کیا مصیبتزدہ کبھی راحت پائیں گے؟
کیا آپ اپنے اور تمام انسانوں کیلئے دُکھدرد کا خاتمہ دیکھنے کے مشتاق ہیں؟ ان مثالوں پر غور کریں:
سونیا کو بہت زیادہ مصیبت اُٹھانی پڑی۔a پہلے تو اُسے پتہ چلا کہ اُس کا شوہر دس سال سے زناکاری کرتا رہا ہے۔ پھر اُسکا چھوٹا بیٹا ایچآئیوی میں مبتلا ہو گیا اور ایڈز سے مر گیا۔ دو سال بعد اُسکا دوسرا بیٹا بھی بیمار ہو گیا اور جلد ہی وہ بھی ایڈز سے مر گیا۔ سونیا بیان کرتی ہے ”اُسکی بیماری کا آخری مرحلہ بہت طویل تھا۔“ ”اُسے شدید افسردگی کا احساس ہونے لگا، اُسکے بال جھڑ گئے اور ٹھیک طرح سے دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ بڑی تکلیفدہ بات تھی۔“
فابیانہ، برازیلی یونیورسٹی کی طالبہ، دُنیا کی معاشرتی ناانصافیوں کی بابت پریشان تھی۔ پھر اُسکی اپنی زندگی ایک المیہ بن کر رہ گئی۔ افسردگی کے شکار اُسکے بھائی نے خودکُشی کر لی۔ جب فابیانہ کی نوکری چلی گئی تو اُسکی سہیلی نے اس خیال کیساتھ اُسے پائی-ڈی-سانٹو (جادوگر) کے پاس جانے کا مشورہ دیا کہ کسی نے یقیناً اُس پر جادو کر دیا ہے اسی لئے فابیانہ پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں! لیکن پائی-ڈی-سانٹو سے کوئی راحت حاصل نہ ہوئی۔ بلکہ فابیانہ اَور زیادہ عذاب میں مبتلا ہو گئی اور وہ اپنی مشکلات کے باعث سو بھی نہیں سکتی تھی۔
اینا کی مصیبت کا آغاز اوائل عمری ہی سے ہو گیا تھا۔ وہ بیان کرتی ہے ”جب مَیں ایک سال کی تھی تو میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی، لہٰذا میری نانی نے میری پرورش کی۔“ جب اینا صرف تین سال کی تھی تو اُسکی نانی بھی فوت ہو گئی۔ اینا کو رائیو ڈی جانیریو میں ایک یتیمخانے بھیج دیا گیا جہاں وہ ۱۳ سال کی عمر تک رہی۔ وہ بیان کرتی ہے کہ ”ہم سے بہت بُرا سلوک کِیا جاتا تھا اور مَیں باغی ہو گئی۔“ ”بڑے ہونے کیساتھ ساتھ مَیں تقریباً ہر چیز کیخلاف جدوجہد کرنے لگی۔“
ایسے لگتا ہے کہ مصیبت کسینہکسی صورت میں ہر انسان پر آتی ہے۔ بِلاشُبہ، ہم جب بھی خبریں دیکھتے، پڑھتے یا سنتے ہیں تو ہر روز انسانی المیے کی داستانیں ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ ”ہمارے زمانے کے وسیع مواصلاتینظام نے عملی طور پر ہمارے لئے بُری خبروں کی مسلسل بھرمار سے بچنا ناممکن بنا دیا ہے،“ ڈاکٹر میری سائیکس ویلی لکھتی ہیں۔ ”جنگیں، قدرتی آفات، صنعتی تباہکاریاں، جانلیوا ٹریفک حادثات، جُرم، دہشتگردی، جنسی بدفعلی، زنابالجبر، گھریلو تشدد—یہ سب اس ۲۰ویں صدی میں پریشانی کو ہولناک اور روزمرّہ کا معمول بنا دیتے ہیں۔“ مسیحی رسول پولس نے حقیقتپسندی سے انسانی تجربے کی تلخیص کی: ”ساری مخلوقات مِل کر اب تک کراہتی ہے اور دردِزہ میں پڑی تڑپتی ہے۔“—رومیوں ۸:۲۲۔
آپ کی بابت کیا ہے؟ کیا آپ مصیبت میں مبتلا ہیں؟ آپ کس راحت کی توقع کر سکتے ہیں؟ کیا آپ کبھی حقیقی اَمن حاصل کریں گے؟ سونیا، فابیانہ اور اینا نے کسی حد تک حقیقی اطمینان اور حقیقی اَمن حاصل کِیا! آپ اگلے مضمون میں اسکی بابت پڑھ سکتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a اس مضمون میں نام بدل دئے گئے ہیں۔