کلوقتی خدمت میں خوشی کیسے برقرار رکھی جائے
بائبل پیشینگوئی کی تکمیل صاف طور پر ظاہر کرتی ہے کہ ہم اِس شریر نظام کے اخیر زمانے میں رہ رہے ہیں۔ اِس سے باخبر ہوتے ہوئے، یہوواہ خدا کے خادم بادشاہت کی خوشخبری پھیلانے کیلئے معقول طور پر جتنا وقت صرف کر سکتے ہیں، کرتے ہیں۔ چھ لاکھ سے زیادہ یہوواہ کے گواہوں نے اپنی زندگیوں کو اِس طرح منظم کِیا ہے کہ وہ کُلوقتی خدمت میں حصہ لے سکیں۔ اُن میں سے بعض بادشاہت کے کُلوقتی مناد ہیں جنہیں پائنیر کہا جاتا ہے۔ دیگر بیتایل رضاکاروں کے طور پر واچ ٹاور سوسائٹی کے ہیڈکواٹرز یا اِسکے برانچ دفاتر میں ہیں۔ جبکہ دوسرے مشنری اور سفری نگہبان ہیں۔
بائبل بتاتی ہے کہ اخیر زمانہ میں ”نازک ایّام سے نپٹنا مشکل“ ہو جائیگا۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ اینڈبلیو) بائبل کا یونانی متن یہاں جو اصطلاح استعمال کرتا ہے اُسکا ترجمہ ”مقررہ تُند زمانہ“ کِیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، ہمارے زمانے میں کسی کو بھی مسائل سے پاک زندگی کی توقع نہیں کرنی چاہئے۔ بعض مسیحی خادموں کیلئے، مسائل اتنے تشویشناک دکھائی دیتے ہیں کہ شاید وہ خود سے پوچھیں، ’کیا مَیں کُلوقتی خدمت جاری رکھ سکتا ہوں یا مجھے چھوڑ دینی چاہئے؟‘
بعض ایسی کونسی حالتیں ہیں جو کسی شخص کے پائنیر، بیتایل رضاکار، سفرینگہبان، یا مشنری کے طور پر اپنے حالات کا دوبارہ تجزیہ کرنے کا سبب بنتی ہیں؟ صحت کے سنگین مسائل ہو سکتے ہیں۔ شاید ایک ضعیف یا نحیف عزیز کو مستقل دیکھبھال کی ضرورت ہے۔ شاید ایک شادیشُدہ جوڑا خاندان بنانے کا آغاز کرتا ہے۔ اِن وجوہات یا صحیفائی ذمہداریوں کی بِنا پر اگر کوئی شخص کُلوقتی خدمت کو ترک کرتا ہے تو اُسے ایسا ردوبدل کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔
تاہم، اگر ایک شخص خوشی کی کمی کے باعث کُلوقتی خدمت کو ترک کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تو کیا ہے؟ شاید ایک پائنیر اپنی خدمتگزاری میں بہت کم جوابیعمل کا تجربہ کرتا ہے اور پوچھتا ہے، ’مَیں کیوں خودایثارانہ طرزِزندگی کو اپنائے رکھوں جبکہ چند ایک ہی سنتے ہیں؟‘ شاید ایک بیتایل رضاکار اپنی تفویض سے خوش نہیں ہے۔ شاید دِق کر دینے والی صحت، پائنیر خدمت کو ناممکن تو نہ بنائے لیکن کسی شخص کی خوشی کو بالآخر گھن کی طرح کھا جائے۔ ایسے افراد اپنی خوشی کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں؟ آئیے غور کریں کہ بعض تجربہکار خادم کیا کہتے ہیں۔
مایوسی کا مقابلہ کرنا
سوئٹزرلینڈ کی رہنے والی عینی نے ۱۹۵۰ میں واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ سے تعلیم پائی۔ اُس نے غیرملکی مشنری تفویض کی اُمید کی۔ جب اُسے یورپ میں ہی بیتایل کام کیلئے تفویض کِیا گیا تو عینی کو مایوسی ہوئی۔ تاہم، اُس نے ٹرانسلیشن ڈیپارٹمنٹ میں اپنی تفویض کو قبول کر لیا اور ابھی تک وہاں کام کر رہی ہے۔ اُس نے اپنی مایوسی پر کیسے قابو پایا؟ ”بہت سا کام کرنے کے لئے تھا اور ہے۔ میرے احساسات اور ترجیحات اتنے اہم نہیں جتنا کہ کام،“ عینی وضاحت کرتی ہے۔
اگر ہم اپنی تفویض سے مایوس ہیں تو شاید ہم بھی عینی جیسا اندازِفکر اپنا سکتے ہیں۔ ہماری ذاتی ترجیحات اوّلین اہمیت کی حامل نہیں۔ سب سے اہم بادشاہتی پیغام پھیلانے سے وابستہ مختلف ذمہداریوں کو خوشاسلوبی سے پورا کرنا ہے۔ امثال ۱۴:۲۳ ہمیں بتاتی ہے کہ ”ہر طرح کی محنت میں نفع ہے۔“ اِس سے قطعنظر کے ہمیں کیا تفویض سونپی گئی ہے، اُسے وفاداری سے انجام دینا بادشاہتی کام کی کامیابی کا سبب بنتا ہے۔ اور خداداد کام انتہائی اطمینانبخش—جیہاں، پُرمسرت—ہو سکتا ہے۔—مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۱۲:۱۸، ۲۷، ۲۸۔
دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا
کُلوقتی خدمت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ قریبی رابطہ شامل ہے—میدانی خدمتگزاری میں، بیتایل میں، مشنری ہوم میں، یا سفری نگہبان کے طور پر ایک کے بعد دوسری کلیسیا کا دَورہ کرنا۔ لہٰذا، خوشی کا انحصار دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے پر ہے۔ تاہم، اِن آخری ایّام کے لئے جس ’تُند زمانے‘ کی پیشینگوئی کی گئی ہے، وہ انسانی رشتوں میں بڑی حد تک کھچاؤ پیدا کرتا ہے۔ ایک خادم اپنی خوشی کھو بیٹھنے سے کیسے بچ سکتا ہے خواہ کسی نے اُسے پریشان بھی کِیا ہو؟ شاید ہم وِلہکُنیُم سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
وِلہکُنیُم ۱۹۴۷ میں یورپ میں بیتایل خاندان کا رُکن بنا۔ اُس کے بعد، اُس نے اپنا وقت پائنیر اور سفری نگہبان کے طور پر خدمت کرنے میں صرف کِیا۔ ”مَیں اور میری بیوی اگر ایسی باتیں دیکھتے ہیں جو درست نہیں یا جو ہمیں ذاتی طور پر پریشان کرتی ہیں تو ہم یہوواہ کو بتاتے ہیں کہ ہم کیسا محسوس کرتے ہیں اور پھر اُنہیں حل کرنے کے لئے اُس پر چھوڑ دیتے،“ وِلہکُنیُم وضاحت کرتا ہے۔—زبور ۳۷:۵۔
شاید آپ نے خود کسی ساتھی مسیحی کے رویے کے باعث پریشانی کا تجربہ کِیا ہو جس نے آپ سے بےادبی یا بےمروتی سے گفتگو کی ہو۔ یاد رکھیں ہم سب اپنی باتچیت میں اکثر خطا کرتے ہیں۔ (یعقوب ۳:۲) لہٰذا کیوں نہ اِس صورتِحال کو ”دُعا کے سننے والے“ کے قریب ہونے کیلئے استعمال کریں؟ (زبور ۶۵:۲) معاملے کی بابت یہوواہ کو بتائیں اور پھر اِسے اُسکے ہاتھوں میں چھوڑ دیں۔ اگر خدا تبدیلی کرنا چاہتا ہے تو وہ ایسا کریگا۔ اگر کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے تو مشنری ہوم میں رہنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا کرنا یہوواہ کی خدمت میں خوشی برقرار رکھنے کیلئے اُنکی مدد کریگا۔
جب صحت خراب ہے
چند ہی لوگ اچھی صحت سے مسلسل لطف اُٹھاتے ہیں۔ حتیٰکہ وہ بھی جو کہنے کو اپنی عمر کے بہترین حصے میں ہیں، شاید افسردگی یا بیماری سے دوچار ہوتے ہیں۔ صحت کی خرابی کُلوقتی خدمت کو ترک کرنا ناگزیر بنا دیتی ہے، تاہم، بعدازاں وہ بادشاہتی پبلشر کے طور پر انتہائی عمدگی سے کام انجام دیتے ہیں۔ جبکہ، دیگر، اپنی خراب صحت کے باوجود کُلوقتی خدمت کو جاری رکھنے کے قابل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہارٹموٹ اور گسلنڈ پر غور کریں۔
ہارٹموٹ اور گسلنڈ ایک شادیشُدہ جوڑا ہے جس نے ۳۰ سال تک پائینروں اور مشنریوں کے طور پر اور سفری کام میں وقت صرف کِیا ہے۔ اُن دونوں نے بیماری کے شدید دوروں کا تجربہ کِیا ہے جس نے بعضاوقات اُنہیں جسمانی اور جذباتی طور پر ادھمؤا کر دیا۔ پھربھی، اُنہوں نے عمدہ کام کِیا اور وہ ایسی ہی آزمائشوں کا سامنا کرنے والوں کی حوصلہافزائی کرنے کے قابل بھی تھے۔ وہ کیا مشورت پیش کرتے ہیں؟ ”مستقبل کی طرف دیکھیں ماضی کی جانب نہیں۔ ہر صورتحال سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ ہر دن شاید یہوواہ کی حمد کا صرف ایک ہی موقع لائے۔ اُس موقع کو استعمال کریں اور اُس سے شادمانی حاصل کریں۔“
ہینہلورہ کے معاملے پر غور کریں۔ اُس نے پائنیر، مشنری، اپنے شوہر کے ساتھ سفری کام اور بیتایل خدمت کے ۳۰ سال کے دوران، بارہا واقع ہونے والی علالت کے باعث کافی پریشانی کا سامنا کِیا۔ ہینہلورہ بیان کرتی ہے: ”مَیں شیطان کی طرف سے اُٹھائے جانے والے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھتی ہوں—کہ انسان یہوواہ کی خدمت صرف تب کرتے ہیں جب اُن کے لئے ایسا کرنا آسان ہے۔ آزمائشیں برداشت کرنے سے، مَیں شیطان کو جھوٹا ثابت کرنے میں حصہ لے سکتی ہوں۔“ یہ ایک قوی محرک ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ آزمائش کے تحت آپ کی ذاتی وفاداری یہوواہ کے لئے انتہائی اہم ہے۔—ایوب ۱:۸-۱۲؛ امثال ۲۷:۱۱۔
اپنی صحت کے حوالے سے جب آپ متوازن فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اِس نظامالعمل کے خاتمے کی بابت یسوع مسیح کی پیشینگوئی کے دو پہلوؤں پر غور کریں۔ یسوع نے جا بجا وبائیں پھیلنے کی بابت پیشینگوئی کی۔ اُس نے مزید کہا: ”بادشاہت کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی۔“ (متی ۲۴:۳، ۱۴؛ لوقا ۲۱:۱۱) یسوع جانتا تھا کہ آخری ایّام میں، اُس کے پیروکاروں کو بیماری کا سامنا ہوگا۔ مگر وہ اِس بات سے واقف تھا کہ نہ صرف اچھی صحت سے لطف اُٹھانے والے بلکہ تشویشناک علالت کا تجربہ کرنے والے بھی منادی کا کام کریں گے۔ اگر ہم خراب صحت کے باوجود کُلوقتی خدمت کو جاری رکھنے کے قابل ہیں تو یہوواہ اُس محبت کو فراموش نہیں کرے گا جو ہم اُس کے نام کے لئے ظاہر کرتے ہیں۔—عبرانیوں ۶:۱۰۔
لوگوں کی بےحسی کے باوجود خوشی برقرار رکھنا
بادشاہتی منادی کے کام کیلئے لوگ جس قسم کا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں، وہ ہمارے روّیے کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایک تجربہکار خادم نے بیان کِیا کہ ”پائنیر بھی صاحبِخانہ کے ساتھ گفتگو شروع کرنا مشکل پاتے ہیں۔“ ”اپنی خوشی کو برقرار رکھنے کیلئے ہم سب کو کوشش کرنی ہے۔“ جیہاں، لوگوں کی بےحسی میدانی خدمتگزاری کیلئے ہماری خوشی کو کم کر سکتی ہے۔ لہٰذا ایک پائنیر جسے مسلسل ایسی بےاعتنائی سے واسطہ پڑتا ہے وہ اپنی خوشی کو کیسے برقرار رکھ سکتا ہے؟ تجربہکار خادم درجذیل تجاویز پیش کرتے ہیں جوکہ آزمودہ اور مُجرب ہیں۔
بےحسی ایک چیلنج پیش کرتی ہے لیکن اِس کا مطلب شکست نہیں ہے۔ وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بےحسی بذاتِخود ایسی وجہ نہیں جس کے باعث کُلوقتی خدمت کو ترک کر دیا جائے۔ اگر ہم صحائف کا گہرا مطالعہ کرنے کے لئے کافی وقت وقف کرتے ہیں تو ہم بےحسی کے باوجود بھی اپنی خوشی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ یہ ہمیں ’ہر نیک کام کے لئے لیس کرتے ہیں‘ اور اِس میں اُن لوگوں سے باتچیت کرنا بھی شامل ہے جو خوشخبری سن کر کان لپیٹ لیتے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) اگرچہ لوگ یرمیاہ نبی کی بات سننا نہیں چاہتے تھے تَوبھی اُس چیز نے اُسے نہ روکا۔ (یرمیاہ ۷:۲۷) مسیحی مطبوعات کی مدد سے بائبل کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسے نکات کو نوٹ کرنے سے ہم فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو ہمارے ایمان کو مضبوط کرتے اور بےحسی سے نپٹنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ بےحسی ایک چیلنج ہے، آئیے جن لوگوں کو ہم منادی کرتے ہیں، اُن کی بابت اپنے روّیے کا جائزہ لیں۔ وہ کیوں بےپروا ہیں؟ یورپ کے حصوں میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بےحسی کی ایک وجہ جھوٹے مذہب کا شرمناک ریکارڈ ہے۔ اب لوگ مذہب کو اپنی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں دیتے اور نہ ہی وہ اِس سے کوئی واسطہ رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمیں لچکدار بننے کی ضرورت ہے، لوگوں سے ایسے معاملات کی بابت باتچیت کریں جو اُنہیں متاثر کرتے ہیں جیسےکہ بےروزگاری، صحت، جرائم، غیررواداری، ماحول اور جنگ کا خطرہ۔
ایک صاحبِخانہ سے اپنی گفتگو کے آغاز میں ہم مقامی دلچسپی کے حامل کسی معاملے پر باتچیت کر سکتے ہیں۔ دیتمار نے ایسا ہی کرنے کی کوشش کی جب وہ ایک ایسے گاؤں میں منادی کر رہا تھا جس میں کہ اُس نے بہت کم کامیابی حاصل کی تھی۔ ایک مقامی شخص نے گذشتہ روز گاؤں کو پیش آنے والے المیے کا ذکر کِیا۔ اُس کے بعد ہر دروازے پر دیتمار نے اُس المیے کی بابت پُرخلوص افسوس کا اظہار کِیا۔ ”اچانک ہی لوگوں نے باتچیت شروع کر دی،“ اُس نے بیان کِیا۔ ”سب کے ذہنوں پر وہ حادثہ مسلّط تھا۔ چونکہ مَیں نے اُن کی زندگیوں میں دلچسپی کا اظہار کِیا لہٰذا مَیں اُس دن بہت سے لوگوں سے عمدہ باتچیت کرنے کے قابل ہوا۔“
ہمیں چاہئے کہ جہاں بھی لوگ ملیں اُنہیں بادشاہتی گواہی دیں۔ غیررسمی گواہی بھی پھلدار ثابت ہو سکتی ہے اور ہم بائبل پر مبنی مطبوعات میں پیشکردہ تجاویز کو استعمال کرنے سے خود کو اِس کارگزاری کیلئے تیار کر سکتے ہیں۔ چند دوستانہ الفاظ یا کسی صاحبِخانہ کے پاس مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالوں کی کاپیاں چھوڑنا خوشی پر منتج ہو سکتا ہے۔ اگر ہم نے دوبارہ ملاقاتیں کی ہیں اور دلچسپی رکھنے والے شخص کے ساتھ بائبل مطالعہ شروع کر دیا ہے تو ہم شاید اُس سے یہ پوچھتے ہوئے کسی شخص کا حوالہ حاصل کر سکتے ہیں: ”کیا آپ کسی اَور ایسے شخص کو جانتے ہیں جو بائبل کا مطالعہ کرنا پسند کریگا؟“ یہ ایک اَور گھریلو بائبل مطالعہ کروانے پر منتج ہو سکتا ہے۔ بہرصورت، آئیے مثبت رہیں، یہوواہ پر دُعائیہ توکل کرتے ہوئے، بےحسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ ہمیں بےحوصلہ کرے۔
دوسروں سے حوصلہافزائی پانا
جرجن اور کرسٹین ۳۰ سال سے زیادہ عرصے سے پائنیر خدمت اور سفری کام میں مصروف رہے ہیں۔ ایک مرتبہ اُنہیں ایسی تفویض ملی تھی جس میں اُنہیں ایک ایسے علاقے میں منادی کرنا تھی جہاں بیشتر لوگ بےحس اور ہٹدھرم تھے۔ جرجن اور اُسکی بیوی حوصلہافزائی کے کسقدر متمنی تھے! بعض وجوہات کی بِنا پر، کلیسیا میں دوسروں نے اُنکی اِس ضرورت کیلئے جوابیعمل نہ دکھایا۔
لہٰذا جرجن اپنے تجربہ سے جانتا ہے کہ ”بعض پائنیروں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ اُنہیں بزرگوں اور دیگر پبلشروں کی طرف سے زیادہ حوصلہافزائی کی ضرورت ہے۔“ خدا نے موسیٰ سے یشوع کو حوصلہافزائی اور تقویت دینے کے لئے کہا تھا۔ (استثنا ۳:۲۶-۲۸) لہٰذا مسیحیوں کو ایک دوسرے کے لئے حوصلہافزائی کا باعث ہونا چاہئے۔ (رومیوں ۱:۱۱، ۱۲) بادشاہتی پبلشر حوصلہافزا الفاظ یا وقتاًفوقتاً خدمتگزاری میں کُلوقتی خادموں کے ساتھ کام کرنے سے اُن کی ہمتافزائی کر سکتے ہیں۔
یہوواہ کی شادمانی—ہماری پناہگاہ
جن مسیحیوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پائنیروں، مشنریوں، بیتایل کارکنوں یا سفری کام کے ذریعے مختلف کلیسیاؤں کا دَورہ کرنے میں گزارا ہے، اُنہوں نے محسوس کِیا ہے کہ بیشتر مسائل عارضی ہوتے ہیں لیکن چند مستقل نوعیت کے حامل ہیں۔ پھر بھی بعض مسائل جو کبھی ختم نہ ہونے والے معلوم ہوتے ہیں، ہمیں اُنہیں اپنی خوشی کو چھین لینے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ رِامن جس نے ۴۵ سال تک بیرونِمُلک تفویض پر کام کِیا ہے، تجویز کرتا ہے کہ جب کبھی مسائل پریشان کریں تو ”ہمیں اُن بہت سی برکات کی بابت سوچنا چاہئے جو ہمیں حاصل ہیں اور اُن ہزاروں کی بابت جو بڑی مشکلات میں ہیں۔“ یقیناً ساری دُنیا میں ہمارے ساتھی ایماندار تکالیف کا تجربہ کر رہے ہیں اور یہوواہ واقعی ہم سب کی پروا کرتا ہے۔—۱-پطرس ۵:۶-۹۔
پس، اگر ہمارے ذاتی حالات ہمیں کُلوقتی خدمت میں حصہ لینے اور اُسے جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہیں تو آئیے اپنے آسمانی باپ یہوواہ پر توکل کرتے ہوئے اپنی خوشی کو برقرار رکھیں۔ وہ اپنے خادموں کو تقویت دیتا ہے اور ہم سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ ’یہوواہ کی شادمانی ہماری پناہگاہ ہے۔‘—نحمیاہ ۸:۱۰۔
[صفحہ 28 پر تصویر]
”میرے احساسات اور ترجیحات اتنے اہم نہیں جتنا کہ کام“
[صفحہ 29 پر تصویر]
”ہم یہوواہ پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہم کیسا محسوس کرتے ہیں اور پھر معاملات کو اُس کے ہاتھ میں چھوڑ دیتے ہیں۔“
[صفحہ 30 پر تصویر]
”ہر صورتحال سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ ہر دن شاید یہوواہ کی حمد کا ایک ہی موقع لائے“
[صفحہ 30 پر تصویر]
”آزمائشوں کو برداشت کرنے سے، مَیں شیطان کو جھوٹا ثابت کرنے میں حصہ لے سکتی ہوں“
[صفحہ 31 پر تصویر]
”بعض پائنیروں کو مشکل حالات کا سامنا ہے۔ اُنہیں بزرگوں اور دوسرے پبلشروں کی طرف سے زیادہ حوصلہافزائی کی ضرورت ہے“
[صفحہ 31 پر تصویر]
”ہمیں اُن بہت سی برکات کی بابت سوچنا چاہئے جو ہمیں حاصل ہیں“