بڑی مصیبت میں سے زندہ بچا لئے گئے
”یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں۔“—مکاشفہ ۷:۱۴۔
۱. زمینی قیامت میں زندہ ہونے والوں کا خیرمقدم کون کرینگے؟
جب لاتعداد لاکھوں لوگوں کو ’راستبازوں اور ناراستوں کی قیامت‘ میں زندہ کِیا جائیگا تو اُنہیں ایک خالی زمین پر دوبارہ زندگی عطا نہیں کی جائے گی۔ (اعمال ۲۴:۱۵) وہ ایک خوبصورت طریقے سے بہتر بنائے گئے ماحول میں بیدار ہوں گے اور دیکھیں گے کہ رہائشی مکان، لباس اور بکثرت خوراک اُنکے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ تمام تیاریاں کون کریں گے؟ ظاہر ہے کہ زمینی قیامت شروع ہونے سے پہلے نئی دنیا میں لوگ رہ رہے ہونگے۔ کون؟ بائبل اشارہ دیتی ہے کہ وہ آنے والی بڑی مصیبت میں سے زندہ بچ جانے والے ہونگے۔ بائبل کی تمام تعلیمات میں سے، بلاشُبہ یہ سب سے زیادہ شوقآفرین ہے—یہ کہ کچھ وفادار اشخاص کو بڑی مصیبت میں سے زندہ بچا لیا جائے گا اور وہ پھر کبھی نہیں مریں گے۔ اس اُمید کی پاک صحائف میں خوب تصدیق کی گئی ہے۔
جیسا نوؔح کے دنوں میں ہوا
۲، ۳. (ا) نوؔح کے زمانے اور ہمارے زمانے کے درمیان کونسی مماثلتیں قائم کی گئی ہیں؟ (ب) سیلاب سے نوؔح اور اُسکے خاندان کے زندہ بچ نکلنے سے کس چیز کی نشاندہی کی گئی ہے؟
۲ متی ۲۴:۳۷-۳۹ میں، یسوؔع مسیح نے نوؔح کے دنوں اور آخری دنوں کے درمیان ایک موازنہ کِیا، جہاں اب ہم خود کو پاتے ہیں۔ اُس نے کہا: ”جیسا نوؔح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابنِآدم کے آنے کے وقت ہوگا۔ کیونکہ جس طرح طوفان سے پہلے کے دنوں میں لوگ کھاتے پیتے اور بیاہ شادی کرتے تھے اُس دن تک کہ نوؔح کشتی میں داخل ہوا۔ اور جب تک طوفان آکر اُن سب کو بہا نہ لے گیا اُنکو خبر نہ ہوئی اُسی طرح ابنِآدم کا آنا ہوگا۔“
۳ عالمگیر طوفان اُن سب کو بہا لے گیا جنہوں نے خدا کے پیغامِآگاہی پر کوئی توجہ نہ دی۔ تاہم، وہ نوؔح اور اُسکے خاندان کو بہا کر نہیں لے گیا تھا۔ وہ ”کشتی میں داخل ہوئے،“ جیسے کہ یسوؔع نے کہا تھا۔ اُنکی خدائی عقیدت کے باعث، یہوؔواہ نے اُنہیں بچ نکلنے کی راہ فراہم کر دی۔ دوسرا پطرس ۲:۵، ۹ نوؔح اور اُسکے خاندان کے بچنے کا حوالہ دیتی ہیں جب یہ کہتی ہیں: ”بےدین دنیا پر طوفان بھیج کر راستبازی کے منادی کرنے والے نوؔح کو مع اَور سات آدمیوں کے بچا لیا۔ خداوند دینداروں کو آزمائش میں سے نکال لینا . . . جانتا ہے۔“ یسوؔع نے یہ ظاہر کرنے کیلئے نوؔح کے دنوں اور آخری دنوں کے درمیان موازنہ کِیا کہ لوگ بالعموم خدا کے پیغامِآگاہی پر دھیان نہیں دیں گے۔ تاہم، ایسا کرنے سے اُس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نوؔح اور اُس کے خاندان نے یہوؔواہ خدا کی فرمانبرداری کی، کشتی میں داخل ہوئے اور بڑے طوفان سے زندہ بچ گئے۔ نوؔح اور اُسکے خاندان کا بچ جانا اس دنیا کے خاتمے کے وقت خدا کے وفادار خادموں کے بچ جانے کی نشاندہی کرتا ہے۔
پہلی صدی کا ایک نمونہ
۴. یسوؔع کے الفاظ کی تکمیل میں، کونسے واقعات ۷۰ س.ع. میں یرؔوشلیم کی تباہی پر منتج ہوئے؟
۴ یسوؔع نے اس دنیا کے خاتمے کے وقت پر بھی ایسے واقعات کے رونما ہونے کا ذکر کِیا تھا۔ متی ۲۴:۲۱، ۲۲ میں، ہم پڑھتے ہیں: ”اُس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائینگے۔“ ان الفاظ کی ابتدائی تکمیل ہمارے سنِعام کی پہلی صدی میں ہوئی۔ ۶۶ س.ع. میں سیسٹیئسؔ گیلس کی کمان میں رومی فوجوں نے یرؔوشلیم کے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ رومی لشکر ہیکل کی اندر ہی اندر بنیادیں کھوکھلی کرنے کی حد تک پہنچ گئے اور بہت سے یہودی ہتھیار ڈالنے کو تیار تھے۔ تاہم، سیسٹیئسؔ گیلس نے غیرمتوقع طور پر اور بغیر کسی ظاہری وجہ کے اپنے لشکروں کو پیچھے ہٹا لیا۔ رومیوں کو پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھ کر، مسیحیوں نے بہت سال پہلے بیان کئے گئے یسوؔع کے الفاظ پر عمل کِیا: ”جب تم یرؔوشلیم کو فوجوں سے گھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُس کا اُجڑ جانا نزدیک ہے۔ اُس وقت جو یہودیہ میں ہوں پہاڑوں پر بھاگ جائیں اور جو یرؔوشلیم کے اندر ہوں باہر نکل جائیں اور جو دیہات میں ہوں شہر میں نہ جائیں۔“ (لوقا ۲۱:۲۰، ۲۱) مسیحی بن گئے یہودیوں یعنی برگزیدوں نے تباہ ہونے والے شہر یرؔوشلیم کو فوراً ہی چھوڑ دیا اور یوں اُس خوفناک بربادی سے بچ گئے جو تھوڑی ہی دیر کے بعد اُس پر آئی تھی۔ ۷۰ س.ع. میں رومی لشکر جنرل ٹائٹس کی زیرِکمان واپس آئے۔ وہ یرؔوشلیم کے گرد خیمہزن ہوئے، شہر کا محاصرہ کر لیا اور اُسے تباہ کر ڈالا۔
۵. کس مفہوم میں یرؔوشلیم پر ۷۰ س.ع. کی مصیبت کے دورانیے کو کم کِیا گیا تھا؟
۵ یہودی مؤرخ جوؔزیفس بیان کرتا ہے کہ ۱۱،۰۰،۰۰۰ یہودی ہلاک ہوئے، جبکہ ۹۷،۰۰۰ زندہ بچ گئے اور اسیری میں لے جائے گئے تھے۔ زندہ بچنے والے وہ غیرمسیحی یہودی یقیناً یسوؔع کی پیشینگوئی کے ”برگزیدے“ نہیں تھے۔ سرکش یہودی قوم سے کلام کرتے ہوئے یسوؔع کہہ چکا تھا: ”دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے مجھے پھر ہرگز نہ دیکھو گے جب تک نہ کہو گے کہ مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام سے آتا ہے۔“ (متی ۲۳:۳۸، ۳۹) ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں کہ یرؔوشلیم میں محصور اُن یہودیوں نے آخری لمحے پر یسوؔع کو مسیحا تسلیم کر لیا، مسیحی بن گئے اور یہوؔواہ کی کرمفرمائی حاصل کی۔ تاہم، ۷۰ س.ع. میں یرؔوشلیم پر آنے والی مصیبت کے دورانیے کو کم کِیا گیا تھا۔ رومی فوج کا آخری محاصرہ زیادہ طویل عرصے کا نہیں تھا۔ اس نے بعض یہودیوں کو صرف رومی سلطنت کے مختلف حصوں میں بطور غلاموں کے بھیجے جانے کیلئے بچنے کا موقع فراہم کر دیا۔
بچنے والوں کی ایک بڑی بھیڑ
۶، ۷. (ا) کونسے بڑے مذہبی شہر کو ابھی تباہ کِیا جانا ہے، کس بینظیر مصیبت کے حصے کے طور پر؟ (ب) اس دنیا پر آنے والی بڑی مصیبت کی بابت یوؔحنا نے کیا پیشینگوئی کی تھی؟
۶ اگرچہ ۷۰ س.ع. کی تباہی اُس مذہبی شہر پر واقعی ایک ”بڑی مصیبت“ لائی، تاہم یسوؔع کے الفاظ کی بڑی تکمیل ہونا ابھی باقی تھی۔ ایک بہت بڑے مذہبی شہر، بڑے بابل، جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت نے ایک مُہلک بڑی مصیبت کا تجربہ کرنا ہے جو شیطان کے باقیماندہ نظام پر ایک بینظیر مصیبت کے فوراً بعد واقع ہوتی ہے۔ (متی ۲۴:۲۹، ۳۰؛ مکاشفہ ۱۸:۲۱) یرؔوشلیم کی تباہی کے تقریباً ۲۶ سال بعد، یوؔحنا رسول نے مکاشفہ ۷:۹-۱۴ میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والی اس بڑی مصیبت کی بابت لکھا۔ اُس نے واضح کِیا کہ لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ اس میں سے زندہ بچ نکلے گی۔
۷ ان بچنے والوں کی شناخت، جو ”بڑی بھیڑ“ کہلاتے ہیں، خاص فیصلہکُن اقدامات سے ہوتی ہے جو وہ کرتے ہیں۔ مکاشفہ ۷:۱۴ کے مطابق، آسمان میں ۲۴ بزرگوں میں سے ایک نے یوؔحنا کو بتایا: ”یہ وہی ہیں جو اُس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خون سے دھو کر سفید کئے ہیں۔“ جیہاں، بڑی بھیڑ اپنی نجات کے ماخذ کے طور پر بڑی زوردار آواز سے یہوؔواہ کا ذکر کرتی ہے۔ وہ یسوؔع کے بہائے ہوئے خون پر ایمان ظاہر کرتے ہیں اور اپنے خالق اور اُسکے مُعیّن بادشاہ، یسوؔع مسیح کے حضور ایک راست حیثیت رکھتے ہیں۔
۸. ”بڑی بھیڑ“ اور یسوؔع کے ممسوح بھائیوں کے بقیے کے درمیان کونسا عمدہ رشتہ پایا جاتا ہے؟
۸ آجکل، بڑی بھیڑ کے تقریباً پانچ ملین ارکان آسمانی بادشاہ، یسوؔع مسیح کی فعال پیشوائی کے تحت زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ مسیح کی اطاعت میں اور ابھی تک زمین پر موجود اُسکے ممسوح بھائیوں کی قریبی رفاقت میں ہیں۔ اس سلوک کی بابت جو بڑی بھیڑ ان ممسوح لوگوں کے ساتھ کرتی ہے، یسوؔع کہتا ہے: ”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے میرے ان سب چھوٹے بھائیوں میں سے کسی کے ساتھ یہ سلوک کِیا تو میرے ہی ساتھ کِیا۔“ (متی ۲۵:۴۰) چونکہ وہ بےغرضانہ طور پر مسیح کے ممسوح بھائیوں کی مدد کرتے ہیں اسلئے بڑی بھیڑ کے ان لوگوں کیلئے خود یسوؔع کے ساتھ نیکی کرنے والوں کے طور پر فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ یہ یسوؔع مسیح اور یہوؔواہ خدا کے ساتھ ایک محفوظ رشتہ استوار کرنے میں اُنکی مدد کرتا ہے۔ اُنہیں خدا کے گواہ اور اُسکے نام کے حامل بننے میں ممسوح بقیے کے ساتھ شریک ہونے کا شرف بخشا گیا ہے۔—یسعیاہ ۴۳:۱۰، ۱۱؛ یوایل ۲:۳۱، ۳۲۔
جاگتے رہنا
۹، ۱۰. (ا) ابنِآدم کے حضور اپنی راست حیثیت کو برقرار رکھنے کیلئے ہمیں کیا کرنا لازم ہے؟ (ب) ”جاگتے رہنے“ کی خاطر ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۹ ضرور ہے کہ بڑی بھیڑ باز آئے بغیر ابنِآدم کے سامنے اپنی راست حیثیت کو قائم رکھے، جو خاتمے کے وقت تک ہوشیار رہنے کا تقاضا کرتا ہے۔ یسوؔع نے صاف طور پر اسے بیان کِیا جب اُس نے کہا: ”پس خبردار رہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل خمار اور نشہبازی اور اس زندگی کی فکروں سے سُست ہو جائیں اور وہ دن تم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔ کیونکہ جتنے لوگ تمام رویِزمین پر موجود ہونگے اُن سب پر وہ اسی طرح آ پڑیگا۔ پس ہر وقت جاگتے اور دعا کرتے رہو تاکہ تم کو ان سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور ابنِآدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور ہو۔“—لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔
۱۰ ابنِآدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور حاصل کرنے کیلئے، ضرور ہے کہ ہمیں اُسکی مقبولیت حاصل ہو، جو ہمیں حاصل نہیں ہوگی اگر ہم خود کو اس دنیا کی سوچ سے متاثر ہونے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ دنیا کی سوچ دلفریب ہے اور ایک شخص کیلئے جسمانی عشرتوں میں حد سے زیادہ ملوث ہو جانے یا زندگی کے مسائل سے اس قدر مغلوب ہو جانے کا سبب بن سکتی ہے کہ وہ پھر بادشاہتی مفادات کو مقدم نہیں رکھتا۔ (متی ۶:۳۳) ایسی روش ایک شخص کو روحانی اعتبار سے کمزور کرتی ہے اور خدا اور دیگر انسانوں کے سلسلے میں اپنی ذمہداریوں سے لاپروا کر سکتی ہے۔ وہ سُست پڑ سکتا یا کوئی سنگین گناہ کرنے سے، شاید ایک غیرتائب رجحان ظاہر کرنے سے، کلیسیا میں اپنے مقام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بڑی بھیڑ کے ہر فرد کو خود پر توجہ دینی چاہئے۔ اُسے اس بیدین دنیا اور اسکے کاموں سے الگ رہنا چاہئے۔—یوحنا ۱۷:۱۶۔
۱۱. کونسے صحیفائی اصولوں کا اطلاق ہرمجدون سے بچنے کیلئے ہماری مدد کریگا؟
۱۱ اس مقصد کیلئے، جس چیز کی ہمیں ضرورت ہے یہوؔواہ نے اُسے اپنے کلام، اپنی روحالقدس اور اپنی دیدنی تنظیم کے ذریعے فراہم کر دیا ہے۔ ہمیں ان سے بھرپور فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ مزیدبرآں، اگر ہم خدا کی مقبولیت حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں تو ضرور ہے کہ ہم دعاگو اور خدا کے فرمانبردار ہوں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ہمیں بُرائی کیلئے شدید نفرت کو پیدا کرنا چاہئے۔ زبور نویس نے کہا: ”میں بیہودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھا۔ میں ریاکاروں کے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگا۔ بدکرداروں کی جماعت سے مجھے نفرت ہے۔ میری جان کو گنہگاروں کے ساتھ اور میری زندگی کو خونی آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔“ (زبور ۲۶:۴، ۵، ۹) مسیحی کلیسیا میں، نوجوانوں اور عمررسیدہ کو اُن کے ساتھ رفاقت کو محدود کرنے کی یکساں ضرورت ہے جو یہوؔواہ کے لئے مخصوص نہیں۔ خدا کی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے، ہم بےعیب اور دنیا سے بیداغ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (زبور ۲۶:۱-۵؛ یعقوب ۱:۲۷؛ ۴:۴) لہٰذا، ہم پُراعتماد ہونگے کہ ہرمجدون پر، یہوؔواہ موت کے ذریعے ہمیں بیدینوں کے ساتھ نیستونابود نہیں کرے گا۔
بعض ”ابد تک کبھی نہ مرینگے“
۱۲، ۱۳. (ا) لعزؔر کو زندہ کرنے سے پہلے، یسوؔع نے کونسے الفاظ کہے جنہیں مرتھاؔ نے پوری طرح نہ سمجھا؟ (ب) بعض کے ’ابد تک کبھی نہ مرنے‘ کی بابت یسوؔع کے الفاظ کا کیا مطلب نہیں تھا؟
۱۲ اس نظام کے خاتمے سے زندہ بچنے اور کبھی نہ مرنے کے امکان پر غور کرنا ہیجانخیز ہے۔ یہی امکان ہے جسکا یسوؔع نے ہمیں یقین دلایا۔ اپنے مُردہ دوست لعزؔر کو زندہ کرنے سے تھوڑی دیر پہلے یسوؔع نے لعزؔر کی بہن مرتھاؔ کو بتایا تھا: ”قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مر جائے تو بھی زندہ رہیگا۔ اور جو کوئی زندہ ہے اور مجھ پر ایمان لاتا ہے وہ ابد تک کبھی نہ مریگا۔ کیا تُو اس پر ایمان رکھتی ہے؟“ مرتھاؔ قیامت پر ایمان رکھتی تھی لیکن جو کچھ یسوؔع کہہ رہا تھا وہ سب نہ سمجھی۔—یوحنا ۱۱:۲۵، ۲۶۔
۱۳ یسوؔع کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اُسکے وفادار رسول جسم میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور کبھی نہ مریں گے۔ اس کے برعکس، اُس نے بعدازاں ظاہر کِیا کہ اُس کے شاگرد مرینگے۔ (یوحنا ۲۱:۱۶-۲۳) یقیناً، ۳۳ س.ع. پنتِکُست پر روحالقدس سے اُن کے مسح ہونے کا مطلب تھا کہ بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر اپنی آسمانی میراث کو حاصل کرنے کے لئے اُنہیں مرنا پڑیگا۔ (مکاشفہ ۲۰:۴، ۶) لہٰذا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، پہلی صدی کے تمام مسیحی وفات پا گئے۔ تاہم، یسوؔع نے جو کچھ کہا اُس کا کوئی مقصد تھا۔ موت کے بغیر زندہ رہنے کی بابت اُس کے الفاظ ضرور پورے ہونگے۔
۱۴، ۱۵. (ا) بعض کے ’ابد تک کبھی نہ مرنے‘ کی بابت یسوؔع کے الفاظ کس طرح پورے ہونگے؟ (ب) اس دنیا کی حالت کیا ہے، لیکن راستباز کیا اُمید رکھتے ہیں؟
۱۴ ایک بات تو یہ ہے کہ وفادار ممسوح مسیحی کبھی بھی ابدی موت کا تجربہ نہیں کرینگے۔ (مکاشفہ ۲۰:۶) نیز، یسوؔع کے الفاظ ایک خاص وقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جب خدا انسانی معاملات میں مداخلت کرے گا اور زمین پر سے بدکاری کو بالکل ویسے ہی نیست کر دے گا جیسے اُس نے نوؔح کے زمانے میں کیا تھا۔ اس وقت خدا کی مرضی پورا کرنے میں مشغول وفادار افراد کو خدا کی عدالتی کارروائیوں کے باعث مرنا نہیں پڑیگا۔ اس کی بجائے، نوؔح اور اُس کے خاندان کی طرح، اُنہیں دنیا کی تباہی سے زندہ بچ نکلنے کا موقع حاصل ہوگا۔ بائبل تعلیمات پر مبنی ہوتے ہوئے اور مثالوں سے واضحکردہ ایسی اُمید ٹھوس ہے۔ (مقابلہ کریں عبرانیوں ۶:۱۹؛ ۲-پطرس ۲:۴-۹۔) بائبل پیشینگوئی ظاہر کرتی ہے کہ ناراست انسانی معاشرے پر مشتمل موجودہ دنیا تباہی سے بہت جلد ختم ہونے والی ہے۔ موجودہ حالت ناقابلِتبدیل ہے کیونکہ دنیا ناقابلِاصلاح حد تک بدکار ہے۔ جو کچھ خدا نے نوؔح کے زمانے کی دنیا کے حق میں کہا وہ آجکل کی دنیا کی بابت بھی درست ہے۔ بدکاری انسانوں کی بڑی اکثریت کے دلوں میں سما جاتی ہے اور اُن کے خیال سدا بُرے ہی ہوتے ہیں۔—پیدایش ۶:۵۔
۱۵ یہوؔواہ نے انسانوں کو الہٰی مداخلت کے بغیر صدیوں تک زمین پر حکمرانی کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن اُن کا وقت تقریباً پورا ہو چکا ہے۔ جیسے کہ بائبل کہتی ہے، جلد ہی یہوؔواہ زمین پر سے تمام بدکاروں کو نیست کر دیگا۔ (زبور ۱۴۵:۲۰؛ امثال ۲:۲۱، ۲۲) تاہم، وہ شریر کے ساتھ راستباز کو ہلاک نہیں کریگا۔ خدا نے کبھی ایسا کام نہیں کِیا! (مقابلہ کریں پیدایش ۱۸:۲۲، ۲۳، ۲۶۔) وہ اُن لوگوں کو کیونکر تباہ کریگا جو خدائی خوف کیساتھ وفاداری سے اُس کی خدمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یہ معقول بات ہے کہ یہوؔواہ کے وفادار پرستار جو بڑی مصیبت کے شروع ہونے کے وقت پر زندہ ہوتے ہیں اُس کی نظروں میں مقبولیت حاصل کرینگے اور تباہ نہیں کئے جائینگے، جیسے کہ نوؔح اور اُس کے خاندان کو تباہ نہیں کِیا گیا تھا جب اُس کے زمانے کی بدکار دنیا ایک طوفانی انجام کو پہنچی۔ (پیدایش ۷:۲۳) اُنہیں الہٰی تحفظ حاصل ہوگا اور وہ اس دنیا کے خاتمے سے بچ جائینگے۔
۱۶. نئی دنیا میں کونسے شاندار کام واقع ہونگے، انکا زندہ بچنے والوں کے لئے کیا مطلب ہوگا؟
۱۶ پھر کیا واقع ہوگا؟ نئی دنیا میں، جب یسوؔع کی فدیے کی قربانی کے فوائد کا مکمل اطلاق کِیا جاتا ہے تو نوعِانسانی کو شفابخش برکات حاصل ہونگی۔ بائبل ”بلور کی طرح چمکتے ہوئے آبِحیات کے ایک دریا“ کا ذکر کرتی ہے ”جو خدا اور برّہ کے تخت سے نکلکر اُس شہر کی سڑک کے بیچ میں بہتا تھا۔ اور دریا کے اِس جانب اور اُس جانب زندگی کے درخت تھے۔ جن میں زندگی بخشنے والے بارہ قسم کے پھل آتے تھے اور ہر مہینے پھلتے تھے اور اُن درختوں کے پتوں سے قوموں کو شفا ہوتی تھی۔“ (مکاشفہ ۲۲:۱، ۲، اینڈبلیو) حیرانکُن بات یہ ہے کہ ”شفا“ میں آؔدم کی لائی ہوئی موت پر فتح شامل ہے! ”وہ موت کو ہمیشہ کے لئے نابود کریگا اور خداوند خدا سب کے چہروں سے آنسو پونچھ ڈالیگا۔“ (یسعیاہ ۲۵:۸) یوں، بڑی مصیبت سے زندہ بچ کر نئی دنیا میں داخل ہونے والوں کو کبھی بھی موت کا سامنا کرنے کی ضرورت نہیں ہے!
ایک یقینی اُمید
۱۷. یہ اُمید کتنی یقینی ہے کہ بعض لوگ ہرمجدون سے زندہ بچ جائینگے اور پھر ”ابد تک کبھی نہ مرینگے“؟
۱۷ کیا ہم اس حیرتانگیز اُمید پر مکمل اعتماد رکھ سکتے ہیں؟ یقیناً! یسوؔع نے مرتھاؔ پر ظاہر کِیا تھا کہ ایسا وقت ہوگا جب لوگ کبھی مرے بغیر زندہ رہیں گے۔ (یوحنا ۱۱:۲۶) مزیدبرآں، مکاشفہ کے ۷ باب میں جو یسوؔع نے یوؔحنا کو دیا، یہ ظاہر کِیا گیا تھا کہ ایک بڑی بھیڑ بڑی مصیبت سے نکل آئیگی، اس سے زندہ بچ نکلے گی۔ کیا ہم یسوؔع مسیح کا اور نوؔح کے زمانے کے طوفان کی بابت تاریخی سرگزشت کا یقین کر سکتے ہیں؟ بےشک! علاوہازیں، بائبل میں ایسے موقعوں کی دیگر سرگزشتیں ہیں جب خدا نے عدالتی اوقات اور قوموں کے زوال سے اپنے خادموں کو زندہ بچا لیا۔ کیا خاتمے کے اس وقت میں اُس سے کچھ کم توقع کی جانی چاہئے؟ کیا خالق کے لئے کوئی کام ناممکن ہے؟—مقابلہ کریں متی ۱۹:۲۶۔
۱۸. یہوؔواہ کی راستباز نئی دنیا میں زندگی کی بابت ہم کیسے یقیندہانی حاصل کر سکتے ہیں؟
۱۸ اب وفاداری کیساتھ یہوؔواہ کی خدمت کرنے سے، ہم اُسکی نئی دنیا میں ابدی زندگی کی امید رکھتے ہیں۔ اُس نئی دنیا میں بےشمار لاکھوں لوگوں کو قیامت کے ذریعے زندگی ملے گی۔ تاہم، ہمارے زمانے میں، یہوؔواہ کے لاکھوں لوگوں کو—جیہاں، ایک بڑی بھیڑ جسے کوئی انسان شمار یا محدود نہیں کر سکتا—بڑی مصیبت میں سے زندہ بچا لئے جانے کا منفرد شرف حاصل ہوگا۔ اور اُنہیں پھر کبھی مرنا نہیں پڑیگا۔ (۱۳ ۲/۱۵ w۹۵)
براہِمہربانی وضاحت کریں
▫ ہرمجدون سے بچ نکلنے کا عکس نوؔح کے زمانے میں پہلے ہی سے کسطرح پیش کِیا گیا تھا؟
▫ جب یسوؔع یہوؔواہ کے عدالتی فیصلوں کو عمل میں لانے کیلئے آتا ہے تو قائم رہنے کی غرض سے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
▫ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ ہرمجدون میں سے زندہ بچنے والوں کو ”ابد تک کبھی مرنا“ نہیں پڑیگا؟
[تصویر]
مسیحی یرؔوشلیم کی مصیبت سے بچ نکلے