خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں دوسروں کی مدد کرنا
”یہ تو میرے لئے ضروری بات ہے بلکہ مجھ پر افسوس ہے اگر خوشخبری نہ سناؤں!“—۱-کرنتھیوں ۹:۱۶۔
۱، ۲. (ا) یہوواہ ہم سے کس دوہرے کام میں شریک ہونے کا تقاضا کرتا ہے؟ (ب) خلوصدل لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی رعایا بننے کے لئے کیا سیکھنے کی ضرورت ہے؟
یہوواہ کے پاس نوعِانسان کے لئے خوشخبری ہے۔ اُس کی ایک بادشاہت ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہر جگہ لوگ اس کی بابت سنیں! جب ہم اُس خوشخبری کی بابت سیکھ لیتے ہیں تو خدا ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو اس میں شریک کریں۔ یہ دوہرا کام ہے۔ پہلے، ہمیں خدا کی بادشاہت کی خوشخبری کا اعلان کرنا ہے۔ یسوع نے ”دُنیا کے آخر“ کی بابت اپنی پیشینگوئی میں کہا: ”بادشاہت کی اس خوشخبری کی منادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“—متی ۲۴:۳، ۱۴۔
۲ اس کام کا دوسرا پہلو ہے ایسے لوگوں کو تعلیم دینا جو بادشاہتی اعلان کیلئے خوشگوار جوابیعمل دکھاتے ہیں۔ اپنی قیامت کے بعد یسوع نے اپنے شاگردوں کے ایک بہت بڑے گروہ کو حکم دیا: ”پس تُم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور روحالقدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اور اُن کو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جنکا مَیں نے تُم کو حکم دیا اور دیکھو مَیں دُنیا کے آخر تک ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔“ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) جن ’باتوں کا یسوع نے حکم دیا‘ وہ اُس کی اپنی نہیں تھیں؛ اُس نے دوسروں کو خدا کے حکموں یا تقاضوں کو پورا کرنے کی تعلیم دی۔ (یوحنا ۱۴:۲۳، ۲۴؛ ۱۵:۱۰) پس دوسروں کو ’جن باتوں کا یسوع نے حکم دیا اُنکو ماننے‘ کی تعلیم دینے میں اُنکی خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے کیلئے مدد کرنا شامل ہے۔ اُسکی بادشاہت کی رعایا بننے کی خاطر خلوصدل لوگوں کیلئے خدا کے تقاضوں پر پورا اُترنا لازمی ہے۔
۳. خدا کی بادشاہت کیا ہے اور یہ کیا کام سرانجام دیگی جو بادشاہتی پیغام کو ایسی بڑی خوشخبری بنا دیتا ہے؟
۳ خدا کی بادشاہت کیا ہے؟ اور یہ کیا کام انجام دے گی جو بادشاہتی پیغام کو ایسی ”خوشخبری“ بنا دیتا ہے؟ خدا کی بادشاہت ایک آسمانی حکومت ہے۔ یہ یہوواہ کیلئے بڑی بیشقیمت ہے کیونکہ یہ وہ ذریعہ ہے جس سے وہ اپنے نام سے تمام ملامت کو ہٹاتے ہوئے اسکی تقدیس کرے گا۔ یہ ایک ہتھیار ہے جسے یہوواہ استعمال کرے گا تاکہ زمین پر اسکی مرضی پوری ہو جیسےکہ آسمان پر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے یسوع نے ہمیں خدا کی بادشاہت کے آنے اور اسے اپنی زندگیوں میں مُقدم رکھنے کیلئے دُعا کرنا سکھایا تھا۔ (متی ۶:۹، ۱۰، ۳۳) کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہوواہ کے نزدیک اسکی اتنی اہمیت کیوں ہے کہ ہم دوسرے لوگوں کو اس کی بادشاہت کی بابت بتائیں؟
ایک چیلنج مگر بوجھ نہیں
۴. اس بات کی مثال کیسے دی جا سکتی ہے کہ خوشخبری کی منادی کرنے کی ہماری ذمہداری کوئی بوجھ نہیں ہے؟
۴ کیا اس بادشاہت کی منادی کرنا ایک بوجھ ہے؟ ہرگز نہیں! اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے: ایک باپ کی ذمہداری ہے کہ اپنے خاندان کی مادی ضروریات کو پورا کرے۔ ایسا کرنے میں ناکامی مسیحی ایمان کو رد کرنے کے مترادف ہے۔ پولس رسول نے لکھا: ”اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۵:۸) لیکن کیا یہ ذمہداری ایک مسیحی مرد کیلئے بوجھ ہوگی؟ اگر اُسے اپنے خاندان سے محبت ہے توپھر یہ بوجھ نہیں ہوگی کیونکہ اس صورت میں وہ اُنکی ضروریات پوری کرنا چاہتا ہے۔
۵. اگرچہ منادی اور شاگرد بنانے کا کام ایک ذمہداری ہے پھر بھی ہمیں اس میں شریک ہونے سے کیوں مسرور ہونا چاہئے؟
۵ اسی طرح، منادی اور شاگرد بنانے کا کام ایک ذمہداری، ایک تقاضا ہے جس پر ہماری زندگیوں کا انحصار ہے۔ پولس نے اسے یوں بیان کِیا: ”یہ تو میرے لئے ضروری بات ہے بلکہ مجھ پر افسوس ہے اگر خوشخبری نہ سناؤں۔“ (۱-کرنتھیوں ۹:۱۶؛ مقابلہ کریں حزقیایل ۳۳:۷-۹۔) تاہم، منادی کرنے کا ہمارا محرک محبت ہے، محض فرض نہیں۔ سب سے بڑھ کر ہم خدا سے محبت رکھتے ہیں لیکن ہم اپنے پڑوسیوں سے بھی محبت کرتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان کے لئے خوشخبری سننا کتنا اہم ہے۔ (متی ۲۲:۳۷-۳۹) یہ انہیں مستقبل کے لئے اُمید بخشتی ہے۔ خدا کی بادشاہت بہت جلد ناانصافیوں کی اصلاح، تمام ظلموستم کا خاتمہ اور امنواتحاد بحال کریگی—ان سب لوگوں کیلئے یہ ہمیشہ کی برکت ہوگی جو اسکی راست حکومت کی اطاعت کرتے ہیں۔ کیا دوسرے لوگوں کو ایسی خوشخبری سنا کر ہم خوشی، جیہاں جوش سے معمور نہیں ہو جاتے؟—زبور ۱۱۰:۳۔
۶. منادی اور شاگرد بنانے کا کام ایک حقیقی چیلنج کیوں پیش کرتا ہے؟
۶ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ، منادی اور شاگرد بنانے کا یہ کام ایک حقیقی چیلنج بھی پیش کرتا ہے۔ طرح طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ سب کی دلچسپیاں اور خوبیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ بعض بہت زیادہ تعلیمیافتہ ہیں جبکہ دیگر بہت کم پڑھےلکھے ہیں۔ پڑھائی—جسے پہلے کبھی تفریح سمجھا جاتا تھا—اب اکثر ناگوار کام خیال کی جاتی ہے۔ خواندگی کی بلند شرح کے دعویدار ممالک میں بھی بڑھتا ہوا مسئلہ خواندگی سے رُوگردانی ہے جسکی تشریح ”پڑھنے کے قابل ہونے مگر ایسا کرنے میں دلچسپی نہ لینے کی صفت یا حالت“ کے طور پر کی گئی ہے۔ توپھر ہم ایسے مختلف پسمنظر اور دلچسپیوں والے لوگوں کی خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں کیسے مدد کر سکتے ہیں؟—مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۹:۲۰-۲۳۔
دوسروں کی مدد کرنے کیلئے موزوں طور پر لیس
۷. خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں دوسروں کی مدد کرنے کیلئے ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے ہمیں کیسے لیس کِیا ہے؟
۷ اگر آپ کے پاس موزوں اوزار یا سازوسامان ہو تو چیلنجخیز کام انجام دینا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ کوئی ایسا آلہ جو آج کسی خاص کام کیلئے موزوں ہے ہو سکتا ہے کہ بدلتی ہوئی ضروریات کے پیشِنظر کل اُس میں تبدیلی آ جائے یا اُسکی جگہ کوئی اَور لے لے۔ خدا کی بادشاہت کا پیغام سنانے کی ہماری تفویض کے سلسلے میں بھی ایسا ہی ہے۔ کئی سالوں سے، ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ ہمیں بالکل دُرست ہتھیار یعنی ایسی مطبوعات فراہم کرتا رہا ہے جنہیں بالخصوص گھریلو بائبل مطالعے کرانے کیلئے بنایا گیا ہے۔ (متی ۲۴:۴۵) یوں ہمیں ”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور . . . اہلِزبان“ کے لوگوں کو خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں مدد دینے کیلئے لیس کِیا گیا ہے۔ (مکاشفہ ۷:۹) وقتاًفوقتاً، دُنیا کی بدلتی ہوئی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئے ہتھیار بھی فراہم کئے گئے ہیں۔ آئیے چند مثالوں پر غور کریں۔
۸. (ا) ”خدا سچا ٹھہرے“ کتاب نے بائبل تعلیم کو فروغ دینے میں کیا کردار ادا کِیا؟ (ب) ۱۹۶۸ میں بائبل مطالعہ کے کام کے لئے کونسا ہتھیار فراہم کِیا گیا اور اسے خاص طور پر کیسے ترتیب دیا گیا تھا؟ (پ) سچائی کی کتاب نے شاگرد بنانے کے کام میں کیسے مدد کی؟
۸ ۱۹۴۶ سے ۱۹۶۸ تک، کتاب ”خدا سچا ٹھہرے“ بائبل تعلیم کیلئے ایک زبردست ہتھیار کے طور پر استعمال کی جاتی تھی اور ۵۴ زبانوں میں اسکی تقریباً ۱،۹۲،۵۰،۰۰۰ کاپیاں شائع کی گئی تھیں۔ ۱۹۶۸ میں ریلیز ہونے والی کتاب سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے دلچسپی لینے والے اشخاص کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کیلئے کئی سالوں تک مؤثر طور پر استعمال ہوتی رہی۔ پہلے، لوگوں کیلئے بپتسمہ لئے بغیر سالہاسال تک یہوواہ کے گواہوں کیساتھ مطالعہ کرتے رہنا کوئی غیرمعمولی بات نہ تھی۔ لیکن اس ہتھیار کو اسلئے ترتیب دیا گیا کہ جوکچھ وہ سیکھ رہا ہے اُسکا اطلاق کرنے کی حوصلہافزائی کیساتھ طالبعلم کو تحریک دے۔ نتیجہ؟ کتاب جیہوواز وٹنسز—پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم بیان کرتی ہے: ”ستمبر ۱، ۱۹۶۸ سے شروع کرکے اگست ۳۱، ۱۹۷۱ میں ختم ہونے والے تین خدمتی سالوں تک، ۴،۳۴،۹۰۶ اشخاص نے بپتسمہ لیا—گذشتہ تین خدمتی سالوں کے دوران بپتسمہ پانے والوں کی تعداد کے دوگُنا سے بھی زیادہ!“ اپنی ریلیز سے لیکر، سچائی کی کتاب کی حیرانکُن اشاعت ہوئی ہے—۱۱۷ زبانوں میں ۱۰،۷۰،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ۔
۹. لِو فارایور کتاب میں کونسی خاص خصوصیت پائی جاتی ہے اور اس نے بادشاہتی مُنادوں کی صفوں پر کیسے اثر ڈالا ہے؟
۹ ۱۹۸۲ میں کتاب یو کین لو فارایور اِن پیراڈائیز آن ارتھ نے بائبل مطالعے کرانے کیلئے بنیادی کتاب کی حیثیت اختیار کر لی۔ اس ہتھیار میں ۱۵۰ سے زائد تصاویر ہیں جن میں سے ہر ایک کیساتھ ایسی پُرمعنی عبارت ہے جو مختصراً تصاویر کے تعلیمی مقصد کو اُجاگر کرتی ہیں۔ ہماری بادشاہتی خدمتگزاری کے اکتوبر ۱۹۸۲ کے شمارے نے بیان کِیا: ”تقریباً ۲۰ سال تک (۱۹۴۶ سے لیکر ۱۹۶۰ کے دہے کے وسط تک) جب ’خدا سچا ٹھہرے‘ ہماری بنیادی مطالعے کی کتاب تھی تو ہماری صفوں میں ۱۰،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ نئے بادشاہتی مُنادوں کا اضافہ ہوا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۶۸ میں اپنی ریلیز کے بعد جب سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے ہماری مطالعے کی بنیادی کتاب بنی تو ۱۰،۰۰،۰۰۰ کا اَور اضافہ ہوا۔ ہماری نئی مطالعے کی کتاب، یو کین لو فارایور اِن پیراڈائیز آن ارتھ کے استعمال سے کیا ہمیں بادشاہتی پبلشروں کی صفوں میں ایسی ہی توسیع دیکھنے کو ملیگی؟ اگر یہوواہ نے چاہا تو ایسا ضرور ہوگا!“ یہوواہ کی واقعی یہی مرضی تھی، کیونکہ ۱۹۸۲ سے ۱۹۹۵ تک بادشاہتی مُنادوں کی صفوں میں ۲۷،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ کا اضافہ ہوا!
۱۰. ۱۹۹۵ میں کونسا نیا ہتھیار فراہم کِیا گیا اور اسے بائبل طالبعلموں کو زیادہ تیزی سے روحانی ترقی کرنے کے قابل کیوں بنانا چاہئے؟
۱۰ ”فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں،“ یسوع نے کہا۔ (متی ۹:۳۷) فصل تو واقعی بہت ہے۔ ابھی تک بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ بعض ممالک میں لوگوں کو بائبل مطالعوں کیلئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا خدا کے علم کو تیزی کیساتھ پھیلانے کے پیشِنظر، ۱۹۹۵ میں ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے ۱۹۲ صفحات کی کتاب کی صورت میں ایک نیا ہتھیار فراہم کِیا جسکا عنوان ہے علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے۔ یہ بیشقیمت ہتھیار جھوٹے عقائد پر توجہ مرکوز نہیں کرتا۔ یہ بائبل سچائیوں کو مثبت انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ اُمید کی جاتی ہے کہ یہ بائبل طالبعلموں کو تیزی سے روحانی ترقی کرنے کے قابل بنائے گا۔ علم کی کتاب ۱۲۵ زبانوں میں ۴،۵۵،۰۰،۰۰۰ کاپیوں کی اشاعت کیساتھ اور مزید ۲۱ زبانوں میں اسکے ترجمے کیساتھ پہلے ہی سے دُنیا پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
۱۱. اَنپڑھ یا کم پڑھےلکھے لوگوں کو تعلیم دینے میں مدد کیلئے کونسا مؤثر ہتھیار فراہم کِیا گیا تھا اور اس نے ہمارے عالمگیر تعلیمی پروگرام پر کیسے زوردار اثر ڈالا؟
۱۱ وقتاًفوقتاً، ’دیانتدار نوکر‘ نے مخصوص یا محدود سامعین کے لئے ترتیب دئے گئے آلات فراہم کئے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایسے لوگوں کی بابت کیا ہے جنہیں شایداپنی ثقافت یا مذہبی پسمنظر کے باعث خاص مدد کی ضرورت ہو؟ خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں ہم اُنکی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ ۱۹۸۲ میں ہمیں جس چیز کی ضرورت تھی وہی ہمیں مل گئی—۳۲ صفحات کا بروشر زمین پر ابد تک زندگی کا لطف اُٹھائیں! تصاویر سے پُر یہ اشاعت اَنپڑھ اور بہت کم پڑھےلکھے لوگوں کو تعلیم دینے میں مؤثر ہتھیار ثابت ہوئی ہے۔ یہ بنیادی صحیفائی تعلیمات کی نہایت سادہ اور قابلِفہم پیشکش پر مشتمل ہے۔ اپنی ریلیز سے لیکر، زمین پر زندگی بروشر ہمارے عالمگیر تعلیمی پروگرام پر زبردست طریقے سے اثرانداز ہوا ہے۔ اسکی ۲۳۹ زبانوں میں ۱۰،۵۱،۰۰،۰۰۰ سے زائد کاپیاں شائع ہو چکی ہیں جس سے یہ واچ ٹاور سوسائٹی کی آج تک شائع ہونے والی مطبوعات میں سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والی اشاعت بن گیا ہے۔
۱۲، ۱۳. (ا) ۱۹۹۰ سے لیکر، ’دیانتدار نوکر‘ نے دُور دُور تک پھیلے ہوئے سامعین تک رسائی کرنے کا کونسا نیا طریقہ فراہم کِیا؟ (ب) ہم سوسائٹی کی ویڈیوز کو اپنی میدانی خدمتگزاری میں کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ (پ) شاگرد بنانے کے ہمارے کام میں مدد دینے کیلئے حال ہی میں کونسا نیا ہتھیار فراہم کِیا گیا تھا؟
۱۲ چھپی ہوئی مطبوعات کے علاوہ، ۱۹۹۰ سے شروع کر کے ’دیانتدار نوکر‘ نے ہمیں تعلیم دینے کا ایک اَور ذریعہ فراہم کِیا ہے جو دُور دُور تک پھیلے ہوئے سامعین تک رسائی کرنے کا نیا طریقہ پیش کرتا ہے—ویڈیوکیسٹس۔ اُس سال اکتوبر میں، ۵۵ منٹ کی ویڈیو جیہوواز وٹنسز—دی آرگنائزیشن بیہائنڈ دی نیم ریلیز ہوئی—پہلی ویڈیو جو کبھی واچ ٹاور سوسائٹی نے بنائی ہو۔ ۳۵ زبانوں میں دستیاب، دلکش، معلوماتی پیشکش یہوواہ کے عقیدتمند لوگوں کی عالمگیر تنظیم کو تمام زمین پر خوشخبری کا اعلان کرنے کی بابت یسوع کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دکھاتی ہے۔ ویڈیو بالخصوص ہمارے شاگرد بنانے کے کام میں مدد کرنے کیلئے بنائی گئی ہے۔ بادشاہتی پبلشروں نے اس نئے ہتھیار کو میدانی خدمتگزاری میں استعمال کرنے میں ذرا بھی وقت ضائع نہیں کِیا۔ بعض اسے اپنے بیگ میں رکھتے ہیں تاکہ اسے دکھانے کیلئے یا دلچسپی رکھنے والوں کو دینے کیلئے تیار رہیں۔ اسکی ریلیز کے تھوڑے ہی عرصے بعد، ایک سفری نگہبان نے لکھا: ”لاکھوں لوگوں کے ذہنوں اور دلوں تک پہنچنے کیلئے ویڈیوز ۲۱ویں صدی کا ایک ذریعہ بن گئی ہیں پس ہمیں اُمید ہے کہ یہ ویڈیو اُن بہت سی ویڈیوز میں سے پہلی ہوگی جو سوسائٹی عالمگیر بادشاہتی کام کو بڑھانے کیلئے استعمال کریگی۔“ بیشک، اَور بھی ویڈیوز فراہم کی گئی ہیں جن میں تین حصوں پر مشتمل دی بائبل—اے بُک آف فیکٹ اینڈ پرافیسی اور جیہوواز وٹنسز سٹینڈ فرم اگینسٹ نازی آسالٹ شامل ہیں۔ اگر سوسائٹی کی ویڈیوز آپکی زبان میں دستیاب ہیں تو کیا آپ نے اُنہیں اپنی میدانی خدمتگزاری میں استعمال کِیا ہے؟a
۱۳ حال ہی میں ایک نیا ہتھیار، خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟، بروشر شاگرد بنانے کے ہمارے کام میں مدد کرنے کیلئے فراہم کِیا گیا تھا۔ اسے کیوں شائع کِیا گیا تھا؟ اسے کیسے استعمال کِیا جا سکتا ہے؟
نئے ہتھیار کا جائزہ لینا
۱۴، ۱۵. بروشر خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ کن لوگوں کیلئے تیار کِیا گیا ہے اور اس میں کیا کچھ شامل ہے؟
۱۴ نئی اشاعت خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ ایسے لوگوں کیلئے شائع کی گئی ہے جو پہلے ہی سے خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور بائبل کا احترام کرتے ہیں۔ سفری نگہبانوں اور ترقیپذیر ممالک سے کئی سالوں کا تجربہ رکھنے والے گلئیڈ سے تربیتیافتہ مشنریوں نے اسکی تیاری میں مدد کی۔ یہ نہایت جامع مطالعے کے کورس پر مشتمل ہے اور بائبل کی بنیادی تعلیمات کا احاطہ کرتا ہے۔ اندازِبیان پُرجوش، سادہ اور براہِراست ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ، متن حد سے زیادہ سادہ بھی نہیں ہے۔ یہ محض ”دودھ“ ہی پیش نہیں کرتا بلکہ خدا کے کلام سے ”سخت غذا“ بھی ایسے انداز میں پیش کرتا ہے جسے زیادہتر لوگوں کو سمجھنے کے قابل ہونا چاہئے۔—عبرانیوں ۵:۱۲-۱۴۔
۱۵ حالیہ برسوں میں مختلف ممالک کے بادشاہتی پبلشروں نے بالکل ایسی ہی اشاعت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ مثال کے طور پر، پاپوآ نیوگنی میں واچ ٹاور سوسائٹی کی برانچ نے لکھا: ”لوگ متضاد مذہبی تعلیمات کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اُنہیں سچائی کی بابت ایسے مختصروجامع بیانات کی ضرورت ہے جسکی حمایت میں کافی زیادہ بائبل کی آیات دی ہوں جنہیں وہ خود اپنی بائبلوں میں دیکھ سکیں۔ اُنہیں اس بات کے سلسلے میں صاف اور واضح پیشکش کی ضرورت ہے کہ خدا سچے مسیحیوں سے کیا تقاضا کرتا ہے اور کونسی رسومات اور کام اُس کے نزدیک ناقابلِقبول ہیں۔“ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر ہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں ایسے لوگوں کی مدد کرنے کے لئے ضرورت تھی۔
۱۶. (ا) نئے بروشر میں پائی جانے والی سادہ وضاحتوں سے بالخصوص کون مستفید ہونگے؟ (ب) آپ کے علاقے کے لوگ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں؟
۱۶ آپ اس نئے ہتھیار کو کیسے استعمال کرینگے؟ اوّل، اسے ایسے لوگوں کے ساتھ مطالعہ کرنے کے لئے استعمال کِیا جا سکتا ہے جنہیں پڑھنے میں مشکل پیش آتی ہے یا جو شاید پڑھنے کی طرف مائل نہیں ہیں۔b ایسے اشخاص بروشر میں موجود سادہ وضاحتوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ اس اشاعت کی پیشازوقت ارسالشُدہ کاپی کا جائزہ لیکر، واچ ٹاور برانچوں نے مندرجہذیل لکھا: ”یہ بروشر ملک کے بہت سے ایسے حصوں میں کارآمد ثابت ہوگا جہاں لوگ بہت زیادہ پڑھنے کی طرف مائل نہیں۔“ (برازیل) ”نقلمکانی کرنے والے بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی آبائی زبان نہیں پڑھ سکتے اور جنہیں ابھی فرنچ پڑھنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔ یہ بروشر ایسے لوگوں کیساتھ مطالعہ کرنے میں مدد کے طور پر استعمال کِیا جا سکتا ہے۔“ (فرانس) کیا آپ کے ذہن میں آپ کے علاقے کے کچھ ایسے لوگ ہیں جو خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر سے مستفید ہونگے؟
۱۷. بہتیرے ممالک میں نیا بروشر کن طریقوں سے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے اور کیوں؟
۱۷ دوم، بہتیرے ممالک میں یہ بروشر خداترس لوگوں کے ساتھ قطعنظر اس سے کہ وہ کتنے پڑھےلکھے ہیں بائبل مطالعے شروع کرنے کے لئے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ بِلاشُبہ، علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے کتاب سے مطالعہ شروع کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ لیکن بعض حالتوں میں بروشر میں سے مطالعہ شروع کرنا آسان ہو سکتا ہے۔ اور اس کے بعد مناسب وقت پر، مطالعے کو علم کی کتاب سے شروع کرنا چاہئے جو بنیادی اور ترجیحی مطالعے کی کتاب ہے۔ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر کے اس استعمال کے سلسلے میں واچ ٹاور برانچوں نے لکھا: ”بائبل مطالعہ شروع کرنا مشکل ہے لیکن بائبل مطالعہ شروع کرنے کے مواقع اُس وقت بہتر دکھائی دیتے ہیں جب پبلشر بروشر سے شروع کرتا ہے۔“ (جرمنی) ”اس قسم کا بروشر ایسے نئے بائبل مطالعے شروع کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوگا جنہیں بعدازاں علم کی کتاب سے جاری رکھا جا سکتا ہے۔“ (اٹلی) ”اگرچہ جاپانیوں میں تعلیم کا اعلیٰ معیار پایا جاتا ہے، بہتیرے بائبل اور اسکی بنیادی تعلیمات کی بابت بہت محدود علم رکھتے ہیں۔ یہ بروشر علم کی کتاب کیلئے ایک عمدہ گزرپتھر کا کام دے سکتا ہے۔“—جاپان۔
۱۸. خدا کے تقاضوں پر پورا اُترنے کے سلسلے میں ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے؟
۱۸ پوری دُنیا میں سوسائٹی کے برانچ دفاتر نے اس بروشر کے لئے درخواست کی ہے اور ۲۲۱ زبانوں میں اس کا ترجمہ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ دُعا ہے کہ دوسروں کو سکھانے میں مدد دینے کیلئے کہ خدا ان سے کیا تقاضا کرتا ہے یہ نئی اشاعت ہماری مدد کرنے میں بیشقیمت ثابت ہو۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے، آئیے یاد رکھیں کہ خدا کے تقاضوں کو پورا کرنا، جس میں منادی کرنے اور شاگرد بنانے کا حکم بھی شامل ہے، یہوواہ پر یہ ظاہر کرنے کیلئے ہمیں ایک بیشقیمت موقع دیتا ہے کہ ہم اس سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔ جیہاں، یہوواہ ہم سے جو تقاضا کرتا ہے وہ کوئی بوجھ نہیں۔ یہ زندگی بسر کرنے کا بہترین طریقہ ہے!—زبور ۱۹:۷-۱۱۔
[فٹنوٹ]
a کتاب جیہوواز وٹنسز—پروکلیمرز آف گاڈز کنگڈم بیان کرتی ہے: ”ویڈیوکیسٹس چھپے ہوئے مواد یا ذاتی گواہی کی جگہ ہرگز نہیں لے رہی ہیں۔ سوسائٹی کی مطبوعات خوشخبری پھیلانے میں اپنا اہم کردار ادا کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہوواہ کے گواہوں کا گھرباگھر کا کام اُن کی خدمتگزاری کا ٹھوس بنیادی صحیفائی پہلو ہے۔ تاہم، ویڈیوکیسٹس یہوواہ کے بیشقیمت وعدوں پر ایمان کو بڑھانے اور ہمارے زمانے میں اس زمین پر جوکچھ وہ کروا رہا ہے اُس کیلئے قدردانی دکھانے کے بیشقیمت آلات کے طور پر اب انکا جزوِلازم بن گئی ہیں۔“
b اس بات کی وضاحت کیلئے کہ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر سے کیسے مطالعہ کرایا جائے، دیکھیں صفحات ۱۶-۱۷ پر مضمون ”خدا کے تقاضوں کی بابت سیکھنے میں لوگوں کی مدد کرنے کیلئے ایک نیا ہتھیار۔“
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ یہوواہ اپنے خادموں سے کس دوہرے کام میں شریک ہونے کا تقاضا کرتا ہے؟
▫ ہماری منادی کرنے اور شاگرد بنانے کی ذمہداری ہمارے لئے بوجھ کیوں نہیں ہے؟
▫ منادی کرنے اور شاگرد بنانے کے ہمارے کام میں استعمال کرنے کیلئے ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ نے کونسے ہتھیار فراہم کئے ہیں؟
▫ خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ بروشر کن کیلئے مرتب کِیا گیا ہے اور ہم اسے اپنی خدمتگزاری میں کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
[صفحہ 21 پر تصویریں]
”خدا سچا ٹھہرے“ (۱۹۴۶، ریوائزڈ ۱۹۵۲): ۵۴ زبانوں میں ۱،۹۲،۵۰،۰۰۰
”سچائی جو باعثِابدی زندگی ہے“ (۱۹۶۸): ۱۱۷ زبانوں میں ۱۰،۷۰،۰۰،۰۰۰ (فرنچ زیرِنمائش)
”یو کین لِو فارایور اِن پیراڈائیز آن ارتھ“ (۱۹۸۲): ۱۳۰ زبانوں میں ۸،۰۹،۰۰،۰۰۰ (روسی زیرِنمائش)
”علم جو ہمیشہ کی زندگی کا باعث ہے“ (۱۹۹۵): ۱۲۵ زبانوں میں ۴،۵۵،۰۰،۰۰۰ (جرمن زیرِنمائش)