خدائے برحق کا خوف ماننے کے فوائد
”میں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔“—یسعیاہ ۴۸:۱۷۔
۱. خدائی خوف کے ذریعے کن مصیبتوں سے بچا جا سکتا تھا؟
اگر آؔدم نے خدائی خوف پیدا کیا ہوتا تو اس نے اسے گناہ سے روکا ہوتا جو اسکی اپنی ابدی موت کا اور اسکی اولاد کیلئے ہزاروں سالوں کے غم کا سبب بنا۔ اگر قدیم اسرائیل قوم نے یہوؔواہ کا خوف ماننے اور اس سے محبت رکھنے کیلئے اُس کی مشورت پر دھیان دیا ہوتا تو اس اُمت کو بابلؔ میں اسیر نہ کیا گیا ہوتا، نہ ہی انہوں نے خدا کے بیٹے کو رد کیا ہوتا اور اسکا خون بہانے کے مجرم بنے ہوتے۔ اگر آجکل کی دنیا نے خدا کا خوف مانا ہوتا تو حکومت یا کاروبار میں کوئی بدعنوانی نہ ہوتی، نہ جُرم ہوتا، نہ جنگ۔—امثال ۳:۷۔
۲. اپنے چوگرد دنیا میں حالتوں کے باوجود، ہمیں یہوؔواہ کا خوف کیوں پیدا کرنا چاہئے؟
۲ اس سے قطعنظر کہ ہمارے چوگرد دنیا کیا کرتی ہے، تاہم، ہم انفرادی طور پر، خاندانوں کے طور پر، اور یہوؔواہ کے خادموں کی کلیسیاؤں کے طور پر خدائے برحق کا خوف پیدا کرنے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اس یاددہانی کی مطابقت میں ہے جو موسیٰؔ نے بنی اسرائیل کو دی: ”خداوند تیرا خدا تجھ سے اس کے سوا اور کیا چاہتا ہے کہ تُو خداوند اپنے خدا کا خوف مانے اور اس کی سب راہوں پر چلے اور اس سے محبت رکھے اور اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے خداوند اپنے خدا کی بندگی کرے۔ اور خداوند کے . . . احکام . . . پر عمل کرے تاکہ تیری خیر ہو؟“ (استثنا ۱۰:۱۲، ۱۳) جب ہم برحق خدا، یہوؔواہ کا خوف مانتے ہیں تو ان فوائد میں سے بعض کیا ہیں جو ہمیں حاصل ہوتے ہیں؟
حکمت—سونے سے بھی زیادہ بیشقیمت
۳. (ا) سب سے اہم فائدہ کیا ہے جو ہم حاصل کر سکتے ہیں؟ (ب) زبور ۱۱۱:۱۰ کا کیا مطلب ہے؟
۳ سب سے اہم فائدہ سچی حکمت ہے۔ زبور ۱۱۱:۱۰ بیان کرتی ہے: ”خداوند کا خوف دانائی کا شروع ہے۔“ اسکا کیا مطلب ہے؟ حکمت مسائل حل کرنے، خطرے سے بچنے، اور بعض نشانوں تک پہنچنے کے لئے علم کو کامیابی کے ساتھ استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس میں بصیرت شامل ہے۔ ایسی حکمت کا شروع، پہلا حصہ یعنی بنیاد یہوؔواہ کا خوف ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ تمام تخلیق اسکے ہاتھوں کی کاریگری ہے۔ یہ اس کی مرہونِمنت ہے۔ اس نے نسلِانسانی کو آزاد مرضی کی بخشش سے نوازا لیکن اسکی رہبری کے بغیر کامیابی کیساتھ اپنے قدموں کی راہنمائی کرنے کی خوبی عطا نہ کی۔ (یشوع ۲۴:۱۵؛ یرمیاہ ۱۰:۲۳) اگر ہم صرف زندگی کے متعلق ان بنیادی حقائق کی قدر کرتے ہیں اور انکے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں تو ہم دائمی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر یہوؔواہ کی بابت ہمارا علم ہمیں غیرمتزلزل یقیندہانی کراتا ہے کہ خدا کی مرضی یقیناً پوری ہوگی اور وفاداری کا اجر دینے کیلئے اسکا وعدہ اور صلاحیت یقینی ہیں تو پھر خدائی خوف ہمیں دانائی کیساتھ کام کرنے کی تحریک دیگا۔—امثال ۳:۲۱-۲۶؛ عبرانیوں ۱۱:۶۔
۴، ۵. (ا) ایک جوان آدمی کی یونیورسٹی کی تعلیم نے اسے سچی حکمت سے محروم کیوں رکھا؟ (ب) اس آدمی اور اسکی بیوی نے بعد میں حقیقی حکمت کیسے حاصل کی اور کس طریقے سے اس نے انکی زندگیوں کو بدل ڈالا؟
۴ ایک مثال پر غور کریں۔ چند دہے پہلے، ایک جوان آدمی سسکیچیوان یونیورسٹی، کینیڈا میں، تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ نصاب میں علمِحیاتیات شامل تھا، اور اسے ارتقاء کی تعلیم دی گئی تھی۔ اپنی گریجویشن کے بعد، ٹرانٹو یونیورسٹی میں اپنی پڑھائی کو جاری رکھنے کے لئے وظیفہ حاصل کرتے ہوئے، وہ ایٹمی فزکس کا ماہر بنا۔ جب اس نے مطالعہ کیا تو اس نے ایٹمی ساختوں میں ترتیب اور نمونے کا شاندار ثبوت پایا۔ لیکن ان سوالات کے کوئی جواب نہیں دئے گئے تھے: اس سب کو کس نے مرتب کِیا؟ کب؟ اور کیوں؟ ان کے جوابات کے بغیر، کیا وہ ممکنہ طور پر اپنے علم کو ایک ایسی دنیا میں دانشمندی کے ساتھ استعمال کر سکتا تھا جو اس وقت جنگ میں اُلجھی ہوئی تھی؟ کیا چیز اس کی راہنمائی کریگی؟ قومپرستی؟ مادی انعاموکرام کی خواہش؟ حقیقت میں، کیا اس نے سچی حکمت حاصل کر لی تھی؟
۵ اُسکی گریجویشن کے بعد، زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس جوان آدمی اور اسکی بیوی نے یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ خدا کے اپنے کلام سے، انہوں نے وہ جواب حاصل کرنا شروع کر دئے جن سے وہ پہلے محروم تھے۔ انہوں نے خالق، یہوؔواہ خدا کو جان لیا۔ جب انہوں نے بحرِقلزم پر موسیٰؔ کی بابت اور بابلؔ میں دانیؔایل اور اس کے رفیقوں کی بابت مطالعہ کیا تو انہوں نے انسان کا نہیں بلکہ خدا کا خوف ماننے کی اہمیت کو سیکھا۔ (خروج ۱۴:۱۰-۳۱؛ دانیایل ۳:۸-۳۰) یہوؔواہ کیلئے حقیقی محبت کیساتھ ایسے خدائی خوف نے انہیں تحریک دینا شروع کر دی۔ جلد ہی انکی زندگیوں کی تمام روش بدل گئی۔ آخرکار اس جوان آدمی نے اسکو جان لیا تھا جسکی دستکاری کا اس نے علمِحیاتیات میں مطالعہ کیا تھا۔ اس نے اس کے مقصد کو سمجھنا شروع کر دیا تھا جس کی حکمت کو وہ طبیعیات کے مطالعے میں منعکس ہوتے دیکھ چکا تھا۔ اپنے علم کو ایسے آلات بنانے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے جو اس کے ساتھی انسانوں کو ہلاک کرینگے، وہ اور اسکی بیوی دوسروں کی مدد کرنا چاہتے تھے کہ خدا سے محبت کریں اور اپنے پڑوسی سے محبت کریں۔ انہوں نے خدا کی بادشاہت کے منادوں کے طور پر کُلوقتی خدمت میں اندراج کرا لیا۔ بعدازاں، انہوں نے واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ سے تعلیم حاصل کی اور مشنریوں کے طور پر باہر بھیج دئے گئے۔
۶. اگر ہم وہ حکمت رکھتے ہیں جسکی جڑ یہوؔواہ کے خوف میں پیوستہ ہے تو ہم کن کوتاہبیں کاموں سے گریز کرینگے، اور اسکے برعکس ہم کیا کر رہے ہونگے؟
۶ بلاشُبہ، ہر کوئی مشنری نہیں بن سکتا۔ لیکن ہم سب اس حکمت سے مستفید ہو سکتے ہیں جس کی جڑ یہوؔواہ کے خوف میں پیوستہ ہے۔ اگر ہم اس حکمت کو پیدا کرتے ہیں تو ہم اشتیاق کے ساتھ انسانوں کی فیلسوفیوں میں مستغرق نہیں ہونگے جو صرف اندازے لگا رہے ہیں کہ زندگی کا کیا مطلب ہے۔ ہم زندگی کے سرچشمے، یہوؔواہ خدا، کے ذریعے مُلہَم، بائبل کا مطالعہ کرنے میں خود کو مشغول رکھینگے، وہ جو ہمیں ابدی زندگی دے سکتا ہے۔ (زبور ۳۶:۹؛ کلسیوں ۲:۸) تجارتی نظام کا غلام بننے کی بجائے جو خود تباہی کے کنارے پر لڑکھڑا رہا ہے، ہم یہوؔواہ کی مشورت پر کان لگائینگے کہ کھانے اور پہننے پر قناعت کریں، جبکہ اسی دوران خدا کیساتھ اپنے رشتے کو زندگی میں نہایت اہم چیز بنائیں۔ (۱-تیمتھیس ۶:۸-۱۲) اس طرح عمل کرنے کی بجائے گویا کہ ہمارے مستقبل کا انحصار اس دنیا میں خوب قدم جمانے پر ہے، ہم یہوؔواہ کے کلام پر یقین رکھینگے جب یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا اور اسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں، لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے ابد تک قائم رہیگا۔—۱-یوحنا ۲:۱۷۔
۷. (ا) اقدار کا متوازن احساس رکھنے میں امثال ۱۶:۱۶ ہماری کس طرح مدد کرتی ہے؟ (ب) خدا کی مرضی کو اپنی زندگیوں کا محور بنانے سے کیا اجر ملتے ہیں؟
۷ امثال ۱۶:۱۶ حقگوئی سے بیان کرتے ہوئے ہماری حوصلہافزائی کرتی ہے: ”حکمت کا حصول [حکمت جو یہوؔواہ کے خوف کیساتھ شروع ہوتی ہے] سونے سے بہت بہتر ہے اور فہم کا حصول چاندی سے بہت پسندیدہ ہے۔“ اس طرح کی حکمت اور فہم ہمیں تحریک دینگے کہ خدا کی مرضی بجا لانے کو اپنی زندگیوں کا محور بنائیں۔ اور وہ کونسا کام ہے جو خدا نے انسانی تاریخ کے اس دَور میں اپنے گواہوں کے سپرد کیا ہے؟ اسکی بادشاہت کی بابت منادی کرنا اور خلوصدل اشخاص کی مدد کرنا کہ یسوؔع مسیح کے سچے شاگرد بنیں۔ (متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰) یہ وہ کام ہے جو حقیقی اطمینان اور بہت زیادہ خوشی کے اجر دینے پر منتج ہوتا ہے۔ لہٰذا، بائبل اچھی وجہ ہی سے کہتی ہے: ”مبارک ہے وہ آدمی جو حکمت کو پاتا ہے۔“—امثال ۳:۱۳۔
غلطکاری کے خلاف تحفظ
۸. (ا) خدائی خوف سے حاصل ہونے والا دوسرا فائدہ بتائیں۔ (ب) وہ بُرائی کیا ہے جس سے ہم بچے ہوئے ہیں؟ (پ) خدائی خوف ایک طاقتور قوتِمتحرکہ کیسے بنتا ہے؟
۸ خدا کا خوف ماننے کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جو بُرائی ہے اسے کر گزرنے سے محفوظ رہتے ہیں۔ وہ جو دل سے خدا کی عزت کرتے ہیں اپنے لئے فیصلہ نہیں کرتے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے۔ وہ اس چیز کو بُرائی خیال نہیں کرتے جسے خدا اچھا کہتا ہے، اور نہ ہی وہ ان چیزوں کو اچھا خیال کرتے ہیں جنہیں خدا بُرا کہتا ہے۔ (زبور ۳۷:۱، ۲۷؛ یسعیاہ ۵:۲۰، ۲۱) علاوہازیں، ایک شخص جو خدائی خوف سے تحریک پاتا ہے صرف یہ جاننے پر اکتفا نہیں کرتا کہ یہوؔواہ کس چیز کو اچھا کہتا ہے اور کس چیز کو بُرا کہتا ہے۔ ایسا شخص اس چیز سے محبت کرتا ہے جس سے یہوؔواہ محبت کرتا ہے اور اس چیز سے نفرت کرتا ہے جس سے یہوؔواہ نفرت کرتا ہے۔ نتیجتاً، وہ خدا کے معیاروں کی مطابقت میں عمل کرتا ہے۔ اسطرح، جیسے کہ امثال ۱۶:۶ میں بیان کیا گیا ہے، ”لوگ خداوند کے خوف کے سبب سے بدی سے باز آتے ہیں۔“ ایسا خدائی خوف وہ کچھ حاصل کرنے کیلئے ایک زورآور قوتِمتحرکہ بن جاتا ہے جو شاید ایک شخص اپنی طاقت سے حاصل کرنے کے قابل نہ ہو۔
۹. خدا کو ناراض نہ کرنے کی خواہش میکسیکو میں ایک عورت کے فیصلے پر کیسے اثرانداز ہوئی اور کس نتیجے کیساتھ؟
۹ اگرچہ ایسا خوف ایک شخص میں پیدا ہونا شروع ہی ہوتا ہے، یہ اسے ایسا کام کرنے سے بچنے کیلئے مستحکم کر سکتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی بھر پشیمان ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، میکسیکو میں ایک حاملہ خاتون نے ایک گواہ سے اسقاطِحمل کی بابت پوچھا۔ گواہ نے اس عورت کے سامنے متعدد صحیفے پڑھے اور پھر استدلال کیا: ”خالق کے نزدیک زندگی بہت اہم ہے، انکی زندگی بھی جو ابھی تک پیدا نہیں ہوئے۔“ (خروج ۲۱:۲۲، ۲۳؛ زبور ۱۳۹:۱۳-۱۶) طبّی معائنے نے اشارہ دیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ اسکا بچہ نارمل نہ ہو۔ لیکن اب جو کچھ وہ خدا کے کلام میں دیکھ چکی تھی اس سے تحریک پاکر، اس عورت نے اپنے بچے کو جنم دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اسکے ڈاکٹر نے اسکا دوبارہ معائنہ کرنے سے انکار کر دیا، اور اسکے شوہر نے اسے چھوڑ دینے کی دھمکی دی، لیکن وہ ثابتقدم تھی۔ وقت آنے پر، اس نے ایک بچی کو جنم دیا—نارمل، صحتمند، اور خوبصورت۔ شکرگزاری سے تحریک پاکر، اس نے گواہوں کو تلاش کِیا اور انہوں نے اس کے ساتھ خدا کے کلام کا مطالعہ شروع کر دیا۔ ایک سال کے اندر اندر، اس نے اور اس کے شوہر نے بپتسمہ لے لیا تھا۔ چند سال بعد ایک ڈسٹرکٹ کنونشن پر، وہ اس پہلی گواہ سے ملکر خوش ہوئے تھے اور انہوں نے اس سے اپنی چار سالہ پیاری سی بچی کو متعارف کرایا۔ خدا کے لئے واجب احترام اور اسے ناراض نہ کرنے کی زوردار خواہش یقینی طور پر کسی کی زندگی میں ایک پُرزور اثر رکھتے ہیں۔
۱۰. خدائی خوف لوگوں کو غلطکاری کی کن اقسام سے نجات حاصل کرنے کیلئے تقویت دے سکتا ہے؟
۱۰ خدائی خوف ہمیں غلطکاری کے وسیع میدان کے خلاف مستحکم کرتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۷:۱) جب صحیح طور پر پیدا کیا جاتا ہے تو یہ پوشیدہ گناہوں سے کنارہ کرنے کیلئے ایک شخص کی مدد کر سکتا ہے جو صرف اسکے اور یہوؔواہ کے علم میں ہوتے ہیں۔ یہ الکحل کے غلط استعمال یا منشیات کے غلط استعمال کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے میں اسے مدد دے سکتا ہے۔ جنوبی افریقہ کے ایک سابق منشیات کے عادی نے وضاحت کی: ”جب میں نے خدا کا علم حاصل کیا تو میں نے اسے رنجیدہ کرنے یا ناراض کرنے کا خوف بھی پیدا کیا۔ میں جانتا تھا کہ وہ دیکھ رہا تھا، اور میں اسکی نظر میں مقبولیت حاصل کرنے کی آرزو رکھتا تھا۔ اس چیز نے مجھے ان نشہآور چیزوں کو جو میرے پاس تھیں بیتالخلا میں پانی کیساتھ بہا کر ضائع کرنے کی تحریک دی۔“ خدائی خوف نے انہی طریقوں سے دیگر ہزاروں لوگوں کی مدد کی ہے۔—زبور ۵:۲۱؛ ۱۵:۳۔
انسانوں کے ڈر کے خلاف تحفظ
۱۱. یہوؔواہ کا خوشگوار خوف ہمیں کس عام پھندے سے محفوظ رکھ سکتا ہے؟
۱۱ خدا کا خوشگوار خوف ہمیں انسان کے ڈر کے خلاف محفوظ رکھتا ہے۔ زیادہتر لوگ کسی نہ کسی حد تک انسان کے ڈر سے مصیبتزدہ ہیں۔ جب گتسمنیؔ باغ میں سپاہیوں نے یسوؔع مسیح کو پکڑ لیا تو اس کے رسولوں نے بھی اسے چھوڑ دیا اور بھاگ گئے۔ بعدازاں، سردار کاہن کے صحن میں، توازن کھو بیٹھنے پر اور خوف کی حالت میں، پطرؔس نے یسوؔع کے شاگردوں میں سے ایک ہونے اور اسے جاننے سے انکار کر دیا تھا۔ (مرقس ۱۴:۴۸-۵۰، ۶۶-۷۲؛ یوحنا ۱۸:۱۵-۲۷) لیکن روحانی توازن دوبارہ بحال کرنے کیلئے رسولوں کی مدد کی گئی تھی۔ اسکی دوسری جانب، بادشاہ یہوؔیقیم کے زمانہ میں اؔوریاہ بِن سمعیاؔہ خوف سے اسقدر مغلوب ہو گیا تھا کہ اس نے یہوؔواہ کے نبی کے طور پر اپنی خدمت کو چھوڑ دیا اور ملک سے بھاگ گیا، بہرصورت وہ پکڑا گیا اور قتل ہوا۔—یرمیاہ ۲۶:۲۰-۲۳۔
۱۲. (ا) امثال ۲۹:۲۵ انسان کے ڈر کے خلاف کس تحفظ کی نشاندہی کرتی ہے؟ (ب) خدا پر توکل کس طرح ترقی پاتا ہے؟
۱۲ انسان کے ڈر پر غالب آنے کیلئے کیا چیز کسی شخص کی مدد کر سکتی ہے؟ یہ آگاہی دینے کے بعد کہ ”انسان کا ڈر پھندا ہے،“ امثال ۲۹:۲۵ اضافہ کرتی ہے: ”لیکن جو کوئی خداوند پر توکل کرتا ہے محفوظ رہیگا۔“ یہوؔواہ پر توکل کُنجی ہے۔ ایسا توکل علم اور تجربے پر مبنی ہوتا ہے۔ اسکے کلام کا مطالعہ کرنے سے، ہم یہوؔواہ کی راہوں کی درستی کے ثبوت کو دیکھتے ہیں۔ ہم ان واقعات سے واقف ہوتے ہیں جو اسکے قابلِبھروسہ ہونے، اسکے وعدوں (قیامت سمیت) کی یقیندہانی اسکی محبت اور قادرِمطلق قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسکے بعد جب ہم اس علم کے مطابق عمل کرتے ہیں، وہ کام کرتے ہوئے جنکی یہوؔواہ ہدایت کرتا ہے اور ان کو مستقلمزاجی سے مسترد کرتے ہوئے جن کے خلاف وہ آگاہ کرتا ہے تو ہم اس کی پُرمحبت نگہداشت اور اسکے قابلِبھروسہ ہونے کا براہِراست تجربہ کرنے لگتے ہیں۔ ہم ذاتی طور پر اسکا ثبوت دیکھتے ہیں کہ اسکی قوت اسکی مرضی کو پورا کرنے کیلئے کارفرما ہوتی ہے۔ اس پر ہمارا اعتماد بڑھتا ہے، اور اس کے ساتھ، اس کیلئے ہماری محبت اور اسے ناراض کرنے سے بچنے کیلئے ہماری مخلص خواہش بڑھتی ہے۔ ایسا توکل مضبوط بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ یہ انسان کے ڈر کے خلاف فصیل کا کام دیتا ہے۔
۱۳. خدائی خوف ہمارے کام پر، گھر میں، اور سکول میں کیسے مدد کر سکتا ہے؟
۱۳ اگر ایک آجر بددیانت کاروباری کاموں میں شریک ہونے سے انکار کیلئے نوکری سے برطرف کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو خدائی خوف کیساتھ، یہوؔواہ پر ہمارا توکل ہمیں درست کام کرنے کیلئے مستحکم کریگا۔ (مقابلہ کریں میکاہ ۶:۱۱، ۱۲۔) ایسا خدائی خوف کئی ہزار مسیحیوں کو بےایمان خاندانی افراد کی طرف سے مخالفت کے باوجود سچی پرستش کو ثابتقدمی سے جاری رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ یہ سکول جانے والے نوجوانوں کو خود کو یہوؔواہ کے گواہوں کے طور پر شناخت کرانے کا حوصلہ بھی دیتا ہے، اور یہ انہیں ہمجماعتوں کے تمسخر سے نپٹنے کیلئے تقویت دیتا ہے جو بائبل معیاروں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لہٰذا، ایک نوعمر گواہ نے کہا: ”جو کچھ وہ سوچتے ہیں اس سے درحقیقت کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جوکچھ یہوؔواہ سوچتا ہے اس کی اہمیت ہے۔“
۱۴. جب یہوؔواہ کے خادموں کی زندگیاں خطرے میں بھی ہوتی ہیں تو بھی وہ کیسے فاتح ثابت ہوتے ہیں؟
۱۴ یہی اعتماد سچے مسیحیوں کو یہوؔواہ کی راہوں کی ثابتقدمی سے پیروی کرتے رہنے کی تقویت دیتا ہے اس وقت بھی جب انکی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں دنیا سے اذیت کی توقع کرنی چاہئے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ رسولوں کو کوڑے مارے گئے تھے اور خود یسوؔع مسیح کو مارا پیٹا گیا تھا اور شریر انسانوں نے ہلاک کیا تھا۔ (مرقس ۱۴:۶۵؛ ۱۵:۱۵-۳۹؛ اعمال ۵:۴۰؛ مقابلہ کریں دانیایل ۳:۱۶-۱۸۔) لیکن یہوؔواہ کے خادم پورا اعتماد رکھتے ہیں کہ وہ انہیں برداشت کرنے کیلئے قوت دے سکتا ہے؛ یہ کہ وہ خدا کی مدد کیساتھ فاتح ہو سکتے ہیں؛ یہ کہ یہوؔواہ یقیناً انکو اجر دیگا جو وفادار ہیں—اگر ضروری ہوا تو نئی دنیا میں زندگی کی قیامت کے ذریعے بھی۔ خدائی خوف کیساتھ خدا کیلئے انکی محبت انہیں پُرزور طریقے سے تحریک دیتی ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا کام کرنے سے بچیں جو اسے ناراض کرتا ہے۔
۱۵. کس چیز نے یہوؔواہ کے گواہوں کو نازی مراکزِاسیران میں اپنی راستی برقرار رکھنے کے قابل کیا؟
۱۵ اس محرک نے ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کے دہوں میں یہوؔواہ کے گواہوں کو نازی مراکزِاسیران کی دہشتانگیزیوں کا سامنا کرنے کے قابل بنایا۔ انہوں نے یسوؔع کی مشورت پر دل لگایا جو لوقا ۱۲:۴، ۵ میں ملتی ہے: ”تم دوستوں سے میں کہتا ہوں کہ ان سے نہ ڈرو جو بدن کو قتل کرتے ہیں اور اس کے بعد اور کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن میں تمہیں جتاتا ہوں کہ کس سے ڈرنا چاہئے۔ اس سے ڈرو جس کو اختیار ہے کہ قتل کرنے کے بعد جہنم میں ڈالے۔ ہاں میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی سے ڈرو۔“ لہٰذا، گستاو آشنر، ایک گواہ جو زاکسنہاؤسن مرکزِاسیران میں تھا، نے بعد میں لکھا: ’ایسایس نے اگسٹؔ ڈکمین کو گولی سے اُڑا دیا اور ہم باقیماندہ کو بھی گولی سے اُڑا دینے کی دھمکی دی اگر ہم اپنے ایمان کو ترک کرتے ہوئے دستاویز پر دستخط نہیں کرتے۔ ہم میں سے کسی نے بھی دستخط نہ کئے۔ ہمیں ان کی گولیوں سے زیادہ یہوؔواہ کو ناراض کرنے کا خوف تھا۔‘ انسان کا ڈر مصالحت کرنے کا سبب بنتا ہے، مگر خدا کا خوف جو کچھ درست ہے اس کیلئے مستحکم کرتا ہے۔
زندگی کا بچاؤ
۱۶. کس چیز نے نوؔح کو طوفان کے آنے تک سالوں سال راست روش قائم رکھنے کے قابل کیا، اور اسکے اور اسکے گھرانے کیلئے اسکا کیا نتیجہ نکلا تھا؟
۱۶ نوؔح طوفان سے قبل کی دنیا کے آخری ایام میں زندہ رہا تھا۔ یہوؔواہ نے انسان کی بدی کی وجہ سے اس زمانے کی شریر دنیا کو تباہوبرباد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم، اسی اثنا میں، نوؔح اسی دنیا میں تھا جو تشدد، سنگین بداخلاقی، اور الہٰی مرضی کیلئے لاپرواہی سے بھری پڑی تھی۔ نوؔح کے راستبازی کی منادی کرنے کے باوجود، ”جب تک طوفان آکر ان سب کو بہا نہ لے گیا انکو خبر نہ ہوئی۔“ (متی ۲۴:۳۹) تاہم نوؔح اس کام سے باز نہیں آیا تھا جو خدا نے اسے کرنے کو دیا تھا۔ اس نے ”جیسا خدا نے اسے حکم دیا تھا ویسا ہی عمل کیا۔“ (پیدایش ۶:۲۲) کس چیز نے نوؔح کو سالوں سال طوفان کے آنے تک راست روش قائم رکھنے کے قابل بنایا؟ عبرانیوں ۱۱:۷ جواب دیتی ہے: ”ایمان ہی کے سبب سے نوؔح نے ان چیزوں کی بابت جو اس وقت تک نظر نہ آتی تھیں ہدایت پاکر [خدائی خوف دکھایا]۔“ نتیجتاً، وہ اور اسکی بیوی اور اسکے بیٹے اور انکی بیویاں طوفان سے بچا لئے گئے تھے۔
۱۷. (ا) اس سے قطعنظر کے دوسرے لوگ کیا کرتے ہیں، ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ (ب) وہ لوگ جو یہوؔواہ کا خوف مانتے ہیں کیوں وہ واقعی مبارک لوگ ہیں؟
۱۷ ہم بھی ایک ایسے ہی دَور میں رہتے ہیں جو کئی لحاظ سے نوؔح کے زمانے کی طرح کا ہے۔ (لوقا ۱۷:۲۶، ۲۷) پھر سے ایک آگاہی دی جا رہی ہے۔ مکاشفہ ۱۴:۶، ۷ ہمیں ایک فرشتے کی بابت بتاتی ہیں جو آسمان کے بیچ میں اڑتے ہوئے ہر قوم اور قبیلے اور اہلِزبان کے لوگوں کو ”خدا سے ڈرو اور اسکی تمجید کرو“ کی تاکید کرتا ہے۔ اس سے قطعنظر کہ آپکے چوگرد کی دنیا کیا کرتی ہے، ان الفاظ پر دھیان دیں اور پھر دوسروں کو دعوت دیں۔ نوؔح کی طرح، ایمان پر عملپیرا ہوں اور خدائی خوف ظاہر کریں۔ آپکا ایسا کرنا آپکی زندگی اور بہتیرے دوسروں کی زندگیوں کے تحفظ کا سبب بن سکتا ہے۔ جب ہم ان فوائد پر غوروفکر کرتے ہیں جن سے سچے خدا کا خوف ماننے والے مستفید ہوتے ہیں تو ہم صرف مُلہَم زبورنویس کیساتھ متفق ہو سکتے ہیں جس نے گیت گایا: ”مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند سے ڈرتا ہے اور اسکے حکموں میں خوب مسرور رہتا ہے۔“—زبور ۱۱۲:۱۔ (۱۵ ۳/۱۵ w۹۵)
آپ کیسے جواب دینگے؟
▫ برحق خدا کا خوف ماننے کے چند نمایاں فائدے کیا ہیں؟
▫ حکمت جسکی جڑ خدائی خوف میں پیوستہ ہے کیسے ہمیں بچاتی ہے؟
▫ خدائی خوف ہمیں بُرائی سے دُور رہنے پر کیوں مجبور کرتا ہے؟
▫ خدائی خوف ہمیں انسان کے ڈر سے کیسے محفوظ رکھتا ہے؟
▫ ہماری آئندہ زندگی کے امکانات پر خدائی خوف کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟
[تصویریں]
”مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند سے ڈرتا ہے اور اسکے حکموں میں خوب مسرور رہتا ہے۔“—زبور ۱۱۲:۱