بادشاہتی مُناد رپورٹ دیتے ہیں
افریقہ میں نوجوان خوشخبری کا اعلان کرتے ہیں
یسوؔع کی قیامت کے تھوڑی دیر بعد، ایک افریقی آدمی یرؔوشلیم کا دورہ کر رہا تھا۔ بائبل اس کا نام نہیں بتاتی۔ وہ صرف ”حبشیوں کی ملکہ کندؔاکے کا ایک وزیر اور اس کے سارے خزانہ کا مختار“ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بائبل میں اس کا ذکر کیوں آتا ہے؟ اسلئے کہ ایک فرشتے نے مبشر فلپسؔ کی راہنمائی کی کہ اسے ”یسوؔع کی خوشخبری“ دے۔ تحریر میں یہ حبشی آدمی پہلا افریقی تھا جو مسیحی کلیسیا کا ممبر بنا۔—اعمال ۸:۲۶-۳۹۔
آجکل، افریقہ میں لاکھوں یہوؔواہ کے گواہ پائے جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کو یسوؔع کی بابت خوشخبری میں شریک کرنے کی خاطر ہر موقع استعمال کرتے ہیں۔ مندرجہذیل تجربات ظاہر کرتے ہیں کہ افریقہ میں نوجوان اشخاص کا بھی اس کام میں ادا کرنے کیلئے اپنا کردار موجود ہے۔
▫ نیروبی، کینیا میں دو ۱۱ سالہ لڑکیاں سینڈؔی اور پریّاؔ پڑوسی تھیں۔ وہ اکٹھے کھیلنے اور کہانیوں کی کتابوں کا تبادلہ کرنے سے لطف اُٹھایا کرتی تھیں۔ پریّاؔ کے والدین نے یہوؔواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ اب پریّاؔ کے پاس اپنے مجموعے میں شامل کرنے کیلئے نئی کتابوں کا انتخاب ہے جس میں خاصکر ایک ایسی ہے جو اس کی پسندیدہ کتاب بن گئی ہے جو واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کی شائعکردہ لِسننگ ٹو دی گریٹ ٹیچر ہے۔ اس نے اپنی سہیلی سینڈؔی کو اپنی گریٹ ٹیچر کتاب دی، اور دونوں لڑکیوں نے باقاعدگی سے مطالعہ شروع کر دیا۔
تاہم، سینڈؔی کی ماں، یوؔنا، اینگلیکن چرچ جاتی تھی اور اس نے نہ چاہا کہ اس کی بیٹی یہوؔواہ کے گواہوں سے کتابیں لے کر پڑھے۔ ماں کی مخالفت کے باوجود، مطالعہ جاری رہا۔ ایک دن سینڈؔی نے اپنی ماں سے التجا کی کہ صرف ایک بار وہ ان کی باتچیت سُن لے۔ جو باب ان لڑکیوں نے اس دن پڑھا اس کا عنوان تھا ”وہ دو آدمی جنہوں نے جنمدن منائے۔“ یوؔنا نے سنا اور نہایت متاثر ہوئی۔ وہ جلدی سے پریّاؔ کی ماں کے پاس بائبل کے ڈھیروں سوال لے کر پہنچی۔
پریّاؔ کی ماں نے ایک گواہ کا بندوبست کیا کہ وہ یوؔنا کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرے۔ جلد ہی یوؔنا بذاتِخود جو کچھ وہ سیکھ رہی تھی اپنی ساتھی کارکن ڈؔولی کو بتانے لگی۔ اسی دوران ۱۱ سالہ پریّاؔ نے ترقی کرنا جاری رکھا اور فیصلہ کیا کہ یہوؔواہ کے گواہوں کی ڈسٹرکٹ کنونشن پر پانی کے بپتسمہ کے ذریعے یہوؔواہ خدا کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کرے۔ اسی کنونشن پر، پریّاؔ کے لئے خوشی کی بات تھی کہ یوؔنا اور ڈؔولی نے بھی بپتسمہ لیا!
▫ ایسے بعض افریقی ممالک ہیں جہاں یہوؔواہ کے گواہوں کا کام رجسٹرڈ نہیں ہے۔ ایسے ہی ایک ملک میں مذہبی سرگرمیوں اور گواہوں کے عقائد کی جانب بُردباری کی فضا پائی جاتی ہے۔ اس ملک کے ایک سکول میں ایک سات سالہ لڑکے اور اس کے چھ سالہ بھائی—گواہوں کے بچوں—کو مذہبی دعاؤں کے دوران غیرحاضر رہنے کی اجازت حاصل تھی۔
ایک دن ایک نئے ٹیچر نے مطالبہ کیا کہ یہ لڑکے دوسرے بچوں کے ساتھ دعا میں شریک ہوں۔ بڑے لڑکے نے انکار کیا اور ٹیچر نے اس کی پٹائی کی۔ اس کے چھ سالہ چھوٹے بھائی شیڈؔرک نے ہیڈماسٹر کو اس کے دفتر میں ملنے پر اصرار کیا۔ اس کے ہیڈماسٹر اور ٹیچر نے اس سے پوچھا کہ وہ کیوں دوسروں کے ساتھ شریک نہیں ہونا چاہتا تھا۔ انہوں نے پوچھا کہیں وہ اپنے والدین سے مار کھانے سے تو نہیں ڈرتا۔ اس نے نہایت ہی شستہ عربی میں جواب دیا: ”نہیں جس خدا کی مَیں پرستش کرتا ہوں وہ ابتری کا نہیں بلکہ امن کا خدا ہے۔ مَیں گھر میں یہوؔواہ کا ایک گواہ اور اسکول میں دوسرے مذہب کا نہیں ہو سکتا!“ اس کے نتیجے میں اسے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔
بپتسمہ پانے کے بعد، اعمال کی کتاب میں مذکورہ حبشی آدمی ”خوشی کرتا ہوا اپنی راہ چلا گیا۔“ (اعمال ۸:۳۹) اسی طرح آجکل، بادشاہتی مُناد افریقہ کے وسیع برّاعظم میں ’یسوؔع کی بابت خوشخبری دینے‘ کے اپنے شرف پر خوشی کرتے ہیں۔—اعمال ۸:۳۵۔ (۲۷ ۵/۰۱ w۹۵)