بےدین روایات کی مزاحمت کریں!
”سچائی تم کو آزاد کریگی،“ یسوؔع مسیح نے کہا۔ (یوحنا ۸:۳۲) جیہاں، مسیحیت لوگوں کو آزاد کرتی ہے—اوہامپرستی کی غلامی سے آزاد، جھوٹے عقائد پر اعتقاد اور اُمیدوں سے آزاد، گھٹیا دستورات کی قید سے آزاد۔
تاہم، پُرانے زمانے کی طرح، آج بھی مسیحی اکثر سابقہ روایات کی طرف لوٹنے کے دباؤ کا سامنا کرتے ہیں۔ (گلتیوں ۴:۹، ۱۰) بات یہ نہیں کہ تمام مقبولِعام رسمورواج نقصاندہ ہیں۔ بِلاشُبہ، ایک مسیحی ایسے مقامی رسمورواج کی پیروی کر سکتا ہے جو صحتمندانہ اور مفید ہیں۔ لیکن جب رسمورواج خدا کے کلام سے ٹکراتے ہیں تو مسیحی مصالحت نہیں کرتے۔ اسلئے یہوؔواہ کے گواہ کرسمس کی تقریبات، جنمدنوں اور دیگر ایسے رسمورواج میں حصہ لینے سے انکار کرنے کیلئے مشہور ہیں جو خدا کے کلام سے ٹکراتے ہیں۔
یہ جرأتمندانہ مؤقف اکثر واقفکاروں، پڑوسیوں اور بےایمان رشتہداروں کیطرف سے بہت زیادہ تمسخر اور مخالفت پر منتج ہوا ہے۔ بالخصوص بعض افریقی ممالک میں ایسا ہوا ہے، جہاں عام طور پر تجہیزوتکفین، شادیبیاہوں اور پیدائش کے سلسلے میں بیشمار مختلف روایات کی پابندی کی جاتی ہیں۔ اِنہیں ماننے کے دباؤ—اکثر دھمکیوں اور تشدد کی کارروائیوں سمیت شدید ہو سکتے ہیں۔ یہاں پر مسیحی کیسے ٹھوس مؤقف اختیار کر سکتے ہیں؟ کیا مصالحت کئے بغیر اس سے دوچار ہونے سے گریز کرنا ممکن ہے؟ اس کے جواب کیلئے، آیئے تجزیہ کریں کہ کسطرح وفادار مسیحی بعض غیرصحیفائی روایات کیساتھ نپٹے ہیں۔
تجہیزوتکفین کی اوہامپرستانہ رسومات
جنوبی افرؔیقہ میں تجہیزوتکفین اور تدفین سے متعلق بیشمار روایات ہیں۔ غمزدہ لوگ عموماً پوری رات—یا کئی راتیں—ماتمکدہ میں گزار دیتے ہیں، جہاں لگاتار آگ کو جلائے رکھا جاتا ہے۔ جب تک تدفین انجام نہیں پا جاتی، سوگواروں کیلئے پکانے، بال کٹانے، یا غسل تک کرنے کی بھی ممانعت ہوتی ہے۔ اسکے بعد، انہیں خود کو جڑیبوٹیوں کے ایک خاص مرکب سے پاکصاف کرنا ہوتا ہے۔ کیا ایسی رسومات مسیحیوں کیلئے قابلِقبول ہیں؟ جینہیں۔ یہ تمامتر جان کے غیرفانی ہونے اور مُردوں کے غیرصحتمندانہ خوف پر اعتقاد کو منعکس کرتی ہیں۔
واعظ ۹:۵ کہتی ہے: ”کیونکہ زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے۔“ اس سچائی کو جاننا ایک شخص کو ’مُردوں کی روحوں‘ کے ڈر سے آزاد کرتا ہے۔ لیکن اُس وقت ایک مسیحی کو کیا کرنا چاہئے جب نیکنیت رشتہدار یہ تقاضا کرتے ہیں کہ آپ ایسی رسومات میں شرکت کریں؟
جینؔ نامی ایک افریقی گواہ کے تجربہ پر غور کریں، جسکا والد فوت ہو گیا تھا۔ ماتمکدہ میں پہنچنے کیساتھ ہی، فوری طور پر اُسے بتایا گیا کہ اُسے اور باقیماندہ خاندان کو پوری رات لاش کے گرد رقص کرنا ہوگا تاکہ مُتوَفّی کی روح کو تسکین پہنچائی جائے۔ ”مَیں نے اُنہیں بتایا کہ ایک یہوؔواہ کی گواہ کے طور پر، مَیں ایسی رسومات میں حصہ نہیں لے سکتی،“ جینؔ بیان کرتی ہے۔ ”تاہم، اگلے دن تدفین کے بعد، عمررسیدہ رشتہداروں نے کہا کہ وہ سوگوار خاندانی افراد کو مُتوَفّی کی روح سے مزید محفوظ رکھنے کیلئے اُنہیں غسل دینگے۔ ایک بار پھر مَیں نے شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔ اس اثنا میں، ماں کو گھر کے اندر تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ جو کوئی بھی اس سے ملنا چاہتا تھا اُسے پہلے ایک الکحلی مشروب پینا پڑتا تھا جو خاص اسی مقصد کیلئے تیار کِیا گیا تھا۔
”مَیں نے اس میں سے کسی میں بھی شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ اسکی بجائے مَیں کچھ کھانا تیار کرنے کیلئے گھر گئی، جو مَیں اُس گھر میں لیکر گئی جہاں ماں ٹھہری ہوئی تھی۔ اس چیز نے میرے خاندان کو واقعی بہت ناراض کِیا۔ میرے رشتہداروں نے سوچا کہ مَیں ہوشوحواس میں نہیں تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اُنہوں نے اُسکا مذاق اُڑایا اور اُسے یہ کہتے ہوئے بددُعائیں دینے لگے کہ ”چونکہ تم نے اپنے مذہب کی وجہ سے ہماری روایات کو مسترد کِیا ہے اسلئے تم اپنے باپ کی روح کی طرف سے تکلیف اُٹھاؤگی۔ درحقیقت، شاید تم اولاد ہی نہ پیدا کر سکو۔“ پھربھی، جینؔ نے اُنکی دھمکیوں کو نظرانداز کر دیا۔ نتیجہ؟ وہ کہتی ہے: ”اُس وقت میرے دو بچے تھے۔ اب میرے چھ بچے ہیں! اس چیز نے اُنہیں شرمندہ کر دیا جو یہ الزام لگاتے تھے کہ مَیں دوبارہ کبھی بچے پیدا نہیں کر سکوں گی۔“
جنسی ”صفائی“
ایک اَور رسم میں کسی کے شریکِحیات کے فوت ہو جانے کے بعد رسمی طور پر صفائی شامل ہے۔ اگر بیوی وفات پا جاتی ہے تو اُسکا خاندان اس رنڈوے کے پاس اُسکی سالی یا مُتوَفّی بیوی سے قریبی تعلق رکھنے والی کسی دوسری عورت کو لائینگے۔ اُس کا اُسکے ساتھ مباشرت کرنا لازمی ہے۔ اسکے بعد ہی وہ جس سے چاہے شادی کر سکتا ہے۔ اُس وقت بھی ایسا ہی کِیا جاتا ہے جب ایک عورت کا شوہر وفات پا جاتا ہے۔ اس عمل کو زندہ بچ جانے والے ساتھی کو مُردہ ساتھی کی ”روح“ سے پاکصاف کرنے والا خیال کِیا جاتا ہے۔
ایسی ”صفائی“ کرانے سے انکار کرنے والا ہر شخص رشتےداروں کی ناراضگی مول لیتا ہے۔ ایسے مرد یا عورت کو شاید دوسروں سے الگ کر دیا جائے اور تمسخر کا نشانہ بنایا جائے اور موت کی سزا سنا دی جائے۔ پھربھی، مسیحی اس رسم کی پیروی کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ”صفائی“ کی بجائے شادی سے باہر جنسیصحبت خدا کی نظر میں مکروہ ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۱۸-۲۰) علاوہازیں، مسیحیوں کو ”صرف خداوند میں“ شادی کرنا ہے۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
زؔمبیا کی وائلٹؔ نامی ایک مسیحی خاتون کا شوہر فوت ہو گیا۔ اسکے بعد، رشتےدار ایک آدمی کو اُسکے پاس لائے اور اُسے مجبور کِیا کہ وہ اُس کیساتھ جنسیصحبت کرے۔ وائلٹؔ نے انکار کر دیا اور سزا کے طور پر اُسے عوامی کنوئیں سے پانی بھرنے سے منع کر دیا گیا۔ اُسے اس بات سے بھی متنبہ کر دیا گیا کہ مین روڈ پر نہ چلے تا نہ ہو کہ اُسے کوئی نقصان پہنچے۔ تاہم، اُس نے رشتہداروں یا گاؤں کے لوگوں سے مرعوب ہونے سے انکار کر دیا۔
بعدازاں وائلٹؔ کو ایک مقامی عدالت میں طلب کِیا گیا۔ وہاں اُس نے غیرمتزلزل طور پر ناجائز جنسی کاموں میں ملوث ہونے سے انکار کرنے کی اپنی صحیفائی وجوہات بیان کیں۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے اُسکے حق میں فیصلہ سنایا کہ وہ اُسے اُن مقامی رسومات اور روایات کا پابند ہونے پر مجبور نہیں کر سکتی جو اسکے اعتقادات کے برخلاف جاتی ہیں۔ دلچسپی کی بات ہے کہ مصالحت اختیار نہ کرنے کے اسکے پُرجوش انکار نے اس گاؤں کے اُن دیگر گواہوں پر بھی دباؤ کو کم کرنے کا کام دیا جنہیں بعد میں اسی طرح کے مسئلے کا سامنا تھا۔
موؔنیکا نامی ایک افریقی گواہ نے اپنے شوہر کی وفات کے بعد اسی طرح کے دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کِیا۔ اُس آدمی کے خاندان نے اُسے ایک اور شوہر کرنے پر زور دیا۔ موؔنیکا کہتی ہے: ”مَیں نے ۱-کرنتھیوں ۷:۳۹ کے حکم کی تعمیل کرنے کیلئے ثابتقدم رہتے ہوئے انکار کر دیا۔“ تاہم دباؤ کم نہ ہوا۔ ”اُنہوں نے مجھے دھمکی دی،“ موؔنیکا دہراتی ہے۔ ”اُنہوں نے کہا کہ ’اگر تم اب انکار کرو گی تو تمہاری دوبارہ کبھی شادی نہیں ہوگی۔‘ اُنہوں نے تو یہانتک دعویٰ کِیا کہ میرے بعض مسیحی ساتھیوں کی خفیہ طور پر اسی طرح سے رسمی صفائی ہوئی ہے۔“ تاہم، موؔنیکا ثابت قدم رہی۔ وہ کہتی ہے کہ ”دو سال تک میں اکیلی رہی، اسکے بعد مَیں نے مسیحی طرز پر دوبارہ شادی کر لی۔“ اب موؔنیکا بطور ایک باقاعدہ پائنیر کے خدمت کرتی ہے۔
اسقاط اور پیدائشی مُردہبچے
جنوبی افرؔیقہ کے مسیحیوں کیلئے بھی اسقاط اور پیدائشی مُردہبچوں سے متعلق رسومات سے نپٹنا ضروری ہے۔ ایسے المناک واقعات انسانی ناکاملیت کا نتیجہ ہیں—نہ کہ الہٰی سزا کا۔ (رومیوں ۳:۲۳) لیکن اگر ایک عورت کا اسقاط ہو جاتا ہے تو بعض افریقی روایات تقاضا کرتی ہیں کہ کچھ عرصے کیلئے اُس کے ساتھ اچھوت کے طور پر برتاؤ کِیا جائے۔
ایک عورت جس کا حال ہی میں اسقاط ہوا تھا ایک گواہ کو اپنے گھر کی طرف آتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ جب وہ قریب پہنچا تو وہ زور سے چلائی: ”یہاں مت آؤ! ہمارے دستور کے مطابق، جس عورت کا حال ہی میں اسقاط ہوا ہو کسی کو اُس کے پاس آنے کی اجازت نہیں ہوتی۔“ تاہم، گواہ نے اُسے بتایا کہ یہوؔواہ کے گواہ ہر قسم کے لوگوں کے پاس بائبل کا پیغام لے کر جاتے ہیں اور یہ کہ وہ اسقاط کے سلسلے میں مقامی رسومات کی پابندی نہیں کرتے۔ اسکے بعد اُس نے اُسے یسعیاہ ۶۵:۲۰، ۲۳ آیات پڑھ کر سنائیں، یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ خدا کی بادشاہی کے تحت اسقاط اور مُردہبچوں کی پیدائش واقع نہیں ہوگی۔ نتیجے کے طور پر، عورت نے گھریلو بائبل مطالعہ قبول کر لیا۔
اوہامپرستانہ رسومات پیدائشی طور پر مردہ بچوں کی تدفین سے بھی تعلق رکھ سکتی ہیں۔ جب جوؔزف نامی ایک گواہ ایک ایسے جنازے میں شریک ہوا تو اُسے بتایا گیا کہ تمام حاضرین کو ایک طرح کی جڑیبوٹیوں سے ہاتھ دھونے ہونگے اور اپنی چھاتیوں پر دوالگانی ہوگی۔ یہ کہا گیا تھا کہ ایسا کرنا بچے کی ”روح“ کو واپس آنے اور انہیں نقصان پہنچانے سے روکے گا۔ بائبل کی اس تعلیم سے واقف ہوتے ہوئے کہ مُردے زندوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، جوؔزف نے نہایت احترام کیساتھ انکار کر دیا۔ پھر بھی، بعض نے دوا لگانے کیلئے اُس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ ایک مرتبہ پھر جوؔزف نے انکار کر دیا۔ اس مسیحی کے دلیرانہ مؤقف کو دیکھتے ہوئے، حاضرین میں سے دیگر نے بھی جڑیبوٹیوں سے انکار کر دیا۔
مخالفت سے گریز کریں، مگر ثابت قدم رہیں
زندوں کا ڈر اور اچھوت بنائے جانے کا خوف مصالحت اختیار کرنے کیلئے مضبوط قوتیں ہو سکتی ہیں۔ امثال ۲۹:۲۵ کہتی ہے: ”اِنسان کا ڈر پھندا ہے۔“ اُوپر بیانکردہ تجربات اس آیت کے آخری حصے کی صداقت کو ظاہر کرتے ہیں: ”لیکن جو خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہیگا۔“
تاہم، اکثر مخالفت سے گریز کِیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مسیحی کو ایک رشتہدار کے جنازے میں شرکت کیلئے بلایا جاتا ہے تو اُسے اُس وقت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ وہ خود کو امکانی طور پر مصالحت کرنے کی حالت میں نہیں پاتا۔ ”ہوشیار بلا کو دیکھ کر چھپ جاتا ہے لیکن نادان بڑھے چلے جاتے اور نقصان اُٹھاتے ہیں۔“—امثال ۲۷:۱۲۔
موقعشناسی سے یہ پوچھ لینا دانشمندی ہوگی کہ کسطرح کی رسومات ادا کی جائینگی۔ اگر یہ قابلِاعتراض ہیں تو مسیحی اس موقع کو اس بات کی وضاحت کرنے کیلئے استعمال کر سکتا ہے کہ وہ کیوں شرکت نہیں کر سکتا، مگر ”حلم مزاجی اور بڑے احترام کیساتھ۔“ (۱-پطرس ۳:۱۵، اینڈبلیو) جب کوئی مسیحی احترام کیساتھ بائبل پر مبنی اپنے مؤقف کی پیشازوقت ہی وضاحت کر دیتا ہے تو اسکے رشتےدار عموماً اُسکے اعتقادات کا احترام کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں اور ڈرانے اور دھمکانے کی طرف کم مائل ہوتے ہیں۔
رشتےداروں کا ردِعمل خواہ کچھ بھی ہو، ایک مسیحی خدا کیلئے رسوائی لانے والی روایات کی پیروی کرتے ہوئے ہرگز مصالحت نہیں کر سکتا—قطعنظر اس سے کہ خواہ اُسے کیسی دھمکیاں دی جاتی ہیں یا بدسلوکی کی جاتی ہے۔ ہم اوہامپرستانہ خوف سے آزاد کر دئے گئے ہیں۔ پولسؔ رسول نے تاکید کی: ”مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کیلئے آزاد کِیا ہے۔ پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جُوئے میں نہ جتو۔“—گلتیوں ۵:۱۔ (۲۸ ۸/۱۵ w۹۵)