یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏12 ص.‏ 19-‏23
  • ‏”‏کجرو نسل“‏ سے بچائے گئے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏کجرو نسل“‏ سے بچائے گئے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ‏”‏خاتمہ“‏—‏کب؟‏
  • ‏”‏یہ نسل“‏—‏یہ کیا ہے؟‏
  • ‏”‏یہ کجرو نسل“‏
  • ‏”‏اس نسل“‏ کی شناخت
  • جاگتے رہنے کا وقت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • یسوع مسیح کے ”‏آنے“‏ سے کیا مُراد ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2008ء
  • ‏”‏ان باتوں کا واقع ہونا ضرور ہے“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • اِس دُنیا کا خاتمہ قریب ہے
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2018ء)‏
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏12 ص.‏ 19-‏23

‏”‏کجرو نسل“‏ سے بچائے گئے

‏”‏اے بے‌اعتقاد اور کجرو قوم مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہونگا اور تمہاری برداشت کرونگا؟—‏لوقا ۹:‏۴۱‏۔‏

۱.‏ (‏ا)‏ ہمارے مصیبت‌انگیز ایّام کیا آگاہی دیتے ہیں؟ (‏ب)‏ بچنے والوں کی بابت صحائف کیا کہتے ہیں؟‏

ہم مصیبت‌انگیز ایّام میں رہتے ہیں۔ بھونچال، سیلاب، کال، بیماری، لاقانونیت، بمباری، دہشتناک جنگیں—‏ان اور دیگر مصائب نے ہماری ۲۰ ویں صدی کے دوران بنی‌نوع‌انسان کو گھیر رکھا ہے۔ تاہم، ان سب سے بڑی مصیبت کا مستقبل قریب میں خطرہ ہے۔ وہ کیا ہے؟ یہ ”‏ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۲۱‏)‏ تاہم، ہم میں سے بہتیرے شاید ایک خوش‌آئند مستقبل کے متمنی ہوں!‏ کیوں؟ اس لئے کہ خدا کا اپنا کلام بیان کرتا ہے کہ ”‏ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِ‌زبان کی ایک .‏ .‏ .‏ بڑی بھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا .‏ .‏ .‏ یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں .‏ .‏ .‏ اسکے بعد نہ کبھی اُنکو بھوک لگے گی نہ پیاس .‏ .‏ .‏ اور خدا اُنکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔“‏—‏مکاشفہ ۷:‏۱،‏ ۹،‏ ۱۴-‏۱۷‏۔‏

۲.‏ متی ۲۴،‏ مرقس ۱۳‏، اور لوقا ۲۱ کی پہلی آیات کی کونسی ابتدائی نبوّتی تکمیل ہوئی تھی؟‏

۲ متی ۲۴:‏۳-‏۲۲،‏ مرقس ۱۳:‏۳-‏۲۰‏، اور لوقا ۲۱:‏۷-‏۲۴ کا الہامی ریکارڈ یسوؔع کے ”‏دُنیا کے آخر ہونے“‏ کے نبوّتی بیان کو متعارف کراتا ہے۔‏a اس پیشینگوئی کی ابتدائی تکمیل ہمارے سنِ‌عام کی پہلی صدی کے بدکار یہودی نظام‌العمل پر ہوئی، جسکا اختتام یہودیوں پر ایک بینظیر ”‏بڑی مصیبت“‏ کیساتھ ہوا۔ یہودی نظام کے مذہبی اور سیاسی ڈھانچے کا مرکز یرؔوشلیم کی ہیکل، کو پھر دوبارہ کبھی نہ بحال کئے جانے کیلئے، تباہ‌وبرباد کر دیا گیا۔‏

۳.‏ یہ کیوں اشد ضروری ہے کہ ہم آجکل یسوؔع کی پیشینگوئی پر دھیان دیں؟‏

۳ آیئے اب ہم اُن حالات کا جائزہ لیں جنہوں نے یسوؔع کی پیشینگوئی کی پہلی تکمیل کا احاطہ کیا۔ آجکل یہ ہمیں اس کی متوازی تکمیل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیگا۔ یہ ہم پر ظاہر کریگا کہ اُس سب سے بڑی مصیبت میں سے بچنے کیلئے جس کا تمام نوعِ‌انسانی کو خطرہ لاحق ہے، اس وقت مثبت کارروائی کرنا کسقدر ضروری ہے۔—‏رومیوں ۱۰:‏۹-‏۱۳؛‏ ۱۵:‏۴؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱؛‏ ۱۵:‏۵۸‏۔‏

‏”‏خاتمہ“‏—‏کب؟‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ پہلی صدی س.‏ع.‏ کے خداترس یہودی دانی‌ایل ۹:‏۲۴-‏۲۷ کی پیشینگوئی میں کیوں دلچسپی رکھتے تھے؟ (‏ب)‏ اس پیشینگوئی کی تکمیل کیسے ہوئی تھی؟‏

۴ تقریباً ۵۳۹ ق.‏س.‏ع.‏ میں، خدا کے نبی دانیؔ‌ایل کو اُن واقعات کی رویا دی گئی تھی جوکہ سالوں کے ”‏ستر ہفتوں“‏ کی مدت کے آخری ”‏ہفتہ“‏ کے دوران وقوع‌پذیر ہونگے۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۴-‏۲۷‏)‏ یہ ”‏ہفتے“‏ ۴۵۵ ق.‏س.‏ع.‏ میں شروع ہوئے جب فاؔرس کے بادشاہ ارتخششتاؔ نے یرؔوشلیم کے شہر کی دوبارہ تعمیر کا حکم صادر کِیا۔ آخری ”‏ہفتہ“‏ مسیحا، یسوؔع مسیح، کے ظہور کیساتھ، ۲۹ س.‏ع.‏ میں اُسکے بپتسمے اور مسح کئے جانے کیساتھ شروع ہوا۔‏b پہلی صدی س.‏ع.‏ کے خداترس یہودی، دانیؔ‌ایل کی پیشینگوئی کی اس وقتی مدت کے پہلو سے بخوبی واقف تھے۔ مثال کے طور پر، اُن ازدحام کی بابت جو یوؔحنا بپتسمہ دینے والے کی منادی کو سننے کیلئے ۲۹ س.‏ع.‏ میں اکٹھے جمع ہوتے تھے، لوقا ۳:‏۱۵ بیان کرتی ہے:‏ ”‏جب لوگ منتظر تھے اور سب اپنے اپنے دل میں یوؔحنا کی بابت سوچتے تھے کہ آیا وہ مسیح ہے یا نہیں۔“‏

۵ سترواں ”‏ہفتہ“‏ یہودیوں کے لئے دکھائی گئی خاص کرم‌فرمائی کے سات برسوں پر مشتمل ہونا تھا۔ ۲۹ س.‏ع.‏ سے شروع کرکے، اس میں یسوؔع کا بپتسمہ اور خدمتگزاری، ”‏ہفتہ کے نصف پر“‏ ۳۳ س.‏ع.‏ میں اُس کی قربانی کی موت، اور ۳۶ س.‏ع.‏ تک ایک اَور ”‏نصف ہفتہ“‏ شامل تھا۔ اس ”‏ہفتے“‏ کے دوران، یسوؔع کے مسح‌شُدہ شاگرد بننے کا موقع صرف خداترس یہودیوں اور یہودی نومریدوں کو ہی پیش کِیا گیا تھا۔ اس کے بعد ۷۰ س.‏ع.‏ میں یعنی ایک ایسی تاریخ کو جس کی پہلے سے خبر نہیں تھی، رومی فوجوں نے ٹائٹسؔ کی زیرِکمان برگشتہ یہودی نظام کا قلع‌قمع کر دِیا۔—‏دانی‌ایل ۹:‏۲۶، ۲۷‏۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ وہ ”‏مصیبت“‏ کس قدر تباہ‌کُن تھی جو ۶۶ س.‏ع.‏ میں شروع ہوئی؟ (‏ب)‏ کون بچ گئے، اور کس فوری کارروائی کی بدولت؟‏

۶ یوں یہودی کہانت، جس نے یرؔوشلیم کی ہیکل کو ناپاک کر دِیا تھا اور خدا کے اپنے بیٹے، کے قتل کی سازش میں ملوث تھی، ختم کر دی گئی۔ اسکے ساتھ ہی قومی اور قبائلی دستاویزات بھی ختم ہو گئیں، اسکے بعد، کوئی بھی یہودی قانونی طور پر کاہن سے متعلق یا شاہانہ وراثت کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم، خوشی کی بات ہے کہ مسح‌شُدہ روحانی یہودیوں کو شاہی کاہنوں کے طور پر الگ کر لیا گیا ہے تاکہ یہوؔواہ خدا کی ”‏خوبیاں ظاہر کریں۔“‏ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۹‏)‏ جب رومی فوج نے پہلی مرتبہ یرؔوشلیم کا محاصرہ کِیا اور ۶۶ س.‏ع.‏ میں ہیکل کی حدود کو کھوکھلا کر دیا تو مسیحیوں نے عسکری قوتوں کو بطور ”‏اُس اُجاڑنے والی مکروہ چیز کو جس کا ذکر دانیؔ‌ایل نبی کی معرفت ہوا، مُقدس مقام میں کھڑے ہوئے“‏ پہچان لیا۔ یسوؔع کے نبوّتی حکم کی تعمیل میں، یرؔوشلیم اور یہوؔدیہ کے مسیحی بچاؤ کیلئے پہاڑی علاقوں کو بھاگ گئے۔—‏متی ۲۴:‏۱۵، ۱۶؛‏ لوقا ۲۱:‏۲۰، ۲۱‏۔‏

۷، ۸.‏ مسیحیوں نے کونسے ”‏نشان“‏ کو یاد رکھا لیکن وہ کیا نہیں جانتے تھے؟‏

۷ اُن وفادار یہودی مسیحیوں نے دانیؔ‌ایل کی پیشینگوئی کی تکمیل کو دیکھا اور وہ اُن افسوسناک جنگوں، قحط‌سالیوں، وباؤں، بھونچالوں اور لاقانونیت کے عینی‌شاہد تھے جنکا یسوؔع نے ”‏دُنیا کے آخر ہونے کے نشان“‏ کے طور پر پہلے سے ذکر کِیا تھا۔ (‏متی ۲۴:‏۳‏)‏ لیکن کیا یسوؔع نے اُنہیں بتایا تھا کہ یہوؔواہ درحقیقت کب اُس بدکار نظام پر سزا نافذ کریگا؟ نہیں۔ جوکچھ اُس نے مستقبل میں اپنی شاہی موجودگی کے عروج کی بابت پہلے سے بتایا یقینی طور پر اُس کا اطلاق پہلی صدی کی ”‏بڑی مصیبت“‏ پر بھی ہوا:‏ ”‏اُس دِن اور اُس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔ نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر صرف باپ۔“‏—‏متی ۲۴:‏۳۶‏۔‏

۸ دانیؔ‌ایل کی پیشینگوئی سے، یہودی یسوؔع کے بطور مسیحا ”‏ظاہر“‏ ہونے کے وقت کا حساب لگا سکتے تھے۔ (‏دانی‌ایل ۹:‏۲۵‏)‏ تاہم اُنہیں اُس ”‏بڑی مصیبت“‏ کیلئے کوئی تاریخ نہیں دی گئی تھی جس نے انجام‌کار برگشتہ یہودی نظام‌العمل کو ختم کر دیا۔ یہ محض یرؔوشلیم اور ہیکل کی بربادی کے بعد ہی تھا کہ اُنہیں یہ احساس ہوا کہ وہ تاریخ ۷۰ س.‏ع.‏ تھی۔ تاہم، وہ یسوؔع کے ان نبوّتی الفاظ سے باخبر تھے:‏ ”‏جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی۔“‏ (‏متی ۲۴:‏۳۴‏)‏ واضح طور پر، یہاں ”‏نسل“‏ کا اطلاق واعظ ۱:‏۴ سے مختلف ہے جوکہ ایک خاص وقت کے دوران ایک کے بعد دوسری نسل کے مسلسل آنے اور جانے کا ذکر کرتی ہے۔‏

‏”‏یہ نسل“‏—‏یہ کیا ہے؟‏

۹.‏ لغات یونانی لفظ جینیا کی تشریح کیسے کرتی ہیں؟‏

۹ جب زؔیتون کے پہاڑ پر یسوؔع کے ساتھ بیٹھے ہوئے رسولوں نے ”‏اس دُنیا کے خاتمے“‏ کی بابت اُس کی پیشینگوئی کو سنا تو وہ ان الفاظ ”‏یہ نسل“‏ کو کیسے سمجھیں گے؟ اناجیل میں لفظ ”‏نسل“‏ کا ترجمہ یونانی لفظ جینیا سے کِیا گیا ہے جسکی جدید لغات ان اصطلا‌حات میں تشریح کرتی ہیں:‏ ”‏لفظی مفہوم میں وہ جو مشترک آباؤاجداد سے آتے ہیں۔“‏ (‏والٹرؔ باؤیور کا گریک انگلش لیکسیکن آف دی نیو ٹسٹامنٹ)‏ ”‏وہ جو کسی کو زندگی بخشتا ہے، ایک خاندان؛ .‏ .‏ .‏ ایک سلسلۂ‌نسب کے ایک کے بعد دوسرے ارکان .‏ .‏ .‏ یا ایک ہی نسل کے لوگ .‏ .‏ .‏ یا ایک ہی وقت کے دوران رہنے والے تمام اشخاص کا انبوہ، متی ۲۴:‏۳۴؛‏ مرقس ۱۳:‏۳۰؛‏ لوقا ۱:‏۴۸؛‏ ۲۱:‏۳۲؛‏ فلپیوں ۲:‏۱۵‏، اور بالخصوص یہودی نسل کے ایک ہی وقت کے دوران رہنے والے لوگ۔“‏ (‏ڈبلیو.‏ای.‏ وائنؔ کی ایکس‌پوزیٹری ڈکشنری آف دی نیو ٹسٹامنٹ ورڈز)‏ ”‏وہ جو وجود میں لائے گئے ہیں، ایک ہی اصل‌نسل کے آدمی، ایک خاندان؛ .‏ .‏ .‏ ایک ہی وقت میں رہنے والے بیشمار انسان:‏ متی ۲۴:‏۳۴؛‏ مرقس ۱۳:‏۳۰؛‏ لوقا ۱:‏۴۸ .‏ .‏ .‏ نے بالخصوص ایک ہی اور اُسی وقت کے دوران رہنے والی یہودی نسل کی بابت لکھا۔“‏—‏جے.‏ایچ.‏ تھاؔئر کی گریک انگلش لیکسیکن آف دی نیو ٹسٹامنٹ۔‏

۱۰.‏ (‏ا)‏ متی ۲۴:‏۳۴ کو بیان کرتے ہوئے دو مستند تحریریں کونسی ایک جیسی تشریح پیش کرتی ہیں؟ (‏ب)‏ کیسے ایک تھیولاجیکل ڈکشنری اور بعض بائبل ترجمے اس تشریح کی حمایت کرتے ہیں؟‏

۱۰ لہٰذا وائنؔ اور تھاؔئر دونوں ہی ”‏یہ نسل“‏ (‏ہی‌جینیا ہاو ٹے)‏ کی تشریح ”‏ایک ہی وقت کے دوران رہنے والے اشخاص کے انبوہ“‏ کے طور پر کرنے کے لئے متی ۲۴:‏۳۴ کا حوالہ دیتے ہیں۔ تھیولاجیکل ڈکشنری آف دی نیو ٹسٹامنٹ (‏۱۹۶۴)‏ یہ کہتے ہوئے اس تشریح کی حمایت کرتی ہے:‏ ”‏یسوؔع کے ذریعے ’‏نسل‘‏ کا استعمال اُس کے قابلِ‌فہم مقصد کو ظاہر کرتا ہے:‏ وہ تمام لوگوں کے لئے مقصد رکھتا ہے اور اُن کے گناہ میں پھنسے ہونے سے باخبر ہے۔“‏ جب یسوؔع زمین پر تھا تو اُس وقت یہودی قوم کا ”‏گناہ میں پھنسے ہونا“‏ واقعی بالکل واضح تھا، جیسے‌کہ یہ آجکل دُنیا کے نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔‏c

۱۱.‏ (‏ا)‏ ہی جینیا ہاو ٹے کا اطلاق کیسے کِیا جائے اس کا تعیّن کرنے میں کونسی تحریر کو بنیادی طور پر ہماری راہنمائی کرنی چاہئے؟ (‏ب)‏ اس تحریر نے اس اصطلا‌ح کو کیسے استعمال کِیا؟‏

۱۱ یقیناً، اس مواد کا مطالعہ کرنے والے مسیحی اپنی سوچ کی رہبری بنیادی طور پر اُسی طرح کرتے ہیں جسطرح مُلہَم اناجیل نویسوں نے یسوؔع کے الفاظ بیان کرتے وقت یونانی اصطلا‌ح ہی‌جینیا ہاو ٹے، یا ”‏یہ نسل“‏ کو استعمال کِیا تھا۔ یہ اصطلا‌ح ہم‌آہنگی کیساتھ منفی طور پر استعمال کی گئی تھی۔ پس، یسوؔع نے یہودی مذہبی پیشواؤں کو ”‏سانپو، افعی کے بچو“‏ کہا اور اسکے بعد بیان کیا کہ جہنم کی سزا ”‏اس زمانے کے لوگوں“‏ پر آئیگی۔ (‏متی ۲۳:‏۳۳،‏ ۳۶‏)‏ تاہم، کیا یہ سزا صرف ریاکار مذہبی پیشواؤں تک محدود تھی؟ ہرگز نہیں۔ کئی مواقع پر، یسوؔع کے شاگردوں نے اُسے اصطلا‌ح ”‏یہ نسل“‏ کا یکساں طور پر وسیع پیمانے پر اطلاق کرتے ہوئے سنا۔ وہ کیا تھا؟‏

‏”‏یہ کجرو نسل“‏

۱۲.‏ جیسے اُسکے شاگردوں نے سنا، یسوؔع نے ”‏بِھیڑ“‏ کو ”‏اس نسل“‏ کیساتھ کیسے جوڑا تھا؟‏

۱۲ ۳۱ س.‏ع.‏ میں، یسوؔع کی گلیل میں عظیم خدمتگزاری کے دوران اور فسح کے تھوڑا عرصہ بعد، اُسکے شاگردوں نے اُسے ”‏بِھیڑ“‏ کو یہ کہتے سنا:‏ ”‏پس اس زمانہ کے لوگوں کو مَیں کس سے تشبِیہ دُوں؟ وہ اُن لڑکوں کی مانند ہیں جو بازاروں میں بیٹھے ہوئے اپنے ساتھیوں کو پکار کر کہتے ہیں۔ ہم نے تمہارے لئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کِیا اور تُم نے چھاتی نہ پیٹی۔ کیونکہ یوؔحنا نہ کھاتا آیا نہ پیتا اور وہ کہتے ہیں کہ اُس میں بدروح ہے۔ ابنِآؔدم [‏یسوؔع]‏ کھاتا پیتا آیا اور وہ کہتے ہیں دیکھو کھاؤ اور شرابی۔ محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار!‏“‏ کوئی بھی چیز اُن بے‌اُصول ”‏لوگوں“‏ کو کچھ بھی خوش نہیں کر سکتا تھا!‏—‏متی ۱۱:‏۷،‏ ۱۶-‏۱۹‏۔‏

۱۳.‏ اپنے شاگردوں کی موجودگی میں، یسوؔع نے کس کی ”‏اس کجرو نسل“‏ کے طور پر شناخت اور مذمت کی تھی؟‏

۱۳ بعدازاں ۳۱ س.‏ع.‏ میں، جب یسوؔع اور اُسکے شاگرد گلیلؔ میں منادی کے اپنے دوسرے دورے پر روانہ ہوئے تو ”‏بعض فقیہوں اور فریسیوں“‏ نے یسوؔع سے نشان طلب کِیا۔ اُس نے اُنہیں اور ”‏بھیڑ“‏ کو جو موجود تھی بتایا:‏ ”‏اس زمانے کے بُرے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوؔناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُنکو نہ دِیا جائیگا۔ کیونکہ جیسے یوؔناہ تین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابنِآؔدم تین رات دِن زمین کے اندر رہیگا۔ .‏ .‏ .‏ اس زمانہ کے بُرے لوگوں کا حال بھی ایسا ہی ہوگا۔“‏ (‏متی ۱۲:‏۳۸-‏۴۶‏)‏ واضح طور پر، ”‏اس زمانے کے بُرے لوگوں“‏ میں مذہبی پیشوا اور ”‏بھیڑ“‏ دونوں ہی شامل تھے جنہوں نے کبھی بھی اُس نشان کو نہ سمجھا جس نے یسوؔع کی موت اور قیامت میں تکمیل پائی تھی۔‏d

۱۴.‏ یسوؔع کے شاگردوں نے اُسے صدوقیوں اور فریسیوں کو کسطرح ملامت کرتے سنا؟‏

۱۴ ۳۲ س.‏ع.‏ کی فسح کے بعد، جب یسوؔع اور اُس کے شاگرد گلیلؔ کے علاقہ مگدؔن میں آئے تو صدوقیوں اور فریسیوں نے ایک بار پھر یسوؔع سے نشان طلب کِیا۔ اُس نے دوبارہ اُن سے کہا:‏ ”‏اِس زمانہ کے بُرے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یوؔناہ کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُنکو نہ دِیا جائیگا اور وہ اُن کو چھوڑ کر چلا گیا۔“‏ (‏متی ۱۶:‏۱-‏۴‏)‏ وہ مذہبی ریاکار بِلاشُبہ بے‌ایمان ”‏لوگوں“‏ کے درمیان انتہائی قابلِ‌مذمت پیشواؤں کے طور پر تھے جنہیں یسوؔع نے ”‏اس زمانے کے بُرے لوگوں“‏ کے طور پر ملامت کی۔‏

۱۵.‏ تبدیلئ‌ہیئت سے ذرا پہلے اور پھر اسکے بعد، یسوؔع اور اُس کے شاگردوں کا ’‏اس نسل‘‏ کیساتھ کیسے سامنا ہوا؟‏

۱۵ گلیلؔ میں اپنی خدمتگزاری کے اختتام پر، یسوؔع نے بھیڑ کو اپنے شاگردوں سمیت اپنے پاس بلا‌یا اور کہا:‏ ”‏جو کوئی اس زناکار اور خطاکار قوم میں مجھ سے اور میری باتوں سے شرمائیگا ابنِ‌آدم بھی .‏ .‏ .‏ اُس سے شرمائیگا۔“‏ (‏مرقس ۸:‏۳۴،‏ ۳۸‏)‏ پس اُس وقت کے غیرتائب یہودیوں کی بڑی تعداد نے واضح طور پر ”‏اس زناکار اور خطاکار قوم“‏ کو تشکیل دیا۔ کچھ دِنوں بعد، یسوؔع کی تبدیلئ‌ہیئت کے بعد، یسوؔع اور اُس کے شاگرد ”‏بھیڑ کے پاس پہنچے“‏ تو ایک آدمی نے اُس سے درخواست کی کہ اُسکے بیٹے کو اچھا کر دے۔ یسوؔع نے جواب دِیا:‏ ”‏اے بے‌اعتقاد اور کجرو نسل مَیں کب تک تمہارے ساتھ رہونگا؟ کب تک تمہاری برداشت کرونگا؟“‏—‏متی ۱۷:‏۱۴-‏۱۷؛‏ لوقا ۹:‏۳۷-‏۴۱‏۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ یہوؔدیہ میں یسوؔع نے ”‏بِھیڑ“‏ کے سلسلے میں کونسی ملامت کو دہرایا؟ (‏ب)‏ ”‏اس نسل“‏ نے کیسے سب سے زیادہ بدکار کام کِیا؟‏

۱۶ ۳۲ س.‏ع.‏ میں، عیدِخیام کے بعد، غالباً یہ یہوؔدیہ میں تھا ”‏جب بِھیڑ“‏ یسوؔع کے گرد ”‏جمع ہوتی جاتی تھی“‏ تو اُس نے اُن پر اپنی ملامت کو یہ کہتے ہوئے دہرایا:‏ ”‏اس زمانہ کے لوگ بُرے ہیں۔ وہ نشان طلب کرتے ہیں۔ مگر یوؔناہ کے نشان کے سوا کوئی اَور نشان اُنکو نہ دِیا جائیگا۔“‏ (‏لوقا ۱۱:‏۲۹‏)‏ بالآخر، جب مذہبی پیشوا یسوؔع کو مقدمے کی سماعت کیلئے لائے تو پیلاؔطُس نے اُسے چھوڑنے کی پیشکش کی۔ بیان کہتا ہے:‏ ”‏سردار کاہنوں اور بزرگوں نے لوگوں کو اُبھارا کہ براؔبا کو مانگ لیں اور یسوؔع کو ہلاک کرائیں۔ .‏ .‏ .‏ پیلاطُس نے اُن سے کہا پھر یسوؔع کو جو مسیح کہلاتا ہے کیا کروں؟ سب نے کہا وہ مصلوب ہو۔ اُس نے کہا کیوں اُس نے کیا برائی کی ہے؟ مگر وہ اَور بھی چلّاچلّا کر کہنے لگے وہ مصلوب ہو۔“‏ وہ ”‏کجرو نسل“‏ یسوؔع کے قتل کا تقاضا کر رہی تھی!‏—‏متی ۲۷:‏۲۰-‏۲۵‏۔‏

۱۷.‏ اس ”‏ٹیڑھی نسل“‏ میں سے بعض نے پطرؔس کی پنتِکُست پر منادی کیلئے کیسا جوابی‌عمل دکھایا؟‏

۱۷ ایک ”‏بے‌اعتقاد اور کجرو نسل“‏ نے اپنے مذہبی پیشواؤں کے اُکسانے پر، خداوند یسوؔع مسیح کی موت کا باعث بننے میں بنیادی کردار ادا کِیا۔ پچاس دِن بعد، ۳۳ س.‏ع.‏ میں پنتِکُست پر، شاگردوں نے روح‌اُلقدس حاصل کی اور مختلف زبانیں بولنے لگے۔ آواز سننے پر ”‏بِھیڑ لگ گئی“‏ اور پطرؔس رسول نے اُنہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا:‏ ”‏اے یہودیو اور اے یرؔوشلیم کے سب رہنے والو!‏ .‏ .‏ .‏ [‏اس شخص یسوؔع کو]‏ .‏ .‏ .‏ تم نے بے‌شرع لوگوں کے ہاتھ سے .‏ .‏ .‏ مصلوب کروا ڈالا۔“‏ سامعین میں سے بعض نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ ”‏اُن کے دلوں پر چوٹ لگی۔“‏ اس کے بعد پطرؔس نے اُن سے کہا کہ توبہ کریں۔ اُس نے ”‏بہت سی باتیں جتا جتا کر اُنہیں نصیحت کی کہ اپنے آپکو اس ٹیڑھی قوم سے بچاؤ۔“‏ اسکے جواب میں، تقریباً تین ہزار نے ”‏اُسکا کلام قبول کِیا [‏اور]‏ بپتسمہ لیا۔“‏—‏اعمال ۲:‏۶،‏ ۱۴،‏ ۲۳،‏ ۳۷،‏ ۴۰، ۴۱‏۔‏

‏”‏اس نسل“‏ کی شناخت

۱۸.‏ یسوؔع کا اصطلا‌ح ”‏یہ نسل“‏ کا مسلسل استعمال کس چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے؟‏

۱۸ توپھر، وہ ”‏نسل“‏ کون ہے جس کا حوالہ یسوؔع نے اپنے شاگردوں کے سامنے اکثر دیا؟ وہ اُس کے ان الفاظ سے کیا سمجھے:‏ ”‏جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی“‏؟ یقینی طور پر، یسوؔع اس اصطلا‌ح ”‏یہ نسل“‏ کے اپنے مستقل بنیادوں پر اُستوارکردہ استعمال سے انحراف نہیں کر رہا تھا، جسے اُس نے بار بار اُس زمانے کے لوگوں اور اُنکے ”‏اندھے راہ بتانے والوں“‏ پر عائد کِیا تھا جو دونوں ملکر یہودی قوم کو تشکیل دیتے تھے۔ (‏متی ۱۵:‏۱۴‏)‏ ”‏اس نسل“‏ نے یسوؔع کی پہلے سے بیان‌کردہ تمام تکلیف کا تجربہ کِیا اور اسکے بعد یرؔوشلیم پر آنے والی ایک بینظیر ”‏بڑی مصیبت“‏ میں ختم ہو گئی۔—‏متی ۲۴:‏۲۱،‏ ۳۴‏۔‏

۱۹.‏ کب اور کیسے یہودی نظام کے ”‏آسمان اور زمین“‏ ختم ہو گئے؟‏

۱۹ پہلی صدی میں، یہوؔواہ یہودی لوگوں کی عدالت کر رہا تھا۔ تائب لوگ جو مسیح کے وسیلے سے یہوؔواہ کے مہربانہ بندوبست پر ایمان لائے، وہ اُس ”‏بڑی مصیبت“‏ میں سے بچا لئے گئے تھے۔ یسوؔع کے الفاظ کے عین مطابق، جتنی باتوں کی پیشینگوئی کی گئی تھی وہ سب واقع ہوئیں اور اسکے بعد یہودی نظام‌العمل کے ”‏آسمان اور زمین“‏—‏پوری قوم، بمع اپنے مذہبی پیشواؤں اور لوگوں کے بدکار معاشرے کے—‏ختم ہو گئی۔ یہوؔواہ سزا نافذ کر چکا تھا!‏—‏متی ۲۴:‏۳۵‏؛ مقابلہ کریں ۲-‏پطرس ۳:‏۷‏۔‏

۲۰.‏ کونسی بروقت نصیحت کا تمام مسیحیوں پر فوری طور پر اطلاق ہوتا ہے؟‏

۲۰ وہ یہودی جنہوں نے یسوؔع کے نبوّتی الفاظ پر دھیان دِیا، وہ سمجھ گئے تھے کے اُنکی نجات ایک ”‏نسل“‏ یا کسی اَور مُتعیّن ”‏وقتوں یا زمانوں“‏ کی مدت کا حساب لگانے کی کوشش کرنے پر منحصر نہیں تھی، بلکہ اُس زمانے کی شریر نسل سے الگ رہنے اور گرمجوشی کیساتھ خدا کی مرضی پوری کرنے پر تھی۔ اگرچہ یسوؔع کی پیشینگوئی کے اختتامی الفاظ کی بنیادی تکمیل کا اطلاق ہمارے زمانے پر ہوتا ہے، پہلی صدی کے مسیحیوں کو بھی اس نصیحت پر دھیان دینا تھا:‏ ”‏پس ہر وقت جاگتے اور دُعا کرتے رہو تاکہ تُم کو اِن سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور ابنِ‌آؔدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور ہو۔“‏—‏لوقا ۲۱:‏۳۲-‏۳۶؛‏ اعمال ۱:‏۶-‏۸‏۔‏

۲۱.‏ مستقبل قریب میں ہم کس ناگہانی صورتحال کی توقع کر سکتے ہیں؟‏

۲۱ آجکل، ”‏خداوند کا روزِعظیم قریب ہے .‏ .‏ .‏ وہ آ پہنچا ہے۔“‏ (‏صفنیاہ ۱:‏۱۴-‏۱۸؛‏ یسعیاہ ۱۳:‏۹،‏ ۱۳‏)‏ اچانک، یہوؔواہ کے اپنے پہلے سے طے‌شُدہ ”‏دن اور گھڑی“‏ پر اُس کا غضب بمع اُن سرکش لوگوں کے جو اس زمانے کی ”‏کجرو اور زناکار نسل“‏ کو تشکیل دیتے ہیں، دُنیا کے مذہبی، سیاسی اور تجارتی عناصر، پر بھڑکے گا۔ (‏متی ۱۲:‏۳۹‏، این‌ڈبلیو؛ ۲۴:‏۳۶؛ مکاشفہ ۷:‏۱-‏۳،‏ ۹،‏ ۱۴‏)‏ آپ ”‏بڑی مصیبت“‏ سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ ہمارا اگلا مضمون جواب دیگا اور مستقبل کیلئے شاندار اُمید کی بابت بیان کریگا۔ (‏۱۰ ۱۱/۰۱ w۹۵)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اس پیشینگوئی کے مفصل بیان کیلئے، براہِ‌مہربانی مئی ۱۹۹۴ کے مینارِنگہبانی کے صفحات ۲۴، ۲۵ پر درج چارٹ کو دیکھیں۔‏

b برسوں کے ”‏ہفتوں“‏ کی بابت مزید معلومات کیلئے واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ، کی شائع‌کردہ کتاب دی بائبل—‏گاڈز ورڈ اور مینز؟ کے صفحات ۱۳۰-‏۱۳۲ کو دیکھیں۔‏

c بعض بائبلیں متی ۲۴:‏۳۴ میں ہی‌جینیا ہاو ٹے کو یوں پیش کرتی ہیں:‏ ”‏یہ لوگ“‏ (‏دی ہولی بائبل اِن دی لینگویج آف ٹوڈے [‏۱۹۷۶]‏، از ڈبلیو.‏ ایف.‏ بیکؔ)‏؛ ”‏یہ قوم“‏ (‏دی نیو ٹسٹامنٹ—‏این ایکس‌پینڈڈ ٹرانسلیشن [‏۱۹۶۱]‏، از کے.‏ ایس.‏ وسٹ)‏؛ ”‏اس زمانے کے لوگ“‏ (‏جیواِش نیو ٹسٹامنٹ [‏۱۹۷۹]‏، از ڈی.‏ ایچ.‏ سٹرؔن)‏۔‏

d ان بے‌ایمان ”‏لوگوں“‏ کو ایم-‏ہا-‏رٹس، یا ”‏عام لوگوں“‏ کے برابر نہیں ٹھہرایا جا سکتا جن کیساتھ متکبر مذہبی پیشواؤں نے رفاقت رکھنے سے انکار کِیا، بلکہ اُن پر یسوؔع ”‏کو ترس آیا۔“‏—‏متی ۹:‏۳۶؛‏ یوحنا ۷:‏۴۹‏۔‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ دانی‌ایل ۹:‏۲۴-‏۲۷ کی تکمیل سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟‏

▫ جدید لغات ”‏یہ نسل“‏ کو کیسے بیان کرتی ہیں جیسے‌کہ اسے بائبل میں استعمال کِیا گیا ہے؟‏

▫ یسوؔع نے اصطلا‌ح ”‏نسل“‏ کو کیسے مسلسل استعمال کِیا تھا؟‏

▫ متی ۲۴:‏۳۴، ۳۵ کی تکمیل پہلی صدی میں کیسے ہوئی تھی؟‏

‏[‏تصویر]‏

یسوؔع نے ”‏اس نسل“‏ کا موازنہ اُودھم مچانے والے بچوں کے انبوہ سے کِیا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں