”خدا کا اسرائیل“ اور ”بڑی بِھیڑ“
”مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہوں . . . ایک ایسی بڑی بِھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا۔“—مکاشفہ ۷:۹۔
۱-۳. (ا) ممسوح مسیحیوں کے پاس کونسے شاندار آسمانی امکانات ہیں؟ (ب) شیطان نے پہلی صدی کی کلیسیا کو تباہ کرنے کی کیسے کوشش کی؟ (پ) ۱۹۱۹ میں کیا واقع ہوا جس سے ظاہر ہوا کہ ممسوح مسیحیوں کی کلیسیا کو خراب کرنے کیلئے شیطان کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں؟
یہوؔواہ کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے ۳۳ س.ع. میں ”خدا کے اسرائیل“ کی بنیاد ڈالنا ایک بڑا قدم تھا۔ (گلتیوں ۶:۱۶) اِسکے ممسوح اراکین غیرفانی روحانی مخلوق ہونے اور خدا کی آسمانی بادشاہت میں مسیح کیساتھ حکمرانی کرنے کی اُمید رکھتے ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۰، ۵۳، ۵۴) اِس حیثیت میں وہ یہوؔواہ کے نام کی تقدیس کرنے اور بڑے دشمن شیطان اِبلیس کا سر کچلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ (پیدایش ۳:۱۵؛ رومیوں ۱۶:۲۰) اِس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں شیطان نے دونوں طرح سے اِس نئی کلیسیا کو ستانے اور اسے بگاڑنے کی کوشش کرنے سے اسے تباہ کرنے کیلئے وہ سب کچھ کِیا جو اُسکے اختیار میں تھا!—۲-تیمتھیس ۲:۱۸؛ یہوداہ ۴؛ مکاشفہ ۲:۱۰۔
۲ جبتک رسول زندہ تھے، شیطان کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ تاہم، اُنکی موت کے بعد، برگشتگی بِلاروکٹوک پھیل گئی۔ انجامکار، جب شیطان نے برگشتہ مذہبی بگاڑ پیدا کر دیا جو آجکل مسیحی دُنیا کہلاتا ہے تو انسانی نقطۂنظر سے ایسا دکھائی دینے لگا کہ یسوؔع کی قائمکردہ مسیحی کلیسیا بگاڑ دی گئی ہے۔ (۲-تھسلنیکیوں ۲:۳-۸) تاہم، سچی مسیحیت قائم رہی۔—متی ۲۸:۲۰۔
۳ گیہوں اور کڑوے دانوں کی اپنی تمثیل میں، یسوؔع نے قبلازوقت بتایا کہ سچے مسیحی کچھ وقت کے لئے ”کڑوے دانوں،“ یا جھوٹے مسیحیوں کے ساتھ بڑھیں گے؛ اور یہ واقع ہوا۔ لیکن اُس نے یہ بھی کہا کہ آخری ایّام میں، ”بادشاہی کے فرزند“ دوبارہ ”کڑوے دانوں“ سے واضح طور پر الگ دکھائی دینگے۔ (متی ۱۳:۳۶-۴۳) یہ بھی سچ ثابت ہوا۔ ۱۹۱۹ میں حقیقی ممسوح مسیحی بابلی اسیری سے باہر نکل آئے۔ اُن کی الہٰی طور پر ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے طور پر پہچان ہوئی تھی، اور وہ دلیری کیساتھ بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرنے لگے۔ (متی ۲۴:۱۴، ۴۵-۴۷؛ مکاشفہ ۱۸:۴) تقریباً وہ سب کے سب غیراقوام تھے؛ لیکن چونکہ وہ اؔبرہام جیسا ایمان رکھتے تھے، اس لئے حقیقت میں وہ ’اؔبرہام کے فرزند‘ تھے۔ وہ ”خدا کے اسرائیل“ کے رکن تھے۔—گلتیوں ۳:۷، ۲۶-۲۹۔
”بڑی بِھیڑ“
۴. مسیحیوں کا کونسا گروہ نمایاں ہو گیا، بالخصوص ۱۹۳۰ کے دہے میں؟
۴ شروع میں، اِن ممسوح مسیحیوں کی منادی سے اثرپذیر ہونے والے روحانی اسرائیلی بھی بن گئے یعنی آسمانی اُمید والے ۱۴۴،۰۰۰ کا بقیہ۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۷) تاہم، ۱۹۳۰ کے دہے میں، ایک اَور گروہ نمایاں ہو گیا۔ اِنکی بھیڑخانوں کی تمثیل کی ”دوسری بھیڑوں“ کیساتھ شناخت ہوئی تھی۔ (یوحنا ۱۰:۱۶، اینڈبلیو) وہ فردوسی زمین پر ہمیشہ کی زندگی کی اُمید کیساتھ مسیح کے شاگرد تھے۔ وہ گویا ممسوح مسیحیوں کے روحانی فرزند تھے۔ (یسعیاہ ۵۹:۲۱؛ ۶۶:۲۲؛ مقابلہ کریں ۱-کرنتھیوں ۴:۱۵، ۱۶۔) اُنہوں نے ممسوح مسیحی کلیسیا کو دیانتدار اور عقلمند نوکر کے طور پر تسلیم کِیا، اور اپنے ممسوح بھائیوں کی طرح، وہ یہوؔواہ کیلئے گہری محبت، یسوؔع کی قربانی پر ایمان، خدا کی ستائش کرنے کیلئے جوش، اور راستبازی کی خاطر دُکھ اُٹھانے کیلئے رضامندی، رکھتے تھے۔
۵. کیسے دوسری بھیڑوں کی حیثیت کو بتدریج بہتر طور پر سمجھ لیا گیا؟
۵ شروع میں اِن دوسری بھیڑوں کی حیثیت کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا تھا، لیکن وقت گزرنے کیساتھ ساتھ چیزیں زیادہ واضح ہو گئیں۔ ۱۹۳۲ میں ممسوح مسیحیوں کی حوصلہافزائی کی گئی تھی کہ دوسری بھیڑوں کو منادی کے کام میں حصہ لینے کی تلقین کریں یعنی ایک ایسا کام جو بہت سی دوسری بھیڑیں پہلے ہی سے کر رہی تھیں۔ ۱۹۳۴ میں دوسری بھیڑوں کو پانی کے بپتسمے کیلئے پیش کرنے کی حوصلہافزائی دی گئی تھی۔ ۱۹۳۵ میں اُنکی مکاشفہ ۷ باب کی ”بڑی بِھیڑ“ کے ساتھ شناخت کی گئی تھی۔ ۱۹۳۸ میں اُنہیں مشاہدین کے طور پر یسوؔع مسیح کی موت کی یادگار پر حاضر ہونے کی دعوت دی گئی تھی۔ ۱۹۵۰ میں اُنکے درمیان خدمت کرنے والے پُختہ مردوں کی ”شہزادوں“ میں شمولیت کو پہچان لیا گیا تھا جو ”آندھی سے پناہگاہ . . . اور طوفان سے چھپنے کی جگہ“ کے طور پر خدمت کرتے ہیں۔ (زبور ۴۵:۱۶؛ یسعیاہ ۳۲:۱، ۲) ۱۹۵۳ میں، خدا کی زمینی تنظیم کو—جسکا بڑا حصہ اُس وقت دوسری بھیڑوں پر مشتمل تھا—زمینی معاشرے کے مرکزی حصے کے طور پر دیکھا گیا تھا جو نئی دُنیا میں موجود ہوگا۔ ۱۹۸۵ میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ یسوؔع کے فدیے کی قربانی کی بنیاد پر، دوسری بھیڑوں کو ہرمجِدّؔون سے بچنے کی اُمید کیساتھ اور خدا کے دوستوں کے طور پر راستباز ٹھہرایا گیا ہے۔
۶. آجکل ممسوحوں اور دوسری بھیڑوں کی نسبتی حالتیں کیا ہیں، جو کن سوالوں کا سبب بنتی ہیں؟
۶ اب تک، ”اخیر زمانہ“ کے اِس آخری حصے میں ۱۴۴،۰۰۰ میں سے زیادہتر وفات پا چکے اور اپنا آسمانی اجر حاصل کر چکے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱؛ مکاشفہ ۶:۹-۱۱؛ ۱۴:۱۳) خوشخبری کی منادی اب زیادہتر زمینی اُمید والے مسیحی کرتے ہیں، اور وہ اِس کام میں یسوؔع کے ممسوح بھائیوں کی حمایت کرنے کو ایک استحقاق خیال کرتے ہیں۔ (متی ۲۵:۴۰) تاہم، یہ ممسوح اشخاص وہ دیانتدار اور عقلمند نوکر ہیں جسکے ذریعے روحانی خوراک اِن آخری ایّام کے دوران پہنچائی جاتی رہی ہے۔ جب تمام ممسوح اشخاص اپنا آسمانی اجر پا چکے ہونگے تو دوسری بھیڑوں کی حالت کیا ہوگی؟ تب دوسری بھیڑوں کیلئے کیا اہتمام کِیا جائیگا؟ قدیم اسرائیل کا مختصر سا جائزہ اِن سوالوں کا جواب دینے کیلئے ہماری مدد کریگا۔
مثالی ”کاہنوں کی . . . مملکت“
۷، ۸. قدیم اسرائیل شریعتی عہد کے تحت کس حد تک شاہی کاہنوں کا فرقہ اور مُقدس قوم تھا؟
۷ جب یہوؔواہ نے اسرائیل کو اپنی خاص امت کے طور پر چُنا تو اُس نے یہ کہتے ہوئے اُن کے ساتھ ایک عہد باندھا: ”سو اب اگر تم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قوموں میں سے تم ہی میری خاص ملکیت ٹھہروگے کیونکہ ساری زمین میری ہے۔ اور تم میرے لئے کاہنوں کی ایک مملکت اور ایک مُقدس قوم ہوگے۔“ (خروج ۱۹:۵، ۶) شریعتی عہد کی بنیاد پر اسرائیل یہوؔواہ کی خاص قوم تھا۔ تاہم، شاہی کاہنوں کی مملکت اور ایک مُقدس قوم پر مشتمل وعدہ کیسے پورا ہوگا؟
۸ جب اسرائیل وفادار تھا تو اس نے یہوؔواہ کی حاکمیت کو تسلیم کِیا اور اُسے اپنے بادشاہ کے طور پر قبول کِیا۔ (یسعیاہ ۳۳:۲۲) لہٰذا، وہ ایک مملکت تھے۔ لیکن، جیسے کہ بعدازاں آشکارا کِیا گیا، ”ایک مملکت“ کی بابت وعدے کا مطلب اِس سے بھی زیادہ ہوگا۔ علاوہازیں، جب اُنہوں نے یہوؔواہ کی شریعت کی تعمیل کی تو وہ پاک، اپنے اردگرد کی قوموں سے جدا تھے۔ وہ ایک مُقدس قوم تھے۔ (استثنا ۷:۵، ۶) کیا وہ کاہنوں کی ایک مملکت تھے؟ جیہاں، اسرائیل میں لاؔوی قبیلے کو مقدِس کی خدمت کرنے کیلئے الگ کِیا گیا تھا، اور اُسی قبیلے کے اندر لاویوں کی کہانت تھی۔ جب موسوی شریعت کا افتتاح کِیا گیا تھا تو لاوی مردوں کو تمام غیرلاوی خاندانوں کے پہلوٹھوں کے بدلے میں لے لیا گیا تھا۔a (خروج ۲۲:۲۹؛ گنتی ۳:۱۱-۱۶، ۴۰-۵۱) یوں، گویا اسرائیل کے ہر خاندان کی ہیکل کی خدمت میں نمائندگی ہوتی تھی۔ اس طریقے سے پوری قوم ایک کہانت ہونے کے قریبترین پہنچ گئی۔ تاہم، اُنہوں نے قوموں کے سامنے یہوؔواہ کی نمائندگی کی۔ کوئی بھی پردیسی جو سچے خدا کی پرستش کرنے کی خواہش کرتا، اُسے اسرائیل کی رفاقت میں ایسا کرنا تھا۔—۲-تواریخ ۶:۳۲، ۳۳؛ یسعیاہ ۶۰:۱۰۔
۹. کونسی چیز یہوؔواہ کیلئے اس بات کا سبب بنی کہ شمالی سلطنت کو ’اُسکے ایک کاہن کے طور پر خدمت کرنے سے‘ رد کر دے؟
۹ سلیماؔن کی موت کے بعد، خدا کی اُمت یرؔبعام بادشاہ کے تحت اسرائیل کی شمالی سلطنت اور بادشاہ رحبعاؔم کے تحت یہوؔداہ کی جنوبی سلطنت میں منقسم ہو گئی۔ چونکہ پاک پرستش کا مرکز یعنی ہیکل، یہوؔداہ کے علاقے میں تھی تو یرؔبعام نے اپنے ہی ملک کے علاقے میں بچھڑوں کے بُت نصب کرنے سے غیرقانونی پرستش کو رائج کِیا۔ علاوہازیں، ”اُس نے اُونچی جگہوں کے گھر بنائے اور عوام میں سے جو بنی لاوی نہ تھے کاہن بنائے۔“ (۱-سلاطین ۱۲:۳۱) جب اخیؔاب بادشاہ نے اپنی غیرقوم بیوی، اِؔیزبل کو ملک میں بعلؔ کی پرستش رائج کرنے کی اجازت دے دی تو شمالی سلطنت جھوٹی پرستش میں اَور زیادہ دھنس گئی۔ آخرکار، یہوؔواہ نے باغی سلطنت کو سزا سنا دی۔ ہوسیعؔ کی معرفت اُس نے کہا: ”میرے لوگ عدمِمعرفت سے ہلاک ہوئے۔ چونکہ تُو نے معرفت کو رد کِیا اِسلئے مَیں بھی تجھ کو رد کر دونگا تاکہ تُو میرے حضور کاہن نہ ہو۔“ (ہوسیع ۴:۶) کچھ ہی دیر کے بعد، اسوریوں نے اسرائیل کی شمالی سلطنت کو نیستونابود کر دیا۔
۱۰. جب یہوؔداہ کی جنوبی سلطنت وفادار تھی تو اس نے کس طرح قوموں کے سامنے یہوؔواہ کی نمائندگی کی تھی؟
۱۰ جنوبی سلطنت، یہوؔداہ کی بابت کیا ہے؟ حزؔقیاہ کے دنوں میں، یہوؔواہ نے یسعیاؔہ کی معرفت اُن سے کہا: ”تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کِیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ مَیں وہی ہوں۔“ (یسعیاہ ۴۳:۱۰، ۲۱؛ ۴۴:۲۱) جب جنوبی بادشاہت وفادار تھی تو اس نے قوموں کے سامنے یہوؔواہ کے جلال کا چرچا کِیا اور راستدل اشخاص کو اُسکے مقدِس میں اُسکی پرستش کرنے اور جائز لاوی کہانت کے ذریعے خدمت حاصل کرنے کیلئے راغب کِیا۔
اسرائیل میں پردیسی
۱۱، ۱۲. بعض پردیسیوں کا ذکر کریں جو اسرائیل کے ساتھ ملکر یہوؔواہ کی خدمت کرنے لگے۔
۱۱ جہاں تک اُن پردیسیوں کا تعلق ہے جو اس قومی گواہی سے اثرپذیر ہوئے، اُن کیلئے موسیٰؔ—جسکی بیوی، صفوؔرہ، ایک مدیانی تھی—کے ذریعے دی گئی شریعت میں اِسکا بندوبست کِیا گیا تھا۔ غیراسرائیلیوں کی ”ایک ملیجلی گروہ“ نے اسرائیل کیساتھ مصرؔ کو چھوڑ دیا اور جب شریعت دی گئی تھی تو وہ موجود تھے۔ (خروج ۲:۱۶-۲۲؛ ۱۲:۳۸؛ گنتی ۱۱:۴) راؔحب اور اُسکے خاندان کو یریحوؔ سے بچا لیا گیا تھا اور بعد میں یہودی جماعت میں قبول کر لیا گیا۔ (یشوع ۶:۲۳-۲۵) کچھ ہی دیر کے بعد، جبعونیوں نے اسرائیل کیساتھ صلح کا معاہدہ کر لیا اور انہیں خیمۂاجتماع کے سلسلے میں کام سونپے گئے تھے۔—یشوع ۹:۳-۲۷؛ نیز دیکھیں ۱-سلاطین ۸:۴۱-۴۳؛ آستر ۸:۱۷۔
۱۲ انجامکار، پردیسیوں نے اعلیٰ مرتبوں پر خدمت انجام دی۔ اؔوریاہحتی، بتؔسبع کا شوہر، داؔؤد کا ”سورما“ شمار ہوتا تھا، جیسے کہ صِلقؔ عمونی بھی تھا۔ (۱-تواریخ ۱۱:۲۶، ۳۹، ۴۱؛ ۲-سموئیل ۱۱:۳، ۴) عبدؔملک کوشی محل میں خدمت کرتا تھا اور اُسے بادشاہ تک رسائی حاصل تھی۔ (یرمیاہ ۳۸:۷-۹) جب اسرائیل بابلؔ میں اسیری سے واپس لوٹا تو غیراسرائیلی نتنیم کو کاہنوں کی مدد کرنے کیلئے اضافی ذمہداریاں دی گئی تھیں۔ (عزرا ۷:۲۴) چونکہ اِن وفادار پردیسیوں، یا اجنبی باشندوں کی ایک بڑی تعداد کو آجکل کی بڑی بِھیڑ کی عکاسی کرتے ہوئے خیال کِیا جاتا ہے، اِسلئے اُنکی حالت ہمارے لئے دلچسپی کی حامل ہے۔
۱۳، ۱۴. (ا) اسرائیل میں نومریدوں کی ذمہداریاں اور استحقاقات کیا تھے؟ (ب) اسرائیلیوں نے وفادار نومریدوں کو کیسا خیال کرنا تھا؟
۱۳ ایسے اشخاص نومرید تھے، جو موسوی شریعت کے تحت یہوؔواہ کے مخصوصشُدہ پرستار تھے جو اسرائیلیوں کیساتھ قوموں سے الگ تھے۔ (احبار ۲۴:۲۲) اُنہوں نے قربانیاں پیش کیں، جھوٹی پرستش سے پاک رہے، اور خون سے احتراز کرتے رہے جیسے کہ اسرائیلی بھی کرتے رہے۔ (احبار ۱۷:۱۰-۱۴؛ ۲۰:۲) اُنہوں نے سلیماؔن کی ہیکل کی تعمیر میں مدد دی اور آؔسا بادشاہ اور حزؔقیاہ بادشاہ کے تحت سچی پرستش کی بحالی میں حصہ لیا۔ (۱-تواریخ ۲۲:۲؛ ۲-تواریخ ۱۵:۸-۱۴؛ ۳۰:۲۵) جب پطرؔس نے ۳۳ س.ع. کے پنتِکُست پر بادشاہی کی پہلی کُنجی کو استعمال کِیا تو ”یہودی [اور] . . . [غیریہودی] نومریدوں“ نے اُسکے کلام کو سنا تھا۔ غالباً، اُس دن پر بپتسمہ پانے والے تین ہزار میں سے کچھ نومرید تھے۔ (اعمال ۲:۱۰، ۴۱) اِسکے تھوڑا بعد، ایک حبشی خوجہ نے فلپسؔ سے بپتسمہ پا لیا تھا—کرنیلیسؔ اور اُسکے خاندان کے سلسلے میں پطرؔس کے آخری کُنجی استعمال کرنے سے پہلے۔ (متی ۱۶:۱۹؛ اعمال ۸:۲۶-۴۰؛ ۱۰:۳۰-۴۸) ظاہر ہے کہ نومریدوں کو غیرقوموں کے طور پر خیال نہیں کِیا گیا تھا۔
۱۴ تاہم، ملک میں نومریدوں کی حیثیت مقامی پیدائشی اسرائیلیوں جیسی نہیں تھی۔ نومریدوں نے کاہنوں کی طرح خدمت انجام نہ دی، اور اُنکے پہلوٹھوں کی لاوی کہانت میں نمائندگی نہیں کی گئی تھی۔b اور نومریدوں کیلئے اسرائیل میں اراضی کی کوئی میراث نہیں تھی۔ تاہم، اسرائیلیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وفادار نومریدوں کا لحاظ رکھیں اور اُنہیں بھائیوں کے طور پر خیال کریں۔—احبار ۱۹:۳۳، ۳۴۔
روحانی قوم
۱۵. جب پیدائشی اسرائیل نے مسیحا کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو کیا نتیجہ نکلا؟
۱۵ شریعت اس غرض سے مرتب کی گئی تھی کہ اسرائیل کو پاک، اُنکے چوگرد قوموں سے الگ رکھے۔ لیکن اِس نے ایک اَور مقصد کو پورا کِیا۔ پولسؔ رسول نے لکھا: ”شریعت مسیح تک پہنچانے کو ہمارا استاد بنی تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہریں۔“ (گلتیوں ۳:۲۴) افسوس کی بات ہے کہ زیادہتر اسرائیلی شریعت کے ذریعے مسیح تک پہنچنے سے قاصر رہے۔ (متی ۲۳:۱۵؛ یوحنا ۱:۱۱) اِسلئے یہوؔواہ خدا نے اُس قوم کو رد کر دیا اور ”خدا کے اسرائیل“ کے پیدا ہونے کا بندوبست کِیا۔ علاوہازیں، اُس نے غیریہودیوں کو اِس نئے اسرائیل میں پورے حقوق کیساتھ شہری بننے کی دعوت دی۔ (گلتیوں ۳:۲۸؛ ۶:۱۶) اِسی نئی قوم پر خروج ۱۹:۵، ۶ میں شاہی کہانت کے سلسلے میں یہوؔواہ کے وعدے کی شاندار، آخری تکمیل ہوئی ہے۔ کیسے؟
۱۶، ۱۷. کس لحاظ سے ممسوح مسیحی زمین پر ”شاہی کاہنوں کا فرقہ“ ہیں؟
۱۶ پطرؔس نے خروج ۱۹:۶ کا حوالہ دیا جب اُس نے اپنے زمانے کے ممسوح مسیحیوں کو لکھا: ”تم ایک برگزیدہ نسل۔ شاہی کاہنوں کا فرقہ۔ مُقدس قوم اور ایسی اُمت ہو جو . . . خاص ملکیت ہے۔“ (۱-پطرس ۲:۹) اِس کا کیا مطلب ہے؟ کیا ممسوح مسیحی زمین پر بادشاہ ہیں؟ نہیں، اُن کی بادشاہت ابھی تک مستقبل کا معاملہ ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۴:۸) تاہم، وہ اِس لحاظ سے ”شاہی“ ہیں کہ وہ آئندہ شاہی استحقاقات کیلئے منتخب کر لئے گئے ہیں۔ وہ اب بھی حاکمِاعلیٰ، یہوؔواہ خدا کے ذریعے مُتعیّنہ بادشاہ، یسوؔع کے تحت ایک قوم ہیں۔ پولسؔ نے لکھا: ”[یہوؔواہ] نے ہمکو تاریکی کے قبضہ سے چھڑا کر اپنے عزیز بیٹے کی بادشاہی میں داخل کِیا۔“—کلسیوں ۱:۱۳۔
۱۷ کیا ممسوح مسیحی زمین پر ایک کہانت ہیں؟ جیہاں، ایک لحاظ سے، وہ ہیں۔ ایک کلیسیا کے طور پر، وہ ایک غیرمشتبہ کہانتی مقصد انجام دیتے ہیں۔ پطرؔس نے اِس کی وضاحت کی جب اُس نے کہا: ”تم . . . مُقدس کہانت کے مقصد کے لئے ایک روحانی گھر بنتے جاتے ہو۔“ (۱-پطرس ۲:۵، اینڈبلیو؛ ۱-کرنتھیوں ۳:۱۶) آجکل، ممسوح مسیحیوں کا بقیہ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کے طور پر ایک جماعت ہیں جو خوراک کی تقسیم کا ذریعہ ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) جیسے قدیم اسرائیل کے سلسلے میں تھا، جو کوئی بھی یہوؔواہ کی پرستش کرنا چاہتا ہے اُسے اِن ممسوح مسیحیوں کی رفاقت میں ایسا کرنا چاہئے۔
۱۸. شاہی کاہنوں کے فرقہ کے طور پر، ممسوح مسیحی کلیسیا کی زمین پر بنیادی ذمہداری کیا ہے؟
۱۸ علاوہازیں، ممسوح مسیحیوں نے قوموں کے اندر یہوؔواہ کی عظمت کی گواہی دینے کے استحقاق کو اسرائیل سے لے لیا۔ سیاقوسباق ظاہر کرتا ہے کہ جب پطرؔس نے ممسوح مسیحیوں کو ایک شاہی کاہنوں کا فرقہ کہا تو منادی کا کام اُسکے ذہن میں تھا۔ بیشک، اُس نے خروج ۱۹:۶ میں یہوؔواہ کے وعدے کو یسعیاہ ۴۳:۲۱ میں اسرائیل سے اُسکے الفاظ کیساتھ ایک حوالے سے منسلک کیا جب اُس نے کہا: ”تم . . . شاہی کاہنوں کا فرقہ . . . ہو . . . تاکہ اُسکی خوبیاں ظاہر کرو جس نے تمہیں تاریکی سے اپنی عجیب روشنی میں بلایا ہے۔“ (۱-پطرس ۲:۹) اِسی کی مطابقت میں، پولسؔ نے یہوؔواہ کی خوبیوں کے ظاہر کئے جانے کا ہیکل کی قربانی کے طور پر ذکر کِیا۔ اُس نے لکھا: ”پس ہم [یسوؔع کے] وسیلہ سے حمد کی قربانی یعنی اُن ہونٹوں کا پھل جو اُس کے نام کا اقرار کرتے ہیں خدا کے لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔“—عبرانیوں ۱۳:۱۵۔
آسمانی تکمیل
۱۹. اُس وعدے کی آخری، شاندار تکمیل کیا ہے کہ اسرائیل شاہی کاہنوں کا فرقہ ہوگا؟
۱۹ تاہم، خروج ۱۹:۵، ۶ کہیں بڑی تکمیل رکھتی ہیں۔ مکاشفہ کی کتاب میں، یوؔحنا رسول آسمانی خلائق کو اِس صحیفے کا اطلاق کرتے سنتا ہے جب وہ قیامتیافتہ یسوؔع کی حمد کرتے ہیں: ”تُو نے ذبح ہوکر اپنے خون سے ہر ایک قبیلہ اور اہلِزبان اور اُمت اور قوم میں سے خدا کے واسطے لوگوں کو خرید لیا۔ اور اُنکو ہمارے خدا کیلئے ایک بادشاہی اور کاہن بنا دیا اور وہ زمین پر بادشاہی کرتے ہیں۔“ (مکاشفہ ۵:۹، ۱۰) تو پھر، اِسکے حتمی مفہوم میں، شاہی کاہنوں کا فرقہ خدا کی آسمانی بادشاہت ہے یعنی حاکمانہ اختیار جس کیلئے یسوؔع نے ہمیں دُعا کرنا سکھایا۔ (لوقا ۱۱:۲) ۱۴۴،۰۰۰ کے تمام ممسوح مسیحی جو آخر تک وفاداری سے برداشت کرتے ہیں اس بادشاہتی انتظام میں حصہ لینگے۔ (مکاشفہ ۲۰:۴، ۶) موسیٰؔ کے ذریعے بہت پہلے کئے گئے وعدے کی کیا ہی شاندار تکمیل!
۲۰. کس سوال کا جواب ابھی دینا باقی ہے؟
۲۰ تمام ممسوحوں کے اپنی شاندار میراث حاصل کر لینے کے بعد اِس سب کا بڑی بِھیڑ کی حالت اور مستقبل کیساتھ کیا تعلق ہے؟ یہ بات اِس سلسلے کے آخری مضمون میں واضح ہو جائیگی۔ (۱۴ ۷/۰۱ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a جب اسرائیل کی کہانت کا افتتاح ہوا تو اسرائیل کے غیرلاوی قبائل کے پہلوٹھے بیٹوں اور لاوی کے قبیلے کے مردوں کی گنتی کی گئی تھی۔ لاوی مردوں کی نسبت پہلوٹھوں کی تعداد ۲۷۳ زیادہ تھی۔ لہٰذا، یہوؔواہ نے حکم دیا کہ ۲۷۳ کی زیادہ تعداد کیلئے ہر ایک کی خاطر فدیے کے طور پر پانچ مِثقال ادا کئے جائیں۔
b جب ۱۵۱۳ ق.س.ع. میں شریعت کا آغاز کِیا گیا تو غیراسرائیلیوں کی ایک بڑی ملی جلی گروہ موجود تھی، لیکن جب لاویوں کو اسرائیل کے پہلوٹھوں کے عوضانے کے طور پر لے لیا گیا تو اُنکے پہلوٹھوں کو شامل نہیں کِیا گیا تھا۔ (دیکھیں پیراگراف ۸۔) لہٰذا، لاویوں کو اِن غیراسرائیلیوں کے پہلوٹھوں کے بدلے میں نہیں لیا گیا تھا۔
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ دوسری بھیڑوں کی حیثیت کو کس طرح بتدریج بہتر طور پر سمجھ لیا گیا ہے؟
▫ یہوؔواہ نے اسرائیل کی شمالی سلطنت کو اُسکے ایک کاہن کے طور پر خدمت کرنے سے کیوں برخاست کر دیا؟
▫ جب یہوؔداہ وفادار تھا تو قوموں کے سامنے اس کی کیا حیثیت تھی؟
▫ اسرائیل میں وفادار نومریدوں کی کیا حیثیت تھی؟
▫ ممسوح کلیسیا شاہی کاہنوں کے فرقے کے طور پر کیسے خدمت کرتی ہے؟