یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏2 ص.‏ 11-‏15
  • خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏اُسکے حکم سخت نہیں“‏
  • خدا کا علم حاصل کریں
  • خدا کے معیاروں پر پورا اُترنا
  • زندگی اور خون کیلئے احترام ظاہر کریں
  • یہوواہ کی منظم اُمت کیساتھ خدمت کرنا
  • ‏”‏خدا کی محبت یہ ہے“‏
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • ہمیشہ تک قائم رہنے والی محبت
    ہم خدا کی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏
  • زندگی کے بارے میں خدا کا نظریہ اپنائیں
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • خدا کی طرح زندگی کو بیش‌قیمت خیال کریں
    ہم خدا کی محبت میں کیسے قائم رہ سکتے ہیں؟‏
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏2 ص.‏ 11-‏15

خدا ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏

‏”‏خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اُسکے حکموں پر عمل کریں اور اُسکے حکم سخت نہیں۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏۔‏

۱، ۲.‏ یہ حیرانی کی بات کیوں نہیں کہ اُن لوگوں کیلئے خدا کے تقاضے ہیں جو قابلِ‌قبول طور پر اُس کی پرستش کرنا چاہتے ہیں؟‏

‏”‏مَیں اپنے مذہب سے مطمئن ہوں!‏“‏ کیا لوگ اکثر ایسا نہیں کہتے؟ تاہم، سوال دراصل یہ ہونا چاہئے، ”‏کیا میرا مذہب خدا کو پسند ہے؟“‏ جی‌ہاں، قابلِ‌قبول طور پر پرستش کرنے والوں کے لئے خدا کے کچھ تقاضے ہیں۔ کیا ہمیں اس سے حیران ہونا چاہئے؟ ہونا تو نہیں چاہئے۔ فرض کریں آپ ایک خوبصورت گھر کے مالک ہیں جس کی آپ نے حال ہی میں بھاری رقم لگا کر مرمت کرائی ہے۔ کیا آپ کسی بھی شخص کو وہاں رہنے کی اجازت دے دیں گے؟ ہرگز نہیں!‏ کسی بھی امکانی کرائے‌دار کو آپ کے تقاضوں پر پورا اُترنا ہوگا۔‏

۲ اسی طرح، یہوواہ نے یہ زمینی گھر انسانی خاندان کو عطا کِیا ہے۔ اس کی بادشاہتی حکمرانی کے تحت، جلد ہی زمین کی ”‏مرمت“‏ کی جائیگی یعنی اسے ایک خوبصورت فردوس میں بدل دیا جائے گا۔ یہوواہ یہ کام سرانجام دیگا۔ اسے ممکن بنانے کیلئے، ایک بھاری قیمت ادا کرتے ہوئے، اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخش دیا۔ یقیناً، ان لوگوں کیلئے جو وہاں آباد ہونگے خدا کے ضرور کچھ تقاضے بھی ہونگے!‏—‏زبور ۱۱۵:‏۱۶؛‏ متی ۶:‏۹، ۱۰؛‏ یوحنا ۳:‏۱۶‏۔‏

۳.‏ خدا ہم سے جو توقع کرتا ہے سلیمان نے اُسکی کیسے تلخیص کی؟‏

۳ ہم یہ کیسے جان سکتے ہیں کہ خدا کے تقاضے کیا ہیں؟ یہوواہ ہم سے جس بات کی توقع کرتا ہے اُسکی تلخیص کرنے کیلئے اُس نے دانشمند بادشاہ سلیمان کو الہام بخشا۔ دولت، تعمیراتی پروجیکٹس، موسیقی کا شوق اور رومانوی محبت سمیت جو کچھ اُس نے حاصل کِیا اُس پر سوچ‌بچار کرنے کے بعد سلیمان اس نتیجے پر پہنچا:‏ ”‏اب سب کچھ سنایا گیا۔ حاصلِ‌کلام یہ ہے۔ خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ انسان کا فرضِ‌کُلی یہی ہے۔“‏—‏واعظ ۱۲:‏۱۳‏۔‏

‏”‏اُسکے حکم سخت نہیں“‏

۴-‏۶.‏ (‏ا)‏ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏سخت“‏ کِیا گیا ہے اُسکے لفظی معنی کیا ہیں؟ (‏ب)‏ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے حکم سخت نہیں؟‏

۴ ”‏اس کے حکموں کو مان۔“‏ بنیادی طور پر، خدا ہم سے یہی توقع کرتا ہے۔ کیا اُس کیلئے یہ توقع کرنا بہت بڑی بات ہے؟ ہرگز نہیں۔ یوحنا رسول ہمیں خدا کے حکموں یا تقاضوں کی بابت نہایت ہمت‌افزا بات بتاتا ہے۔ اُس نے لکھا:‏ ”‏خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں اور اُس کے حکم سخت نہیں۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏۔‏

۵ جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏سخت“‏ کِیا گیا ہے اُسکا لفظی مطلب ہے ”‏بھاری۔“‏ یہ ایسی چیز کی طرف اشارہ کر سکتا ہے جس کے مطابق زندگی بسر کرنا کٹھن ہو یا جسے پورا کرنا مشکل ہو۔ متی ۲۳:‏۴ میں، اسے ”‏بھاری بوجھوں،“‏ انسان ساختہ اصولوں اور روایات کو بیان کرنے کیلئے استعمال کِیا گیا ہے جو فقیہوں اور فریسیوں نے لوگوں پر لادرکھے تھے۔ عمررسیدہ رسول یوحنا جو نتیجہ اخذ کر رہا ہے کیا آپ اس کے مفہوم کو سمجھتے ہیں؟ خدا کے احکام بھاری بوجھ نہیں ہیں اور نہ ہی اُنہیں پورا کرنا ہمارے لئے انتہائی مشکل ہے۔ (‏مقابلہ کریں استثنا ۳۰:‏۱۱۔)‏ اسکے برعکس، جب ہم خدا سے محبت کرتے ہیں تو اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ہمیں خوش کرتا ہے۔ یہ ہمیں خدا کیلئے اپنی محبت دکھانے کا نادر موقع مہیا کرتا ہے۔‏

۶ خدا کی خاطر اپنی محبت ظاہر کرنے کیلئے، ہمیں واضح طور پر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ ہم سے کیا توقع کرتا ہے۔ آئیے اب خدا کے پانچ تقاضوں پر بات‌چیت کریں۔ جب ہم ایسا کرتے ہیں تو جوکچھ یوحنا نے سکھایا اسے ذہن میں رکھیں:‏ ’‏خدا کے حکم سخت نہیں ہیں۔‘‏

خدا کا علم حاصل کریں

۷.‏ ہماری نجات کا انحصار کس بات پر ہے؟‏

۷ پہلا تقاضا خدا کا علم حاصل کرنا ہے۔ یوحنا ۱۷ باب میں درج یسوع کے الفاظ پر غور کریں۔ بطور انسان یسوع کی زندگی کی آخری رات کا منظر تھا۔ یسوع نے شام کا بیشتر وقت اپنے رسولوں کو اپنے جُدا ہونے کیلئے تیار کرنے میں صرف کِیا تھا۔ وہ ان کے مستقبل، ان کے ابدی مستقبل کی بابت فکرمند تھا۔ اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھا کر اس نے اُن کیلئے دُعا کی۔ ۳ آیت میں ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏ جی‌ہاں، ان کی نجات کا انحصار اس بات پر تھا کہ وہ خدا اور مسیح دونوں کو ”‏جانیں۔“‏ اسکا اطلاق ہم پر بھی ہوتا ہے۔ نجات حاصل کرنے کیلئے، ہمیں ایسا علم حاصل کرنا چاہئے۔‏

