یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 15/‏12 ص.‏ 8-‏12
  • اب خدائے برحق کا خوف کیوں مانیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اب خدائے برحق کا خوف کیوں مانیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • طاقت کا انتہائی اثرآفریں مظاہرہ
  • خدا کیلئے اپنے خوف کا مظاہرہ کرنا
  • اب خدا کا خوف ماننے کے نتائج
  • یہوواہ سے ڈرو اور اس کے پاک نام کی تمجید کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • یہوواہ کا خوف ماننے والا دل پیدا کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • خدائے برحق کا خوف ماننے کے فوائد
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • یہوؔواہ کے خوف میں شادمانی حاصل کرنا سیکھنا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 15/‏12 ص.‏ 8-‏12

اب خدائے برحق کا خوف کیوں مانیں؟‏

‏”‏خدائے برحق کا خوف مان اور اُسکے حکموں کی تعمیل کر کیونکہ انسان کا فرضِ‌کُلی یہی ہے۔“‏—‏واعظ ۱۲:‏۱۳‏، نیو ورلڈ ٹرانسلیشن

۱، ۲.‏ خدا کا واجب خوف کیوں موزوں ہے؟‏

خدا کا صحتمندانہ اور مؤدبانہ خوف انسان کیلئے اچھا ہے۔ جی‌ہاں، اگرچہ بہت سے انسانی خوف جذباتی طور پر پریشان‌کُن ہوتے ہیں، یہانتک کہ ہماری خوشحالی کیلئے نقصان‌دہ، تو بھی ہمارے لئے یہوؔواہ خدا کا خوف ماننا اچھا ہے۔—‏زبور ۱۱۲:‏۱؛‏ واعظ ۸:‏۱۲‏۔‏

۲ خالق اس بات کو جانتا ہے۔ اپنی مخلوق کیلئے محبت کے پیشِ‌نظر، وہ سب کو حکم دیتا ہے کہ اُس کا خوف مانیں اور اُس کی پرستش کریں۔ ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏مَیں نے ایک اَور فرشتہ کو آسمان کے بیچ میں اُڑتے ہوئے دیکھا جس کے پاس زمین کے رہنے والوں کی ہر قوم اور قبیلہ اور اہلِ‌زبان اور اُمت کے سنانے کیلئے ابدی خوشخبری تھی۔ اور اُس نے بڑی آواز سے کہا کہ خدا سے ڈرو اور اُسکی تمجید کرو کیونکہ اُسکی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے اور اُسی کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشمے پیدا کئے۔“‏—‏مکاشفہ ۱۴:‏۶، ۷‏۔‏

۳.‏ خالق نے ہمارے پہلے والدین کیلئے کیا کِیا؟‏

۳ یقینی طور پر ہمیں تمام چیزوں کے خالق، زندگی کے منبع، کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہ ہمارا اور اس سیارے کا مالک ہے۔ (‏زبور ۲۴:‏۱‏)‏ اپنی عظیم محبت کے اظہار میں، یہوؔواہ نے اپنے زمینی بچوں کو زندگی دی اور اُنہیں رہنے کے لئے شاندار جگہ—‏ایک خوبصورت فردوس—‏عطا کی۔ تاہم، یہ شاندار بخشش غیرمشروط نہیں تھی۔ درحقیقت، یہ امانت کے طور پر دی گئی تھی۔ ہمارے پہلے والدین کو اپنے گھر کی نگہداشت کرنی تھی اور اُس وقت تک اسے وسیع کرتے رہنا تھا جبتک کہ اُنہوں نے پوری زمین کو معمورومحکوم نہیں کر دینا تھا۔ اُنہیں خشکی کے جانوروں، پرندوں، اور مچھلیوں‌کے سلسلے میں—‏تمام دیگر مخلوقات جو اُن کے اور اُن کی اولاد کے ساتھ اس زمین پر رہیگی—‏استحقاقات اور ذمہ‌داریاں سونپی گئی تھیں۔ اس عظیم ذمہ‌داری کے لئے انسان جوابدہ تھا۔‏

۴.‏ انسان نے خدا کی مخلوق کیساتھ کیا کِیا ہے؟‏

۴ اس شاندار آغاز کے باوجود، غور کریں کہ انسان نے اپنے خوبصورت زمینی گھر کو آلودہ کرنے کے لئے کیا کچھ کِیا ہے!‏ خدا کی اس انمول ملکیت کے لئے حقارت‌آمیز بے‌اعتنائی دکھاتے ہوئے، انسانوں نے زمین کو آلودہ کر دیا ہے۔ آلودگی زیادہ سے زیادہ جانوروں، پرندوں اور مچھلیوں کی بقا کے لئے خطرہ بننے کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ ہمارا منصف اور شفیق خدا اسے غیرمُعیّنہ مدت تک برداشت نہیں کریگا۔ زمین کی بربادی احتساب کا تقاضا کرتی ہے، جوکہ ایسی چیز ہے جو بہتیروں کے لئے خوفزدہ ہونے کی وجہ ہے۔ اس کی دوسری جانب، وہ جو مؤدبانہ طور پر خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں، اُن کے لئے یہ جاننا اطمینان‌بخش ہے کہ کیا واقع ہونے کو ہے۔ یہوؔواہ ضرور حساب لے گا، اور زمین کو ضرور بحال کِیا جائیگا۔ یہ واقعی زمین پر تمام راست‌دل لوگوں کے لئے خوشخبری ہے۔‏

۵، ۶.‏ انسان نے اُسکی تخلیق کیساتھ جو کچھ کِیا ہے یہوؔواہ اُس کیلئے کیسا ردِعمل دکھائے گا؟‏

۵ خدا اپنی عدالتی کارروائی کس کے ذریعے عمل میں لائے گا؟ خدا کی آسمانی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر اس وقت تخت‌نشین بادشاہ، یسوؔع مسیح کے وسیلے سے۔ اُس آسمانی بیٹے کے ذریعے، یہوؔواہ موجودہ ناپاک، سرکش نظام کو انجام تک پہنچائیگا۔ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۱:‏۶-‏۹؛‏ مکاشفہ ۱۹:‏۱۱‏)‏ اس طریقے سے وہ اُن کیلئے رہائی مہیا کریگا جو اُس سے ڈرتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ، ہمارے زمینی گھر کو بچائیگا اور محفوظ رکھیگا۔‏

۶ یہ کیسے واقع ہوگا؟ بائبل ہرمجِدّؔون کی لڑائی پر ایک آنے والی بڑی مصیبت کے عروج کا ذکر کرتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۱۴؛‏ ۱۶:‏۱۶‏)‏ یہ اس آلودہ نظام‌العمل اور اسے آلودہ کرنے والوں کے خلاف خدا کی عدالتی سزا ہوگی۔ کیا کوئی انسان زندہ بچینگے؟ جی‌ہاں!‏ یہ وہ لوگ ہونگے جو خدا کا غیرصحتمندانہ، ناخوشگوار خوف نہیں بلکہ بااحترام، مؤدبانہ خوف رکھتے ہیں۔ وہ بچا لئے جائینگے۔—‏امثال ۲:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

طاقت کا انتہائی اثرآفریں مظاہرہ

۷.‏ موسیٰؔ کے دِنوں میں خدا نے اسرائیل کی خاطر کیوں مداخلت کی؟‏

۷ یہوؔواہ خدا کی طرف سے اس ڈرامائی کارروائی کی عکاسی اُس عظیم کام سے کی گئی تھی جو اُس نے ہمارے سنِ‌عام سے کوئی ۱،۵۰۰ سال پہلے اپنے پرستاروں کی خاطر کِیا۔ مصرؔ کی عظیم عسکری طاقت نے اپنے نوآباد اسرائیلی کارندوں کو غلام بنا لیا تھا، یہانتک کہ جب اُسکے حکمران، فرؔعون نے تمام نوزائید نر اسرائیلی بچوں کی موت کا حکم دیا تو اُنہوں نے ایک طرح سے نسل‌کُشی کی بھی کوشش کی۔ مصرؔ پر خدا کی فتح کا مقصد اسرائیل کو اُس استبدادی سیاسی نظام سے رہائی دلانا تھا، جی‌ہاں، ایک ایسی قوم سے آزادی دلانا جوکہ بہت سے دیوتاؤں کی پرستش کے باعث آلودہ تھی۔‏

۸، ۹.‏ موسیٰؔ اور اسرائیلیوں نے خدا کی مداخلت کیلئے کیسا ردِعمل دکھایا؟‏

۸ خروج ۱۵ باب اسرائیل کے مصرؔ سے رہائی کیلئے ردِعمل کو بیان کرتا ہے۔ اس بیان کا تجزیہ کرنا ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیگا کہ مسیحی کیسے موجودہ روحانی اور جسمانی طور پر آلودہ نظام سے آزادی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ جاننے کیلئے آیئے منتخب آیات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے خروج ۱۵ باب پر غور کریں کہ کیوں ہمیں سچے خدا، یہوؔواہ کا خوف ماننا چاہئے۔ ہم ۱ اور ۲ آیات کیساتھ شروع کرتے ہیں:‏

۹ ”‏تب موسیٰؔ اور بنی‌اسرائیل نے خداوند کے لئے یہ گیت گایا اور یوں کہنے لگے:‏ مَیں خداوند کی ثنا گاؤنگا کیونکہ وہ جلال کیساتھ فتح‌مند ہوا۔ اُس نے گھوڑے کو سوار سمیت سمندر میں ڈال دِیا۔ خداوند میرا زور اور راگ ہے۔ وہی میری نجات بھی ٹھہرا۔ وہ میرا خدا ہے۔ مَیں اُس کی بزرگی کرونگا۔“‏

۱۰.‏ کیا چیز خدا کے مصرؔ کی فوج کو تباہ کرنے کا باعث بنی؟‏

۱۰ پوری دُنیا میں لوگ اس بیان سے واقف ہیں کہ کیسے یہوؔواہ نے اسرائیل کو مصرؔ سے رہائی دلائی۔ وہ اُس زورآور عالمی طاقت پر اُس وقت تک وبائیں نازل کرتا رہا جبتک فرؔعون نے انجام‌کار اسرائیلیوں کو جانے کی اجازت نہ دے دی۔ لیکن اس کے بعد فرؔعون کی فوجوں نے ان نہتے لوگوں کا تعاقب کِیا اور یوں دکھائی دیتا تھا کہ وہ اُنہیں بحرِقلزؔم پر جا لیں گے۔ اگرچہ یوں دکھائی دیتا تھا کہ بنی‌اسرائیل جلد ہی اپنی نئی حاصل‌کردہ آزادی کھو بیٹھیں گے، تاہم یہوؔواہ کے ذہن میں کچھ اَور ہی تھا۔ اُس نے معجزانہ طور پر سمندر کے بیچ میں سے راستہ بنا دیا اور اپنے لوگوں کو بحفاظت نکال لایا۔ جب مصریوں نے تعاقب کِیا تو وہ بحرِقلزؔم کو اُن پر چڑھا لایا اور فرؔعون اور اُس کے فوجی لشکر کو غرقِ‌آب کر دیا۔—‏خروج ۱۴:‏۱-‏۳۱۔‏

۱۱.‏ مصرؔ کے خلاف خدا کی کارروائی کا کیا انجام ہوا؟‏

۱۱ یہوؔواہ کی طرف سے مصری عسکری لشکر کی بربادی نے اُسے اُس کے پرستاروں کی نظروں میں سرفراز کِیا اور اُس کے نام کو دُور دُور تک شہرت بخشی۔ (‏یشوع ۲:‏۹، ۱۰؛ ۴:‏۲۳، ۲۴)‏ جی‌ہاں، اُس کا نام مصرؔ کے اُن بے‌بس جھوٹے دیوتاؤں سے سربلند ہو گیا تھا، جو اپنے پرستاروں کو بچانے کے نااہل ثابت ہوئے تھے۔ اپنے معبودوں اور فانی انسان اور عسکری طاقت پر اُن کا بھروسہ سخت مایوسی کا باعث بنا تھا۔ (‏زبور ۱۴۶:‏۳‏)‏ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اسرائیلیوں نے حمد کے ایسے گیت گانے کی تحریک پائی جنہوں نے اُس زندہ خدا کے خوشگوار خوف کو منعکس کِیا جو زورآور طور پر اپنے لوگوں کو رہائی بخشتا ہے!‏

۱۲، ۱۳.‏ بحرِقلزؔم پر خدا کی فتح سے ہمیں کیا سیکھنا چاہئے؟‏

۱۲ اسی طرح، ہمیں بھی یہ پہچان لینا چاہئے کہ ہمارے زمانے کے نہ کوئی جھوٹے معبود اور نہ کوئی سُپرپاور، حتیٰ‌کہ نیوکلیئر اسلحہ کے ساتھ بھی ممکنہ طور پر یہوؔواہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ وہ اپنے لوگوں کو رہائی بخش سکتا ہے اور بخشے گا۔ ”‏وہ آسمانی لشکر اور اہلِ‌زمین کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کا ہاتھ روک سکے یا اُس سے کہے کہ تُو کیا کرتا ہے؟“‏ (‏دانی‌ایل ۴:‏۳۵‏)‏ جب ہم مکمل طور پر ان الفاظ کا مفہوم سمجھ لیتے ہیں تو ہم بھی خوشی کے ساتھ اُس کی حمد کرنے کی تحریک پاتے ہیں۔‏

۱۳ بحرِقلزؔم پر فتح کا گیت یوں جاری رہتا ہے:‏ ”‏خداوند صاحبِ‌جنگ ہے۔ یہوؔواہ اُسکا نام ہے۔“‏ اسلئے، یہ ناقابلِ‌تسخیر جنگجو، انسانی تخیل کی کوئی نامعلوم غیرحقیقی چیز نہیں ہے۔ اُس کا ایک نام ہے!‏ وہی ہے ’‏جو وجود میں آنے کا سبب بنتا ہے،‘‏ عظیم صانع، وہی ”‏جس کا نام یہوؔواہ ہے [‏جو]‏ تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“‏ (‏خروج ۳:‏۱۴؛ ۱۵:‏۳-‏۵؛‏ زبور ۸۳:‏۱۸‏)‏ کیا آپ اس سے متفق نہیں کہ اُن قدیمی مصریوں کیلئے یہ دانشمندانہ بات ہوتی کہ قادرِمطلق کی نافرمانی کرنے کی بجائے اُس کیلئے معقول اور قابلِ‌احترام خوف کا احساس رکھتے؟‏

۱۴.‏ بحرِقلزؔم پر خدائی خوف کی اہمیت کا مظاہرہ کیسے کِیا گیا تھا؟‏

۱۴ زمین کے نمونہ‌ساز کے طور پر، سمندر کا بنانے والا مہیب پانیوں پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔ (‏خروج ۱۵:‏۸)‏ ہوا پر بھی اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، اُس نے وہ کام انجام دیا جو بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ اُس نے گہرے پانی کو ایک مقام پر دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اُس کا رُخ مخالف اطراف میں موڑ دِیا، یوں سیلاب تودے کی طرح سیدھے کھڑے ہوگئے تاکہ اُس کے لوگوں کے گزرنے کیلئے خشک راستہ بن جائے۔ منظر کا تصور کریں:‏ اسرائیل کیلئے بچ نکلنے کا محفوظ راستہ بناتے ہوئے، لاکھوں ٹن سمندر کا پانی دو اُونچی متوازی دیواروں کے طور پر کھڑا ہوا ہے۔ جی‌ہاں، وہ جنہوں نے خدا کیلئے صحتمندانہ خوف کا مظاہرہ کِیا اُنہیں تحفظ حاصل ہوا۔ اس کے بعد، فرؔعون کے لشکروں اور اُن کے تمام جن کی سازوسامان کو گھیرے میں لیتے ہوئے، یہوؔواہ نے اسے زورآور سیلاب کی اُمنڈتی ہوئی موج کے طور پر واپس پھیرتے ہوئے، پانیوں کو پھر چھوڑ دیا۔ بے‌بس معبودوں اور انسانی عسکری قوت کے خلاف الہٰی طاقت کا کیا ہی شاندار مظاہرہ!‏ یقینی طور پر، یہوؔواہ ہی وہ ہے جس کا خوف ماننا چاہئے، کیا وہ نہیں ہے؟—‏خروج ۱۴:‏۲۱، ۲۲، ۲۸؛ ۱۵:‏۸۔‏

خدا کیلئے اپنے خوف کا مظاہرہ کرنا

۱۵.‏ خدا کے بچانے کے زبردست کاموں کیلئے ہمارا کیا جوابی‌عمل ہونا چاہئے؟‏

۱۵ اگر ہم موسیٰؔ کے ساتھ بحفاظت کھڑے ہوتے تو یقینی طور پر ہم نے یہ گانے کی تحریک پائی ہوتی:‏ ”‏معبودوں میں اے خداوند۔ تیری مانند کون ہے؟ کون ہے جو تیری مانند اپنے تقدس کے باعث جلالی اور اپنی مدح کے سبب سے رُعب والا اور صاحبِ‌کرامات ہے؟“‏ (‏خروج ۱۵:‏۱۱)‏ اُس وقت سے لیکر ایسے جذبات صدیوں کے دوران گونجتے رہے ہیں۔ بائبل کی آخری کتاب میں، یوؔحنا رسول خدا کے مسح‌شُدہ وفادار خادموں کی ایک جماعت کو بیان کرتا ہے:‏ ”‏وہ خدا کے بندہ موسیٰؔ کا گیت اور برّہ کا گیت گا [‏رہے ہیں]‏۔“‏ یہ کونسا عظیم گیت ہے؟ ”‏اے خداوند خدا!‏ قادرِمطلق!‏ تیرے کام بڑے اور عجیب ہیں۔ اے ازلی بادشاہ!‏ تیری راہیں راست اور دُرست ہیں۔ اے خداوند!‏ کون تجھ سے نہ ڈرے گا؟ اور کون تیرے نام کی تمجید نہ کرے گا؟ کیونکہ صرف تُو ہی قدوس ہے؟“‏—‏مکاشفہ ۱۵:‏۲-‏۴‏۔‏

۱۶، ۱۷.‏ آجکل ہم کونسی شاندار ترقیاں ہوتے دیکھتے ہیں؟‏

۱۶ پس آج بھی ایسے رہائی پائے ہوئے پرستار ہیں جو نہ صرف خدا کے تخلیقی کاموں کی بلکہ اُس کے احکام کی بھی قدردانی کرتے ہیں۔ تمام اقوام میں سے لوگوں نے روحانی اعتبار سے آزادی حاصل کی ہے، اس آلودہ دُنیا سے الگ ہوگئے ہیں کیونکہ وہ خدا کے راست احکامات کو سمجھتے اور اُن پر عمل کرتے ہیں۔ ہر سال، لاکھوں لوگ یہوؔواہ کے پرستاروں کی دیانتدار اور پاک‌صاف تنظیم میں سکونت کرنے کیلئے اس خراب دُنیا سے نکل رہے ہیں۔ جلد ہی، جھوٹے مذہب اور اس باقیماندہ شریر نظام‌العمل کے خلاف خدا کی غضبناک سزا کے عمل میں آنے کے بعد، وہ ابد تک راست نئی دُنیا میں زندگی بسر کرینگے۔‏

۱۷ مکاشفہ ۱۴:‏۶، ۷ کی مطابقت میں، نوعِ‌انسان اب ملکوتی ہدایت کے تحت یہوؔواہ کے گواہوں کے ذریعے سنائے جانے والے عدالتی سزا کے آگاہی کے پیغام کو سُن رہے ہیں۔ گزشتہ سال ۲۳۰ سے زیادہ ممالک میں، کوئی پانچ ملین گواہوں نے خدا کی بادشاہت کی خوشخبری اور اُس کی عدالت کے وقت کا اعلان کِیا۔ اپنے ساتھی انسانوں کو بقا کیلئے تعلیم دینے کی غرض سے، گواہوں نے مُفت بائبل مطالعے منعقد کراتے ہوئے، لوگوں کے گھروں پر باقاعدہ ملاقاتیں کیں۔ یوں ہر سال لاکھوں دانشمندی کیساتھ سچے خدا کا خوف ماننے کی بابت بہت کچھ سیکھتے ہیں، اُس کیلئے اپنی زندگیاں مخصوص کرتے ہیں اور بپتسمہ لیتے ہیں۔ یہ کس قدر خوشی کی بات ہے کہ ایسے لوگ سچے خدا کا خوف ماننے لگے ہیں!‏—‏لوقا ۱:‏۴۹-‏۵۱؛‏ اعمال ۹:‏۳۱‏؛ مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۱:‏۷‏۔‏

۱۸.‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ فرشتے ہمارے منادی کے کام میں شامل ہیں؟‏

۱۸ کیا یہ بات سچ ہے کہ فرشتے منادی کے اس کام میں شریک ہیں؟ جی‌ہاں، یقینی طور پر یہ بالکل واضح ہے کہ اکثر فرشتگان کی راہنمائی یہوؔواہ کے گواہوں کو ایک ایسے گھر پر لے گئی ہے جہاں کوئی پریشان‌حال انسان روحانی مدد کا مشتاق تھا، حتیٰ‌کہ اس کیلئے دُعا کر رہا تھا!‏ مثال کے طور پر، یہوؔواہ کی دو گواہ ایک چھوٹے بچے کے ہمراہ ایک کریبیئن جزیرے میں خوشخبری سنا رہی تھیں۔ جب دوپہر ہوئی تو دونوں بالغوں نے اُس دن کیلئے کام بند کرنے کا فیصلہ کِیا۔ لیکن خلافِ‌معمول بچہ اگلے گھر میں ملاقات کرنے کیلئے بضد تھا۔ جب اُس نے دیکھا کہ بالغ اُس وقت ایسا کرنے کیلئے تیار نہیں تو وہ خود ہی آگے بڑھا اور دستک دی۔ ایک جوان خاتون نے دروازہ کھولا۔ جب بالغوں نے یہ دیکھا تو وہ گئیں اور اُس کیساتھ گفتگو کی۔ اُس نے اُنہیں اندر آنے کی دعوت دی اور واضح کِیا کہ ٹھیک اُس وقت جب اُس نے دروازے پر دستک سنی، وہ خدا سے دُعا کر رہی تھی کہ گواہوں کو اُس کے پاس بھیج تاکہ وہ اُسے بائبل سکھائیں۔ ایک بائبل مطالعے کیلئے انتظامات کئے گئے۔‏

۱۹.‏ خدا کا خوف ماننے کے فائدے کے طور پر ہم کس چیز کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں؟‏

۱۹ جب ہم وفاداری کیساتھ خدا کا عدالتی پیغام پیش کرتے ہیں تو ہم اس کیساتھ ساتھ اُس کے راست احکامات کی تعلیم بھی دیتے ہیں۔ جب ان کا اطلاق لوگوں کی زندگیوں میں کِیا جاتا ہے تو جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی برکات حاصل ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، بائبل ہر طرح کی جنسی بداخلاقی کی مذمت کرنے میں بڑی واضح ہے۔ (‏رومیوں ۱:‏۲۶، ۲۷،‏ ۳۲‏)‏ آجکل دُنیا میں الہٰی معیاروں کو وسیع پیمانے پر نظرانداز کِیا جاتا ہے۔ نتیجہ کیا ہے؟ شادیاں ٹوٹ رہی ہیں۔ برائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سخت نقصان پہنچانے والی جنسی طور پر لگنے والی بیماریاں، جوکہ اس ۲۰ ویں صدی میں وبائی صورت اختیار کر گئی ہیں، پھیل رہی ہیں۔ بِلاشُبہ، ایڈز کی دہشتناک بیماری بڑی حد تک جنسی بداخلاقی کے ذریعے پھیلی ہے۔ لیکن کیا خدا کا بااحترام خوف سچے پرستاروں کے لئے بہت زیادہ تحفظ کا باعث ثابت نہیں ہوا ہے؟—‏۲-‏کرنتھیوں ۷:‏۱؛‏ فلپیوں ۲:‏۱۲‏؛ نیز دیکھیں اعمال ۱۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

اب خدا کا خوف ماننے کے نتائج

۲۰.‏ کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ دوسرے لوگ یہوؔواہ کے گواہوں کی نیکنامی سے واقف ہیں؟‏

۲۰ جو خدا کا خوف مانتے اور اُسکے حکموں پر عمل کرتے ہیں اُن کیلئے برکات بکثرت ہیں۔ ایک واقعہ پر غور کریں جو اس حقیقت کو زیادہ سے زیادہ سچا ثابت کرتا ہے کہ یہوؔواہ کے گواہ اخلاقی طور پر راست مسیحیوں کی پُرامن برادری کو تشکیل دیتے ہیں۔ جنوبی اؔمریکہ میں ایک بین‌الاقوامی کنونشن کے مندوبین کے طور پر، بہت سے گواہ ایک ہوٹل میں قیام‌پذیر تھے جسے ایک رات کے لئے گواہوں کے علاوہ کسی دوسرے اجتماع کے لئے بھی استعمال کِیا گیا تھا جہاں پر کہ قوم کے صدر نے خطاب کرنا تھا۔ جوں ہی سیکیورٹی ٹیم نے جلدی سے صدر کو لفٹ میں بٹھایا، ایک گواہ جو اس بات سے واقف نہیں تھی کہ لفٹ میں کون ہے، اندر داخل ہوگئی، سیکیورٹی کے آدمیوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی!‏ اس بات کا احساس ہوتے ہی کہ اس نے کیا کِیا ہے، گواہ نے بیجا مداخلت کے لئے معذرت چاہی۔ اُس نے اپنا کنونشن کا بِلا (‏بیج)‏ دکھایا جو اُس کی شناخت بطور ایک گواہ کے کروا رہا تھا اور کہا کہ وہ صدر کے لئے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے۔ مسکراتے ہوئے، ایک گارڈ نے کہا:‏ ”‏اگر سب لوگ یہوؔواہ کے گواہوں کی مانند ہوتے تو ہمیں اس قسم کی سیکیورٹی کی کوئی ضرورت نہ ہوتی۔“‏—‏یسعیاہ ۲:‏۲-‏۴‏۔‏

۲۱.‏ آجکل لوگوں کیلئے کس قسم کی روشیں اختیار کرنے کا موقع ہے؟‏

۲۱ اس طرح کے لوگ ہیں جنہیں یہوؔواہ اب جمع کر رہا اور اُس ’‏بڑی مصیبت میں سے بچ نکلنے‘‏ کے لئے تیار کر رہا ہے جو اس نظام کا خاتمہ کرتی ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹، ۱۰،‏ ۱۴‏)‏ ایسا بچاؤ محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ بچ نکلنے کے لئے، ایک شخص کو یہوؔواہ کا خوف ماننا چاہئے، اُسے جائز حاکمِ‌اعلیٰ کے طور پر تسلیم کرنا چاہئے اور خود کو اُس کیلئے مخصوص کرنا چاہئے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ اکثریت اس طرح کا خوف پیدا نہیں کرے گی جوکہ تحفظ کا باعث ہوگا۔ (‏زبور ۲:‏۱-‏۶‏)‏ تمام دستیاب شہادت کے مطابق، یہوؔواہ کا منتخب حکمران، یسوؔع مسیح، ۱۹۱۴ کے بحرانی سال سے لیکر بادشاہ کے طور پر حکمرانی کر رہا ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ اُن اشخاص کے لئے جو یہوؔواہ کا خوشگوار خوف پیدا کرنا اور ظاہر کرنا چاہتے ہیں باقیماندہ وقت بڑی تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ پھربھی ہمارا خالق لوگوں کو اجازت دے رہا ہے، اُن لوگوں کو بھی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں تاکہ جوابی‌عمل دکھائیں:‏ ”‏اب اے بادشاہو!‏ دانشمند بنو۔ اے زمین کے عدالت کرنے والو تربیت پاؤ۔ ڈرتے ہوئے خداوند کی عبادت کرو۔ کانپتے ہوئے خوشی مناؤ۔ بیٹے کو چومو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ قہر میں آئے اور تُم راستہ میں ہلاک ہو جاؤ کیونکہ اُس کا غضب جلد بھڑکنے کو ہے۔ مبارک ہیں وہ سب جن کا توکل اُس پر ہے۔“‏—‏زبور ۲:‏۷-‏۱۲‏۔‏

۲۲.‏ اُن کیلئے مستقبل کیا تھامے ہوئے ہے جو اس وقت خدا کا خوف مانتے ہیں؟‏

۲۲ دُعا ہے کہ ہم اُن میں سے ہوں جو ہمارے خالق کی بطور ہمارے رہائی دلانے والے کے مدح‌سرائی کرتے ہیں۔ تاہم، یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ اب خدائے برحق کا خوف مانیں!‏ (‏مقابلہ کریں زبور ۲:‏۱۱؛‏ عبرانیوں ۱۲:‏۲۸؛‏ ۱-‏پطرس ۱:‏۱۷‏۔)‏ ہمیں اُس کے راست احکام کو سیکھتے اور اُن کی فرمانبرداری کرتے رہنا ہوگا۔ مکاشفہ ۱۵:‏۳، ۴‏، میں درج موسیٰؔ اور برّے کا گیت، اُس وقت نقطۂ‌عروج کو پہنچ جائیگا جب یہوؔواہ زمین پر سے تمام بدکاری کو ختم کر دیتا ہے اور انسان اور اُس کے زمینی گھر کو گناہ کے آلودہ کرنے والے اثرات سے پاک‌صاف کرنا شروع کرتا ہے۔ اس کے بعد، ہم اپنے پورے دل سے گائینگے:‏ ”‏اے خداوند خدا!‏ قادرِمطلق!‏ تیرے کام بڑے اور عجیب ہیں۔ اے ازلی بادشاہ!‏ تیری راہیں راست اور درست ہیں۔ اے خداوند!‏ کون تجھ سے نہ ڈرے گا؟ اور کون تیرے نام کی تمجید نہ کرے گا؟“‏

کیا آپکو یاد ہے؟‏

▫ یہوؔواہ ہمارے صحتمندانہ خوف کا کیوں مستحق ہے؟‏

▫ بحرِقلزؔم پر خدا کی کامرانیوں سے کیا چیز ظاہر کی گئی تھی؟‏

▫ یہوؔواہ کیلئے ہمارے بااحترام خوف سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟‏

▫ جو اب سچے خدا کا خوف مانتے ہیں کس قسم کا مستقبل اُن کا منتظر ہے؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں