یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏8 ص.‏ 9-‏13
  • غمزدہ ہونے کے باوجود، ہم نااُمید نہیں ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • غمزدہ ہونے کے باوجود، ہم نااُمید نہیں ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • موت انسانی خاندان میں وارِد ہوتی ہے
  • ایماندار جو غمزدہ ہوئے
  • یسوؔع کے زمانے میں غم
  • مُردوں کیلئے کیا اُمید؟‏
  • غمزدوں کیلئے عملی مدد
  • انسان موت کی گرفت سے آزاد ہوگا
    پاک صحائف کی تعلیم حاصل کریں
  • کیا ماتم کرنا غلط ہے؟‏
    جاگو!‏—‏2001ء
  • ‏”‏آپ کا بھائی جی اُٹھے گا“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • مُتوَفّی عزیزوں کے لئے کیا اُمید ہے؟‏
    مُتوَفّی عزیزوں کے لئے کیا اُمید ہے؟‏
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏8 ص.‏ 9-‏13

غمزدہ ہونے کے باوجود، ہم نااُمید نہیں ہیں

‏”‏ہم نہیں چاہتے کہ جو سو تے ہیں اُنکی بابت تم ناواقف رہو تاکہ اَوروں کی مانند جو نااُمید ہیں غم نہ کرو۔“‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۳‏۔‏

۱.‏ باقاعدہ بنیادوں پر نوعِ‌انسان کس چیز کا تجربہ کرتے ہیں؟‏

کیا آپکا کوئی عزیز موت کے باعث بچھڑ گیا ہے؟ عمر سے قطع‌نظر، ہم میں سے زیادہ‌تر موت کے باعث کسی رشتہ‌دار یا دوست کے بچھڑ جانے سے غم میں مبتلا ہوئے ہیں۔ شاید یہ نانی نانا یا دادا دادی، والدین میں سے کوئی ایک، رفیقِ‌حیات، یا ایک بچہ تھا۔ بڑھاپا، بیماری اور حادثات باقاعدگی سے موت کا باعث بنتے رہتے ہیں۔ جُرم، تشدد اور جنگ سخت تکلیف اور غم میں اضافہ کرتے ہیں۔ ہر سال پوری دُنیا میں، اوسطاً ۵۰ ملین سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔ ۱۹۹۳ میں روزانہ کی اوسط ۱،۴۰،۲۵۰ تھی۔ بہت زیادہ اموات دوستوں اور خاندانوں کو متاثر کرتی ہیں اور بچھڑ جانے کا غم بہت گہرا ہوتا ہے۔‏

۲.‏ بچوں کے مرنے کی بابت کیا بات غیرمعمولی دکھائی دیتی ہے؟‏

۲ کیا ہم کیلیفوؔرنیا، یو.‏ایس.‏اے میں، اُن والدین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار نہیں کر سکتے، جو افسوسناک طور پر کار کے ایک عجیب حادثے میں اپنی حاملہ بیٹی گنوا بیٹھے؟ ایک سانحہ میں وہ اپنی اکلوتی بیٹی اور اس بچے کو کھو بیٹھے جس نے اُن کا پہلا نواسہ یا نواسی ہونا تھا۔ متاثرہ کا شوہر اپنی بیوی اور اپنا پہلا بیٹا یا بیٹی کھو بیٹھا۔ والدین کے لئے کسی بچے کی موت کو برداشت کرنا، خواہ ابھی چھوٹا ہے یا بڑا، کسی حد تک ایک غیرفطری بات ہے۔ بچوں کے لئے اپنے والدین سے پہلے مر جانا عام بات نہیں ہے۔ ہم سب زندگی سے پیار کرتے ہیں۔ اسلئے موت واقعی ایک دُشمن ہے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۶‏۔‏

موت انسانی خاندان میں وارِد ہوتی ہے

۳.‏ ہابلؔ کی موت نے آؔدم اور حوؔا کو کیسے متاثر کِیا ہوگا؟‏

۳ ہمارے پہلے والدین، آؔدم اور حوؔا کی سرکشی کے وقت سے لیکر، موت اور گناہ نے انسانی تاریخ کے کوئی چھ ہزار سال تک بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کی ہے۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۴؛‏ ۶:‏۱۲،‏ ۲۳‏)‏ انہوں نے قائنؔ کے ذریعے اپنے بیٹے ہابلؔ کے قتل کے لئے جسطرح کا ردِعمل دکھایا بائبل ہمیں اس کی بابت کچھ نہیں بتاتی۔ بعض وجوہات کی بنا پر، یہ اُن کے لئے ضرور ایک ناقابلِ‌برداشت تجربہ رہا ہوگا۔ یہاں پہلی مرتبہ انہیں انسانی موت کا سامنا ہوا تھا، جوکہ اُن کے اپنے بیٹے کی صورت میں اُن کے سامنے آئی تھی۔ اُنہوں نے اپنی سرکشی اور آزاد مرضی کے مسلسل غلط استعمال کے پھل کو دیکھ لیا۔ قائنؔ نے خدا کی طرف سے آگاہیوں کے باوجود، بھائیوں کے درمیان ہونے والے پہلے قتل کے ارتکاب کا انتخاب کِیا۔ ہم جانتے ہیں کہ حوؔا کو لازماً ہابلؔ کی موت کا شدید صدمہ پہنچا ہوگا کیونکہ جب اس نے سیتؔ کو جنم دیا تو اُس نے کہا:‏ ”‏خدا نے ہابلؔ کے عوض جسکو قائنؔ نے قتل کِیا مجھے دوسرا فرزند دیا۔“‏—‏پیدایش ۴:‏۳-‏۸،‏ ۲۵‏۔‏

۴.‏ ہابلؔ کی موت کے بعد غیرفانی روح کی فرضی کہانی کیوں تسلی کا باعث نہیں رہی ہوگی؟‏

۴ ہمارے پہلے انسانی والدین نے بھی اپنے اُوپر خدا کی طرف سے سزا کی حقیقت کو دیکھا—‏یعنی اگر انہوں نے بغاوت کی اور نافرمان ہوئے تو وہ ”‏یقیناً مرینگے۔“‏ شیطان کے جھوٹ کے باوجود، بظاہر غیرفانی جان کا عقیدہ ابھی بہت زیادہ نہیں پھیلا تھا، لہٰذا وہ اس سے کوئی جھوٹی تسلی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ خدا نے آؔدم سے کہا تھا:‏ ”‏زمین میں تُو پھر لوٹ .‏ .‏ .‏ جائے [‏گا]‏ اس لئے کہ تُو اُس سے نکالا گیا ہے کیونکہ تُو خاک ہے اور خاک میں پھر لوٹ جائیگا۔“‏ اُس نے مستقبل میں آسمان، دوزخ، لمبو، اعراف یا کسی دوسری جگہ میں غیرفانی جان کے طور پر زندہ رہنے کا کوئی ذکر نہیں کِیا تھا۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷؛‏ ۳:‏۴، ۵،‏ ۱۹‏)‏ بطور زندہ جانوں کے جنہوں نے گناہ کِیا تھا، آؔدم اور حوؔا بالآخر مر جائینگے اور ان کی زندگی ختم ہو جائیگی۔ بادشاہ سلیماؔن کو یہ لکھنے کا الہام بخشا گیا:‏ ”‏کیونکہ زندہ جانتے ہیں کہ وہ مرینگے پر مُردے کچھ بھی نہیں جانتے اور اُن کے لئے اور کچھ اجر نہیں کیونکہ اُن کی یاد جاتی رہی ہے۔ اب اُن کی محبت اور عداوت‌وحسد سب نیست ہو گئے اور تاابد اُن سب کاموں میں جو دُنیا میں کئے جاتے ہیں اُن کا کوئی حصہ بخرہ نہیں۔“‏—‏واعظ ۹:‏۵، ۶‏۔‏

۵.‏ مُردوں کے لئے حقیقی اُمید کیا ہے؟‏

۵ یہ الفاظ کسقدر سچ ہیں!‏ واقعی، کون دو سو یا تین سو سال پُرانے آباؤاجداد کو یاد رکھتا ہے؟ اکثر اُن کی قبروں کا بھی علم نہیں ہوتا یا کافی عرصہ سے فراموش کر دی جاتی ہیں۔ کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ ہمارے مُتوَفّی عزیزوں کے لئے کوئی اُمید نہیں ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ مرتھاؔ نے اپنے مُردہ بھائی، لعزؔر کی بابت یسوؔع سے کہا:‏ ”‏مَیں جانتی ہوں کہ قیامت میں آخری دن جی اُٹھیگا۔“‏ (‏یوحنا ۱۱:‏۲۴‏)‏ عبرانی لوگ یقین رکھتے تھے کہ مستقبل میں کسی وقت خدا مُردوں کو زندہ کریگا۔ تاہم، یہ بات انہیں کسی عزیز کی موت پر غمزدہ ہونے سے نہ روک سکی۔—‏ایوب ۱۴:‏۱۳‏۔‏

ایماندار جو غمزدہ ہوئے

۶، ۷.‏ اؔبرہام اور یعقوؔب نے موت کے لئے کیسا ردِعمل دکھایا؟‏

۶ تقریباً چار ہزار سال پہلے، جب اؔبرہام کی بیوی ساؔرہ نے وفات پائی تو ”‏اؔبرہام ساؔرہ کے لئے ماتم اور نوحہ کرنے کو وہاں گیا۔“‏ خدا کے اُس ایماندار خادم نے اپنی پیاری اور وفادار بیوی کی موت پر اپنے دلی جذبات کا اظہار کِیا۔ باوجودیکہ وہ ایک بہادر آدمی تھا، وہ اپنے غم کے اظہار میں آنسو بہانے پر شرمندہ نہ تھا۔—‏پیدایش ۱۴:‏۱۱-‏۱۶؛‏ ۲۳:‏۱، ۲‏۔‏

۷ یعقوؔب کا معاملہ بھی اسی طرح کا تھا۔ جب اسے یہ یقین کرنے کے لئے دھوکا دیا گیا کہ اُس کے بیٹے یوؔسف کو کسی جنگلی جانور نے پھاڑ کھایا تو اس نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ ہم پیدایش ۳۷:‏۳۴، ۳۵ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏تب یعقوؔب نے اپنا پیراہن چاک کِیا اور ٹاٹ اپنی کمر سے لپیٹا اور بہت دنوں تک اپنے بیٹے کے لئے ماتم کرتا رہا۔ اور اُس کے سب بیٹے اور بیٹیاں اُسے تسلی دینے جاتے تھے پر اُسے تسلی نہ ہوتی تھی۔ وہ یہی کہتا رہا کہ مَیں تو ماتم ہی کرتا ہوا قبر میں اپنے بیٹے سے جا ملونگا۔ سو اُسکا باپ اُس کے لئے روتا رہا۔“‏ جی‌ہاں، جب کوئی عزیز وفات پا جاتا ہے تو غم کا اظہار کرنا انسانی اور فطری بات ہے۔‏

۸.‏ عبرانی اکثر اپنے غم کا اظہار کیسے کرتے تھے؟‏

۸ بعض شاید سوچیں کہ جدید اور مقامی رسومات کے مقابلے میں، یعقوؔب کا ردِعمل مبالغہ‌آمیز اور جذباتی تھا۔ لیکن یعقوؔب نے ایک مختلف دَور اور تہذیب میں پرورش پائی تھی۔ اُسکا غم کرنے کا انداز—‏ٹاٹ پہننا—‏بائبل میں اس عمل کا پہلا واقعہ ہے۔ تاہم، جیسے کہ عبرانی صحائف میں بیان کِیا گیا ہے، ماتم کا اظہار گریۂ‌وزاری کرنے، مرثیے پڑھنے اور راکھ میں بیٹھنے سے بھی کِیا جاتا تھا۔ واضح طور پر عبرانیوں کو اپنے غم کے حقیقی اظہارات سے روکا نہیں گیا تھا۔‏a‏—‏حزقی‌ایل ۲۷:‏۳۰-‏۳۲؛ عاموس ۸:‏۱۰۔‏

یسوؔع کے زمانے میں غم

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ لعزؔر کی موت پر یسوؔع نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ (‏ب)‏ یسوؔع کا ردِعمل ہمیں اُس کی بابت کیا بتاتا ہے؟‏

۹ یسوؔع کے ابتدائی شاگردوں کی بابت ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟ مثال کے طور پر، جب لعزؔر مر گیا تو اس کی بہنوں مرتھاؔ اور مرؔیم نے اس کی موت کے ماتم میں آنسو بہائے۔ جب کامل آدمی یسوؔع اُس جگہ پر پہنچا تو اُس نے کیسا ردِعمل دکھایا؟ یوحنا کا بیان کہتا ہے:‏ ”‏جب مرؔیم اس جگہ پہنچی جہاں یسوؔع تھا اور اُسے دیکھا تو اُس کے قدموں پر گِر کر اُس سے کہا اَے خداوند اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا۔ جب یسوؔع نے اُسے اور اُن یہودیوں کو جو اُسکے ساتھ آئے تھے روتے دیکھا تو دل میں نہایت رنجیدہ ہوا اور گھبرا کر کہا تم نے اُسے کہاں رکھا ہے؟ اُنہوں نے کہا اَے خداوند!‏ چل کر دیکھ لے۔ یسوؔع کے آنسو بہنے لگے۔“‏—‏یوحنا ۱۱:‏۳۲-‏۳۵‏۔‏

۱۰ ”‏یسوؔع کے آنسو بہنے لگے۔“‏ یہ چند الفاظ یسوؔع کی انسان دوستی، اُس کے رحم، اُس کے احساسات کی غمازی کرتے ہیں۔ قیامت کی اُمید سے پوری طرح واقف ہونے کے باوجود بھی، ”‏یسوؔع رویا۔“‏ (‏یوحنا ۱۱:‏۳۵‏، کنگ جیمز ورشن)‏ بیان یہ کہتے ہوئے جاری رہتا ہے کہ دیکھنے والوں نے کہا:‏ ”‏دیکھو وہ [‏لعزؔر]‏ اُس کو کیسا عزیز تھا۔“‏ یقینی طور پر، اگر کامل انسان یسوؔع ایک دوست کے مرنے پر رویا تو پھر اس میں شرم کی کوئی بات نہیں اگر آجکل ایک آدمی یا ایک عورت گریہ‌وزاری کرتے اور روتے ہیں۔—‏یوحنا ۱۱:‏۳۶‏۔‏

مُردوں کیلئے کیا اُمید؟‏

۱۱.‏ (‏ا)‏ ماتم کی بابت بائبل کی مثالوں سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ ہم اُن کی طرح کیوں ماتم نہیں کرتے جنکے پاس کوئی اُمید نہیں ہے؟‏

۱۱ بائبل کی ان مثالوں سے ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ یہ کہ غم کرنا انسانی اور فطری عمل ہے اور ہمیں اپنے غم کو ظاہر کرنے میں شرمندگی محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ قیامت کی اُمید سے تسلی کے باوجود، کسی عزیز کی موت ایک بھاری نقصان ہے جسے بہت زیادہ محسوس کِیا جاتا ہے۔ سالوں، شاید دہوں کی قریبی رفاقت اور شراکت اچانک اور المناک طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ سچ ہے کہ ہم اُن کی طرح غم نہیں کرتے جنکے پاس کوئی اُمید نہیں یا جیسے وہ کرتے ہیں جو باطل اُمیدیں رکھتے ہیں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۳‏)‏ نیز، ہم انسان کے کسی غیرفانی جان رکھنے یا دوسرے جنم میں زندہ رہنے کے غلط عقائد سے گمراہ نہیں ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ یہوؔواہ نے ’‏نئے آسمان اور نئی زمین کا جن میں راستبازی بسی رہیگی‘‏ وعدہ کِیا ہے۔ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ خدا ”‏[‏ہماری]‏ آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اس کے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۴‏۔‏

۱۲.‏ پولسؔ نے قیامت پر اپنے ایمان کا اظہار کیسے کِیا؟‏

۱۲ جو مر چکے ہیں اُن کیلئے کیا اُمید ہے؟‏b مسیحی مصنف پولسؔ کو ہمیں تسلی اور اُمید دینے کیلئے الہام بخشا گیا تھا جب اُس نے لکھا:‏ ”‏سب سے پچھلا دُشمن جو نیست کِیا جائیگا وہ موت ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۶‏)‏ دی نیو انگلش بائبل کہتی ہے:‏ ”‏آخری دُشمن جسے یکسر ختم کِیا جائیگا موت ہے۔“‏ پولسؔ اس کی بابت اتنا پُراعتماد کیوں تھا؟ کیونکہ اُس نے مذہب تبدیل کِیا تھا اور اُس نے اُس شخص سے تعلیم پائی تھی جسے مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا تھا یعنی یسوؔع مسیح۔ (‏اعمال ۹:‏۳-‏۱۹‏)‏ پولسؔ اس لئے بھی یہ کہہ سکتا تھا:‏ ”‏کیونکہ جب ایک آدمی [‏آؔدم]‏ کے سبب سے موت آئی تو آدمی [‏یسوؔع]‏ ہی کے سبب سے مُردوں کی قیامت بھی آئی۔ اور جیسے آؔدم میں سب مرتے ہیں ویسے ہی مسیح میں سب زندہ کئے جائینگے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۱۳.‏ لعزؔر کی قیامت پر عینی‌شاہدوں نے کیسا ردِعمل دکھایا؟‏

۱۳ یسوؔع کی تعلیمات ہمیں مستقبل کے لئے بہت زیادہ تسلی اور اُمید دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اُس نے لعزؔر کے سلسلے میں کیا کِیا؟ وہ اُس قبر تک گیا جہاں لعزؔر کا بدن چار دن سے پڑا ہوا تھا۔ اُس نے دُعا کی، ”‏اور یہ کہہ کر اُس نے بلند آواز سے پکارا کہ اَے لعزؔر نکل آ۔ جو مر گیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا اور اُسکا چہرہ رومال سے لپٹا ہوا تھا۔ یسوؔع نے اُن سے کہا اُسے کھول کر جانے دو۔“‏ کیا آپ مرتھاؔ اور مرؔیم کے چہروں پر حیرت اور خوشی کے جذبات کا تصور کر سکتے ہیں؟ جب پڑسیوں نے یہ معجزہ دیکھا ہوگا تو وہ کسقدر حیران ہوئے ہونگے!‏ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہتیرے مشاہدین یسوؔع پر ایمان لے آئے۔ تاہم، اس کے مذہبی دُشمن، ”‏اُسے قتل کرنے کا مشورہ کرنے لگے۔“‏—‏یوحنا ۱۱:‏۴۱-‏۵۳‏۔‏

۱۴.‏ لعزؔر کی قیامت کس چیز کی علامت تھی؟‏

۱۴ یسوؔع بہت سے عینی‌شاہدوں کی موجودگی میں یہ ناقابلِ‌فراموش قیامت عمل میں لایا۔ یہ مستقبل کی اُس قیامت کی علامت تھی جس کی بابت اُس نے پہلے ایک موقع پر پیشینگوئی کی تھی، جب اُس نے کہا تھا:‏ ”‏اس سے تعجب نہ کرو کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ جتنے قبروں میں ہیں اُس [‏خدا کے بیٹے]‏ کی آواز سن کر نکلینگے۔ جنہوں نے نیکی کی ہے زندگی کی قیامت کے واسطے اور جنہوں نے بدی کی ہے سزا کی قیامت کے واسطے۔“‏—‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹‏۔‏

۱۵.‏ پولسؔ اور حننیاؔہ کے پاس یسوؔع کی قیامت کا کیا ثبوت تھا؟‏

۱۵ جیسے‌کہ پہلے ذکر کِیا گیا، پولسؔ رسول قیامت پر ایمان رکھتا تھا۔ کس بنیاد پر؟ وہ پہلے بدنام ساؔؤل، مسیحیوں کا ستانے والا رہ چکا تھا۔ اُس کے نام اور شہرت نے ایمانداروں کے درمیان خوف‌وہراس پھیلا دیا۔ بہرصورت، کیا وہ وہی شخص نہیں تھا جس نے سخت تکلیف اُٹھانے والے مسیحی ستفنسؔ کو سنگسار کرنے کی حمایت کی تھی؟ (‏اعمال ۸:‏۱؛‏ ۹:‏۱، ۲،‏ ۲۶‏)‏ اس کے باوجود، دمشقؔ کی طرف سفر کرتے ہوئے، قیامت‌یافتہ مسیح نے ساؔؤل کو عارضی طور پر بینائی سے محروم کرتے ہوئے، اُس کے حواس ٹھکانے لگا دئے۔ ساؔؤل نے خود سے مخاطب ایک آواز کو سنا:‏ ”‏اَے ساؔؤل اَے ساؔؤل!‏ تُو مجھے کیوں ستاتا ہے؟ اُس نے پوچھا اَے خداوند!‏ تُو کون ہے؟ اس نے کہا مَیں یسوؔع ہوں جسے تُو ستاتا ہے۔“‏ پھر اُسی قیامت‌یافتہ مسیح نے، دمشقؔ میں رہنے والے حننیاؔہ کو ہدایت کی کہ اُس گھر میں جائے جہاں ساؔؤل دُعا کر رہا تھا اور اُس کی بینائی کو بحال کرے۔ لہٰذا، ذاتی تجربے کی بنا پر ساؔؤل اور حننیاہ دونوں کے پاس قیامت پر اُمید رکھنے کی ہر وجہ موجود تھی۔—‏اعمال ۹:‏۴، ۵،‏ ۱۰-‏۱۲‏۔‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏ا)‏ ہم یہ کیسے جانتے ہیں کہ پولسؔ انسانی جان کے پیدائشی طور پر غیرفانی ہونے کے یونانی نظریے کو نہیں مانتا تھا؟ (‏ب)‏ بائبل کونسی ٹھوس اُمید دیتی ہے؟ (‏عبرانیوں ۶:‏۱۷-‏۲۰‏)‏

۱۶ غور کریں کہ جب ایک ایذارساں مسیحی کے طور پر، اُسے گورنر فیلکسؔ کی حضوری میں لایا گیا تو ساؔؤل یعنی پولسؔ رسول نے کیسے جواب دیا تھا۔ ہم اعمال ۲۴:‏۱۵ میں پڑھتے ہیں:‏ ”‏خدا سے اُسی بات کی اُمید رکھتا ہوں .‏ .‏ .‏ کہ راستبازوں اور ناراستوں دونوں کی قیامت ہوگی۔“‏ واضح طور پر، پولسؔ انسانی جان کے پیدائشی طور پر غیرفانی ہونے کے بُت‌پرستانہ یونانی نظریے پر ایمان نہیں رکھتا تھا، جو کہ مبیّنہ طور پر کسی فرضی دوسرے جنم یا عالمِ‌اسفل میں چلی جاتی تھی۔ وہ قیامت پر یقین رکھتا اور اس پر ایمان کی تعلیم دیتا تھا۔ بعض کے لئے اسکا مطلب آسمان میں مسیح کے ساتھ بطور روحانی مخلوق کے غیرفانی زندگی کی بخشش اور اکثریت کے لئے کامل زمین پر زندگی کی بحالی ہوگا۔—‏لوقا ۲۳:‏۴۳؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۰-‏۲۲،‏ ۵۳، ۵۴؛‏ مکاشفہ ۷:‏۴،‏ ۹،‏ ۱۷؛‏ ۱۴:‏۱،‏ ۳‏۔‏

۱۷ پس بائبل ہمیں ایک کامل اور ایک ٹھوس اُمید پیش کرتی ہے کہ قیامت کے ذریعے، بہتیرے اپنے عزیزوں کو یہاں زمین پر لیکن نہایت مختلف حالتوں کے تحت ایک بار پھر دیکھینگے۔—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳؛‏ مکاشفہ ۲۱:‏۱-‏۴‏۔‏

غمزدوں کیلئے عملی مدد

۱۸.‏ (‏ا)‏ ”‏خدائی خوف“‏ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر کونسے مددگار ہتھیار کی ریلیز ہوئی تھی؟ (‏بکس دیکھیں۔)‏ (‏ب)‏ اب کونسے سوالات کے جواب دینے کی ضرورت ہے؟‏

۱۸ اس وقت ہماری یادیں اور ہمارے غم باقی ہیں۔ تکلیف‌دہ اُداسی کی اس حالت سے بچنے کے لئے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ جو غمزدہ ہیں اُن کی مدد کرنے کے لئے دوسرے لوگ کیا کر سکتے ہیں؟ مزیدبرآں، ہم اُن خلوصدل لوگوں کی مدد کے لئے کیا کر سکتے ہیں جن سے ہم اپنی میدانی خدمتگزاری کے دوران ملتے ہیں جن کے پاس کوئی حقیقی اُمید نہیں ہے اور جو غمزدہ بھی ہیں؟ اور اپنے اُن مُتوَفّی عزیزوں کے سلسلے میں جو موت کی نیند سوتے ہیں ہم بائبل سے مزید کیا تسلی حاصل کر سکتے ہیں؟ اگلا مضمون کچھ تجاویز پیش کریگا۔ (‏۶ ۶/۰۱ w۹۵)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بائبل وقتوں میں ماتم کرنے کی بابت مزید معلومات کے لئے، واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹڈ کی شائع‌کردہ، انسائٹ آن دی سکرپچرز، جِلد ۲، کے صفحات ۴۴۶-‏۴۴۷ کو دیکھیں۔‏

b بائبل میں پائی جانے والی اُمیدِقیامت کی بابت مزید معلومات کے لئے دیکھیں، انسائٹ آن دی سکرپچرز، جِلد ۲، صفحات ۷۸۳۔۷۹۳۔‏

کیا آپ جواب دے سکتے ہیں؟‏

▫ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ موت ایک دُشمن ہے؟‏

▫ بائبل وقتوں میں خدا کے خادموں نے اپنے غم کا اظہار کیسے کِیا؟‏

▫ مُتوَفّی عزیزوں کے لئے کیا اُمید ہے؟‏

▫ پولسؔ کے پاس قیامت پر یقین رکھنے کی کیا بنیاد تھی؟‏

‏[‏بکس]‏

سوگواروں کے لئے عملی مدد

۱۹۹۴-‏۱۹۹۵ کے دوران ”‏خدائی خوف“‏ ڈسٹرکٹ کنونشنوں پر، واچ‌ٹاور سوسائٹی نے ایک نئے بروشر بعنوان وین سم‌ون یو لو ڈائیز کی ریلیز کا اعلان کِیا۔ اس حوصلہ‌افزا اشاعت کو تمام قوموں اور زبانوں کے لوگوں کے لئے تسلی فراہم کرنے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔ جیسے‌کہ شاید آپ پہلے ہی سے دیکھ چکے ہوں، یہ موت کی بابت اور مُردوں کی حالت کی بابت بائبل کی سادہ وضاحت پیش کرتی ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ یہ یسوؔع مسیح کے وسیلے سے پاک‌صاف فردوسی زمین پر زندگی کے لئے قیامت پانے کے خدا کے وعدہ کو نمایاں کرتی ہے۔ جو افسردہ ہیں یہ واقعی اُن کے لئے تسلی کا باعث ہے۔ اس لئے، اسے مسیحی خدمتگزاری میں بھی ایک معاون ہتھیار ہونا چاہئے جسے بہت زیادہ بائبل مطالعوں کا باعث بنتے ہوئے، دلچسپی کو اُبھارنے کے لئے کام کرنا چاہئے۔ مطالعہ کے سوالات کو بڑی دانشمندی سے ہر حصے کے اختتام پر بکس کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی خلوصدل، غمزدہ شخص کے ساتھ اُن نکات پر نظرثانی کی جا سکے جو زیرِبحث آ چکے ہیں۔‏

‏[‏تصویر]‏

جب لعزؔر مر گیا تو یسوؔع رویا

‏[‏تصویر]‏

یسوؔع نے لعزؔر کو مُردوں میں سے زندہ کِیا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

by W. Bouguereau, from original glass plate in ‏,First Mourning

1914 ,Photo-Drama of Creation

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں