جس وجہ سے اُس نے عظیمترین نام استعمال کِیا
”مجھ پر تنقید کرنے والوں میں سے ایک کے مطابق مَیں نے لفظ ’یہوؔواہ‘ کو ’خداوند‘ کی بجائے جو صدیوں سے اس کا عام مماثل رہا ہے درج کرنے سے گناہ کِیا ہے۔“
یہ ۱۸۶۴ میں پہلی مرتبہ شائع ہونے والے زبور کی کتاب کے اپنے ترجمے کے دوسرے ایڈیشن کے دیباچہ میں جے.جے.سٹیواؔرٹ پراؤن کا بیان تھا۔ نقاد نے، جولائی ۲، ۱۸۶۴ کے سیچرڈے ریویو میں تحریر کرتے ہوئے، ترجمے میں خدا کے نام کے استعمال پر اعتراض کِیا، کیونکہ اب یہ نہ تو یہودی اور نہ ہی مسیحی کلیسیاؤں میں استعمال ہوتا تھا۔ اُس نے دعویٰ کِیا کہ نام یہوؔواہ یہودیوں سے بہت زیادہ وابستگی رکھتا ہے اور اس لئے کوئی دوسرا لفظ استعمال کِیا جانا چاہئے، جیسےکہ ”خداوند“ یا ”خدا“ ”جس کے ساتھ کوئی مقامی یا قومی تعلق نہیں ہے۔“
پراؔؤن ان دلائل سے متفق نہیں تھا، کیونکہ وہ انسان کیلئے خدا کے الہام سے ”ایک بھی لفظ مٹانا نہیں چاہتا“ تھا۔ اُس نے درست طور پر دلیل پیش کی کہ وہ مترجمین جو عبرانی الہٰی نام کا ترجمہ ”خداوند“ کرتے ہیں درحقیقت دو عبرانی الفاظ کے درمیان امتیاز کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔
مزیدبرآں، پراؤن نے بڑے وثوق سے کہا کہ ایسے لائق علماء تھے جنہوں نے الہٰی نام کی بحالی کی حمایت کی۔ اُس نے مشہور انگریزی شاعر سموئیلؔ ٹیلر کولیرج کا حوالہ دیا:
”ہفتادی ترجمے کے ذریعے عبرانی کا انگریزی میں دوسرے درجے کا ترجمہ کیوں کرتے رہیں؟ کیا ہم نے عبرانی لفظ یہوؔواہ کو نہیں اپنایا ہے؟ کیا ہفتادی ترجمے کاΚύριος، یا خداوند نہیں ہے جو کہ بیشمار جگہوں پر عبرانی یہوؔواہ کا یونانی متبادل ہے؟ لہٰذا، اصلی لفظ کو بحال کیوں نہیں کر دیتے؛ اور فرضشناسی سے عہدِعتیق میں یہوؔواہ کا ترجمہ یہوؔواہ ہی کریں؛ اور عہدِعتیق کا حوالہ دینے والی عہدِجدید کی ہر آیت میں وہی عبرانی لفظ پیش کریں جو حوالہشُدہ آیت میں ملتا ہے؟“
پراؔؤن نے تسلیم کِیا کہ عبرانی چوحرفی لفظ کا تلفظ ناپید ہو چکا ہے، لیکن اُس نے رائے پیش کی: ”اگر محض چھوٹی چھوٹی ضعیفالاعتقاد باتوں کی وجہ سے یہ نام یہودی جماعت سے خارج ہو گیا، اور اگر یونانی یا لاطینی ترجموں کی ہوبہو نقل کرنے کی وجہ سے ہمارے اپنے [انگریزی] کے ترجمہ سے لفظ خارج ہو گیا تو اصلی استعمال کی طرف لوٹنے کے خلاف یہ غیرموثر وجوہات ہیں۔“ پراؤن نے تلفظ ”یہوؔواہ“ کی حمایت کی کیونکہ یہ زیادہ مقبول تھا۔ اُس وقت سے لیکر چند ایک جدید ترجموں نے بھی الہٰی نام کو استعمال کِیا ہے۔ نیو ورلڈ ٹرانسلیشن آف دی ہولی سکرپچرز عبرانی اور مسیحی یونانی صحائف دونوں میں ۷،۲۰۰ سے زیادہ مرتبہ نام یہوؔواہ استعمال کرتا ہے۔
مزامیر کے اپنے ترجمے میں، پراؤن نے ”اسکے محاوراتی اور جملوں کی صرفونحو کی ترتیب دونوں میں، اسکے عبرانی تلفظ کے زیادہ سے زیادہ قریب“ رہنے کی کوشش کی۔ زبور ۶۹، ۵ اور ۶ آیات کا ترجمہ کرتے وقت اُس نے ”خدا“ (ایلوہیم)، ”خداوند“ (ادونائی)، اور ”یہوؔواہ“ کیلئے عبرانی الفاظ کے درمیان امتیاز کرنے کی ضرورت کو محسوس کِیا: ”اَے خدا [ایلوہیم]! تُو میری حماقت سے واقف ہے اور میرے گناہ تجھ سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ اَے خداوند [ادونائی] لشکروں کے یہوؔواہ (خدا)! تیری آس رکھنے والے میرے سبب سے شرمندہ نہ ہوں۔ اَے اسرائیل کے خدا! تیرے طالب میرے سبب سے رُسوانہ ہوں۔“ (۳۱ ۰۴/۱۵ w۹۶)