یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م95 1/‏2 ص.‏ 22-‏27
  • اؔیوب کا اجر—‏اُمید کا ذریعہ

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • اؔیوب کا اجر—‏اُمید کا ذریعہ
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • اؔیوب دلیرانہ گواہی دیتا ہے
  • الیہوؔ بول اُٹھتا ہے
  • یہوؔواہ اؔیوب کو جواب دیتا ہے
  • ہپوپوٹیمس اور مگرمچھ
  • موعودہ اجر ہمیں اُمید دیتے ہیں
  • یہوواہ نے اُن کی تکلیف کو دُور کر دیا
    اِن جیسا ایمان ظاہر کریں
  • ایوب نے یہوواہ کے نام کی بڑائی کی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • اصلاح قبول کرنے والا ایک قابلِ‌تقلید انسان
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
  • ایوب کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
م95 1/‏2 ص.‏ 22-‏27

اؔیوب کا اجر—‏اُمید کا ذریعہ

‏”‏خداوند نے اؔیوب کے آخری ایام میں [‏اسکی]‏ ابتدا کی نسبت زیادہ برکت بخشی۔“‏—‏ایوب ۴۲:‏۱۲‏۔‏

۱.‏ یہوؔواہ اس وقت اپنے لوگوں کے لئے کیا کرتا ہے جب آزمائشیں اُنہیں بہت زیادہ کمزور بھی کر دیتی ہیں؟‏

یہوؔواہ ”‏اپنے طالبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“‏ (‏عبرانیوں ۱۱:‏۶‏)‏ وہ اپنے عقیدتمند لوگوں کو جرأتمندی کیساتھ گواہی دینے کی بھی تحریک دیتا ہے خواہ آزمائشوں نے اُنہیں مردوں کی مانند کمزور ہی کیوں نہ کر دیا ہو۔ (‏ایوب ۲۶:‏۵؛‏ مکاشفہ ۱۱:‏۳،‏ ۷،‏ ۱۱‏)‏ یہ بات مصیبت‌زدہ اؔیوب کے معاملے میں سچ ثابت ہوئی۔ تین جھوٹے تسلی دینے والوں کی طرف سے بہتان باندھے جانے کے باوجود، وہ انسانوں کے خوف کے باعث چپ نہ رہا۔ اسکی بجائے، اُس نے دلیرانہ گواہی دی۔‏

۲.‏ اگرچہ اُنہوں نے اذیت اور مشکل اُٹھائی ہے تو بھی یہوؔواہ کے گواہ کیسے اپنی آزمائشوں سے نکل آئے ہیں؟‏

۲ جدید زمانے کے یہوؔواہ کے بہت سے گواہوں نے ایسی بڑی اذیت اور سختی اُٹھائی ہے کہ وہ قریب‌المرگ رہے ہیں۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲۳‏)‏ تاہم، اؔیوب کی مانند اُنہوں نے خدا کے لئے محبت دکھائی ہے اور راستبازی کو عمل میں لائے ہیں۔ (‏حزقی‌ایل ۱۴:‏۱۴، ۲۰)‏ وہ یہوؔواہ کو شاد کرنے کے عزم کے ساتھ، دلیرانہ گواہی دینے کے لئے تقویت پاکر اور حقیقی اُمید سے معمور ہو کر اپنی آزمائشوں سے بھی بچ نکلے ہیں۔‏

اؔیوب دلیرانہ گواہی دیتا ہے

۳.‏ اپنی آخری گفتگو میں اؔیوب نے کس قسم کی گواہی دی ہے؟‏

۳ اپنی آخری گفتگو میں اؔیوب نے پہلے سے بھی زیادہ بڑی گواہی دی۔ اُس نے اپنے جھوٹے تسلی دینے والوں کو بالکل خاموش کر دیا۔ سخت طنز کے ساتھ اُس نے کہا:‏ ”‏جو بے‌طاقت ہے اُسکی تُو نے کیسی مدد کی!‏“‏ (‏ایوب ۲۶:‏۲‏)‏ اؔیوب نے یہوؔواہ کو عزت دی جسکی قدرت ہمارے زمینی کرے کو بغیر سہارے کے خلا میں لٹکاتی ہے اور پانی سے لدے ہوئے بادلوں کو زمین کے اُوپر تان دیتی ہے۔ (‏ایوب ۲۶:‏۷-‏۹‏)‏ پھر بھی اؔیوب نے کہا کہ ایسے عجائب ’‏یہوؔواہ کی راہوں کے کنارے ہیں۔‘‏—‏ایوب ۲۶:‏۱۴‏۔‏

۴.‏ اؔیوب نے راستی کی بابت کیا کہا اور وہ خود کو اس طرح کیوں بیان کر سکتا تھا؟‏

۴ اپنی بے‌گناہی سے مطمئن اؔیوب نے بیان کِیا:‏ ”‏میں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کرونگا۔“‏ (‏ایوب ۲۷:‏۵‏)‏ اپنے اُوپر عائدکردہ جھوٹے الزامات کے برعکس، اُس نے کوئی بھی ایسا کام نہیں کِیا تھا جس سے وہ اُس سب کے لائق ٹھہرتا جو اُس پر گزرا تھا۔ اؔیوب جانتا تھا کہ یہوؔواہ برگشتہ لوگوں کی دعاؤں کو نہیں سنتا مگر راستی برقرار رکھنے والوں کو اجر دے گا۔ یہ ہمیں خوب یاد دلا سکتا ہے کہ جلد ہی ہرمجدون کا طوفان بدکاروں کو اُنکی جائے‌اقتدار سے ہٹا دیگا اور وہ خدا کے بیدریغ ہاتھ سے نہیں بچیں گے۔ اُس وقت تک یہوؔواہ کے لوگ اپنی راستی پر چلتے رہیں گے۔—‏ایوب ۲۷:‏۱۱-‏۲۳‏۔‏

۵.‏ اؔیوب نے سچی حکمت کی تشریح کس طرح کی؟‏

۵ انسانی معاملات کی حکمت کے مالکوں کی تین کی ٹولی پر غور کریں جو اؔیوب کی اس بات کو سن رہے ہیں کہ انسان نے زمین اور سمندر میں سے سونے، چاندی اور دیگر خزانوں کو تلاش کرنے کیلئے اپنی مہارتیں استعمال کی ہیں۔ ’‏لیکن‘‏ اُس نے کہا ”‏حکمت کی قیمت مرجان سے بڑھکر ہے۔“‏ (‏ایوب ۲۸:‏۱۸‏)‏ اؔیوب کے جھوٹے تسلی دینے والے سچی حکمت کو خرید نہیں سکتے تھے۔ اس کا ماخذ ہوا، بارش، برق اور گرج کا خالق ہے۔ یقیناً، ”‏خداوند کا“‏ مؤدبانہ ”‏خوف ہی حکمت ہے اور بدی سے دُور رہنا خرد ہے۔“‏—‏ایوب ۲۸:‏۲۸‏۔‏

۶.‏ اؔیوب نے اپنی پہلی زندگی کی بابت بات کیوں کی؟‏

۶ اپنی مصیبتوں کے باوجود، اؔیوب نے یہوؔواہ کی خدمت کرنا بند نہ کی۔ حق‌تعالیٰ سے منحرف ہونے کی بجائے اس راستی برقرار رکھنے والے انسان نے اپنے لئے ”‏خدا کی“‏ سابقہ ”‏خوشنودی“‏ کی آرزو کی۔ (‏ایوب ۲۹:‏۴‏)‏ جب ایوؔب نے بیان کِیا کہ کیسے اُس نے ’‏مصیبت‌زدہ کو بچایا، خود کو راستبازی سے مُلبّس کِیا اور محتاج کا حقیقی باپ بنا‘‏ تو وہ شیخی نہیں بگھار رہا تھا۔ (‏ایوب ۲۹:‏۱۲-‏۱۶‏)‏ بلکہ، وہ یہوؔواہ کے وفادار خادم کے طور پر اپنی زندگی کے حقائق کا حوالہ دے رہا تھا۔ کیا آپ نے ایسا عمدہ ریکارڈ قائم کِیا ہے؟ بلا‌شُبہ، اؔیوب تین پارسا فریبیوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی جعلسازی کا بھی پردہ فاش کر رہا تھا۔‏

۷.‏ اؔیوب کس قسم کا آدمی تھا؟‏

۷ ان جوان آدمیوں نے اؔیوب کا ٹھٹھا اُڑایا ’‏جنکے باپ دادا کو اس نے اپنے گلّہ کے کتوں کے ساتھ بھی رکھنا گوارا نہ کیا۔‘‏ اُس سے شدید نفرت کی گئی اور اُس پر تھوکا گیا۔ وہ بُری طرح مصیبت میں مبتلا تھا تو بھی اُسکے لئے کوئی ہمدردی ظاہر نہ کی گئی۔ (‏ایوب ۳۰:‏۱،‏ ۱۰،‏ ۳۰‏)‏ چونکہ وہ پوری طرح سے یہوؔواہ کیلئے مخصوص تھا اسلئے اُس کے پاس ایک صاف ضمیر تھا اور وہ کہہ سکتا تھا:‏ ”‏میں ٹھیک ترازو میں تولا جاؤں تاکہ خدا میری راستی کو جان لے۔“‏ (‏ایوب ۳۱:‏۶‏)‏ اؔیوب نہ تو زناکار تھا اور نہ ہی سازش کرنے والا تھا اور محتاج کی مدد کرنے میں بھی کبھی کوتاہی نہیں کی تھی۔ اگرچہ وہ دولتمند رہا تھا تو بھی اُس نے کبھی بھی مادی دولت پر بھروسہ نہ کِیا۔ مزیدبرآں، اؔیوب چاند جیسی بے‌جان چیزوں کو عقیدت دینے سے بت‌پرستی میں بھی نہیں پڑا تھا۔ (‏ایوب ۳۱:‏۲۶-‏۲۸‏)‏ خدا پر توکل کرتے ہوئے اُس نے راستی برقرار رکھنے والے کے طور پر ایک عمدہ نمونہ قائم کِیا۔ اپنی تمام مصیبتوں اور جھوٹے تسلی دینے والوں کی موجودگی کے باوجود اؔیوب نے ماہرانہ دفاع کِیا اور شاندار گواہی دی۔ اُسکی باتیں تمام ہوتی ہیں وہ منصف اور اجر دینے والے کے طور پر خدا کا منتظر ہوتا ہے۔—‏ایوب ۳۱:‏۳۵-‏۴۰‏۔‏

الیہوؔ بول اُٹھتا ہے

۸.‏ الیہوؔ کون تھا اور اُس نے احترام اور جرأت دونوں کا مظاہرہ کیسے کِیا؟‏

۸ قریب ہی جوان آدمی الیہوؔ بیٹھا تھا جو نحوؔر کے بیٹے بوؔزی کی اولاد تھا اور یوں یہوؔواہ کے دوست اؔبرہام کا دُور کا رشتہ‌دار تھا۔ (‏یسعیاہ ۴۱:‏۸‏)‏ الیہوؔ نے مباحثے کے دوران دونوں طرف کی بات سننے سے عمررسیدہ لوگوں کیلئے احترام ظاہر کِیا۔ لیکن، اُس نے اُن معاملات کی بابت جن پر وہ غلط تھے جرأتمندی سے بات کی۔ مثال کے طور پر، اُس کا قہر اؔیوب پر بھڑکا ”‏اسلئے کہ اُس نے خدا کو نہیں بلکہ اپنے آپ کو راست ٹھہریا۔“‏ بالخصوص الیہوؔ کا غضب جھوٹے تسلی دینے والوں کے خلاف بھڑکا۔ اُنکے بیانات خدا کی بڑائی کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے مگر درحقیقت اس مباحثے میں شیطان کی طرفداری کرنے سے اُس پر رسوائی لائے۔ ”‏باتوں سے بھرا“‏ اور روح‌القدس سے تحریک پایا ہوا الیہوؔ یہوؔواہ کا ایک غیرجانبدار گواہ تھا۔—‏ایوب ۳۲:‏۲،‏ ۱۸،‏ ۲۱‏۔‏

۹.‏ الیہوؔ نے اؔیوب کی بحالی کا اشارہ کیسے دیا؟‏

۹ اؔیوب کو خدا کی نسبت اپنی ذات کو سچا ٹھہرانے کیلئے زیادہ فکر ہو گئی تھی۔ دراصل، اُس نے خدا کیساتھ حجت‌بازی کی تھی۔ پھر بھی جب اؔیوب کی جان موت کے قریب پہنچی تو بحالی کا اشارہ موجود تھا۔ کس طرح؟ الیہوؔ نے یہ کہنے کی تحریک پائی کہ اس پیغام کے ساتھ یہوؔواہ نے اؔیوب پر کرم‌فرمائی کی ہے:‏ ”‏اُسے گڑھے میں جانے سے بچالے۔ مجھے فدیہ مل گیا ہے۔ تب اُسکا جسم بچے کے جسم سے بھی تازہ ہوگا اور اُسکی جوانی کے دن لوٹ آتے ہیں۔“‏—‏ایوب ۳۳:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

۱۰.‏ اؔیوب کو کس حد تک آزمایا جانا تھا لیکن ۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۳ کے پیشِ‌نظر ہم کس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں؟‏

۱۰ یہ بات کہنے پر کہ راستی برقرار رکھ کر خدا میں شادمان رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے الیہوؔ نے اؔیوب کی اصلاح کی۔ الیہوؔ نے کہا:‏ ”‏یہ ہرگز ہو نہیں سکتا کہ خدا شرارت کا کام کرے اور قادرِمطلق بدی کرے۔ وہ انسان کو اُسکے اعمال کے مطابق جزا دیگا۔“‏ اپنی ہی راستبازی پر زور دینے میں اؔیوب نے نااندیشی سے کام لیا مگر اُس نے ایسا ضروری علم اور بصیرت کے بغیر کِیا۔ الیہوؔ نے اضافہ کِیا:‏ ”‏کاشکہ اؔیوب آخر تک آزمایا جاتا کیونکہ وہ شریروں کی طرح جواب دیتا ہے۔“‏ (‏ایوب ۳۴:‏۱۰، ۱۱،‏ ۳۵، ۳۶‏)‏ اسی طرح، ہمارا ایمان اور راستی بھی صرف اُسی صورت میں پوری طرح پرکھا جاتا ہے جب ہم کسی نہ کسی طرح ’‏انتہا تک آزمائے‘‏ جاتے ہیں۔ تاہم، ہمارا پُرمحبت آسمانی باپ کبھی بھی ہماری برداشت سے باہر ہمیں آزمائش میں نہ پڑنے دیگا۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۳‏۔‏

۱۱.‏ جب بہت زیادہ آزمائے جائیں تو ہمیں کیا یاد رکھنا چاہئے؟‏

۱۱ جب الیہوؔ اپنی بات کو جاری رکھتا ہے تو وہ ایک بار پھر واضح کرتا ہے کہ اؔیوب اپنی راستبازی پر حد سے زیادہ زور دے رہا تھا۔ توجہ ہمارے عظیم صانع پر مرکوز ہونی چاہئے۔ (‏ایوب ۳۵:‏۲،‏ ۶،‏ ۱۰‏)‏ خدا ”‏شریروں کی زندگی کو برقرار نہیں رکھتا بلکہ مصیبت‌زدوں کو اُنکا حق عطا کرتا ہے،“‏ الیہوؔ نے کہا۔ (‏ایوب ۳۶:‏۶‏)‏ کوئی بھی خدا کی راہوں پر اعتراض نہیں کر سکتا اور نہ ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس نے ناراستی کی ہے۔ وہ ہمارے علم سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور اُسکے برسوں کا شمار دریافت سے باہر ہے۔ (‏ایوب ۳۶:‏۲۲-‏۲۶‏)‏ جب بہت زیادہ آزمائے جائیں تو یاد رکھیں کہ ہمارا ابدی خدا راست ہے اور اس کی ستائش کے لئے ہماری وفادارانہ سرگرمیوں کیلئے ہمیں اجر دیگا۔‏

۱۲.‏ بدکاروں کو خدا کے سزا دینے کی بابت الیہوؔ کے اختتامی کلمات کیا ظاہر کرتے ہیں؟‏

۱۲ جب الیہوؔ محوگفتگو تھا تو ایک آندھی زور پکڑ رہی تھی۔ جیسے ہی یہ قریب آئی تو اُسکا دل اُچھلنا اور کانپنا شروع ہو گیا۔ اُس نے یہوؔواہ کے کئے ہوئے عظیم کاموں کو بیان کِیا اور کہا:‏ ”‏اَے اؔیوب اسکو سن لے۔ چپ‌چاپ کھڑا رہ اور خدا کے حیرت‌انگیز کاموں پر غور کر۔“‏ اؔیوب کی مانند ہمیں بھی خدا کے اعجازآفرین کاموں اور مہیب عظمت پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ”‏ہم قادرِمطلق کو پا نہیں سکتے،“‏ الیہوؔ نے کہا۔ ”‏وہ قدرت اور عدل میں شاندار ہے اور انصاف کی فراوانی میں ظلم نہ کریگا۔ اسی لئے لوگ اُس سے ڈرتے ہیں۔“‏ (‏ایوب ۳۷:‏۱،‏ ۱۴،‏ ۲۳، ۲۴‏)‏ الیہوؔ کے اختتامی کلمات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جلد ہی جب خدا بدکاروں کو فوری سزا دیتا ہے تو وہ انصاف اور راستبازی کی تحقیر نہیں کریگا بلکہ اُنکو بچائے گا جو اُسکے مؤدب پرستاروں کے طور پر اُسکا خوف مانتے ہیں۔ ایسے راستی برقرار رکھنے والے لوگوں کے درمیان ہونا کتنا بڑا شرف ہے جو یہوؔواہ کو کائنات کے حاکمِ‌اعلیٰ کے طور پر قبول کرتے ہیں!‏ اؔیوب کی طرح برداشت کریں اور کبھی بھی ابلیس کو اجازت نہ دیں کہ آپ کو ان مبارک لوگوں کے درمیان سے آپ کے بابرکت مقام سے دور لے جائے۔‏

یہوؔواہ اؔیوب کو جواب دیتا ہے

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏ یہوؔواہ نے اؔیوب سے کس کی بابت سوال پوچھنا شروع کِیا؟ (‏ب)‏ خدا نے اؔیوب سے جو دیگر سوال پوچھے اُن سے ہم کونسے نکات سیکھتے ہیں؟‏

۱۳ اؔیوب کتنا حیران ہوا ہوگا جب یہوؔواہ نے بگولے میں اُس سے کلام کِیا!‏ یہ آندھی خدا کا کام تھی جو اُس بڑی آندھی سے بالکل مختلف تھی جسے شیطان نے گھر کو گِرانے اور اؔیوب کے بچوں کو ہلاک کرنے کیلئے استعمال کِیا۔ جب خدا نے پوچھا تو اؔیوب خاموش تھا:‏ ”‏تُو کہاں تھا جب میں نے زمین کی بنیاد ڈالی؟ .‏ .‏ .‏ کس نے اُسکے کونے کا پتھر بٹھایا جب صبح کے ستارے ملکر گاتے تھے اور خدا کے بیٹے خوشی سے للکارتے تھے؟“‏ (‏ایوب ۳۸:‏۴،‏ ۶، ۷‏)‏ یہوؔواہ نے اؔیوب پر سمندر، بادل سے بنی ہوئی زمین کی پوشاک، سحر، موت کے پھاٹکوں، نور اور تاریکی اور ستاروں کے جھرمٹوں کی بابت یکے‌بعددیگرے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ جب یہ سوال پوچھا تو اؔیوب کچھ بھی نہ کہہ سکا:‏ ”‏کیا تُو آسمان کے قوانین کو جانتا ہے؟“‏—‏ایوب ۳۸:‏۳۳‏۔‏

۱۴ دیگر سوالات نے یہ ظاہر کر دیا کہ اس سے پہلے کہ انسان کو مچھلیوں، پرندوں، جانوروں اور رینگنے والے جانداروں پر اختیار بخشا گیا تو کسی بھی انسانی مدد یا مشورے کے بغیر—‏خدا اُنکی ضروریات کو پورا کر رہا تھا۔ یہوؔواہ کے مزید سوالوں نے جنگلی سانڈ، شترمرغ اور گھوڑے جیسی مخلوقات کا ذکر کِیا۔ اؔیوب سے پوچھا گیا:‏ ”‏کیا عقاب تیرے حکم سے اُوپر چڑھتا ہے اور بلندی پر اپنا گھونسلا بناتا ہے؟“‏ (‏ایوب ۳۹:‏۲۷‏)‏ یقیناً نہیں!‏ اؔیوب کے ردِعمل کا تصور کریں جب خدا نے یہ پوچھا:‏ ”‏کیا جو فضول حجت کرتا ہے وہ قادرِمطلق سے جھگڑا کرے؟“‏ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اؔیوب نے کہا:‏ ”‏دیکھ!‏ میں ناچیز ہوں۔ میں تجھے کیا جواب دوں؟ میں اپنا ہاتھ اپنے مُنہ پر رکھتا ہوں۔“‏ (‏ایوب ۴۰:‏۲،‏ ۴‏)‏ چونکہ یہوؔواہ ہمیشہ درست ہوتا ہے اسلئے اگر ہم کبھی اُسکے خلاف شکایت کرنے کی آزمائش میں پڑ ہی جاتے ہیں تو ہمیں ’‏اپنا ہاتھ اپنے مُنہ پر رکھ لینا‘‏ چاہئے۔ خدا کے سوالوں نے اُسکی برتری، عظمت اور قدرت کی شان کو بھی بیان کِیا جیسا کہ خلقت سے ظاہر کِیا گیا ہے۔‏

ہپوپوٹیمس اور مگرمچھ

۱۵.‏ ہپوپوٹیمس کو عموماً کونسا جانور خیال کِیا جاتا ہے اور اُس کی بعض خصوصیات کیا ہیں؟‏

۱۵ یہوؔواہ نے پھر ہپوپوٹیمس کا ذکر کِیا جسے عموماً دریائی گھوڑا سمجھا جاتا ہے۔ (‏ایوب ۴۰:‏۱۵-‏۲۴‏)‏ اپنی ضخیم جسامت، بھاری وزن اور سخت کھال کے باعث غیرمعمولی یہ چرندہ ’‏ہری گھاس کھاتا ہے۔‘‏ اُسکی طاقت اور توانائی کے ماخذ اس کی کمر اور اُسکے پیٹ کے پٹھے ہیں۔ اُسکی ٹانگوں کی ہڈیاں ”‏پیتل کے نلوں“‏ کی طرح مضبوط ہیں۔ ہپوپوٹیمس موجزن پانیوں سے نہیں گھبراتا بلکہ آسانی کے ساتھ لہروں کی مخالف سمت میں تیرتا ہے۔‏

۱۶.‏ (‏ا)‏ مگر کی بابت بیان کس مخلوق پر پورا اُترتا ہے اور اسکی بابت چند حقائق کونسے ہیں؟ (‏ب)‏ ہپوپوٹیمس اور مگرمچھ کی طاقت یہوؔواہ کی خدمت میں تفویضات کو انجام دینے کی بابت کس چیز کو ظاہر کرتی ہے؟‏

۱۶ خدا نے اؔیوب سے یہ بھی پوچھا:‏ ”‏کیا تُو مگر کو شست سے باہر نکال سکتا ہے؟ یا رسی سے اُسکی زبان کو دبا سکتا ہے؟“‏ مگر کی بابت یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یہ مگرمچھ کیلئے ہے۔ (‏ایوب ۴۱:‏۱-‏۳۴‏)‏ یہ کسی کے ساتھ بھی سلامتی کا عہد نہیں باندھیگا اور نہ ہی کوئی عقلمند انسان اتنا بہادر ہے کہ اس رینگنے والے جانور کو جگائے۔ تیر اُسے بھگا نہیں پاتے اور ”‏وہ برچھی کے چلنے پر ہنستا ہے۔“‏ قہرآلود مگرمچھ مرہم کی اُبلتی ہوئی دیگ کی طرح گہرائیوں کو کھولاتا ہے۔ اس حقیقت نے کہ مگرمچھ اور ہپوپوٹیمس اؔیوب سے زیادہ طاقتور ہیں اس کی خود کو فروتن بنانے میں مدد کی۔ ہمیں بھی فروتنی کیساتھ قبول کرنا چاہئے کہ ہم اپنی ذات میں طاقتور نہیں ہیں۔ ہمیں شیطان، سانپ، کے زہرآلود دانتوں سے بچنے اور یہوؔواہ کی خدمت میں اپنی تفویضات کو پورا کرنے کیلئے خداداد حکمت اور قوت درکار ہے۔—‏فلپیوں ۴:‏۱۳؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۹‏۔‏

۱۷.‏ (‏ا)‏ اؔیوب نے کیسے ”‏خدا کو دیکھا“‏؟ (‏ب)‏ اؔیوب جن سوالوں کا جواب دینے سے قاصر تھا اُن سے کیا بات ثابت ہو گئی اور یہ ہماری مدد کس طرح کر سکتا ہے؟‏

۱۷ مکمل طور پر فروتن بن جانے والے اؔیوب نے اپنے غلط نقطۂ‌نظر کو پہچان لیا اور یہ تسلیم کیا کہ اُس نے بغیر علم کے بات کی تھی۔ تاہم، اُس نے ایمان کا اظہار کر دیا تھا کہ وہ ”‏خدا کو دیکھے“‏ گا۔ (‏ایوب ۱۹:‏۲۵-‏۲۷‏)‏ یہ کیسے ہو سکتا تھا جبکہ کوئی بھی انسان یہوؔواہ کو دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا؟ (‏خروج ۳۳:‏۲۰)‏ درحقیقت، اؔیوب نے الہٰی قدرت کے اظہار کو دیکھا تھا، خدا کے کلام کو سنا تھا اور یہوؔواہ کی بابت سچائی کو دیکھنے کیلئے اُس کے فہم کی آنکھیں کھول دی گئیں تھیں۔ اسلئے اؔیوب ’‏رجوع لایا اور خاک اور راکھ میں توبہ کی۔‘‏ (‏ایوب ۴۲:‏۱-‏۶‏)‏ بہت سے سوالوں نے جنکے جواب دینے سے وہ قاصر رہا تھا خدا کی برتری کو ثابت کر دیا اور انسان، حتیٰ‌کہ اؔیوب جیسے یہوؔواہ کے عقیدتمند بندے، کے کمتر ہونے کو بھی ظاہر کر دیا تھا۔ یہ اس بات کو ذہن میں رکھنے کے لئے ہماری مدد کرتا ہے کہ ہمارے مفادات یہوؔواہ کے نام کی تقدیس اور اُس کی حاکمیت کی سربلندی پر فضیلت نہیں رکھتے۔ (‏متی ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ ہماری اوّلین فکر یہوؔواہ کے لئے راستی کو برقرار رکھنا اور اُس کے نام کی عزت کرنا ہونی چاہئے۔‏

۱۸.‏ اؔیوب کے جھوٹے تسلی دینے والوں کو کیا کرنے کی ضرورت تھی؟‏

۱۸ لیکن، اُن خودراست جھوٹے تسلی دینے والوں کا کیا ہے؟ یہوؔواہ بجا طور پر الیفزؔ، بلدؔد اور ضوؔفر کو اس کی بابت سچ نہ بولنے کی وجہ سے ہلاک کر سکتا تھا جیسے اؔیوب بولا تھا۔ ”‏اپنے لئے سات بیل اور سات مینڈھے لیکر میرے بندہ اؔیوب کے پاس جاؤ،“‏ خدا نے کہا، ”‏اور اپنے لئے سوختنی قربانی گذرانو اور میرا بندہ اؔیوب تمہارے لئے دعا کریگا۔“‏ تین کی ٹولی کو حکم کی تعمیل کرنے کے لئے خود کو فروتن بنانا تھا۔ راستی برقرار رکھنے والے اؔیوب کو اُن کے لئے دعا کرنا تھی اور یہوؔواہ نے اُس کی دعا کو قابلِ قبول پایا۔ (‏ایوب ۴۲:‏۷-‏۹‏)‏ لیکن اؔیوب کی بیوی کی بابت کیا ہے جس نے اُسے خدا کی تکفیر کرنے اور مر جانے کی ترغیب دی تھی؟ ایسے لگتا ہے کہ خدا کے رحم سے اؔیوب کے ساتھ اس کا ملاپ کرا دیا گیا تھا۔‏

موعودہ اجر ہمیں اُمید دیتے ہیں

۱۹.‏ اؔیوب کے سلسلے میں یہوؔواہ نے شیطان پر اپنی برتری کو کیسے ظاہر کِیا؟‏

۱۹ جونہی اؔیوب نے اپنی مصیبتوں کی بابت پریشان ہونا چھوڑا اور ازسرِنو خدا کی خدمت میں لگ گیا تھا تو یہوؔواہ نے اُسکے لئے حالات کو بدل دیا۔ جب تین ٹولی کے حق میں اؔیوب نے دعا کی تو خدا نے ’‏اُسکی اسیر حالت کو بدل دیا‘‏ اور اُسے ’‏جتنا اُسکے پاس پہلے تھا اُسکا دو چند دیا۔‘‏ یہوؔواہ نے شیطان کے بیماری لگانے والے ہاتھ کو روکنے سے اور معجزانہ طور پر اؔیوب کو شفا دینے سے ابلیس پر اپنی برتری کو ظاہر کِیا۔ خدا نے شیاطینی لشکروں کو بھی ہٹا دیا اور اپنی لشکرگاہ ملکوتی پڑاؤ سے اؔیوب کے گرد باڑ لگانے سے اُنہیں دُور رکھا۔—‏ایوب ۴۲:‏۱۰؛‏ زبور ۳۴:‏۷‏۔‏

۲۰.‏ کن طریقوں سے یہوؔواہ نے اؔیوب کو اجر اور برکت بخشی؟‏

۲۰ اؔیوب کے بھائی، بہنیں اور سابقہ واقفکار اُس کے ساتھ ضیافت کرنے، اُس کے ساتھ اظہارِہمدردی کرنے اور اُس مصیبت پر اُسے تسلی دینے کیلئے آتے رہے جسکو یہوؔواہ نے اُس پر آنے کی اجازت دی تھی۔ ہر ایک نے اُسے سکے اور سونے کی بالی دی۔ یہوؔواہ نے اؔیوب کے انجام کو اسکے آغاز سے بھی زیادہ برکت بخشی کہ اُس کے پاس ۱۴،۰۰۰ بھیڑ بکریاں، ۶،۰۰۰ اونٹ، ۱،۰۰۰ جوڑی بیل اور ۱،۰۰۰ گدھیاں ہو گئیں۔ اؔیوب کے ہاں سات بیٹے اور تین بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں، اُتنے ہی جتنے کہ اُس کے پہلے تھے۔ اُسکی بیٹیاں—‏یمیمہؔ، قصیاؔہ، قرؔن ہپوک—‏اس ساری سرزمین میں حسین‌ترین عورتیں تھیں اور اؔیوب نے اُنہیں اُنکے بھائیوں کے درمیان میراث دی۔ (‏ایوب ۴۲:‏۱۱-‏۱۵‏)‏ مزیدبرآں، ایوب ۱۴۰ برس اَور جیتا رہا اور اپنی اولاد کی چار پُشتوں کو دیکھا۔ بیان یوں ختم ہوتا ہے:‏ ”‏اؔیوب نے بڈھا اور عمررسیدہ ہوکر وفات پائی۔“‏ (‏ایوب ۴۲:‏۱۶، ۱۷‏)‏ اُسکی زندگی میں اضافہ یہوؔواہ خدا کا معجزانہ کام تھا۔‏

۲۱.‏ اؔیوب کی بابت صحیفائی بیان سے ہماری مدد کیسے ہوتی ہے اور ہمیں کیا کرنے کیلئے عزمِ‌مُصمم کرنا چاہئے؟‏

۲۱ اؔیوب کی بابت صحیفائی بیان ہمیں شیطان کے ہتھکنڈوں سے اور زیادہ باخبر کرتا ہے اور یہ دیکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے کہ کسطرح عالمگیر حاکمیت انسانی راستی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اؔیوب کی مانند، خدا سے محبت کرنے والے تمام لوگوں کو آزمایا جائے گا۔ لیکن ہم برداشت کر سکتے ہیں جیسے کہ اؔیوب نے کی۔ وہ ایمان اور اُمید کے ساتھ اپنی آزمائشوں سے بچ نکلا اور اُسکے اجر بہت سے تھے۔ آجکل یہوؔواہ کے خادموں کے طور پر ہم سچا ایمان اور اُمید رکھتے ہیں۔ اور عظیم اجر دینے والے نے ہم میں سے ہر ایک کے سامنے کیا ہی شاندار اُمید رکھی ہے!‏ آسمانی اجر کو ذہن میں رکھنا زمین پر اپنی باقی زندگی کے دوران وفاداری سے خدا کی خدمت کرنے کیلئے ممسوح اشخاص کی مدد کریگا۔ زمینی توقعات کے ساتھ بہت سے لوگ پھر کبھی نہ مریں گے لیکن جو مر جاتے ہیں اُنہیں زمین پر فردوس میں قیامت کا اجر دیا جائے گا جن میں اؔیوب خود بھی ہوگا۔ دل‌ودماغ میں ایسی حقیقی اُمید رکھ کر خدا سے محبت رکھنے والے تمام لوگ راستی برقرار رکھنے والوں کے طور پر اور اُسکی عالمگیر حاکمیت کے سرگرم حمایتیوں کے طور پر شیطان کو جھوٹا ثابت کریں۔ (‏۱۵ ۱۱/۱۵ w۹۴)‏

آپ کیسے جواب دینگے؟‏

▫ بعض نکات کیا تھے جو اؔیوب نے اپنے جھوٹے تسلی دینے والوں کے لئے اپنے آخری جواب میں بیان کئے تھے؟‏

▫ الیہوؔ یہوؔواہ کا ایک غیرجانبدار گواہ کیسے ثابت ہوا؟‏

▫ اؔیوب سے خدا کے چند سوالات کونسے تھے اور اُن کا کیا اثر ہوا؟‏

▫ اؔیوب کی بابت صحیفائی بیان سے آپ کیسے مستفید ہوئے ہیں؟‏

‏[‏تصویریں]‏

ہِپّوپوٹیمس اور مگرمچھ کی بابت یہوؔواہ کے بیانات نے اؔیوب کو فروتن بننے میں مدد دی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں