عظیمترین نام کے راز کو افشا کرنا
دلچسپی کی بات ہے کہ مسلم قرآن اور مسیحی بائبل دونوں عظیمترین نام کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہ مباحثہ عظیمترین نام کی اہمیت اور مطلب کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ اس چیز کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ کیسے یہ نام تمام بنی نوعانسان اور یہاں زمین پر ہمارے مستقبل پر اثرانداز ہوتا ہے۔
لاکھوں لاکھ مردوزن اس زمین پر رہ چکے اور مر چکے ہیں۔ زیادہتر کے معاملے میں انکے نام انکے ساتھ ہی ختم ہو گئے ہیں، اور ان کی یاد بھی بھلا دی گئی ہے۔ لیکن بعض عظیم نام—جیسے، بوعلیسینا، ایڈیسن، پاسچر، بیتھووین، گاندھی، اور نیوٹن—ابھی تک زندہ ہیں۔ یہ نام ان لوگوں کی کامرانیوں، دریافتوں اور ایجادات کیساتھ وابستہ ہیں جن کے یہ نام تھے۔
تاہم، ان سب ناموں سے عظیمتر ایک نام موجود ہے۔ پوری کائنات کے ماضی اور حال کے تمام عجائب اس سے متعلق ہیں۔ بنینوعانسان کی ایک طویل اور خوشحال زندگی کی امید بھی اسی نام کیساتھ جڑی ہوئی ہے!
بہتیروں نے اس نام کو جاننا چاہا ہے۔ انہوں نے اس کی تلاش کی ہے اور اسکی بابت پوچھا ہے، لیکن وہ اسے دریافت نہیں کر سکے۔ انکے لئے یہ ایک بھید ہی رہ گیا ہے۔ درحقیقت کوئی بھی شخص اس نام کو دریافت نہیں کر سکتا تاوقتیکہ اس کا مالک اسے ان پر ظاہر نہ کرے۔ خوشی کی بات ہے کہ اس لاثانی نام کا بھید دریافت کر لیا گیا ہے۔ خدا نے خود ایسا کیا تاکہ وہ جو اس پر ایمان رکھتے ہیں اسکی بابت جان سکیں۔ اس نے اپنے نام کو آدم پر، اسکے بعد ابرہام پر، موسی پر اور ماضی کے اپنے دیگر وفادار خادموں پر ظاہر کیا۔
عظیمترین نام کی تلاش میں
قرآن کسی ایسے شخص کی خبر دیتا ہے جو ”صحائف سے اچھی طرح سے واقف تھا۔“ (۲۷:۴۰) اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے، ایک تبصرہ جو تفسیر زلالین کہلاتا ہے یوں کہتا ہے: ”آسف بن برکیاہ ایک راستباز شخص تھا۔ وہ خدا کا اسماعظم جانتا تھا، اور جب کبھی اس نے اسے پکارا، اسے جواب ملا۔“ یہ ہمیں بائبل کے ایک لکھنے والے آسف کی یاد دلاتی ہے، جس نے زبور ۸۳:۱۸ میں کہا: ”تاکہ وہ جانیں کہ تو ہی جس کا نام یہوواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“
قرآن ۱۷:۲، میں ہم پڑھتے ہیں: ”ہم نے موسی کو کتاب عنایت کی تھی اور اسکو بنیاسرائیلوں کیلئے رہنما مقرر کیا تھا۔“ ان صحائف میں موسی خدا سے یہ کہتے ہوئے مخاطب ہوتا ہے: ”جب میں بنیاسرائیل کے پاس جا کر انکو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اسکا نام کیا ہے؟ تو میں انکو کیا بتاؤں؟“ خدا نے موسی کو یہ کہتے ہوئے جواب دیا: ”تو بنیاسرائیل سے یوں کہنا کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو ] تمہارے باپ دادا کے خدا ابرہام کے خدا اور اضحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ ابد تک میرا یہی نام ہے۔“—خروج ۳:۱۳، ۱۵۔
قدیم وقتوں میں، اسرائیلی خدا کے اس عظیمنام سے واقف تھے۔ یہاں تک کہ یہ انکے اپنے ناموں کے ایک جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے آج کوئی نام عبداللہ رکھ لیتا ہے جس کا مطلب ہے ”خدا کا خادم“، اسی طرح قدیم اسرائیل میں لوگ نام عبدیاہ رکھتے تھے جسکا مطلب ہے ”یہوواہ کا خادم۔“ موسی نبی کی ماں کا نام یوکبد رکھا گیا جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ ”یہوواہ بزرگ ہے۔“ نام یوحنا کا مطلب ہے ”یہوواہ مہربان رہا ہے۔“ اور ایلیاہ نبی کے نام کا مطلب ہے ”یہوواہ میرا خدا ہے۔“
انبیا اس عظیم نام کو جانتے تھے اور اسے گہرے احترام کیساتھ استعمال کرتے تھے۔ پاک صحائف میں یہ ۷،۰۰۰ ہزار سے زیادہ بار پایا جاتا ہے۔ ابنمریم، یسوع مسیح، نے اسے نمایاں کیا جب اس نے اپنی دعا میں خدا سے کہا: ”میں نے تیرے نام کو ان آدمیوں پر ظاہر کیا جنہیں تو نے دنیا میں سے مجھے دیا۔ ... میں نے انہیں تیرے نام سے واقف کیا اور کرتا رہونگا تاکہ جو محبت تجھ کو مجھ سے تھی وہ ان میں ہو۔“ (یوحنا ۱۷:۶، ۲۶) قرآن کی اپنی مشہور تفسیر میں، بیداوی قرآن ۲:۸۷ پر یہ کہتے ہوئے تبصرہ کرتا ہے کہ یسوع (عیسی) ”مردہ اشخاص کو خدا کے اسماعظم“ سے زندہ کیا کرتا تھا۔
تو پھر کیا واقع ہوا جس نے اس نام کو ایک بھید بنا دیا؟ اس نام کا ہم میں سے ہر ایک کے مستقبل کیساتھ کیا تعلق ہے؟
نام ایک بھید کیسے بن گیا؟
بعض یہ خیال کرتے ہیں کہ عبرانی میں ”یہوواہ“ کا مطلب ”اللہ“ (خدا) ہے۔ لیکن ”اللہ“ عبرانی کے الوہیم، سے مطابقت رکھتا ہے، جو کہ لفظ الوہا (معبود) کے شاہانہ جاہوجلال کی جمع ہے۔ یہودیوں کے درمیان اوہامپرستی نے جنم لے لیا تھا جس نے انہیں الہی نام، یہوواہ، کا تلفظ ادا کرنے سے باز رکھا۔ اسلئے جب وہ پاک صحیفوں کی تلاوت کرتے اور نام یہوواہ سامنے آتا تو یہ ان کا دستور بن گیا تھا کہ اسکی جگہ ادونائی کہیں جسکا مطلب ہے ”خداوند۔“ بعض جگہوں پر تو انہوں نے اصلی عبرانی متن میں ”یہوواہ“ کو بدل کر ادونائی کر دیا۔
مسیحیت کے مذہبی راہنماؤں نے بھی وہی روش اختیار کی۔ انہوں نے نام یہوواہ کی جگہ ”خدا“ (عربی میں ”اللہ“) اور ”خداوند“ لگا دیا ہے۔ یہ تثلیث کے جھوٹے عقیدے کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوا، جسکی کہ پاک صحیفوں میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اسی وجہ سے، لاکھوں غلطی سے یسوع اور پاک روح کی پرستش کرتے اور انہیں خدا کے برابر خیال کرتے ہیں۔a
پس یہودیت اور مسیحیت کے راہنما دونوں عظیمترین نام کی بابت وسیع طور پر پھیلی ہوئی لاعلمی کے الزام میں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن خدا نے پیشینگوئی فرمائی: ”میں اپنے بزرگ نام کی ... تقدیس کرونگا ... قومیں جانینگی کہ میں خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو ] ہوں۔“ جیہاں یہوواہ سب قوموں میں اپنا نام مشہور کریگا۔ کیوں؟ اسلئے کہ وہ صرف یہودیوں کا ہی یا پھر کسی اور انفرادی قوم یا امت کا ہی خدا نہیں ہے۔ یہوواہ تمام بنینوعانسان کا خدا ہے۔—حزقیایل ۳۶:۲۳، پیدایش ۲۲:۱۸، زبور ۱۴۵:۲۱، ملاکی ۱:۱۱۔
عظیمترین نام اور ہمارا مستقبل
پاک صحیفے کہتے ہیں: ”جو کوئی خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو ] کا نام لیگا نجات پائیگا۔“ (رومیوں ۱۰:۱۳) روزعدالت پر ہماری نجات کا تعلق ہمارے خدا کے نام کو جاننے کیساتھ ہوگا۔ اسکے نام کو جاننے میں اسکی صفات، کاموں اور مقاصد کو جاننا اور اسکے بلند اصولوں کی مطابقت میں زندگی بسر کرنا شامل ہے۔ مثال کے طور پر، ابرہام خدا کا نام جانتا تھا اور اس نام سے دعا کیا کرتا تھا۔ اسکے نتیجے میں، اس نے خدا کیساتھ ایک اچھے رشتے سے استفادہ کیا، اس پر ایمان ظاہر کیا، اس پر بھروسہ کیا، اور اسکی تابعداری کی۔ یوں ابرہام خدا کا دوست بن گیا۔ اسی طرح، خدا کے نام کو جاننا ہمیں اسکی قربت میں لاتا ہے اور اسکی محبت میں قائم رہتے ہوئے، اسکے ساتھ ذاتی رشتہ استوار کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے۔—پیدایش ۱۲:۸، زبور ۹:۱۰، امثال ۱۸:۱۰، یعقوب ۲:۲۳۔
بائبل میں ہم پڑھتے ہیں: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو ] نے متوجہ ہو کر سنا اور انکے لئے جو خداوند سے ڈرتے اور اسکے نام کو یاد کرتے تھے اسکے حضور یادگار کا دفتر لکھا گیا۔“ (ملاکی ۳:۱۶) ہمیں کیوں عظیمترین نام کو ”یاد کرنے“ کی ضرورت ہے؟ نام یہوواہ کا لفظی مطلب ”مسبب الاسباب“ ہے۔ یہ بات یہوواہ کو بذاتخود وعدوں کو پورا کرنے کا سبب بننے والے کے طور پر آشکارا کرتی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے مقاصد کو پایہءتکمیل تک پہنچاتا ہے۔ وہ قادرمطلق خدا، واحد خالق ہے جو کہ ہر عمدہ صفت کا مالک ہے۔ کوئی واحد ایسا لفظ نہیں جو خدا کی الہی ذات کو پوری طرح سے بیان کر سکے۔ لیکن خدا نے خود اپنے لئے عظیمترین نام—یہوواہ کا انتخاب کیا—اور یہ اسکی تمام صفات، خوبیوں اور مقاصد کی یاد دلاتا ہے۔
پاک صحیفوں میں، خدا ہمیں بنیآدم کیلئے اپنے مقاصد کی بابت بتاتا ہے۔ یہوواہ خدا نے آدمی کو فردوس میں ایک دائمی اور خوشحال زندگی سے لطفاندوز ہونے کیلئے خلق کیا۔ بنی نوعانسان کیلئے اسکی مرضی یہ ہے کہ سب لوگ ایک ایسے خاندان کے طور پر رہیں جو کہ محبت اور صلح کے بند میں بندھا ہوا ہو۔ محبت کا خدا مستقبل قریب میں اپنے اس مقصد کو پورا کریگا۔—متی ۲۴:۳-۱۴، ۳۲-۴۲، ۱-یوحنا ۴:۱۴-۲۱۔
خدا بنی نوعانسان کے دکھ اٹھانے کی وجہ بیان کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ نجات ممکن ہے۔ (مکاشفہ ۲۱:۴) زبور ۳۷:۱۰، ۱۱ میں ہم پڑھتے ہیں: ”کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائیگا۔ تو اسکی جگہ کو غور سے دیکھیگا پر وہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“—اسکے ساتھ قرآن ۲۱:۱۰۵ کو بھی دیکھیں۔
جیہاں خدا اپنے عظیم نام سے مشہور ہوگا۔ قوموں کو یہ جاننا ہوگا کہ وہ یہوواہ ہے۔ عظیمترین نام کو جاننے، اسکی شہادت دینے، اور اس سے وفاداری کرنے کا کیا ہی شاندار استحقاق! اس طرح سے، خدا کا خوشگوار مقصد ہم میں سے ہر ایک کی بابت پورا ہو جائیگا: ”چونکہ اس نے مجھ سے دل لگایا ہے اسلئے میں اسے چھڑاؤنگا۔ میں اسے سرفراز کرونگا کیونکہ اس نے میرا نام پہچانا ہے۔ وہ مجھے پکاریگا اور میں اسے جواب دونگا۔ ... میں اسے عمر کی درازی سے آسودہ کرونگا اور اپنی نجات اسے دکھاؤنگا۔—زبور ۹۱:۱۴-۱۶۔ (۳ ۱۱/۱ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a اس ثبوت کیلئے کہ تثلیث بائبل کی تعلیم نہیں، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کے ۱۹۸۹ کے شائعکردہ بروشر شڈ یو بیلیو ان دی ٹرینیٹی؟ کو دیکھیں۔
[تصویر]
جلتی جھاڑی میں، خدا نے موسی کے سامنے اپنی شناخت ”ابرہام کے خدا یہوواہ“ کے طور پر کرائی
[تصویر کا حوالہ]
,Moses and the Burning Bush, by W. Thomas