۸.‏ ’‏خدا کا علم حاصل کرنے‘‏ کا کیا مطلب ہے؟‏

۸ لیکن خدا کا ’‏علم حاصل‘‏ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ یونانی لفظ جس کا ترجمہ یہاں ”‏جانیں“‏ کیا گیا ہے وہ ”‏جاننے، پہچاننے،“‏ یا ”‏مکمل طور پر سمجھنے“‏ کا مفہوم پیش کرتا ہے۔ اس بات پر بھی غور کریں کہ اصطلا‌ح ”‏جانیں“‏ اس بات کی دلالت کرتی ہے کہ یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔ پس خدا کا علم حاصل کرنے کا مطلب ہے اسکے ساتھ ایک قابلِ‌فہم دوستی کو فروغ دیتے ہوئے، اسے سطحی طور پر نہیں بلکہ قریب سے جاننا۔ خدا کے ساتھ مسلسل رشتہ اسکی بابت ہمہ‌وقت اضافی علم پر منتج ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیشہ جاری رہ سکتا ہے کیونکہ ہم کبھی بھی یہوواہ کی بابت سب کچھ نہیں جان پائینگے۔—‏رومیوں ۱۱:‏۳۳‏۔‏

۹.‏ تخلیق کی کتاب سے ہم یہوواہ کی بابت کیا سیکھ سکتے ہیں؟‏

۹ ہم خدا کا علم کیسے حاصل کرتے ہیں؟ دو کتابیں ہیں جو ہماری مدد کر سکتی ہیں۔ ایک کتابِ‌تخلیق ہے۔ ایسی چیزیں—‏جاندار اور بے‌جان دونوں‏—‏جنہیں یہوواہ نے خلق کِیا ہے ہمیں اس کی بابت کچھ بصیرت بخشتی ہیں کہ وہ کس قسم کی ہستی ہے۔ (‏رومیوں ۱:‏۲۰‏)‏ چند مثالوں پر غور کریں۔ ایک پُرشکوہ آبشار کی گرجدار آواز، طوفان کے دوران کفِ‌دریا کا مسلسل پُرشور آوازیں پیدا کرنا، ایک شفاف رات کے وقت ستاروں بھرے آسمان کا نظارہ—‏کیا ایسی چیزیں ہمیں یہ نہیں سکھاتیں کہ یہوواہ ”‏توانائی [‏”‏قوت،“‏این‌ڈبلیو]‏ والا“‏ خدا ہے؟ (‏یسعیاہ ۴۰:‏۲۶‏)‏ ایک ہنستا مسکراتا بچہ جو ایک پِلے کو اپنی دم پکڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھتا ہے یا اُون کے گیند کے ساتھ کھیلتے ہوئے ایک بِلوٹے کو دیکھتا ہے—‏کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ یہوواہ، ”‏خدایِ‌مبارک،“‏ مزاح کی حس رکھتا ہے؟ (‏۱-‏تیمتھیس ۱:‏۱۱‏)‏ لذیذ کھانے کا ذائقہ، سبزہ‌زار میں پھولوں کی مہک، ایک نرم‌ونازک تِتلی کے شوخ رنگ، موسمِ‌بہار میں نغمہ‌پرداز پرندوں کی آواز، کسی عزیز کی طرف سے پُرتپاک بغلگیری—‏کیا ہم ایسی چیزوں سے یہ نہیں دیکھتے کہ ہمارا خالق محبت کا خدا ہے جو چاہتا ہے کہ ہم زندگی سے لطف‌اندوز ہوں۔—‏۱-‏یوحنا ۴:‏۸‏۔‏

۱۰، ۱۱.‏ (‏ا)‏ یہوواہ اور اُسکے مقاصد کی بابت کونسی باتیں ہم تخلیق کی کتاب سے نہیں سیکھ سکتے؟ (‏ب)‏ کن سوالات کے جواب صرف بائبل ہی میں پائے جاتے ہیں؟‏

۱۰ تاہم، تخلیق کی کتاب سے ہم یہوواہ کی بابت جوکچھ سیکھتے ہیں اس کی ایک حد ہے۔ مثلاً:‏ خدا کا نام کیا ہے؟ کیوں اس نے زمین کو خلق کِیا اور انسان کو اس پر آباد کِیا؟ خدابدکاری کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ مستقبل ہمارے لئے کیا تھامے ہوئے ہے؟ ایسے سوالات کے جواب کیلئے، ہمیں کسی اَور کتاب کا سہارا لینا پڑتا ہے جو خدا کا علم فراہم کرتی ہے—‏بائبل۔ اس میں، یہوواہ اپنی بابت اور اپنے نام، اپنی شخصیت، اور اپنے مقاصد کی بابت چیزوں کو آشکارا کرتا ہے—‏ایسی معلومات جو ہم کسی اَور ذریعے سے حاصل نہیں کر سکتے۔—‏خروج ۳۴:‏۶، ۷؛‏ زبور ۸۳:‏۱۸؛‏ عاموس ۳:‏۷۔‏

۱۱ صحائف میں، یہوواہ دیگر اشخاص کے متعلق بھی نہایت اہم علم مہیا کرتا ہے جن کی بابت ہمیں جاننے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر، یسوع مسیح کون ہے اور یہوواہ کے مقاصد کو سرانجام دینے میں وہ کیا کردار ادا کرتا ہے؟ (‏اعمال ۴:‏۱۲‏)‏ شیطان یعنی ابلیس کون ہے؟ وہ لوگوں کو کن طریقوں سے گمراہ کرتا ہے؟ ہم اس کے ذریعے گمراہ ہونے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ (‏۱-‏پطرس ۵:‏۸‏)‏ ان سوالات کے زندگی‌بخش جوابات صرف بائبل ہی میں پائے جاتے ہیں۔‏

۱۲.‏ آپ کیسے وضاحت کرینگے کہ خدا اور اُسکے مقاصد کی بابت علم حاصل کرنا کیوں بوجھ نہیں ہے؟‏

۱۲ کیا خدا اور اس کے مقاصد کا ایسا علم حاصل کرنا ایک بوجھ ہے؟ ہرگز نہیں!‏ کیا آپ یاد کر سکتے ہیں کہ جب آپ نے پہلی مرتبہ سیکھا تھا کہ خدا کا نام یہوواہ ہے یہ کہ اس کی بادشاہت اس زمین پر فردوس کو بحال کریگی، یہ کہ اس نے اپنے عزیز بیٹے کو ہمارے گناہوں کیلئے فدیے کے طور پر دے دیا ہے اور دیگر بیش‌قیمت سچائیاں سیکھیں تو آپ نے کیسا محسوس کِیا تھا؟ کیا یہ جہالت کے پردے کو ہٹانے اور چیزوں کو پہلی مرتبہ واضح طور پر دیکھنے کی مانند نہیں تھا؟ خدا کا علم حاصل کرنا ایک بوجھ نہیں ہے۔ یہ ایک خوشی ہے!‏—‏زبور ۱:‏۱-‏۳؛‏ ۱۱۹:‏۹۷‏۔‏

خدا کے معیاروں پر پورا اُترنا

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏ جب ہم خدا کا علم حاصل کرتے ہیں تو ہمیں اپنی زندگیوں میں کونسی تبدیلیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ (‏ب)‏ خدا ہم سے کن ناپاک کاموں سے گریز کرنے کا تقاضا کرتا ہے؟‏

۱۳ جب ہم خدا کا علم حاصل کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہونے لگتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمیں دوسرے تقاضے پر لے آتا ہے۔ ہمیں دُرست چال‌چلن کیلئے خدا کے معیاروں پر پورا اُترنا اور اُسکی سچائی کو قبول کرنا چاہئے۔ سچائی کیا ہے؟ جوکچھ ہم مانتے ہیں اور جو کچھ ہم کرتے ہیں کیا خدا کے حضور واقعی اسکی اہمیت ہے؟ آجکل بہتیرے لوگ بدیہی طور پر ایسا نہیں سوچتے۔ ۱۹۹۵ میں چرچ آف انگلینڈ کی طرف سے شائع‌کردہ ایک رپورٹ نے بیان کِیا کہ ازدواجی بندھن کے بغیر اکٹھے رہنے کو گناہ خیال نہیں کِیا جانا چاہئے۔ ”‏اصطلا‌ح ’‏گناہ میں زندگی بسر کرنا‘‏ شرمناک اور بے‌فائدہ ہے،“‏ ایک چرچ بشپ نے بیان کِیا۔‏

۱۴ پس، کیا ”‏گناہ میں زندگی بسر کرنا“‏ گناہ نہیں ہے؟ یہوواہ ہمیں واضح طور پر بتاتا ہے کہ وہ ایسے چال‌چلن کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے۔ اُسکا کلام، بائبل، بیان کرتا ہے:‏ ”‏بیاہ کرنا سب میں عزت کی بات سمجھی جائے اور بستر بے‌داغ رہے کیونکہ خدا حرامکاروں اور زانیوں کی عدالت کرے گا۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۴‏)‏ شادی سے پہلے جنسی تعلقات روادار پادریوں اور چرچ جانے والوں کی نظر میں شاید گناہ نہ ہوں لیکن خدا کی نظر میں یہ سنگین گناہ ہے!‏ اور اسی طرح زناکاری، محرمات سے مباشرت اور ہم‌جنس پرستی ہیں۔ (‏احبار ۱۸:‏۶؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ خدا تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایسے کاموں سے اجتناب کریں جنہیں وہ ناپاک خیال کرتا ہے۔‏

۱۵.‏ خدا کے تقاضوں میں یہ دونوں باتیں کسطرح شامل ہیں کہ ہم دوسروں کیساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں اور ہم کیا ایمان رکھتے ہیں؟‏

۱۵ تاہم، ایسے کاموں سے اجتناب کرنا ہی کافی نہیں ہے جنہیں خدا گنہگارانہ خیال کرتا ہے۔ خدا کے تقاضوں میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ خاندان میں، وہ شوہر اور بیوی سے ایک دوسرے سے محبت رکھنے اور احترام کرنے کی توقع کرتا ہے۔ وہ والدین سے اپنے بچوں کی مادی، روحانی اور جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ بچوں کو اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنے کا حکم دیتا ہے۔ (‏امثال ۲۲:‏۶؛‏ کلسیوں ۳:‏۱۸-‏۲۱‏)‏ اور ہمارے عقائد کی بابت کیا ہے؟ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ ہم ایسے عقائد اور رسومات سے گریز کریں جنکا تعلق جھوٹی پرستش سے ہے یا جو بائبل میں سکھائی جانے والی واضح سچائی کے برعکس ہیں۔—‏استثنا ۱۸:‏۹-‏۱۳؛‏ ۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۴-‏۱۷‏۔‏

۱۶.‏ اس بات کی وضاحت کریں کہ دُرست چال‌چلن کیلئے خدا کے معیاروں پر پورا اُترنا اور اُس کی سچائی کو قبول کرنا بوجھ کیوں نہیں ہے؟‏

۱۶ کیا دُرست چال‌چلن کیلئے خدا کے معیاروں پر پورا اُترنا اور اُسکی سچائی کو قبول کرنا ہمارے لئے بوجھ ہے؟ نہیں جب آپ ان فوائد پر غور کرتے ہیں تو ایسا نہیں ہے—‏بے‌وفائی کے باعث شکستہ شادیوں کی بجائے ایسی شادیاں جن میں شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں؛ ایسے خاندانوں کی بجائے جن میں بچے محسوس کرتے ہیں کہ اُن سے محبت نہیں کی جاتی، بے‌پروائی برتی جاتی ہے اور ان کی ضرورت نہیں، ایسے گھر جہاں بچے محسوس کرتے ہیں کہ اُن سے محبت کی جاتی ہے اور اُنکے والدین کو اُنکی ضرورت ہے؛ گناہ کے احساسات اور ایڈز یا جنسی طور پر لگنے والی کسی بیماری کے باعث شکستہ جسم کی بجائے پاک ضمیر اور اچھی صحت۔ یقیناً، یہوواہ کے تقاضے ہمیں کسی بھی ایسی چیز سے محروم نہیں کرتے جسکی ہمیں زندگی سے لطف اُٹھانے کیلئے ضرورت ہے!‏—‏استثنا ۱۰:‏۱۲، ۱۳۔‏

زندگی اور خون کیلئے احترام ظاہر کریں

۱۷.‏ یہوواہ زندگی اور خون کو کیسا خیال کرتا ہے؟‏

۱۷ جب آپ اپنی زندگی خدا کے معیاروں کی مطابقت میں لاتے ہیں تو آپ سمجھنے لگتے ہیں کہ واقعی زندگی کتنی بیش‌قیمت ہے۔ آئیے اب خدا کے تیسرے تقاضے پر بات‌چیت کرتے ہیں۔ ہمیں زندگی اور خون کیلئے احترام ظاہر کرنا چاہئے۔ یہوواہ کے نزدیک زندگی مُقدس ہے۔ اسے ہونا بھی چاہئے کیونکہ وہ زندگی کا سرچشمہ ہے۔ (‏زبور ۳۶:‏۹‏)‏ جی‌ہاں، اپنی ماں کے رحم میں ایک نازائیدہ بچے کی زندگی بھی یہوواہ کیلئے گرانقدر ہے!‏ (‏خروج ۲۱:‏۲۲، ۲۳)‏ خون زندگی کی علامت ہے۔ لہٰذا، خون بھی خدا کی نظر میں مُقدس ہے۔ (‏احبار ۱۷:‏۱۴)‏ پس ہمیں اس سے حیران نہیں ہونا چاہئے کہ خدا ہم سے بھی زندگی اور خون کو ویسا ہی خیال کرنے کی توقع کرتا ہے جیسے وہ کرتا ہے۔‏

۱۸.‏ زندگی اور خون کی بابت یہوواہ کا نظریہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏

۱۸ زندگی اور خون کیلئے احترام ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟ مسیحیوں کے طور پر، ہم محض دِل‌لگی کی خاطر اپنی زندگیاں غیرضروری خطرات میں نہیں ڈالتے۔ ہم تحفظ کا خیال رکھتے ہیں، اسلئے ہم اس بات کا یقین کر لیتے ہیں کہ ہماری کاریں اور ہمارے گھر محفوظ ہیں۔ (‏استثنا ۲۲:‏۸)‏ ہم محض لطف کی خاطر تمباکو کا استعمال نہیں کرتے، چھالیہ نہیں چباتے یا نشہ‌آور ادویات نہیں لیتے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱‏)‏ جب خدا حکم دیتا ہے کہ ’‏خون سے پرہیز کرو‘‏ تو ہم اُسکی بات پر دھیان دینے کی وجہ سے کسی بھی صورت میں خون کو اپنے بدنوں میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ (‏اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹‏)‏ اگرچہ ہم زندگی کو عزیز رکھتے ہیں توبھی ہم خدا کے قانون کی خلاف‌ورزی کرتے ہوئے اپنی موجودہ زندگیوں کو بچانے کی کوشش نہیں کرینگے اور یوں ہمیشہ کی زندگی کے اپنے امکان کو خطرے میں نہیں ڈالینگے!‏—‏متی ۱۶:‏۲۵‏۔‏

۱۹.‏ وضاحت کریں کہ ہم زندگی اور خون کیلئے احترام دکھانے سے کیسے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔‏

۱۹ کیا زندگی اور خون کو مُقدس خیال کرنا ہمارے لئے بوجھ ہے؟ ہرگز نہیں!‏ ذرا اسکی بابت سوچیں۔ کیا تمباکونوشی سے پھیپھڑوں کے کینسر سے محفوظ رہنا بوجھ ہے؟ کیا نقصاندہ منشیات کی ذہنی اور جسمانی عادت سے بچنا بوجھ ہے؟ کیا انتقالِ‌خون سے ایڈز، ہیپاٹائٹس یا بعض دیگر بیماریوں میں مبتلا ہونے سے بچنا ہمارے لئے ایک بوجھ ہے؟ واضح طور پر، ہمارا نقصاندہ عادات اور کاموں سے گریز کرنا ہمارے ذاتی فائدے کیلئے ہے۔—‏یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏۔‏

۲۰.‏ زندگی کی بابت خدا کا نظریہ اپنانے سے ایک خاندان نے کیسے فائدہ اُٹھایا؟‏

۲۰ اس تجربے پر غور کریں۔ چند سال پہلے، ایک گواہ خاتون کو جو ساڑھے تین ماہ سے حاملہ تھی ایک شام جریانِ‌خون ہونے لگا اور اسے فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا۔ جب ڈاکٹر اسکا معائنہ کر چکا تو اس نے اسے ایک نرس سے یہ کہتے سنا کہ انہیں اسقاط کرنا ہوگا۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہوواہ ایک نازائیدہ کی زندگی کو کیسا خیال کرتا ہے، اس نے ڈاکٹر سے یہ کہتے ہوئے اسقاطِ‌حمل سے سختی سے انکار کر دیا:‏ ”‏اگر یہ زندہ ہے تو اسے رہنے دو!‏“‏ اس دوران وہ وقتاًفوقتاً جریانِ‌خون سے تکلیف اٹھاتی رہتی لیکن چند ماہ بعد اس نے قبل‌ازوقت ایک صحت‌مند بچے کو جنم دیا جو اب۱۷ سال کا ہے۔ اس نے بیان کِیا:‏ ”‏ہمارے لڑکے کو سب کچھ بتایا گیا اور اس نے کہا کہ وہ خوش ہے کہ اسے دورانِ‌حمل ضائع نہیں کِیا گیا تھا۔ وہ جانتا ہے کہ ہمارا یہوواہ کی خدمت کرنا ہی واحد وجہ ہے کہ وہ آج زندہ ہے!‏“‏ یقیناً، زندگی کی بابت خدا کا نظریہ رکھنا اس خاندان کیلئے کوئی بوجھ نہیں تھا۔‏

یہوواہ کی منظم اُمت کیساتھ خدمت کرنا

۲۱، ۲۲.‏ (‏ا)‏ یہوواہ ہم سے کن کیساتھ ملکر خدمت کرنے کی توقع کرتا ہے؟ (‏ب)‏ خدا کے منظم لوگوں کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟‏

۲۱ ہم اپنی زندگیوں کو خدا کے معیاروں کی مطابقت میں لانے کیلئے ضروری تبدیلیاں پیدا کرنے میں تنہا نہیں ہیں۔ اس زمین پر یہوواہ کی ایک اُمت ہے اور وہ ہم سے ان کے ساتھ ملکر خدمت کرنے کی توقع کرتا ہے۔ یہ ہمیں چوتھے تقاضے پر لے آتا ہے‏۔‏ ہمیں روح سے ہدایت‌یافتہ اُسکی تنظیم کیساتھ ملکر یہوواہ کی خدمت کرنی چاہئے۔‏

۲۲ تاہم، خدا کے منظم لوگوں کی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟ صحائف میں بیان‌کردہ معیاروں کے مطابق، وہ آپس میں حقیقی محبت رکھتے ہیں، وہ بائبل کیلئے گہرا احترام رکھتے ہیں، وہ خدا کے نام کا احترام کرتے ہیں، وہ اسکی بادشاہت کی بابت منادی کرتے ہیں اور وہ اس شریر دُنیا کا حصہ نہیں ہیں۔ (‏متی ۶:‏۹؛‏ ۲۴:‏۱۴؛‏ یوحنا ۱۳:‏۳۴، ۳۵؛‏ ۱۷:‏۱۶، ۱۷‏)‏ اس زمین پر محض ایک ہی مذہبی تنظیم ہے جس میں سچی مسیحیت کے یہ تمام نشان موجود ہیں—‏یہوواہ کے گواہ!‏

۲۳، ۲۴.‏ ہم کیسے مثال سے واضح کر سکتے ہیں کہ اُسکی منظم اُمت کیساتھ ملکر یہوواہ کی خدمت کرنا کوئی بوجھ نہیں ہے؟‏

۲۳ کیا خدا کے منظم لوگوں کے ہمراہ خدمت کرنا بوجھ ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کے برعکس، مسیحی بھائیوں اور بہنوں کے عالمگیر خاندان کی محبت اور حمایت کا تجربہ کرنا ایک بیش‌قیمت استحقاق ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۱۷‏)‏ تصور کریں کہ آپ ایک تباہ‌شُدہ جہاز سے بچ نکلے ہیں اور پانی میں تیرتے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ اب آپ مزید نہیں تیر سکتے تو ایک لائف بوٹ سے ایک ہاتھ آپ کی طرف بڑھتا ہے۔ جی‌ہاں، وہاں دوسرے بچ نکلنے والے ہیں!‏ لائف بوٹ میں، آپ اور دوسرے لوگ کشتی کو آگے دھکیلنے کیلئے باری باری چپّو چلاتے ہوئے راستے سے دیگر لوگوں کو اُٹھاتے ہوئے، ساحل کی جانب چلے جاتے ہیں۔‏

۲۴ کیا ہم ایسی ہی حالت میں مبتلا نہیں ہیں؟ ہمیں اس شریر دُنیا کے خطرناک ”‏پانیوں“‏ سے یہوواہ کی زمینی تنظیم کی ”‏لائف بوٹ“‏ میں کھینچ لیا گیا ہے۔ اس کے اندر، نئی راست دُنیا کے ”‏ساحلوں“‏ کی طرف بڑھتے ہوئے ہم ایک دوسرے کے شانہ‌بشانہ خدمت کرتے ہیں۔ اگر زندگی کے دباؤ راستے میں ہمارے لئے تھک جانے کا باعث بنتے ہیں تو ہم حقیقی مسیحی ساتھیوں کی اعانت اور دلاسے کیلئے کتنے شکرگزار ہیں!‏—‏امثال ۱۷:‏۱۷‏۔‏

۲۵.‏ (‏ا)‏ جو لوگ ابھی تک اس بدکار دُنیا کے ”‏پانیوں“‏ میں گھرے ہوئے ہیں اُن کیلئے ہماری کیا ذمہ‌داری ہے؟ (‏ب)‏ اگلے مضمون میں خدا کے کس تقاضے پر بات‌چیت کی جائیگی؟‏

۲۵ تاہم، دیگر خلوص‌دل لوگوں کی بابت کیا ہے جو ابھی تک ”‏پانی“‏ میں ہیں؟ ہم یہوواہ کی تنظیم میں آنے کے لئے ان کی مدد کرنے کی ذمہ‌داری رکھتے ہیں، کیا ہم نہیں رکھتے؟ (‏۱-‏تیمتھیس ۲:‏۳، ۴‏)‏ اُنہیں یہ سیکھنے کے لئے مدد کی ضرورت ہے کہ خدا کیا تقاضا کرتا ہے۔ یہ ہمیں خدا کے پانچویں تقاضے پر لے آتا ہے۔ ہمیں خدا کی بادشاہت کے وفادار مُناد ہونا چاہئے۔ اس میں جوکچھ شامل ہے اُس پر اگلے مضمون میں بات‌چیت کی جائیگی۔‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ خدا کے حکم کیوں سخت نہیں؟‏

▫ ہم خدا کا علم کیسے حاصل کرتے ہیں؟‏

▫ دُرست چال‌چلن کیلئے خدا کے معیاروں پر پورا اُترنا اور اُسکی سچائی قبول کرنا بوجھ کیوں نہیں ہے؟‏

▫ زندگی اور خون کی بابت خدا کا نظریہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏

▫ خدا ہم سے کس کے ساتھ ملکر خدمت کرنے کی توقع کرتا ہے اور اُنکی شناخت کیسے کی جا سکتی ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں