ہم سب کو خدا کی حمد کیوں کرنی چاہئے؟
ہللویاہ! مسیحی دُنیا میں چرچ جانے والے بیشتر لوگ اس لفظ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ بعض اپنی اتوار کی عبادات میں زور زور سے یہ پکارتے ہیں۔ تاہم، کتنے لوگ جانتے ہیں کہ درحقیقت اس لفظ کا مطلب کیا ہے؟ دراصل، یہ ایک عبرانی لفظ ہے جسکا مطلب ہے ”یاہ کی حمد کرو!“ یہ خالق کیلئے، جسکا نام یہوواہa ہے، پُرمسرت، پُرجوش پکار ہے۔
لفظ ”ہللویاہ“ بائبل میں بارہا نظر آتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ خدا کی حمد کرنے کی بےشمار وجوہات ہیں۔ یاہ (یہوواہ) وسیعوعریض کائنات کا خالق اور اِسے قائمودائم رکھنے والا ہے۔ (زبور ۱۴۷:۴، ۵؛ ۱۴۸:۳-۶) اُس نے ماحولیاتی نظاموں کی ابتدا کی جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتے ہیں۔ (زبور ۱۴۷:۸، ۹؛ ۱۴۸:۷-۱۰) اور وہ نوعِانسان میں خاص دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر ہم اُس کی مرضی بجا لاتے ہیں تو وہ اس زندگی میں ہمیں برکت دیتا اور ہماری حوصلہافزائی کرتا ہے اور ہمیں آنے والی بہتر زندگی کیلئے بھی یقینی اُمید پیش کرتا ہے۔ (زبور ۱۴۸:۱۱-۱۴) یاہ (یہوواہ) نے ہی ان الفاظ کا الہام بخشا: ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہینگے۔“—زبور ۳۷:۲۹۔
تاہم، سب کو تاکید کی گئی ہے: ”ہللویاہ!“ ”اَے لوگو، یاہ کی حمد کرو!“ (زبور ۱۰۴:۳۵؛ اینڈبلیو) تاہم، افسوس کی بات ہے کہ ہر شخص اس سے اثرپذیر ہونے کی طرف مائل نہیں ہے۔ آجکل، لوگ دُکھ جھیل رہے ہیں۔ بہتیرے فاقہزدہ، بیمار یا ستمرسیدہ ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد منشیات یا الکحل کے غلط استعمال یا اپنی بداخلاقی یا بغاوت کے نتیجے میں شدید غم کا تجربہ کرتی ہے۔ کیا کوئی ایسی وجہ ہے جس سے ایسے لوگوں کو خدا کی حمد کرنے کی تحریک ملنی چاہئے؟
’مجھے صرف یہوواہ ہی اُمید دے سکتا تھا‘
جیہاں، ایسا ہی ہے۔ اسلئے کہ یہوواہ بِلاامتیاز ہر ایک کو دعوت دیتا ہے کہ اُسکی بابت علم حاصل کرے، اُسکی مرضی بجا لانا سیکھے اور ایسی برکات سے لطف اُٹھائے جو لوگوں میں اُسکی حمد کرنے کی خواہش پیدا کرتی ہیں۔ اور بہتیرے اثرپذیر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، گوئٹےمالا کی ایڈریانا پر غور کریں۔ جب ایڈریانا سات برس کی تھی تو اُسکی والدہ فوت ہو گئی۔ اسکے تھوڑے عرصہ کے بعد اُسکا باپ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ جب وہ دس برس کی تھی تو اُس نے گزر بسر کیلئے کام کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ اُسکی والدہ نے اُسے خدا اور چرچ کی خدمت کرنے کی ہدایت کی تھی اسلئے ایڈریانا کئی کیتھولک گروہوں کیساتھ منسلک رہی لیکن ۱۲ سال کی عمر میں وہ ان سے مایوس ہونے لگی اور ایک سٹریٹ گینگ میں شامل ہو گئی۔ اُس نے سگریٹنوشی، منشیات کا استعمال اور چوریچکاری شروع کر دی۔ اس طرح کی نوجوان لڑکی کیوں خدا کی حمد کرنا چاہیگی؟
ایڈریانا کی بہن نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ شروع کر دیا لیکن ایڈریانا اُسکا تمسخر اُڑاتی تھی۔ بعدازاں اُنکی آنٹی فوت ہو گئی۔ اپنی آنٹی کے جنازے پر ایڈریانا پریشانکُن سوالات کی وجہ سے بڑی اُلجھن میں مبتلا تھی۔ اُسکی آنٹی کہاں چلی گئی تھی؟ کیا وہ آسمان پر تھی؟ کیا وہ کسی آتشی دوزخ میں گئی تھی؟ یہ کافی پریشانکُن بات تھی، لہٰذا ایڈریانا قبرستان کی عبادتگاہ میں گئی اور جیساکہ اُسکی بہن نے اُسے سکھایا تھا مدد کیلئے خدا کا نام یہوواہ استعمال کرتے ہوئے دُعا کی۔
جلد ہی وہ یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے اور اُنکے مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے لگی۔ اس چیز نے اُس کیلئے زندگی پر ایک بالکل فرق زاویے سے نگاہ کرنے کی راہ کھول دی اور پھر اُس نے بڑی دلیری سے سٹریٹ گینگ کیساتھ اپنے تمام تعلقات ختم کر دئیے۔ اب ۲۰ کے دہے کے وسط میں، ایڈریانا کہتی ہے: ”صرف یہوواہ کی محبت ہی نے مجھے ایسے بُرے طرزِزندگی کو ترک کرنے کی تحریک دی تھی۔ صرف یہوواہ ہی اپنے بڑے رحم سے مجھے ہمیشہ کی زندگی کی اُمید دے سکتا تھا۔“ اپنی زندگی کے ابتدائی کٹھن مراحل کے باوجود، ایڈریانا کے پاس خدا کی حمد کرنے کی عمدہ وجوہات ہیں۔
یوکرائن سے ایک اَور نہایت مشکل صورتحال کی رپورٹ موصول ہوئی۔ ایک آدمی پھانسی کے انتظار میں جیل میں قید ہے۔ کیا اُسے خود پر ترس آتا ہے؟ افسردہ ہے؟ نہیں، اسکے بالکل برعکس۔ حال ہی میں یہوواہ کے گواہوں سے ملاقات اور یہوواہ کی بابت کچھ علم حاصل کرنے پر اُس نے اُن سے درخواست کی کہ اُسکی والدہ سے بھی ملیں۔ اب وہ اُنہیں خط لکھتا ہے کیونکہ وہ جان چکا ہے کہ اُنہوں نے اُسکی درخواست کو پورا کر دیا ہے۔ وہ کہتا ہے: ”میری والدہ سے ملاقات کرنے کیلئے آپ کا شکریہ۔ یہ نہایت خوشکُن خبر تھی جو مجھے گزشتہ سال ملی۔“
اپنی بابت اور جن ساتھی قیدیوں کو اُس نے گواہی دی ہے اُنکی بابت بتاتے ہوئے وہ لکھتا ہے: ”اب ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کے مطابق چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔“ وہ اپنے خط کے آخر میں لکھتا ہے: ”یہ سیکھنے میں کہ محبت کیا ہے اور ایمان حاصل کرنے میں ہماری مدد کرنے کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اگر مَیں زندہ رہا تو مَیں بھی آپ کی مدد کرونگا۔ خدا کا شکر ہے کہ آپ لوگ موجود ہیں اور خدا سے محبت رکھنے اور اُس پر ایمان لانے کے لئے دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔“ اس آدمی نے اپنی سزائےموت کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔ لیکن اسے خواہ موت کی سزا ہو جائے یا اُسے کئی سال جیل کاٹنی پڑے، اُس کے پاس واضح طور پر خدا کی حمد کرنے کی وجہ ہے۔
’مَیں نابینا ہونے کے باوجود دیکھ سکتی ہوں‘
اب ایک شوخوچنچل نوعمر لڑکی پر غور کریں جو اچانک اپنی بینائی سے محروم ہو گئی۔ گلوریا کیساتھ ایسا واقع ہوا جوارجنٹینا میں رہتی ہے۔ گلوریا ۱۹ سال کی عمر میں اچانک نابینا ہو گئی اور اسکے بعد وہ اپنی بینائی کبھی دوبارہ حاصل نہیں کر پائی۔ ۲۹ سال کی عمر میں وہ ایک شخص کی داشتہ بن گئی اور جلد ہی حاملہ ہو گئی۔ اب اُسے محسوس ہوا کہ اُسکی زندگی کا کوئی مقصد ہے۔ لیکن جب اُسکا بچہ مر گیا تو وہ سوال پوچھنے لگی۔ اُس نے سوچا، ’میرے ہی ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میرا کیا قصور ہے؟ کیا خدا واقعی موجود ہے؟‘
اُسی دوران، یہوواہ کی دو گواہ اُسکے دروازے پر آئیں۔ اُس نے بائبل مطالعہ شروع کر دیا اور اسکے وعدہ کی بات سیکھا کہ نئی دُنیا میں اندھے پھر سے دیکھنے لگیں گے۔ (یسعیاہ ۳۵:۵) گلوریا کیلئے کسقدر شاندار امکان! وہ بہت خوش تھی، خاص طور پر اسلئے کہ اُسکا شوہر اپنی شادی کو قانونی صورت دینے کیلئے راضی تھا۔ بعدازاں اُسکا شوہر ایک حادثے میں معذور ہو گیا اور ویلچیئر تک محدود ہوکر رہ گیا۔ آجکل اس نابینا خاتون کو اپنی روزی کمانے کیلئے سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ اسکے علاوہ، وہ گھر کا سارا کام کرتی ہے اور ذاتی طور پر اپنے شوہر کا خیال بھی رکھتی ہے۔ پھربھی گلوریا یہوواہ کی حمد کرتی ہے! اپنے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کی مدد سے وہ بریل بائبل کا مطالعہ کرتی ہے اور اُسے کنگڈم ہال میں مسیحی اجلاسوں سے بہت حوصلہ ملتا ہے۔ وہ کہتی ہے: ”اسکی وضاحت کرنا تو مشکل ہے لیکن نابینا ہونے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مَیں دیکھ سکتی ہوں۔“
بعضاوقات لوگوں کو خدا کی حمد کرنے کی وجہ سے اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ کروشیا میں ایک خاتون خدا کی بابت سیکھ کر بہت خوش تھی لیکن اُسکا شوہر اُسکے نئے ایمان کے خلاف تھا اسلئے اُسے چھوڑ دیا اور اپنی ایک سالہ بیٹی کو ساتھ لے گیا۔ بےخانماں، شوہر اور خاندان کی ٹھکرائی ہوئی، نہ کوئی گھر نہ نوکری حتیٰکہ بچہ بھی چھن جانے پر شروع شروع میں اُسے بہت مایوسی ہوئی۔ لیکن خدا کیلئے اُسکی محبت نے اُسے سنبھالے رکھا اگرچہ اسکی بیٹی کیساتھ اُسے بہت کم ملنے دیا جاتا تھا جبتککہ وہ بچی بڑی نہ ہو گئی۔ اس خاتون نے ”بیشقیمت موتی“ پا لیا تھا اور اُسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔ (متی ۱۳:۴۵، ۴۶) ان مشکل اوقات کے دوران اُس نے اپنی خوشی کو کیسے برقرار رکھا؟ وہ کہتی ہے: ”خوشی خدا کی روح کا پھل ہے۔ اسے بیرونی اثرات کے بغیر بھی پیدا کِیا جا سکتا ہے، جیسےکہ پودے بیرونی موسم سے قطعنظر گرمخانہ میں نشوونما پا سکتے ہیں۔“
فنلینڈ میں، چھ سالہ مارکس کو دورانِتشخیص معلوم ہوا کہ اُسے ایک ناقابلِعلاج عضلاتی مرض لاحق ہے۔ جلد ہی وہ ویلچیئر کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا۔ چند سال بعد، اُسکی والدہ اُسے ایک پینٹیکاسٹل کے پاس لے گئی جو بیمار لوگوں کو شفا دینے کے باعث کافی شہرت رکھتا تھا۔ لیکن کوئی معجزانہ شفا نہ ہوئی۔ لہٰذا مارکس کی خدا میں دلچسپی ختم ہو گئی اور سائنس اور دیگر دُنیاوی شعبہجات کے مطالعے میں مصروف ہو گیا۔ تقریباً پانچ سال پہلے، ویلچیئر پر سوار ایک خاتون ایک جوان شخص کیساتھ اُس گھر پر آئی جہاں مارکس رہتا تھا۔ وہ یہوواہ کے گواہ تھے۔ اب تک مارکس دہریہ بن چکا تھا لیکن مذہب کی بابت گفتگو کرنے پر اُسے کوئی اعتراض نہیں تھا اسلئے اُنہیں اندر بلا لیا۔
بعد میں ایک شادیشُدہ جوڑے نے اُس سے ملاقات کی اور ایک بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔ بالآخر، بائبل سچائی کی طاقت نے مارکس کے نظریے کو بدل دیا اور اُس نے محسوس کِیا کہ اپنی معذوری کے باوجود اُسکے پاس واقعی خدا کی حمد کرنے کی وجوہات تھیں۔ اُس نے کہا: ”مَیں نہایت خوش ہوں کیونکہ مجھے سچائی اور وہ تنظیم مِل گئی ہے جسے یہوواہ استعمال کر رہا ہے۔ اب مَیں نے زندگی میں صحیح راستہ اور مقصد پا لیا ہے۔ ایک اَور کھوئی ہوئی بھیڑ مِل گئی ہے جو یہوواہ کے گلّے کو چھوڑنا نہیں چاہتی!“—مقابلہ کریں متی ۱۰:۶۔
سب ”یاہ کی حمد کرو“
بیشمار تجربات میں سے چند ایک یہ ثابت کرنے کیلئے بیان کئے گئے ہیں کہ آجکل انسانوں کے پاس، اُنکے حالات سے قطعنظر، خدا کی حمد کرنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔ پولس رسول نے اسکی وضاحت اسطرح کی: ”دینداری [”خدائی عقیدت،“ اینڈبلیو] سب باتوں کے لئے فائدہمند ہے اسلئے کہ اب کی اور آیندہ کی زندگی کا وعدہ بھی اسی کیلئے ہے۔“ (۱-تیمتھیس ۴:۸) اگر ہم خدا کی مرضی کو بجا لاتے ہیں تو وہ ”اب کی . . . زندگی کا وعدہ“ پورا کریگا۔ بلاشُبہ، وہ اس نظام میں تو غریبوں کو امیر یا بیماروں کو صحتمند نہیں بنائیگا۔ لیکن وہ اُن لوگوں کو اپنی روح ضرور عطا کرتا ہے جو اُسکی خدمت کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ظاہری صورتحال سے قطعنظر خوشی اور اطمینان حاصل کر سکیں۔ جیہاں، ”اب کی . . . زندگی“ میں بھی بیماروں، مظلوموں اور غریبوں کے پاس خدا کی حمد کرنے کی وجہ ہو سکتی ہے۔
لیکن ”آیندہ“ کی زندگی کی بابت کیا ہے؟ واقعی، اُس کے تو خیال ہی کو ہمیں بڑے جوشوخروش سے خدا کی حمد کرنے کی تحریک دینی چاہئے! ہم اُس وقت کی بابت سوچ کر حیران رہ جاتے ہیں جب غربت کوئی انجانی سی چیز ہوگی؛ جب ”کوئی نہ کہیگا کہ مَیں بیمار ہوں“؛ اور جب یہوواہ خدا ”اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“ (یسعیاہ ۳۳:۲۴؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴؛ زبور ۷۲:۱۶) آپ خدا کے ان وعدوں کو کیسا خیال کرتے ہیں؟
ایل سلواڈور میں ایک جوان آدمی نے ایک بائبل اشتہار لیا جس کے اندر ان میں سے چند ایک باتوں کی وضاحت کی گئی تھی۔ اُس نے اُس گواہ سے کہا جس نے اُسے یہ اشتہار دیا تھا، ”مادام، جو بات یہ اشتہار بیان کرتا ہے اُسکا پورا ہونا بہت مشکل ہے۔“ بہتیرے ایسا ہی جوابیعمل دکھاتے ہیں۔ تاہم، یہ ایسی ہستی کے وعدے ہیں جس نے کائنات کو خلق کِیا، جس نے ہماری زمین کے قدرتی چکروں کو حرکت بخشی اور جو غریب اور بیمار کی بھی خوشی حاصل کرنے کیلئے مدد کرتا ہے۔ جوکچھ وہ فرماتا ہے ہم اُس پر ایمان رکھ سکتے ہیں۔ مذکورہبالا جوان آدمی نے یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ کِیا اور اسے سچ پایا۔ اگر آپ پہلے ہی سے ایسا نہیں کر رہے تو ہم آپ کی ایسا ہی کرنے کیلئے حوصلہافزائی کرتے ہیں۔ لہٰذا، دُعا ہے کہ آپ وہاں ہوں جب یہ موجودہ نظام جاتا رہیگا اور تمام مخلوقات اس نعرے میں شریک ہونگی: ”ہللویاہ!“ ”اَے لوگو، یاہ کی حمد کرو!“—زبور ۱۱۲:۱؛ ۱۳۵:۱، اینڈبلیو۔
[فٹنوٹ]
a بائبل میں، بعضاوقات ”یہوواہ“ کا مخفف ”یاہ“ کِیا گیا ہے۔
[صفحہ 5 پر تصویر]
دُعا ہے کہ جب تمام مخلوق ”ہللویاہ!“ کی پکار میں شریک ہوتی ہے تو آپ وہاں ہوں