ایک بادشاہ یہوواہ کے مقدس کی بےحرمتی کرتا ہے
”لیکن اپنے خدا کو پہچاننے والے تقویت پا کر کچھ کر دکھائینگے۔“—دانیایل ۱۱:۳۲۔
۱، ۲. کس ڈرامائی کشمکش نے انسانی تاریخ کو ۲،۰۰۰ سے زیادہ سالوں تک نمایاں کیا ہے؟
دو حریف بادشاہ برتری حاصل کرنے کی کشمکش میں تمام حدیں پار کر جاتے ہیں۔ پہلے ایک، پھر دوسرا، بالادستی حاصل کرتا ہے، یہانتک کہ دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک لڑائی جاری رہتی ہے۔ ہمارے زمانہ میں اس کشمکش نے زمین پر بیشتر لوگوں کو متاثر کیا ہے اور خدا کے لوگوں کی راستی کو بھی للکارا ہے۔ یہ دونوں قوتوں کی نظروں سے اوجھل ایک واقعہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ اس ڈرامائی تاریخ کو قدیم نبی دانیایل پر پہلے ہی آشکارا کر دیا گیا تھا۔—دانیایل، ۱۰ سے ۱۲ ابواب۔
۲ پیشینگوئی کا تعلق شاہشمال اور شاہجنوب کے مابین چلتی رہنے والی دشمنی سے ہے اور اس پر ”یور ول بی ڈن آن ارتھ“ کتاب میں تفصیل سے بحث کی گئی تھی۔a اس کتاب میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ شروع میں شام شاہشمال تھا، جو کہ اسرائیل کے شمال میں واقع تھا۔ اسکے بعد، یہ کردار روم نے حاصل کر لیا تھا۔ شروع میں شاہجنوب مصر تھا۔
آخری زمانے میں کشمکش
۳. فرشتے کے مطابق، شاہشمال اور شاہجنوب کے متعلق پیشینگوئی کو کب سمجھا جائیگا، اور کیسے؟
۳ ان باتوں کو دانیایل پر ظاہر کرنے والے فرشتے نے کہا: ”لیکن تو اے دانیایل ان باتوں کو بند کر رکھ اور کتاب پر آخری زمانہ تک مہر لگا دے۔ بہتیرے اسکی تفتیشوتحقیق کرینگے اور دانش افزون ہوگی۔“ (دانیایل ۱۲:۴) جیہاں، پیشینگوئی کا تعلق آخری زمانہ سے ہے—ایک دور جسکا آغاز ۱۹۱۴ میں ہوا۔ اس خاص وقت میں، بہتیرے پاک صحائف میں ”تحقیقوتفتیش“ کرینگے اور روحالقدس کی مدد سے، سچے علم، بشمول بائبل پیشینگوئی کی سمجھ میں اضافہ ہوگا۔ (امثال ۴:۱۸) جوں جوں ہم اس وقت میں آگے بڑھتے ہیں، دانیایل کی پیشینگوئی کی زیادہ سے زیادہ تفصیلات واضح ہو گئی ہیں۔ پھر ہمیں ”یور ول بی ڈن آن ارتھ“ کی اشاعت کے ۳۵ سال بعد، اب ۱۹۹۳ میں شاہشمال اور شاہجنوب کی پیشینگوئی کو کیسے سمجھنا چاہیے؟
۴، ۵. (ا) شاہشمال اور شاہجنوب کی بابت دانیایل کی پیشینگوئی میں ۱۹۱۴ کے سال کی نشاندہی کہاں کی گئی ہے؟ (ب) فرشتے کے مطابق، ۱۹۱۴ میں کیا واقع ہوگا؟
۴ ۱۹۱۴ میں آخری زمانے کے آغاز کا اشارہ پہلی عالمی جنگ اور دیگر عالمی تکالیف سے ملا تھا جنکی یسوع نے پیشینگوئی کی تھی۔ (متی ۲۴:۳، ۷، ۸) کیا ہم دانیایل کی پیشینگوئی میں اس سال کا پتہ لگا سکتے ہیں؟ جیہاں۔ آخری زمانے کا آغاز ”مقررہ وقت“ ہے جسکا حوالہ دانیایل ۱۱:۲۹ میں دیا گیا ہے۔ (دیکھیں ”یور ول بی ڈن آن ارتھ،“ ۲۶۹-۲۷۰ صفحات۔) یہ وہ وقت تھا جسے یہوواہ نے دانیایل کے زمانے میں پہلے سے مقرر کر دیا تھا، چونکہ یہ ۲،۵۲۰ سالوں کے آخر پر پورا ہوا جنہیں نبوتی طور پر دانیایل ۴ باب کے معنیخیز واقعات سے ظاہر کیا گیا ہے۔
۵ ان ۲،۵۲۰ سالوں کو، دانیایل کی جوانی کے دوران، ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ میں، یروشلیم کی تباہی سے ۱۹۱۴ س۔ع۔ تک ”غیر قوموں کی میعاد“ کہا گیا تھا۔ (لوقا ۲۱:۲۴) کونسے سیاسی واقعات انکے خاتمے کی نشاندہی کرینگے؟ اس چیز کو ایک فرشتے نے دانیایل پر آشکارا کیا۔ فرشتے نے کہا: ”مقررہ وقت پر وہ [شاہشمال] پھر جنوب کی طرف خروج کریگا لیکن یہ حملہ پہلے کی مانند نہ ہوگا۔“—دانیایل ۱۱:۲۹۔
بادشاہ ایک جنگ ہارتا ہے
۶. ۱۹۱۴ میں، شاہشمال کون تھا، اور شاہجنوب کون تھا؟
۶ ۱۹۱۴ تک جرمنی شاہشمال کا کردار حاصل کر چکا تھا، جسکا لیڈر قیصر ولہیلم تھا۔ یورپ میں جارحانہ اقدام کا شروع ہو جانا شاہشمال اور شاہجنوب کے درمیان محاذآرائیوں کا ایک اور سلسلہ تھا۔ اس موخرالذکر، شاہجنوب کے کردار پر، اب برطانیہ قابض ہو گیا تھا، جس نے جلد ہی مصر یعنی اصلی شاہجنوب کے قلمرو پر قبضہ کر لیا۔ جب جنگ نے شدت پکڑی، تو برطانیہ کی سابقہ نوآبادی، امریکہ کی ریاستہائے متحدہ اسکے ساتھ شامل ہو گئی۔ شاہجنوب اینگلوامریکن عالمی طاقت بن گئی، یعنی تاریخ کی نہایت ہی طاقتور سلطنت۔
۷، ۸. (ا) پہلی عالمی جنگ میں، کس لحاظ سے حالتیں ”پہلے کی مانند“ ثابت کیوں نہ ہوئیں؟ (ب) پہلی عالمی جنگ کا نتیجہ کیا ہوا تھا، لیکن پیشینگوئی کے مطابق، شاہشمال نے کیسے ردعمل دکھایا؟
۷ دو بادشاہوں کے سابقہ جھگڑوں میں، رومی سلطنت، شاہشمال کے طور پر، لگاتار فاتح رہی تھی۔ اس بار، حالتیں ”پہلے کی مانند“ نہ تھیں۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ شاہشمال جنگ ہار گیا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ ”اہلکتیم کے جہاز“ شاہشمال کے خلاف مقابلہ کو نکلے۔ (دانیایل ۱۱:۳۰) یہ جہاز کیا تھے؟ دانیایل کے زمانے میں، کتیم قبرص تھا، اور پہلی عالمی جنگ کے شروع میں، قبرص کا برطانیہ کے ساتھ الحاق کر دیا گیا تھا۔ علاوہازیں، دی زونڈروان پیکٹوریل انسائیکلوپیڈیا آف دی بائبل کے مطابق کتیم کے نام کو ”بالعموم مغرب کو، لیکن بالخصوص سمندری مغرب کو شامل کرنے کیلئے وسیع کیا گیا ہے۔“ نیو انٹرنیشنل ورشن ”اہل کتیم کے جہازوں“ کے اظہار کو ”مغربی ساحلوں کے جہازوں“ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ پہلی عالمی جنگ میں یورپ کے مغربی ساحل پر لنگرانداز اہلکتیم کے جہاز برطانیہ کے جہاز ثابت ہوئے تھے۔ بعدازاں برٹش نیوی نے شمالی امریکہ کے مغربی براعظم سے جہازوں کے ذریعے کمک پائی تھی۔
۸ اس حملے کے تحت، شاہشمال ”رنجیدہ“ ہو گیا اور ۱۹۱۸ میں شکست تسلیم کر لی۔ لیکن وہ ختم نہیں ہوا تھا۔ ”وہ رنجیدہ ہو کر مڑیگا اور عہدمقدس پر اسکا غضب بھڑکیگا اور وہ اسکے مطابق عمل کریگا بلکہ مڑ کر ان لوگوں سے جو عہدمقدس کو ترک کرینگے اتفاق کریگا۔“ (دانیایل ۱۱:۳۰) فرشتے نے اس طرح سے پیشینگوئی کی، اور اسی طرح یہ ثابت ہوئی۔
بادشاہ موثر طور پر کارروائی کرتا ہے
۹. کونسی چیز ایڈولف ہٹلر کے اٹھنے کا سبب بنی، اور اس نے طرح ”اپنی مرضی پوری“ کی؟
۹ ۱۹۱۸ میں، جنگ کے بعد، فاتح اتحادیوں نے جرمنی پر ایک تعزیری امن معاہدے کو مسلط کیا، جسے ظاہراً جرمن لوگوں کو غیرمعینہ مستقبل کیلئے فاقوں کی حد تک رکھنے کیلئے ترتیب دیا گیا تھا۔ نتیجتاً، شدید تکلیف میں کچھ سال بدحواس رہنے کے بعد، جرمنی کا ایڈولف ہٹلر اٹھ کھڑے ہونے کیلئے تیار تھا۔ اس نے ۱۹۳۳ میں اقتدار حاصل کر لیا اور بلاتاخیر فوراً ہی ”عہدمقدس“ پر کینہپرور حملہ کر دیا، جسکی نمائندگی یسوع مسیح کے ممسوح بھائیوں نے کی۔ اس سلسلے میں اس نے ان میں سے بہتیروں کو ظالمانہ طریقے سے اذیت دیتے ہوئے، ان وفادار مسیحیوں کے خلاف مؤثر طور پر کارروائی کی۔
۱۰. مدد حاصل کرنے کیلئے، ہٹلر نے کس کے ساتھ اتحاد حاصل کیا، اور کن نتائج کے ساتھ؟
۱۰ ہٹلر نے اس شعبے میں بھی موثر طور پر کام کرتے ہوئے، معاشی اور سفارتی کامیابیاں حاصل کیں۔ چند ہی سالوں میں، اس نے جرمنی کو ایک ایسی قوت بنا دیا جسے تسلیم کیا جانے لگا، اس کوشش میں اسکی مدد ”عہدمقدس کو ترک“ کرنے والوں نے بھی کی۔ یہ کون تھے؟ ظاہری طور پر، مسیحی دنیا کے لیڈر، جنہوں نے خدا کے ساتھ ایک موعودہ رشتے کا دعوی کیا لیکن یسوع مسیح کے شاگرد ہونے کو بہت پہلے سے چھوڑ چکے تھے۔ ہٹلر نے ”عہد مقدس کو ترک“ کرنے والوں سے کامیابی کے ساتھ انکی حمایت چاہی۔ روم میں پوپ نے کلیسیائی معاملات چلانے کیلئے اسکے ساتھ معاہدہ کیا، اور رومن کیتھولک کلیسیا، نیز جرمنی میں پروٹسٹنٹ کلیسیاؤں نے ہٹلر کی ۱۲سالہ دہشتناک حکومت کی حمایت کی۔
۱۱. شاہشمال نے کس طرح سے ”محکم مقدس کو ناپاک“ اور ”دائمی قربانی کو موقوف“ کیا؟
۱۱ ہٹلر اتنا کامیاب ہوا تھا کہ اس نے جنگ چھیڑ دی، جیسے کہ فرشتے نے صحیح طور پر پیشینگوئی کی تھی: ”اور افواج اسکی مدد کرینگی اور وہ محکم مقدس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف کرینگے۔“ (دانیایل ۱۱:۳۱ الف) قدیم اسرائیل میں مقدس، یروشلیم کے اندر ہیکل کا حصہ تھا۔ تاہم، جب یہودیوں نے یسوع کو رد کر دیا تو یہوواہ نے انکو اور انکی ہیکل کو رد کر دیا۔ (متی ۲۳:۳۷-۲۴:۲) پہلی صدی سے لیکر، یہوواہ کی ہیکل حقیقت میں روحانی رہی ہے، جسکا پاکترین مکان آسمان میں ہے اور روحانی صحن زمین پر ہے جس میں سردار کاہن یسوع کے ممسوح بھائی خدمت کرتے ہیں۔ ۱۹۳۰ کے دہے سے لیکر، بڑی بھیڑ نے ممسوح بقیے کے ساتھ خدمت کی ہے، لہذا، انکی بابت کہا گیا ہے کہ وہ ”خدا کی ہیکل“ میں خدمت کرتے ہیں۔ (مکاشفہ ۷:۹، ۱۵، ۱۱:۱، ۲، عبرانیوں ۹:۱۱، ۱۲، ۲۴) ان ممالک میں ہیکل کے زمینی صحن کو ممسوح بقیے اور انکے ساتھیوں کی بیرحم اذیت سے بےحرمت کیا گیا تھا جہاں پر شاہشمال کی حکمرانی تھی۔ اذیت اتنی سخت تھی کہ دائمی فیچر—یہوواہ کے نام کیلئے اعلانیہ حمد کی قربانی—ختم کر دیا گیا تھا۔ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) پھر بھی، تاریخ ظاہر کرتی ہے کہ ہولناک تکلیف کے باوجود، وفادار ممسوح مسیحی، [”دوسری بھیڑوں، اینڈبلیو“] سمیت زیرزمین منادی کرتے رہے ہیں۔—یوحنا ۱۰:۱۶۔
”مکروہ چیز“
۱۲، ۱۳. ”مکروہ چیز“ کیا تھی، اور—جیسے دیانتدار اور عقلمند نوکر نے پہلے ہی سے دیکھ لیا—یہ کب اور کیسے پھر سے قائم کی گئی تھی؟
۱۲ جب دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ نزدیک تھا، تو ایک اور انکشاف ہوا تھا۔ ”وہ ... اجاڑنے والی مکروہ چیز کو اس میں نصب کرینگے۔“ (دانیایل ۱۱:۳۱ ب) اس ”مکروہ چیز“ کو جسکا ذکر یسوع نے بھی کیا، پہلے ہی لیگ آف نیشنز، قرمزی رنگ کے حیوان کے طور پر پہچان لیا گیا تھا جو مکاشفہ کے مطابق اتھاہ گڑھے میں پڑا تھا۔ (متی ۲۴:۱۵، مکاشفہ ۱۷:۸، دیکھیں لائٹ، بک ٹو، صفحہ ۹۴۔) جب دوسری عالمی جنگ چھڑی تو اس نے یہ کام کیا۔ تاہم، ۱۹۴۲ میں یہوواہ کے گواہوں کی نیو ورلڈ تھیوکریٹک اسمبلی پر، ناتھن ایچ۔ نار، واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے تیسرے صدر نے مکاشفہ ۱۷ کی پیشینگوئی پر بحث کی اور آگاہ کیا کہ حیوان اتھاہ گڑھے سے پھر نکل آئیگا۔
۱۳ تاریخ نے اسکے الفاظ کی سچائی کی تصدیق کر دی۔ اگست اور اکتوبر ۱۹۴۴ کے درمیان، ڈومبارٹن آکس، ریاستہائے متحدہ میں، اس منشور پر کام شروع ہو گیا تھا جو یونائٹیڈ نیشنز [اقوام متحدہ] کہلائیگا۔ اس چارٹر کو سابقہ سویت یونین سمیت ۵۱ اقوام نے تسلیم کر لیا، اور جب یہ اکتوبر ۲۴، ۱۹۴۵ کو نافذ کیا گیا، تو کالعدم لیگ آف نیشنز عملاً اتھاہ گڑھے سے نکل آئی۔
۱۴. شاہشمال کی شناخت کب اور کیسے تبدیل ہو گئی؟
۱۴ دونوں عالمی جنگوں کے دوران جرمنی شاہجنوب کا سب سے بڑا دشمن رہا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، جرمنی کا کچھ حصہ شاہشمال کا اتحادی بننے کیلئے پھر سے منظم ہو گیا۔ لیکن جرمنی کا دوسرا حصہ اب ایک دوسری طاقتور سلطنت کا ساتھی بن گیا۔ کمیونسٹ اتحاد، جس میں جرمنی کا اب کچھ حصہ شامل تھا، اینگلوامریکن اتحاد کی سخت مخالفت میں اٹھا، اور دو بادشاہوں کے درمیان رقابت ایک سرد جنگ بن گئی۔—دیکھیں ”یور ول بی ڈن آن ارتھ،“ صفحات ۲۶۴-۲۸۴۔
بادشاہ اور عہد
۱۵. ”عہدمقدس کے خلاف شرارت کرنے والے“ کون ہیں، اور وہ شاہشمال کے ساتھ کیا تعلق رکھتے تھے؟
۱۵ فرشتہ اب کہتا ہے: ”اور وہ عہد مقدس کے خلاف شرارت کرنے والوں کو خوشامد کرکے برگشتہ کریگا۔“ (دانیایل ۱۱:۳۲ الف) عہد مقدس کے خلاف یہ شرارت کرنے والے کون ہیں؟ پھر سے، یہ مسیحی دنیا کے لیڈر ہی ہو سکتے ہیں، جو مسیحی ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اپنے کاموں سے مسیحیت کے نام کی بےحرمتی کرتے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران، ”سوویت حکومت نے مادروطن کے دفاع کیلئے چرچز کی اخلاقی اور مادی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔“ (ریلیجن ان دی سویت یونین، از والٹر کولارز۔) جنگ کے بعد، چرچ لیڈروں نے اس طاقت کی ملحدانہ پالیسی کے باوجود جو اب شاہشمال تھی اس دوستی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔b یوں، مسیحی دنیا پہلے سے کہیں زیادہ اس دنیا کا حصہ بن گئی—یہوواہ کی نظر میں ایک مکروہ برگشتگی۔—یوحنا ۱۷:۱۴، یعقوب ۴:۴۔
۱۶، ۱۷. ”اہل دانش“ کون ہیں، اور وہ شاہشمال کے تحت کس حال میں رہے ہیں؟
۱۶ تاہم، حقیقی مسیحیوں کی بابت کیا ہے؟ ”لیکن اپنے خدا کو پہچاننے والے تقویت پا کر کچھ کر دکھائینگے۔ اور وہ جو لوگوں میں اہلدانش ہیں بہتوں کو تعلیم دینگے لیکن وہ کچھ مدت تک تلوار اور آگ اور اسیری اور لوٹ مار سے تباہحال رہینگے۔“ (دانیایل ۱۱:۳۲ ب، ۳۳) شاہشمال کے ماتحت رہنے والے مسیحی، واجب طور پر ”اعلی حکومتوں کے تابعدار“ رہتے ہوئے، اس دنیا کا حصہ نہیں رہے ہیں۔ (رومیوں ۱۳:۱، یوحنا ۱۸:۳۶) جو قیصر کا ہے قیصر کو ادا کرنے میں محتاط رہتے ہوئے، انہوں نے ”جو خدا کا ہے خدا کو“ ادا کیا ہے۔ (متی ۲۲:۲۱) اس وجہ سے، انکی راستی کو للکارا گیا تھا۔—۲-تیمتھیس ۳:۱۲۔
۱۷ نتیجہ؟ انہوں نے ”تقویت“ بھی پائی اور ”تباہی“ میں بھی پڑے۔ وہ تباہحال اس طرح رہے کہ انہیں ستایا گیا تھا اور انہوں نے شدید اذیت اٹھائی، بعض کو تو قتل بھی کیا گیا۔ لیکن انہوں نے تقویت اس طرح پائی کہ زیادہتر وہ وفادار رہے۔ جیہاں، وہ دنیا پر غالب آئے، جیسے یسوع دنیا پر غالب آیا تھا۔ (یوحنا ۱۶:۳۳) علاوہازیں، انہوں نے منادی کرنا کبھی بند نہیں کیا، خواہ انہوں نے خود کو قید میں یا مرکزاسیران میں پایا۔ ایسا کرنے سے، ”انہوں نے بہتوں کی تعلیم دی۔“ ایسے ممالک میں جہاں پر شاہشمال کی حکمرانی تھی، اذیت کے باوجود، یہوواہ کے گواہوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ ”اہل دانش“ کی وفاداری کی بدولت ان ممالک میں ”بڑی بھیڑ“ کا مسلسل وسیع ہونے والا حصہ نمودار ہوا ہے۔—مکاشفہ ۷:۹-۱۴۔
۱۸. شاہشمال کے تحت رہنے والے ممسوح بقیے نے کونسی ”تھوڑی سی مدد“ حاصل کی ہے؟
۱۸ خدا کے لوگوں کی اذیت کا ذکر کرتے ہوئے، فرشتے نے پیشینگوئی کی: ”اور جب تباہی میں پڑینگے تو انکو تھوڑی سی مدد سے تقویت پہنچیگی۔“ (دانیایل ۱۱:۳۴ الف) یہ کیسے واقع ہوا؟ ایک بات تو یہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ میں شاہجنوب کی فتح حریف بادشاہ کے ماتحت رہنے والے مسیحیوں کیلئے بڑی تسکین پر منتج ہوئی۔ (مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۲:۱۵، ۱۶۔) اسکے بعد جانشین بادشاہ کے ہاتھوں اذیت اٹھانے والوں نے وقتاً فوقتاً تسکین کا تجربہ کیا، اور جیسے ہی سرد جنگ اپنے خاتمے کے قریب پہنچی تو بہتیرے لیڈروں نے تسلیم کر لیا کہ وفادار مسیحی کوئی خطرہ نہیں اور یوں انہیں قانونی طور پر تسلیم کر لیا۔c بڑی بھیڑ کی بڑھتی ہوئی تعداد سے بھی بڑی مدد آئی ہے، جو ممسوح لوگوں کی وفادار منادی سے اثرپذیر ہوئے اور انکی مدد کی ہے، جیسے متی ۲۵:۳۴-۴۰ میں بیان کیا گیا ہے۔
خدا کے لوگوں کی صفائی
۱۹. (ا) بعض ”خوشامدگوئی سے ان میں کیسے آ ملے“؟ (ب) ”جب تک آخری وقت نہ آ جائے“ کے اظہار سے کیا مطلب ہے؟ (دیکھیں فٹ نوٹ۔)
۱۹ اس زمانے میں خدا کی خدمت کرنے کیلئے جنہوں نے دلچسپی ظاہر کی وہ تمام اچھے محرکات نہیں رکھتے تھے۔ فرشتے نے آگاہ کیا: ”لیکن بہتیرے خوشامدگوئی سے ان میں آ ملینگے۔ اور بعض اہلفہم تباہحال ہونگے تاکہ پاکوصاف اور براق ہو جائیں جب تک آخری وقت نہ آ جائے کیونکہ یہ مقررہ وقت تک ملتوی ہے۔“d (دانیایل ۱۱:۳۴ ب، ۳۵) بعض نے سچائی میں دلچسپی دکھائی لیکن خدا کی خدمت کرنے کیلئے حقیقی مخصوصیت کرنے کیلئے رضامند نہ تھے۔ دیگر جو خوشخبری کو قبول کرنے والے معلوم ہوئے، حقیقت میں حکام کے جاسوس تھے۔ ایک ملک سے ایک رپورٹ کہتی ہے: ”ان بددیانت شخصیات میں سے بعض حلفیہ دہریے تھے جو خداوند کی تنظیم میں گھس آئے تھے، انہوں نے گرمجوشی کا بڑا اظہار کیا، اور یہانتک کہ خدمت کے اعلی مرتبوں فائز ہوئے تھے۔“
۲۰. ریاکاری سے گھس آنے والوں کی وجہ سے یہوواہ نے بعض وفادار مسیحیوں کے ”تباہحال“ رہنے کی اجازت کیوں دی؟
۲۰ چپکے سے گھس آنے والے بعض وفاداروں کیلئے حکام کے ہتھے چڑھ جانے کا سبب بنے۔ یہوواہ نے ایسی چیزوں کو کیوں واقع ہونے دیا؟ خالص بنائے اور صاف کئے جانے کیلئے۔ جیسے یسوع نے ”دکھ اٹھا اٹھا کر فرمانبرداری سیکھی،“ اسی طرح سے ان وفادار اشخاص نے اپنے ایمان کی آزمائش سے برداشت سیکھی۔ (عبرانیوں ۵:۸، یعقوب ۱:۲، ۳، مقابلہ کریں ملاکی ۳:۳۔) یوں وہ ”پاک، صاف، اور براق“ کئے جاتے ہیں۔ ایسے وفادار اشخاص کیلئے بڑی خوشی منتظر ہے جب انکی برداشت کا اجر دینے کیلئے مقررہ وقت آتا ہے۔ جب ہم دانیایل کی پیشینگوئی پر مزید بحث کرینگے تو یہ دیکھا جائیگا۔ (۱۳ ۱۱/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ نے شائع کی، اور یہوواہ کے گواہوں کی ”ڈیوائن ول“ [الہی مرضی] انٹرنیشنل اسمبلی پر ۱۹۵۸ میں انگلش میں ریلیز ہوئی۔
b نومبر ۱۹۹۲ ورلڈپریس ریویو نے دی ٹرانٹو سٹار سے ایک مضمون پیش کیا جس نے کہا: ”گزشتہ کئی سالوں سے، روسیوں نے اپنے ملک کی تاریخ کے متعلق درجنوں مسبوق مستحکم تصورات کو حقائق کے سامنے ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا ہے۔ لیکن کمیونسٹ حکومت کے ساتھ چرچ کے اشتراک کی بابت منکشف راز بری طرح سے پاش پاش کر دینے والی ضرب کی نمائندگی کرتے ہیں۔“
c دیکھیں دی واچٹاور، جولائی ۱۵، ۱۹۹۱، صفحات ۸-۱۱۔
d ”جب تک آخری وقت نہ آ جائے،“ کا مطلب ”آخری وقت کے دوران“ بھی ہو سکتا ہے۔ جس لفظ کا ترجمہ یہاں ”جب تک“ کیا گیا ہے دانیایل ۷:۲۵ کے ارامی متن میں ظاہر ہوتا ہے اور وہاں پر ”دوران“ یا ”تک“ کا مطلب دیتا ہے۔ اس لفظ کا ۲-سلاطین ۹:۲۲، ایوب ۲۰:۵، اور قضاہ ۳:۲۶ کے عبرانی متن میں بھی وہی مطلب ہے۔ تاہم، دانیایل ۱۱:۳۵ کے بیشتر ترجموں میں، اسکا ترجمہ ”جب تک“ کیا گیا ہے، اور اگر یہ درست سمجھ ہے تو ”آخری وقت“ یہاں خدا کے لوگوں کی انتظار کا آخری وقت ہونا چاہیے۔—مقابلہ کریں ”یور ول بی ڈن آن ارتھ،“ صفحہ ۲۸۶۔
کیا آپکو یاد ہے؟
▫ ہمیں آجکل دانیایل کی پیشینگوئی کی زیادہ واضح سمجھ حاصل کرنے کی توقع کیوں کرنی چاہیے؟
▫ شاہشمال کا ”غضب کس طرح بھڑکا اور اس نے مؤثر طور پر کارروائی کیسے کی؟
▫ ”مکروہ چیز“ کے پھر ظاہر ہونے کو نوکر جماعت نے کیسے دیکھا؟
▫ ممسوح بقیہ ”تباہی“ میں کیسے پڑا، اور اس نے ”تقویت“ کیسے پائی اور ”تھوڑی مدد“ کیسے حاصل کی؟
[تصویر]
ہٹلر کے تحت، شاہشمال نے ۱۹۱۸ میں شاہجنوب کے ہاتھوں اپنی شکست سے مکمل بحالی حاصل کر لی
[تصویر]
مسیحی دنیا کے لیڈروں نے شاہشمال کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی
[تصویر کا حوالہ]
Zoran/Sipa Press