مسیح سے قبل شریعت
”آہ! مَیں تیری شریعت سے کیسی محبت رکھتا ہوں۔ مجھے دن بھر اُسی کا دھیان رہتا ہے۔“—زبور ۱۱۹:۹۷۔
۱. اجرامِفلک کی حرکات کو کونسی چیز کنٹرول کرتی ہے؟
ایوب غالباً بچپن ہی سے، ستاروں کو بڑی حیرانی سے دیکھتا تھا۔ ممکن ہے، اُسکے والدین نے ستاروں کے بڑے بڑے جھرمٹوں کے ناموں اور آسمان میں ان جھرمٹوں کی نقلوحرکت کو کنٹرول کرنے والے قوانین کے بارے میں جوکچھ وہ جانتے تھے اُسے سکھایا تھا۔ بہرحال، قدیم وقتوں میں لوگ ان وسیع، ستاروں کے شاندار جھرمٹوں کی مسلسل حرکات کو بدلتے ہوئے موسموں کی نشاندہی کرنے کیلئے استعمال کرتے تھے۔ لیکن اُن دِنوں میں وہ اُنہیں حیرانی سے دیکھا کرتا تھا، ایوب یہ نہیں جانتا تھا کہ کونسی زورآور قوتیں ستاروں کے ان جھرمٹوں کو یکجا رکھتی ہیں۔ لہٰذا، وہ بمشکل ہی جواب دے پایا جب یہوواہ خدا نے اُس سے پوچھا: ”کیا تُو آسمان کے قوانین کو جانتا ہے۔“ (ایوب ۳۸:۳۱-۳۳) جیہاں، ستاروں کو قوانین سے منظم کِیا گیا ہے—ایسے درست اور پیچیدہ قوانین جنہیں آجکل سائنسدان پوری طرح نہیں سمجھتے۔
۲. یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ تمام تخلیق کو قانون کے تابع رکھا گیا ہے؟
۲ یہوواہ کائنات میں سب سے بڑا شریعت عطا کرنے والا ہے۔ اُسکے سب کام قوانین کے پابند ہیں۔ ”تمام مخلوقات سے پہلے مولود،“ اُسکا عزیز بیٹا طبیعی کائنات کے وجود میں آنے سے پیشتر وفاداری سے اپنے باپ کے قوانین کی اطاعت کر رہا تھا! (کلسیوں ۱:۱۵) فرشتے بھی قوانین سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ (زبور ۱۰۳:۲۰) حتیٰکہ جب جانور جبلّی احکام کی تابعداری کرتے ہیں جو اُنکے خالق نے اُنکے اندر مُتعیّن کر دئیے ہیں تو وہ قانون کے تابع ہوتے ہیں۔—امثال ۳۰:۲۴-۲۸؛ یرمیاہ ۸:۷۔
۳. (ا) نوعِانسان کو قوانین کی ضرورت کیوں ہے؟ (ب) یہوواہ نے کس چیز کے ذریعے اسرائیل کی قوم پر حکمرانی کی؟
۳ نوعِانسان کی بابت کیا ہے؟ اگرچہ ہمیں ذہانت، اخلاقیات، اور روحانیت جیسی بخششوں سے نوازا گیا ہے، توبھی ان صلاحیتوں کو استعمال کرنے میں ہمیں رہبری کیلئے کسی حد تک الہٰی شریعت کی ضرورت ہے۔ ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوا، کامل تھے، لہٰذا اُنکی ہدایت کیلئے صرف چند قوانین درکار تھے۔ اپنے آسمانی باپ کیلئے محبت کو اُنہیں خوشی سے فرمانبرداری کرنے کی کافی وجہ فراہم کرنی چاہیے تھی۔ لیکن اُنہوں نے نافرمانی کی۔ (پیدایش ۱:۲۶-۲۸؛ ۲:۱۵-۱۷؛ ۳:۶-۱۹) نتیجتاً، اُنکی اَولاد گنہگار مخلوق تھی جنہیں راہنمائی فراہم کرنے کیلئے اَور زیادہ قوانین کی ضرورت تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہوواہ نے پُرمحبت طریقے سے اس ضرورت کو پورا کِیا۔ اُس نے نوح کو واضح قوانین دئیے جنہیں اُس نے اپنے خاندان تک منتقل کرنا تھا۔ (پیدایش ۹:۱-۷) صدیوں بعد، موسیٰ کے ذریعے، خدا نے اسرائیل کی نئی اُمت کو ایک مفصل، تحریری شریعتی ضابطہ دیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ یہوواہ نے الہٰی شریعت کی معرفت پوری قوم پر حکمرانی کی۔ اُس شریعت کی جانچپڑتال کرنا اُس اہم کردار کو سمجھنے میں ہماری مدد کریگا جو الہٰی شریعت آجکل کے مسیحیوں کی زندگیوں میں ادا کرتی ہے۔
موسوی شریعت—اسکا مقصد
۴. ابرہام کی برگزیدہ نسلوں کیلئے موعودہ نسل کو پیدا کرنا کیوں ایک چیلنج ہوگا؟
۴ شریعت کے ایک تیزفہم طالبعلم، پولس رسول، نے سوال کِیا: ”پس شریعت کیا رہی؟“ (گلتیوں ۳:۱۹) جواب دینے کیلئے ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہوواہ نے اپنے دوست ابرہام سے وعدہ کِیا تھا کہ اُسکا خاندانی سلسلہ ایک نسل پیدا کریگا جو تمام قوموں کیلئے بڑی برکات لائیگی۔ (پیدایش ۲۲:۱۸) لیکن اس میں ایک چیلنج پایا جاتا ہے: ابرہام کی برگزیدہ نسلیں، اسرائیلی، سب کے سب ایسے افراد نہیں تھے جو یہوواہ سے محبت رکھتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثریت ضدی، باغی ثابت ہوئی—بعض تقریباً ناقابلِحکومت تھے! (خروج ۳۲:۹؛ استثنا ۹:۷) ایسے لوگوں کیلئے، خدا کی اُمت میں شامل ہونا محض پیدائش کا معاملہ تھا، نہ کہ انتخاب کا۔
۵. (ا) یہوواہ نے موسوی شریعت کے ذریعے اسرائیلیوں کو کیا سکھایا؟ (ب) شریعت کو اسکے پیروکاروں کے طرزِعمل پر اثرانداز ہونے کیلئے کیسے ترتیب دیا گیا تھا؟
۵ ایسی قوم کیسے موعودہ نسل کو پیدا کر سکتی اور اس سے مستفید ہو سکتی تھی؟ اُنہیں روبوٹس کی طرح کنٹرول کرنے کی بجائے، یہوواہ نے اُنہیں شریعت کے ذریعے تعلیم دی۔ (زبور ۱۱۹:۳۳-۳۵؛ یسعیاہ ۴۸:۱۷) دراصل، ”شریعت“ کے لئے عبرانی لفظ تورا کا مطلب ”تعلیم“ ہے۔ اس نے کیا تعلیم دی؟ بنیادی طور پر اس نے اسرائیلیوں کو مسیحا کے لئے اُن کی ضرورت کی بابت تعلیم دی، جو اُنہیں اُن کی گہنگارانہ حالت سے چھڑائیگا۔ (گلتیوں ۳:۲۴) شریعت نے خدائی خوف اور تابعداری کی تعلیم بھی دی۔ ابرہامی وعدے کی مطابقت میں، اسرائیلیوں کو دیگر تمام اقوام کے لئے یہوواہ کے گواہوں کے طور پر خدمت انجام دینا تھی۔ پس شریعت نے اُنہیں چالچلن یا طرزِعمل سے متعلق ایک بلندپایہ، اعلیٰ ضابطے کی تعلیم دینی تھی جو یہوواہ کی ذات کو خوب جلال دے گا؛ یہ گِردونواح کی اقوام کے بُرے کاموں سے علیٰحدہ رہنے کے لئے اسرائیل کی مدد کریگا۔—احبار ۱۸:۲۴، ۲۵؛ یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲۔
۶. (ا) موسوی شریعت میں تقریباً کتنے قانون تھے اور اسے کیوں زیادہ خیال نہیں کِیا جانا چاہیے؟ (دیکھیں فٹنوٹ۔) (ب) موسوی شریعت کے مطالعے سے ہم کیا سمجھ حاصل کر سکتے ہیں؟
۶ لہٰذا، اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ موسوی شریعت میں بہت سے قوانین—۶۰۰ سے زیادہ تھے۔a اس تحریری ضابطے نے پرستش، حکومت، اخلاقیات، انصاف، حتیٰکہ خوراک اور حفظانِصحت کے حلقوں میں بھی راہنمائی فراہم کی۔ تاہم، کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ شریعت محض سردمہر ضابطوں اور اضافی احکام کا ایک پلندہ تھی؟ ہرگز نہیں! اس شریعتی ضابطے کا مطالعہ یہوواہ کی پُرمحبت شخصیت کے سلسلے میں بصیرت کا خزانہ پیش کرتا ہے۔ چند مثالوں پر غور کریں۔
رحم اور شفقت ظاہر کرنے والی شریعت
۷، ۸. (ا) شریعت نے رحم اور ترس پر کیسے زور دیا؟ (ب) داؤد کے معاملے میں یہوواہ نے کیسے رحمانہ طریقے سے شریعت کا اطلاق کِیا؟
۷ شریعت نے غریب یا بےبس لوگوں کیلئے خاص طور پر رحم اور ترس پر زور دیا۔ تحفظ کے سلسلے میں بیواؤں اور یتیموں پر خاص توجہ دی گئی۔ (خروج ۲۲:۲۲-۲۴) کام کرنے والے جانوروں کو ظلموستم سے تحفظ دیا گیا تھا۔ املاک کے بنیادی حقوق کا احترام کِیا گیا تھا۔ (استثنا ۲۴:۱۰؛ ۲۵:۴) اگرچہ شریعت نے قتل کیلئے سزائےموت کا تقاضا کِیا، تو بھی اس نے حادثاتی قتل کے مقدمات میں رحم کی گنجائش فراہم کی۔ (گنتی ۳۵:۱۱) بدیہی طور پر، خطاکار کے رویے پر انحصار کرتے ہوئے، اسرائیلی قاضیوں کو بعض خطاؤں کیلئے عائدکردہ سزا پر فیصلہ سنانے کی آزادی حاصل تھی۔—مقابلہ کریں خروج ۲۲:۷ اور احبار ۶:۱-۷۔
۸ یہوواہ نے جہاں ضروری تھا وہاں سختی سے لیکن جہاں ممکن تھا وہاں رحم کیساتھ شریعت کا اطلاق کرنے سے قاضیوں کیلئے نمونہ قائم کِیا۔ داؤد بادشاہ کیلئے، جو زناکاری اور قتل کا مُرتکب ہوا تھا، رحم دکھایا گیا تھا۔ اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ سزا سے بچ گیا تھا، کیونکہ یہوواہ نے اُسکے گناہ سے پیداشُدہ خوفناک نتائج سے اُسے نہیں بچایا تھا۔ تاہم، بادشاہتی عہد کی وجہ سے اور چونکہ داؤد فطرتی طور پر رحمدل انسان تھا اور گہرا تائب دلی رجحان رکھتا تھا اسلئے اُسے ہلاک نہیں کِیا گیا تھا۔—۱-سموئیل ۲۴:۴-۷؛ ۲-سموئیل ۷:۱۶؛ زبور ۵۱:۱-۴؛ یعقوب ۲:۱۳۔
۹. محبت نے موسوی شریعت میں کیا کردار ادا کِیا؟
۹ اسکے علاوہ، موسوی شریعت نے محبت پر زور دیا۔ آجکل کی اقوام میں سے کسی ایک کا تصور کریں جو درحقیقت محبت کا تقاضا کرنے والا ضابطۂقانون رکھتی ہے! لہٰذا، موسوی شریعت نے نہ صرف قتل کو ممنوع قرار دیا؛ بلکہ اس نے حکم دیا: ”تُو اپنے ہمسایہ سے اپنی مانند محبت کرنا۔“ (احبار ۱۹:۱۸) اس نے نہ صرف پردیسیوں سے غیرمنصفانہ سلوک سے منع کِیا؛ بلکہ اس نے حکم دیا: ”تُو اُس سے اپنی مانند محبت کرنا اسلئے کہ تُم ملکِمصرؔ میں پردیسی تھے۔“ (احبار ۱۹:۳۴) اس نے نہ صرف زناکاری کو ناجائز قرار دیا؛ بلکہ اس نے شوہر کو اپنی ہی بیوی کو خوش کرنے کا حکم دیا! (استثنا ۲۴:۵) صرف استثنا ہی کی کتاب میں، کوئی ۲۰ مرتبہ محبت کی خوبی کو اُجاگر کرنے والے عبرانی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہوواہ نے اسرائیلیوں کو ماضی، حال، اور مستقبل میں—اپنی محبت کا یقین دلایا۔ (استثنا ۴:۳۷؛ ۷:۱۲-۱۴) درحقیقت، موسوی شریعت کا عظیمترین حکم یہ تھا: ”تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے خداوند اپنے خدا سے محبت رکھ۔“ (استثنا ۶:۵) یسوع نے کہا کہ اپنے پڑوسی سے محبت کرنے کے حکم کیساتھ، ساری شریعت کا دارومدار اسی حکم پر ہے۔ (احبار ۱۹:۱۸؛ متی ۲۲:۳۷-۴۰) کوئی تعجب نہیں کہ زبورنویس نے لکھا: ”مَیں تیری شریعت سے کیسی محبت رکھتا ہوں۔ مجھے دن بھر اُسی کا دھیان رہتا ہے۔“—زبور ۱۱۹:۹۷۔
شریعت کا غلط استعمال
۱۰. یہودیوں نے، موسوی شریعت کو زیادہتر کیسا خیال کِیا؟
۱۰ تاہم، کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسرائیل میں بڑی حد تک موسوی شریعت کیلئے قدردانی کی کمی تھی! لوگوں نے شریعت کی نافرمانی کی، اسے نظرانداز کِیا، یا اسے فراموش کر دیا۔ اُنہوں نے دیگر اقوام کی نفرتانگیز مذہبی رسومات سے خالص پرستش کو آلودہ کِیا۔ (۲-سلاطین ۱۷:۱۶، ۱۷؛ زبور ۱۰۶:۱۳، ۳۵-۳۸) اور اُنہوں نے دیگر طریقوں سے بھی شریعت کیساتھ غداری کی۔
۱۱، ۱۲. (ا) عزرا کے ایّام کے بعد مذہبی پیشواؤں کے گروہوں نے کیسے نقصان پہنچایا؟ (بکس دیکھیں ۔) (ب) قدیم ربّیوں نے ”شریعت کے گِرد باڑ لگانا“ کیوں ضروری محسوس کِیا؟
۱۱ شریعت کو شدید نقصان پہنچانے والے وہی لوگ تھے جو اسکی تعلیم دینے اور اُسے محفوظ رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ یہ پانچویں صدی ق.س.ع. کے وفادار فقیہ عزرا کے زمانے کے بعد واقع ہوا۔ عزرا نے دیگر اقوام کے بگاڑنے والے اثرات کیخلاف سخت جدوجہد کی اور شریعت کی پڑھائی اور تعلیم پر زور دیا۔ (عزرا ۷:۱۰؛ نحمیاہ ۸:۵-۸) شریعت کے بعض مُعلمین نے عزرا کے نقشِقدم پر چلنے کا دعویٰ کِیا اور ایک ایسی چیز کو تشکیل دیا جو ”مجلسِاعظم“ کہلائی۔ اسکے فرمودات میں سے ایک ہدایت یہ تھی: ”شریعت کے گِرد باڑ لگاؤ۔“ ان مُعلمین نے دلیل پیش کی کہ شریعت ایک گراںبہا باغ کی مانند تھی۔ تاکہ کوئی شخص اس کے قوانین کی خلافورزی کرنے سے اس باغ میں بیجا مداخلت نہ کرے اس غرض سے، اُنہوں نے لوگوں کو ایسی غلطی کے قریب آنے سے بھی روکنے کیلئے مزید قوانین، ”زبانی شریعت،“ کو تشکیل دیا۔
۱۲ بعض شاید استدلال کریں کہ یہودی پیشوا اسطرح محسوس کرنے میں حقبجانب تھے۔ عزرا کے زمانہ کے بعد یہودی غیرقوم طاقتوں، بالخصوص یونان، کے زِیرتسلط آ گئے۔ یونانی فیلسوفی اور ثقافت کے اثر کے خلاف جدوجہد کرنے کیلئے، یہودیوں میں سے مذہبی پیشواؤں کے گروہ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ (دیکھیں بکس، صفحہ ۱۸۔) کچھ وقت گزرنے کے بعد ان گروہوں میں سے بعض شریعت کے مُعلمین کے طور پر برابری کا دعویٰ کرنے لگے اور لاوی کہانت پر بھی سبقت لے گئے۔ (مقابلہ کریں ملاکی ۲:۷۔) ۲۰۰ ق.س.ع. تک، زبانی شریعت یہودی زندگی میں سرایت کر رہی تھی۔ شروع میں تو ان قوانین کو لکھا نہیں گیا تھا تاکہ انہیں تحریری شریعت کے مساوی نہ سمجھ لیا جائے۔ لیکن آہستہآہستہ، انسانی سوچ کو الہٰی سوچ پر فوقیت دی جانے لگی، یوں بالآخر اس ”باڑ“ نے درحقیقت اُسی ”باغ“ کو نقصان پہنچایا جسکی اسے حفاظت کرنی چاہیے تھی۔
فریسیت کی آلودگی
۱۳. بعض یہودی مذہبی پیشواؤں نے بہت سے قوانین بنانے کی توجیہ کیسے پیش کی؟
۱۳ ربّیوں نے دلیل پیش کی کہ چونکہ توریت، یا موسوی شریعت، کامل تھی، اس لئے اس کے اندر ہر اس سوال کا جواب ہونا چاہیے جو اُٹھ سکتا ہے۔ یہ نظریہ حقیقت میں مؤدبانہ نہیں تھا۔ درحقیقت، اس چیز نے ربّیوں پر یہ ظاہر کرتے ہوئے عیارانہ انسانی استدلال کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی کہ خدا کا کلام تمام طرح کے مسائل—کچھ ذاتی، دیگر محض غیراہم—میں اصولوں کی بنیاد تھا۔
۱۴. (ا) یہودی مذہبی پیشواؤں نے غیرقوموں سے علیٰحدہ رہنے کے صحیفائی نظریے کو غیرصحیفائی انتہا تک کیسے پہنچا دیا؟ (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ ربّیوں کے قانون یہودی اُمت کو مُلحدانہ اثرات سے بچانے میں ناکام ہو گئے تھے؟
۱۴ مذہبی پیشواؤں نے بارہا صحیفائی اصولوں کو لیا اور اُنہیں انتہا تک پہنچا دیا۔ مثال کے طور پر، موسوی شریعت نے غیرقوموں سے علیٰحدگی کی تائید کی تھی مگر ربّی ہر غیریہودی چیز کے لئے ایک قسم کی نامعقول نفرت کی تعلیم دیتے تھے۔ اُنہوں نے سکھایا کہ ایک یہودی کو تو اپنا جانور بھی کسی غیریہودی کے باڑے میں نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ غیریہودی ”جانوروں سے جنسی صحبت کرنے والے خیال کئے جاتے تھے۔“ یہودی عورت کو کسی غیریہودی عورت کو بچے کی پیدائش میں مدد دینے کی اجازت بھی نہیں تھی کیونکہ اسطرح وہ ”بُتپرستی کیلئے ایک بچے کو پیدا کرنے میں مدد دے رہی“ ہوگی۔ چونکہ وہ موزوں طور پر یونانی ورزشگاہوں کے سلسلے میں شک کرتے تھے، اسلئے ربّیوں نے تمام کسرتی ورزشوں کو ممنوع قرار دیا۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ اس تمامتر کوشش نے یہودیوں کو غیریہودی اعتقادات سے محفوظ رکھنے کیلئے بہت کم مدد کی۔ دراصل، فریسی خود جان کے غیرفانی ہونے کے مُلحدانہ یونانی عقیدے کی تعلیم دینے لگے تھے!—حزقیایل ۱۸:۴۔
۱۵. یہودی مذہبی پیشواؤں نے طہارت اور محرمات سے مباشرت کی بابت قوانین کو کیسے بگاڑ دیا تھا؟
۱۵ فریسیوں نے طہارت کے قوانین کو بھی بگاڑ دیا۔ یہ کہا جاتا تھا کہ اگر موقع ملے تو فریسی خود سورج کو بھی صاف کر دینگے۔ اُنکے قانون نے یہ نظریہ پیش کِیا کہ ”رفعحاجت کیلئے جانے“ میں تاخیر بھی آدمی کو ناپاک کر دیگی! ضابطوں کیساتھ ہاتھ دھونا ایک پیچیدہ مذہبی رسم بن گئی کہ کونسا ہاتھ پہلے اور کیسے دھونا چاہیے۔ عورتوں کو خاص طور پر نجس خیال کِیا جاتا تھا۔ کسی بھی جسمانی رشتہدار ”کے پاس . . . نہ جائے“ کے صحیفائی حکم (درحقیقت محرمات کے ساتھ مباشرت کے خلاف ایک قانون) کی بنیاد پر ربّیوں نے ایک اصول وضع کر دیا کہ شوہر کو اپنی بیوی کے پیچھے نہیں چلنا تھا؛ نہ ہی اُسے بازار میں اُسکے ساتھ باتچیت کرنی چاہیے۔—احبار ۱۸:۶۔
۱۶، ۱۷. زبانی شریعت نے ہفتہوار سبت منانے کے حکم میں کیسے اضافہ کر دیا، اور کس نتیجے کیساتھ؟
۱۶ زبانی شریعت نے سبت کے قانون کا جو روحانی تمسخر اُڑایا وہ بالخصوص رسواکُن ہے۔ خدا نے اسرائیل کو ایک سادہ سا حکم دیا تھا: ہفتے کے ساتویں دن کوئی کام نہ کرنا۔ (خروج ۲۰:۸-۱۱) تاہم، زبانی شریعت نے ممنوع کام کی کوئی ۳۹ مختلف اقسام کا اضافہ کر دیا جس میں گِرہ لگانا یا کھولنا، دو ٹانکے لگانا، عبرانی کے دو حرف لکھنا، اور اسی طرح کے دیگر کام شامل تھے۔ پھر ان اقسام میں سے ہر ایک غیرمختتم اصولوں کا مزید تقاضا کرتی تھی۔ کونسی گِرہیں ممنوع تھیں اور کونسی ممنوع نہیں تھیں؟ زبانی شریعت نے منمانے ضوابط سے ان کا جواب دیا۔ شفا دینا بھی ممنوع خیال کِیا جانے لگا۔ مثال کے طور پر، سبت کے دن ٹوٹا ہوا ہاتھپیر جوڑنا منع تھا۔ دانت کے درد میں مبتلا ایک شخص اپنے کھانے میں ذائقے کی خاطر سرکہ ملا سکتا تھا مگر اسے اپنے دانتوں سے سرکہ چوسنا نہیں چاہیے تھا۔ ہو سکتا ہے اُس سے اسکا دانت ٹھیک ہو جائے!
۱۷ لہٰذا سینکڑوں انسانساختہ قوانین کی وجہ سے، زیادہتر یہودیوں کے سلسلے میں سبت کا قانون اپنے روحانی مفہوم کو کھو بیٹھا تھا۔ جب ”سبت کے مالک“ یسوع مسیح نے سبت پر قابلِدید، دل کو گرما دینے والے معجزات سرانجام دیئے تو فقیہوں اور فریسیوں پر اسکا کوئی اثر نہ ہوا۔ اُنہیں صرف اسی بات کی فکر تھی کہ وہ اُنکے ضابطوں کو نظرانداز کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔—متی ۱۲:۸، ۱۰-۱۴۔
فریسیوں کی حماقت سے سبق سیکھنا
۱۸. زبانی قوانین اور روایات میں اضافے کا موسوی شریعت پر کیا اثر ہوا؟ مثال دیں۔
۱۸ مختصراً، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اضافی قوانین اور روایات موسوی شریعت کیساتھ ایسے چمٹ گئی تھیں جیسے صدفی مچھلیاں بحری جہاز کے پیندے سے چپک جاتی ہیں۔ جہاز کا مالک ان تکلیفدہ جانداروں کو اپنے جہاز سے کھرچ کر اُتارنے کیلئے بڑی کوششیں کرتا ہے کیونکہ یہ جہاز کی رفتار کو کم کرتی اور زنگ سے محفوظ رکھنے والے اسکے رنگ کو خراب کر دیتی ہیں۔ اسی طرح، زبانی قوانین اور روایات نے شریعت کو زیربار کر لیا اور اسے آہستہ آہستہ ختم کر دینے والے غلط استعمال کے خطرے میں ڈال دیا۔ تاہم، ایسے غیرضروری قوانین کو کھرچ کر اُتارنے کی بجائے، ربّی مزید اضافہ کرتے گئے۔ شریعت کو پورا کرنے کیلئے مسیحا کی آمد کے وقت تک، ”جہاز“ کی تہہ ”صدفی مچھلیوں“ سے اسقدر بھری پڑی تھی کہ یہ بڑی مشکل سے تیر رہا تھا! (مقابلہ کریں امثال ۱۶:۲۵۔) شریعتی عہد کی حفاظت کرنے کی بجائے، یہ مذہبی پیشوا اسکی خلافورزی کرنے کی حماقت کے مُرتکب ہوئے۔ تاہم، اُنکے اصولوں کی ”باڑ“ کیوں ناکام ہو گئی؟
۱۹. (ا) ”شریعت کے گِرد باڑ“ کیوں ناکام ہو گئی؟ (ب) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ یہودی مذہبی پیشواؤں میں خالص ایمان کی کمی تھی؟
۱۹ یہودیت کے پیشوا یہ سمجھنے میں ناکام ہو گئے کہ موروثی بگاڑ کیخلاف جنگ شریعتی کُتب کے صفحات پر نہیں بلکہ دل میں لڑی جاتی ہے۔ (یرمیاہ ۴:۱۴) فتح کی کُنجی محبت ہے—یہوواہ، اُس کی شریعت اور اُس کے راست اصولوں کیلئے محبت۔ ایسی محبت جس چیز سے یہوواہ نفرت کرتا ہے اُسکے مساوی نفرت پیدا کرتی ہے۔ (زبور ۹۷:۱۰؛ ۱۱۹:۱۰۴) لہٰذا وہ جنکے دل محبت سے معمور ہیں اس بدعنوان دُنیا میں یہوواہ کے قوانین کے وفادار رہتے ہیں۔ یہودی مذہبی پیشواؤں کو ایسی محبت کو فروغ دینے اور پیدا کرنے کیلئے لوگوں کو تعلیم دینے کا یہ عظیم شرف حاصل تھا۔ وہ ایسا کرنے میں کیوں ناکام رہے تھے؟ بدیہی طور پر، اُن میں ایمان کی کمی تھی۔ (متی ۲۳:۲۳ فٹ نوٹ) اگر وہ وفادار انسانوں کے دلوں میں یہوواہ کی روح کے کارفرما ہونے کی طاقت پر ایمان رکھتے تو اُنہیں دوسروں کی زندگیوں پر اختیار رکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ (یسعیاہ ۵۹:۱؛ حزقیایل ۳۴:۴) ایمان کی کمی کے باعث، اُنہوں نے ایمان ظاہر نہ کِیا؛ اُنہوں نے لوگوں پر انسانساختہ احکام کا بوجھ ڈال دیا۔—متی ۱۵:۳، ۹؛ ۲۳:۴۔
۲۰، ۲۱. (ا) مجموعی طور پر روایت پر مبنی سوچ کا یہودیت پر کیا اثر ہوا؟ (ب) یہودیت کیساتھ جوکچھ واقع ہوا اُس سے ہم کیا سبق سیکھتے ہیں؟
۲۰ اُن یہودی پیشواؤں نے محبت کو فروغ نہ دیا۔ اُنکی روایات نے ایک ایسے مذہب کو جنم دیا جو سطحی معیاروں، ظاہرداری کی خاطر غیرشعوری اطاعت—ریاکاری کیلئے زرخیز زمین سے مغلوب تھا۔ (متی ۲۳:۲۵-۲۸) اُنکے ضابطوں نے دوسروں کی عیبجوئی کرنے کی بیشمار وجوہات فراہم کیں۔ لہٰذا متکبر، حاکمانہ، فریسیوں نے یسوع مسیح پر تنقید کرنے میں خود کو درست محسوس کِیا۔ اُنہوں نے شریعت کے بنیادی مقصد کو ذہن سے نکال دیا اور واحد سچے مسیحا کو رد کر دیا۔ نتیجتاً، اُسے یہودی قوم کو بتانا پڑا: ”دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“—متی ۲۳:۳۸؛ گلتیوں ۳:۲۳، ۲۴۔
۲۱ ہمارے لئے کیا سبق ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ ایک سخت، روایت پر مبنی سوچ یہوواہ کی خالص پرستش کو فروغ نہیں دیتی! لیکن کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ آجکل یہوواہ کے پرستاروں کو قوانین رکھنے کی بالکل کوئی ضرورت نہیں ہے جبتککہ یہ پاک صحائف میں بیان نہ کئے گئے ہوں؟ نہیں۔ ایک مکمل جواب کیلئے، آئیے آگے دیکھیں کہ کیسے یسوع مسیح نے موسوی شریعت کو ایک نئی اور بہترین شریعت سے بدل دیا۔ (۱۸ ۰۹/۰۱ w۹۶)
[فٹنوٹ]
a بیشک، یہ جدید اقوام کے قانونی نظاموں کے مقابلے میں پھربھی تعداد میں بہت کم ہے۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۰ کے دہے کے اوائل میں، ریاستہائےمتحدہ کے وفاقی قوانین نے ۱۲۵،۰۰۰ سے زیادہ صفحات بھر دیئے جبکہ ہر سال نئے قوانین میں اضافہ کِیا جا رہا ہے
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ تمامتر تخلیق الہٰی قانون کے تابع کیسے ہے؟
▫ موسوی شریعت کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
▫ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ موسوی شریعتنے رحم اور ترس پر زور دیا تھا؟
▫ یہودی مذہبی پیشواؤں نے موسوی شریعت میں بیشمار قوانین کا اضافہ کیوں کر دیا تھا، اور کس نتیجے کیساتھ؟
[بکس]
یہودی مذہبی پیشوا
فقیہ: وہ خود کو عزرا کے جانشین اور شرع کے مفسر سمجھتے تھے۔ کتاب ہسڑی آف دی جیوز کے مطابق، ”تمام فقیہ عالیظرف انسان نہیں تھے، اور شریعت کے پوشیدہ معنوں کو نمایاں کرنے کی اُنکی کاوشیں اکثر بےمعنی فارمولوں اور احمقانہ پابندیوں کی بگڑی ہوئی شکل اختیار کر گئیں۔ یہ پُختہ رسمورواج میں ڈھل گئیں، جو جلد ہی ایک ظالم حکمران بن گیا۔“
خسیدیم: اس نام کا مطلب ہے ”پارسا اشخاص“ یا ”مُقدسین۔“ پہلی مرتبہ انکا ذکر ۲۰۰ ق.س.ع. میں، ایک جماعت کے طور پر آیا جو سیاسی لحاظ سے زورآور، یونانی اثر کے ظلموستم کیخلاف شریعت کی پاکیزگی کے جنونی حمایتی تھے۔ خسیدیم تین گروہوں میں منقسم ہو گئے: فریسی، صدوقی، اور اسینی۔
فریسی: بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ نام ”علیٰحدہ کئے گئے اشخاص،“ یا ”علیٰحدگی پسندوں“ کیلئے الفاظ سے مشتق ہے۔ وہ غیریہودیوں سے علیٰحدہ ہونے کیلئے اپنی کوشش میں واقعی جنونی تھے، لیکن وہ اپنی برادری کو اُن عام یہودی لوگوں سے علیٰحدہ—اور برتر—بھی سمجھتے تھے جو زبانی شریعت کی پیچیدگیوں کی بابت لاعلم تھے۔ ایک مؤرخ نے فریسیوں کی بابت کہا: ”عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ اُنہوں نے رسمی تقریبات کی چھوٹیچھوٹی باتوں کو ترتیب دیتے ہوئے اور معنی بیان کرتے ہوئے لوگوں کیساتھ بچوں جیسا سلوک کِیا۔“ ایک اَور عالم نے کہا: ”فریسیت تمام صورتحالات کا احاطہ کرنے والے قانونی اصولوں کی بڑی تعداد کو وجود میں لائی، اس ناگزیر نتیجے کیساتھ کہ اُنہوں نے معمولی باتوں کو سراہا اور ایسا کرنے سے نہایت اہم باتوں کو ناچیز جانا (متی ۲۳:۲۳)۔“
صدوقی: ایک گروہ جو امراء کے طبقے اور کہانت سے قریبی تعلق رکھتا تھا۔ اُنہوں نے اس بات پر فقیہوں اور فریسیوں کی سخت مخالفت کی کہ زبانی شریعت کو تحریری شریعت جیسی قانونی حیثیت حاصل نہیں۔ اُنکا اس کشمکش میں ہار جانا خود مِشنہ سے ظاہر کِیا گیا ہے: ”[تحریری] شریعت کی باتوں [کی پابندی] کرنے کی نسبت فقیہوں کی باتوں [کی پابندی] کرنے کی زیادہ تاکید کی جاتی ہے۔“ تالمو نے، جس میں زبانی شریعت پر زیادہ تفسیر شامل ہے، بعد میں یہ کہا: ”فقیہوں کی باتیں . . . توریت کی باتوں سے زیادہ بیشقیمت ہیں۔“
اسینی: تارکاُلدنیا لوگوں کا ایک گروہ جس نے الگتھلگ آبادیوں میں خود کو گوشہنشین کر لیا تھا۔ دی انٹرپریٹرز ڈکشنری آف دی بائبل کے مطابق، اسینی فریسیوں سے بھی زیادہ محدود تھے اور ”بعضاوقات تو خود فریسیوں سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جاتے تھے۔“