعودہ عہد اُسکے شاگردوں اور یہوواہ کے درمیان طے پانے والا تھا جسکا درمیانی یسوع تھا۔ (‏۱۔کرنتھیوں ۱۱:‏۲۵؛ ۱-‏تیمتھیس ۲:‏۵؛‏ عبرانیوں ۱۲:‏۲۴‏)‏ اس نئے عہد کے وسیلے سے ابرہام کیساتھ یہوواہ کے وعدے کی زیادہ شاندار اور دائمی تکمیل ہونی تھی جیسے‌کہ ہم اگلے مضمون میں دیکھینگے۔‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

◻ابرہامی عہد میں یہوواہ نے کیا وعدہ کِیا تھا؟‏

◻یہوواہ نے جسمانی اسرائیل کے سلسلے میں ابرہامی عہد کی تکمیل کا بندوبست کیسے کِیا تھا؟‏

◻نومُرید پُرانے عہد سے کیسے مستفید ہوئے تھے؟‏

◻نئے عہد کی کیوں ضرورت تھی؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں