یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏11 ص.‏ 8-‏12
  • جھوٹے معبودوں کے برخلاف گواہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جھوٹے معبودوں کے برخلاف گواہ
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • سچائی کیلئے اؔبرہام کی گواہی
  • گواہوں کی ایک اُمت
  • معبودوں کا امتحان
  • الہٰی حاکمیت کے حق میں مسیحی گواہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • یہوواہ کے گواہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2014ء
  • ‏”‏ایمان پر چلتے ہیں نہ کہ آنکھوں دیکھے پر“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • وہ خدا کی مخصوص قوم میں پیدا ہوئے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏11 ص.‏ 8-‏12

جھوٹے معبودوں کے برخلاف گواہ

‏”‏خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے مَیں نے برگزیدہ کِیا۔“‏—‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۰‏۔‏

۱.‏ سچا خدا کون ہے، اور آجکل پرستش کئے جانے والے بکثرت معبودوں سے وہ کسطرح افضل ہے؟‏

سچا خدا کون ہے؟ آجکل، یہ نہایت اہم سوال تمام نوعِ‌انسان کو درپیش ہے۔ اگرچہ انسان بکثرت معبودوں کی پرستش کرتے ہیں، صرف ایک ہی ہمیں زندگی بخش سکتا اور ہمیں خوش‌آئند مستقبل پیش کر سکتا ہے۔ صرف ایک ہی کے حق میں یہ کہا جا سکتا ہے:‏ ”‏اُسی میں ہم جیتے اور چلتے پھرتے اور موجود ہیں۔“‏ (‏اعمال ۱۷:‏۲۸‏)‏ یقیناً، صرف ایک ہی خدا پرستش کئے جانے کا حق رکھتا ہے۔ جیساکہ مکاشفہ کی کتاب میں ایک آسمانی طائفہ کہتا ہے:‏ ”‏اَے ہمارے خداوند اور خدا تُو ہی تمجید اور عزت اور قدرت کے لائق ہے کیونکہ تُو ہی نے سب چیزیں پیدا کیں اور وہ تیری ہی مرضی سے تھیں اور پیدا ہوئیں۔“‏—‏مکاشفہ ۴:‏۱۱‏۔‏

۲، ۳.‏ (‏ا)‏ شیطان نے کس طرح دروغگوئی سے یہوؔواہ کے پرستش کئے جانے کے حق کو للکارا؟ (‏ب)‏ حوؔا اور اُسکے بچوں کیلئے حوؔا کے گناہ کا کیا نتیجہ نکلا تھا، اور شیطان کیلئے کیا نتیجہ نکلا تھا؟‏

۲ باغِ‌عدن میں، شیطان نے دروغگوئی سے یہوؔواہ کے پرستش کئے جانے کے حق کو للکارا۔ ایک سانپ کو استعمال کرتے ہوئے، اُس نے حوؔا کو بتایا کہ اگر وہ یہوؔواہ کے قانون کے خلاف بغاوت کرے اور اُس درخت میں سے کھا لے جسے یہوؔواہ نے منع کِیا تھا تو وہ خود خدا کی مانند بن جائیگی۔ اُسکے الفاظ یہ تھے:‏ ”‏خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اُسے کھاؤگے تمہاری آنکھیں کُھل جائینگی اور تم خدا کی مانند نیک‌وبد کے جاننے والے بن جاؤگے۔“‏ (‏پیدایش ۳:‏۵‏)‏ حوؔا نے سانپ کی بات کا یقین کِیا اور ممنوعہ پھل کھا لیا۔‏

۳ یقیناً، شیطان نے جھوٹ بولا تھا۔ (‏یوحنا ۸:‏۴۴‏)‏ حوؔا اپنے گناہ کرنے پر جس ایک طریقے سے ”‏خدا کی مانند“‏ بنی وہ یہ تھا کہ اُس نے اِس بات کو طے کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، ایسی چیز جو صرف یہوؔواہ کے اختیار میں ہونی چاہئے تھی۔ اور شیطان کے جھوٹ کے باوجود، انجام‌کار وہ مر گئی۔ لہٰذا حوؔا کے گناہ سے حقیقی فائدہ اُٹھانے والا صرف شیطان ہی تھا۔ یقیناً، گناہ کرنے کیلئے حوؔا کو ورغلانے میں شیطان کا غیرمبیّنہ نصب‌العین خود ایک خدا بننا تھا۔ جب حوؔا نے گناہ کِیا تو وہ اُس کی پہلی انسانی پیروکار بن گئی اور جلد ہی آؔدم اُس کیساتھ مِل گیا۔ اُنکے زیادہ‌تر بچے نہ صرف گناہ کی حالت میں پیدا ہوئے بلکہ شیطان کے زیرِاثر بھی آ گئے اور تھوڑی دیر بعد، پوری دُنیا جو خدا سے جُدا تھی معرضِ‌وجود میں آئی۔—‏پیدایش ۶:‏۵؛‏ زبور ۵۱:‏۵‏۔‏

۴.‏ (‏ا)‏ اِس جہان کا خدا کون ہے؟ (‏ب)‏ کس چیز کی فوری ضرورت ہے؟‏

۴ وہ دُنیا طوفان میں تباہ کر دی گئی تھی۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۶‏)‏ طوفان کے بعد یہوؔواہ سے جُدا ایک اَور دُنیا نے فروغ پایا، اور یہ ابھی تک موجود ہے۔ اِسکی بابت بائبل کہتی ہے:‏ ”‏ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۵:‏۱۹‏)‏ اِس کے یہوؔواہ کے قانون کی اہمیت اور حقیقی مفہوم کے خلاف عمل کرنے سے، یہ دُنیا شیطان کے مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ وہ اِس کا خدا ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴‏)‏ تاہم، بنیادی طور پر وہ ایک بے‌بس خدا ہے۔ وہ لوگوں کو خوشی یا اُنہیں زندگی نہیں دے سکتا، صرف یہوؔواہ ہی ایسا کر سکتا ہے۔ لہٰذا، وہ لوگ جو ایک پُرمطلب زندگی اور ایک بہتر دُنیا کی تمنا رکھتے ہیں اُنہیں پہلے یہ سیکھنا چاہئے کہ یہوؔواہ سچا خدا ہے اور اِسکے بعد اُسکی مرضی بجا لانا سیکھیں۔ (‏زبور ۳۷:‏۱۸،‏ ۲۷، ۲۸؛‏ واعظ ۱۲:‏۱۳‏)‏ پس ایماندار مردوں اور عورتوں کیلئے یہوؔواہ کی بابت گواہی دینے یا سچائی بیان کرنے کی اشد ضرورت ہے۔‏

۵.‏ پولسؔ ”‏گواہوں کے“‏ کس ”‏بادل“‏ کا ذکر کرتا ہے؟ بعض لوگوں کے نام لیں جنہیں وہ فہرست میں شامل کرتا ہے۔‏

۵ بنایِ‌عالم سے ہی، ایسے ایماندار افراد منظرِعالم پر نمودار ہوئے ہیں۔ پولسؔ رسول، عبرانیوں ۱۱ باب میں، اُنکی ایک لمبی فہرست مہیا کرتا ہے اور اُنہیں ”‏گواہوں کا ایک بڑا بادل“‏ کہتا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۱‏)‏ آؔدم اور حوؔا کا دوسرا بیٹا، ہابلؔ، پولسؔ کی فہرست میں پہلا تھا۔ طوفان سے پیشتر کے وقت سے حنوکؔ اور نوؔح کا بھی ذکر کِیا گیا ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۴، ۵،‏ ۷‏)‏ یہودی نسل کا جد، اؔبرہام ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ اؔبرہام جو ”‏خدا کا دوست“‏ کہلاتا ہے، ”‏سچے اور برحق گواہ،“‏ یسوؔع کا جدامجد بنا۔—‏یعقوب ۲:‏۲۳؛‏ مکاشفہ ۳:‏۱۴‏۔‏

سچائی کیلئے اؔبرہام کی گواہی

۶، ۷.‏ کن طریقوں سے اؔبرہام کی زندگی اور افعال اِس بات کے گواہ تھے کہ یہوؔواہ سچا خدا ہے؟‏

۶ اؔبرہام نے بطور گواہ کیسے کام کِیا؟ یہوؔواہ پر اپنے مضبوط ایمان اور باوفا فرمانبرداری کے ذریعے۔ جب اؔبرہام کو اُوؔر کا شہر چھوڑنے اور اپنی باقی زندگی ایک دُورافتادہ ملک میں بسر کرنے کا حکم دیا گیا تو اُس نے فرمانبرداری کی۔ (‏پیدایش ۱۵:‏۷؛‏ اعمال ۷:‏۲-‏۴‏)‏ خانہ‌بدوش قبائلی لوگ اکثر اپنی مسافرانہ زندگی کو ترک کر دیتے اور شہر کی زیادہ محفوظ زندگی کیلئے فیصلہ کرتے ہیں۔ لہٰذا، جب اؔبرہام نے خیموں میں زندگی بسر کرنے کیلئے شہر کو چھوڑ دیا تو اُس نے یہوؔواہ خدا پر اپنے بھروسے کا زبردست ثبوت دیا۔ اُسکی فرمانبرداری مشاہدین کیلئے گواہی تھی۔ یہوؔواہ نے اؔبرہام کو اُسکے ایمان کے باعث کثرت سے برکت دی۔ خیموں میں بسنے کے باوجود، اؔبرہام نے مادی لحاظ سے ترقی کی۔ جب لوؔط اور اُسکے خاندان کو اسیر کر لیا گیا تو یہوؔواہ نے اؔبرہام کو اُسکے کام میں کامیابی سے ہمکنار کِیا اس طرح وہ اُنہیں چھڑانے کے قابل ہوا۔ اؔبرہام کی بیوی نے اپنے بڑھاپے میں ایک بیٹے کو جنم دیا اور یوں یہوؔواہ کے اُس وعدے کی تصدیق ہو گئی تھی کہ اؔبرہام سے ایک نسل نکلے گی۔ اؔبرہام کے وسیلے سے لوگوں نے دیکھا کہ یہوؔواہ ایک زندہ خدا ہے جو اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے۔—‏پیدایش ۱۲:‏۱-‏۳؛‏ ۱۴:‏۱۴-‏۱۶؛‏ ۲۱:‏۱-‏۷‏۔‏

۷ لوؔط کو چھڑا کر واپس لوٹتے ہوئے، اؔبرہام کی ملاقات سالمؔ (‏جو بعد میں یرؔوشلیم کہلایا)‏ کے بادشاہ، ملکِ‌صدؔق سے ہوئی جس نے یہ کہتے ہوئے اؔبرہام کا خیرمقدم کِیا:‏ ”‏خدا تعالےٰ کی طرف سے .‏ .‏ .‏ اؔبرام مبارک ہو۔“‏ سدؔوم کا بادشاہ بھی اُس سے ملا اور تحائف دینا چاہتا تھا۔ اؔبرہام نے انکار کر دیا۔ کیوں؟ وہ اپنی برکات کے ماخذ کے سلسلے میں کسی شک کی گنجائش چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اُس نے کہا:‏ ”‏مَیں نے خداوند خداتعالےٰ آسمان اور زمین کے مالک کی قسم کھائی ہے کہ مَیں نہ تو کوئی دھاگا نہ جوتی کا تسمہ نہ تیری اَور کوئی چیز لوں تاکہ تُو یہ نہ کہہ سکے کہ مَیں نے اؔبرام کو دولتمند بنا دیا۔“‏ (‏پیدایش ۱۴:‏۱۷-‏۲۴‏)‏ اؔبرہام کیا ہی عمدہ گواہ تھا!‏

گواہوں کی ایک اُمت

۸.‏ موسیٰؔ نے یہوؔواہ پر کیسے بڑا ایمان دکھایا؟‏

۸ اؔبرہام کی نسل، موسیٰؔ بھی پولسؔ کی گواہوں کی فہرست میں نظر آتا ہے۔ موسیٰؔ نے مصرؔ کے مال‌ودولت سے مُنہ پھیر لیا اور بعد میں آزادی کی جانب بنی‌اسرائیل کی پیشوائی کرنے کیلئے اُس بڑی عالمی طاقت کے حکمران کا دلیری سے سامنا کِیا۔ اُس میں کہاں سے جرأت آ گئی؟ اپنے ایمان سے۔ پولسؔ کہتا ہے:‏ ”‏[‏موسیٰؔ]‏ اندیکھے کو گویا دیکھ کر ثابت‌قدم رہا۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۲۷‏)‏ مصرؔ کے دیوتاؤں کو دیکھا اور چھوا جا سکتا تھا۔ آجکل بھی، اُنکے مجسّمے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں۔ لیکن یہوؔواہ، نادیدہ ہونے کے باوجود، اُن تمام جھوٹے دیوتاؤں کی بہ‌نسبت موسیٰؔ کیلئے کہیں زیادہ حقیقی تھا۔ موسیٰؔ کو کوئی شک نہیں تھا کہ یہوؔواہ موجود ہے اور یہ کہ وہ اپنے پرستاروں کو بدلہ دیگا۔ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ موسیٰؔ ایک ممتاز گواہ بن گیا۔‏

۹.‏ اسرائیل کی اُمت کو یہوؔواہ کی خدمت کیسے کرنا تھی؟‏

۹ اسرائیل کو آزادی سے ہمکنار کرنے کے بعد، یہوؔواہ اور یعقوؔب کے ذریعے اؔبرہام کی آل‌اولاد کے درمیان موسیٰؔ عہد کا درمیانی بنا۔ نتیجے کے طور پر، اسرائیل کی اُمت یہوؔواہ کی خاص ملکیت کے طور پر وجود میں آئی۔ (‏خروج ۱۹:‏۵، ۶)‏ پہلی مرتبہ ایک قومی گواہی دی جانی تھی۔ کوئی ۸۰۰ سال بعد، یسعیاؔہ کے ذریعے یہوؔواہ کے الفاظ اُمت کے وجود کے آغاز سے ہی اصولی طور پر عائد ہوئے تھے:‏ ”‏خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے مَیں نے برگزیدہ کِیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ مَیں وہی ہوں۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۰‏)‏ یہ نئی اُمت یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر کسطرح کام سرانجام دیگی؟ اپنے ایمان اور فرمانبرداری سے اور اُنکی خاطر یہوؔواہ کے کاموں کے ذریعے سے۔‏

۱۰.‏ اسرائیل کے حق میں یہوؔواہ کے زبردست کام کس طریقے سے گواہی فراہم کرتے ہیں، اور کن نتائج کے ساتھ؟‏

۱۰ اِس کے آغاز سے کوئی ۴۰ برس بعد، اسرائیل موعودہ ملک پر قبضہ کرنے والا تھا۔ جاسوس یریحوؔ کے شہر کی جاسوسی کرنے کیلئے گئے اور یریحوؔ کی رہنے والی ایک عورت، راؔحب نے اُنکی حفاظت کی۔ کیوں؟ اُس نے کہا:‏ ”‏ہم نے سُن لیا ہے کہ جب تم مصرؔ سے نکلے تو خداوند نے تمہارے آگے بحرِقلزم کے پانی کو سکھا دیا اور تم نے اموریوں کے دونوں بادشاہوں سیحوؔن اور عوؔج سے جو یرؔدن کے اُس پار تھے اور جنکو تم نے بالکل ہلاک کر ڈالا کیا کیا کِیا۔ یہ سب کچھ سنتے ہی ہمارے دل پگھل گئے اور تمہارے باعث پھر کسی شخص میں جان باقی نہ رہی کیونکہ خداوند تمہارا خدا ہی اُوپر آسمان کا اور نیچے زمین کا خدا ہے۔“‏ (‏یشوع ۲:‏۱۰، ۱۱)‏ یہوؔواہ کے زبردست کاموں کی رپورٹ نے راؔحب اور اُسکے خاندان کو یریحوؔ اور اُسکے جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے اور اسرائیل کیساتھ مِل کر یہوؔواہ کی پرستش کرنے کی تحریک دی۔ واضح طور پر، یہوؔواہ نے اسرائیل کے ذریعے زبردست گواہی دی تھی۔—‏یشوع ۶:‏۲۵۔‏

۱۱.‏ گواہی دینے کے سلسلے میں تمام اسرائیلی والدین کیا ذمہ‌داری رکھتے تھے؟‏

۱۱ جبکہ اسرائیلی ابھی مصرؔ ہی میں تھے، یہوؔواہ نے موسیٰؔ کو فرؔعون کے پاس بھیجا اور کہا:‏ ”‏فرؔعون کے پاس جا کیونکہ مَیں ہی نے اُسکے دل اور اُسکے نوکروں کے دل کو سخت کر دیا ہے تاکہ مَیں اپنے یہ نشان اُن کے بیچ دکھاؤں۔ اور تُو اپنے بیٹے اور اپنے پوتے کو میرے نشان اور وہ کام جو مَیں نے مصرؔ میں اُن کے درمیان کئے سنائے اور تم جان لو کہ خداوند مَیں ہی ہوں۔“‏ (‏خروج ۱۰:‏۱، ۲)‏ فرمانبردار اسرائیلی اپنے بچوں کو یہوؔواہ کے زبردست کاموں کی بابت بتائیں گے۔ پھر اُنکے بچے اپنے بچوں کو بتائیں گے اور یوں نسل‌درنسل ایسا کِیا جائیگا۔ لہٰذا، یہوؔواہ کے زبردست کاموں کو یاد رکھا جائیگا۔ اِسی طرح آجکل، والدین اپنے بچوں کو گواہی دینے کی ذمہ‌داری رکھتے ہیں۔—‏استثنا ۶:‏۴-‏۷؛‏ امثال ۲۲:‏۶‏۔‏

۱۲.‏ سلیماؔن اور اسرائیل پر یہوؔواہ کی برکت نے کسطرح ایک گواہی کا کام دیا؟‏

۱۲ جب اسرائیل وفادار تھا تو اُس پر یہوؔواہ کی کثیر برکت نے گِردونواح کی اقوام کیلئے گواہی کا کام دیا۔ یہوؔواہ کی موعودہ برکات کو بیان کرنے کے بعد جیسے‌کہ موسیٰؔ نے کہا:‏ ”‏دُنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تُو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے تجھ سے ڈر جائینگی۔“‏ (‏استثنا ۲۸:‏۱۰)‏ سلیماؔن کو اُسکے ایمان کے باعث حکمت اور دولت بخشی گئی تھی۔ اُسکی حکومت کے تحت قوم نے ترقی کی اور اَمن کے ایک طویل دَور سے لطف اُٹھایا۔ اُس وقت کے متعلق ہم پڑھتے ہیں:‏ ”‏سب قوموں میں سے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے اُسکی حکمت کی شہرت سنی تھی لوگ سلیماؔن کی حکمت کو سننے آتے تھے۔“‏ (‏۱-‏سلاطین ۴:‏۲۵،‏ ۲۹، ۳۰،‏ ۳۴‏)‏ سلیماؔن کے ملاقاتیوں میں سب سے نمایاں سباؔ کی ملکہ تھی۔ قوم اور اِسکے بادشاہ پر یہوؔواہ کی برکت کو خود دیکھ لینے کے بعد، اُس نے کہا:‏ ”‏خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا راضی ہوا کہ تجھکو اپنے تخت پر بٹھایا تاکہ تُو خداوند اپنے خدا کی طرف سے بادشاہ ہو۔ چونکہ تیرے خدا کو اسرائیل سے محبت تھی۔“‏—‏۲-‏تواریخ ۹:‏۸‏۔‏

۱۳.‏ اسرائیل کی سب سے مؤثر گواہی کونسی ہو سکتی تھی، اور ہم ابھی تک اِس سے کیسے مستفید ہوتے ہیں؟‏

۱۳ شاید اسرائیل کی جو سب سے مؤثر گواہی تھی پولسؔ نے اُسکا ذکر کِیا۔ رؔوم میں مسیحی کلیسیا کے ساتھ جسمانی اسرائیل پر بات‌چیت کرتے ہوئے، اُس نے کہا:‏ ”‏خدا کا کلام اُنکے سپرد ہوا۔“‏ (‏رومیوں ۳:‏۱، ۲‏)‏ موسیٰؔ سے شروع کرکے بعض اسرائیلیوں کو اسرائیل کے ساتھ یہوؔواہ کے تعلقات اور اُسکی مشورت، اُسکے قوانین، اور اُسکی پیشینگوئیاں قلمبند کرنے کا الہام دیا گیا تھا۔ اِن تصانیف کے ذریعے اُن قدیم فقیہوں نے آنے والی تمام نسلوں کو—‏آجکل ہماری نسل سمیت—‏گواہی دی کہ صرف ایک ہی خدا ہے اور اُسکا نام یہوؔواہ ہے۔—‏دانی‌ایل ۱۲:‏۹؛‏ ۱-‏پطرس ۱:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

۱۴.‏ جن چند لوگوں نے یہوؔواہ کیلئے گواہی دی اُنہوں نے اذیت کیوں اُٹھائی؟‏

۱۴ افسوس کی بات ہے کہ اسرائیل ایمان دکھانے میں بار بار ناکام ہوا، اور پھر یہوؔواہ کو اپنی ہی اُمت کے پاس گواہ بھیجنے پڑے۔ اِن میں سے بہتیروں کو اذیت پہنچائی گئی۔ پولسؔ نے کہا کہ بعض ”‏ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے اور کوڑے کھانے بلکہ زنجیروں میں باندھے جانے اور قید میں پڑنے سے آزمائے گئے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۳۶‏)‏ واقعی وفادار گواہ!‏ کتنے دُکھ کی بات ہے کہ اُنہیں اکثر یہوؔواہ کی برگزیدہ اُمت کے ساتھی ارکان کی طرف سے ہی اذیتیں اُٹھانی پڑی تھیں!‏ (‏متی ۲۳:‏۳۱،‏ ۳۷‏)‏ دراصل، اُس اُمت کا گناہ اتنا بڑھ گیا کہ ۶۰۷ ق.‏س.‏ع.‏ میں یہوؔواہ یرؔوشلیم کو اُسکی ہیکل سمیت تباہ کرنے اور زندہ بچنے والے اسرائیلیوں کو اسیری میں لے جانے کیلئے بابلیوں کو چڑھا لایا۔ (‏یرمیاہ ۲۰:‏۴؛‏ ۲۱:‏۱۰‏)‏ کیا یہ یہوؔواہ کے نام کیلئے قومی گواہی کا اختتام تھا؟ نہیں۔‏

معبودوں کا امتحان

۱۵.‏ بابلی اسیری میں بھی کسطرح ایک گواہی دی گئی تھی؟‏

۱۵ بابلی اسیری میں بھی، قوم کے وفادار ارکان یہوؔواہ کی معبودیت اور قدرت کی بابت گواہی دینے سے نہ ہچکچائے۔ مثال کے طور پر، دانیؔ‌ایل نے دلیری کے ساتھ نبوکدؔنضر کے خوابوں کی تعبیر کی، بیلشضرؔ کیلئے دیوار پر کی تحریر کی وضاحت کی، اور دُعا کے معاملے میں داؔرا کے سامنے مصالحت کرنے سے انکار کر دیا۔ تین عبرانیوں نے بھی، ایک مورت کو سجدہ کرنے سے انکار کرتے وقت، نبوکدؔنضر کو ایک شاندار گواہی دی۔—‏دانی‌ایل ۳:‏۱۳-‏۱۸؛‏ ۵:‏۱۳-‏۲۹؛‏ ۶:‏۴-‏۲۷‏۔‏

۱۶.‏ یہوؔواہ نے اسرائیل کی اپنے ملک میں واپسی کی پیشگوئی کیسے کی، اور اِس واپسی کا مقصد کیا ہوگا؟‏

۱۶ تاہم، یہوؔواہ نے قصد کِیا کہ اسرائیل کی سرزمین پر ایک بار پھر قومی گواہی دی جائے گی۔ حزقیؔ‌ایل، جس نے بابلؔ میں اسیر یہودیوں کے درمیان نبوّت کی، تباہ‌شُدہ ملک کے سلسلے میں یہوؔواہ کے فیصلے کی بابت لکھا:‏ ”‏مَیں آدمیوں کو ہاں اسرائیل کے تمام گھرانے کو تم پر بہت بڑھاؤنگا اور شہر آباد ہونگے اور کھنڈر پھر تعمیر کئے جائینگے۔“‏ (‏حزقی‌ایل ۳۶:‏۱۰)‏ یہوؔواہ کیوں ایسا کریگا؟ بنیادی طور پر اپنے ذاتی نام کی گواہی کیلئے۔ حزقیؔ‌ایل کے ذریعے اُس نے کہا:‏ ”‏اَے بنی اسرائیل تمہاری خاطر نہیں بلکہ اپنے مُقدس نام کی خاطر جسکو تم نے اُن قوموں کے درمیان جہاں تم گئے تھے ناپاک کِیا یہ کرتا ہوں۔“‏—‏حزقی‌ایل ۳۶:‏۲۲؛‏ یرمیاہ ۵۰:‏۲۸‏۔‏

۱۷.‏ یسعیاہ ۴۳:‏۱۰ کے الفاظ کا سیاق‌وسباق کیا ہے؟‏

۱۷ یہ بابلی اسیری سے اسرائیل کی واپسی کی پیشینگوئی کرتے وقت ہی تھا کہ یسعیاؔہ نبی کو یسعیاہ ۴۳:‏۱۰ کے الفاظ تحریر کرنے کا الہام دیا گیا، جنہوں نے کہا کہ اسرائیل یہوؔواہ کا گواہ، اُسکا خادم تھا۔ یسعیاہ ۴۳ اور ۴۴ میں، یہوؔواہ کو اسرائیل کے خالق، بنانے والے، خدا، قدوس، نجات‌دہندہ، فدیہ دینے والے، بادشاہ، اور صانع کے طور پر بیان کِیا گیا ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۳،‏ ۱۴، ۱۵؛‏ ۴۴:‏۲‏)‏ اسرائیل کی اسیری کی اجازت اسلئے دی گئی تھی کیونکہ خالق، خدا، اور صانع کے طور پر اُسکی تمجید کرنے میں یہ قوم بار بار ناکام ہو گئی تھی۔ تاہم، وہ ابھی تک اُسکے لوگ تھے۔ یہوؔواہ نے اُن سے کہا تھا:‏ ”‏خوف نہ کر کیونکہ مَیں نے تیرا فدیہ دیا ہے۔ مَیں نے تیرا نام لیکر تجھے بلا‌یا ہے۔ تُو میرا ہے۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱‏)‏ بابلؔ میں اسرائیل کی اسیری ختم ہوگی۔‏

۱۸.‏ بابلؔ سے اسرائیل کی آزادی نے کیسے ثابت کِیا کہ صرف یہوؔواہ ہی سچا خدا ہے؟‏

۱۸ یقیناً، یہوؔواہ نے بابلؔ سے اسرائیل کی آزادی کو معبودوں کا امتحان بنا دیا۔ اُس نے قوموں کے جھوٹے معبودوں کو اپنے گواہ لانے کا چیلنج کِیا، اور اُس نے اپنے گواہ کے طور پر اسرائیل کا نام لیا۔ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۹،‏ ۱۲‏)‏ جب اُس نے اسرائیل کی اسیری کے بندھنوں کو توڑ دیا تو اُس نے ثابت کر دیا کہ بابلؔ کے معبود ہرگز خدا نہیں تھے اور یہ بھی کہ صرف وہی سچا خدا ہے۔ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۴، ۱۵‏)‏ واقعہ سے کوئی ۲۰۰ سال پہلے، جب اُس نے یہودیوں کو رہا کرانے میں اپنے خادم کے طور پر فارس خوؔرس کو نامزد کِیا تو اُس نے اپنی معبودیت کا مزید ثبوت فراہم کِیا۔ (‏یسعیاہ ۴۴:‏۲۸‏)‏ اسرائیل آزاد کِیا جائیگا۔ کیوں؟ یہوؔواہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏تاکہ وہ [‏اسرائیل]‏ میری حمد کریں۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۲۱‏)‏ یہ گواہی کیلئے مزید موقع فراہم کریگا۔‏

۱۹.‏ یرؔوشلیم واپس جانے کیلئے اسرائیلیوں کو خوؔرس کے دعوت دینے سے اور اُس واپسی کے بعد وفادار یہودیوں کے کاموں سے کونسی گواہی دی گئی تھی؟‏

۱۹ جب وقت آیا تو فارس خوؔرس نے بابلؔ کو فتح کر لیا جیسا کہ پیشینگوئی کی گئی تھی۔ خوؔرس نے، بُت‌پرست ہونے کے باوجود، یہوؔواہ کی معبودیت کو بیان کِیا جب اُس نے بابلؔ میں یہودیوں کیلئے یہ اعلان جاری کِیا:‏ ”‏پس تمہارے درمیان جو کوئی اُس کی ساری قوم میں سے ہو اُسکا خدا اُسکے ساتھ ہو اور وہ یرؔوشلیم کو جو یہوؔداہ میں ہے جائے اور خداوند اسرائیل کے خدا کا گھر جو یرؔوشلیم میں ہے بنائے (‏خدا وُہی ہے)‏۔“‏ (‏عزرا ۱:‏۳‏)‏ بہت سے یہودی اثرپذیر ہوئے۔ وہ ایک لمبا سفر کرکے ملکِ‌موعود میں واپس آئے اور ہیکل کے پُرانے مقام پر ایک قربانگاہ کھڑی کی۔ حوصلہ‌شکنی اور شدید مخالفت کے باوجود، بالآخر وہ ہیکل اور یرؔوشلیم کا شہر ازسرِنو تعمیر کرنے کے قابل ہوئے۔ جیساکہ یہوؔواہ نے خود فرمایا، یہ سب کچھ ”‏نہ تو زور سے اور نہ توانائی سے بلکہ [‏اُسکی]‏ روح سے“‏ انجام پایا۔ (‏زکریاہ ۴:‏۶)‏ اِن کامرانیوں نے مزید ثبوت پیش کِیا کہ یہوؔواہ سچا خدا ہے۔‏

۲۰.‏ اسرائیل کی کمزوریوں کے باوجود، قدیم دُنیا میں یہوؔواہ کے نام کیلئے اُنکے گواہی دینے کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟‏

۲۰ لہٰذا، ناکامل اور بعض‌اوقات باغی لوگوں کی اُمت ہونے کے باوجود، یہوؔواہ اسرائیل کو اپنے گواہ کے طور پر استعمال کرتا رہا۔ مسیحیت سے قبل دُنیا میں، اِس قوم نے اپنی ہیکل اور کہانت کیساتھ سچی پرستش کے عالمی مرکز کی نمائندگی کی۔ جو کوئی بھی اسرائیل کے سلسلے میں یہوؔواہ کے کاموں کی بابت عبرانی صحائف میں پڑھتا ہے اُسے کسی قِسم کا شک نہیں رہتا کہ صرف ایک ہی سچا خدا ہے اور اُسکا نام یہوؔواہ ہے۔ (‏استثنا ۶:‏۴؛ زکریاہ ۱۴:‏۹)‏ تاہم، یہوؔواہ کے نام کیلئے بہت بڑی گواہی دی جانی تھی، اور ہم اگلے مضمون میں اِس پر گفتگو کرینگے۔ (‏۸ ۹/۰۱ w۹۵)‏

کیا آپ کو یاد ہے؟‏

▫ اؔبرہام نے کیسے گواہی دی کہ یہوؔواہ سچا خدا ہے؟‏

▫ موسیٰؔ کی کس ممتاز خوبی نے اُسے ایک وفادار گواہ بننے کے قابل بنایا؟‏

▫ کن طریقوں سے اسرائیل نے یہوؔواہ کی بابت قومی گواہی دی؟‏

▫ بابلؔ سے اسرائیل کی آزادی کس طرح اِس بات کا مظاہرہ تھی کہ یہوؔواہ واحد سچا خدا ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

اپنے ایمان اور فرمانبرداری سے، اؔبرہام نے یہوؔواہ کی معبودیت کیلئے ایک نمایاں گواہی دی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں