انتظار کرنا سیکھنے کا مسئلہ
جو کچھ ہمیں چاہیے اس کی بابت انتظار کرنا سیکھنا شاید ان مشکلترین اسباق میں سے ایک ہے جس کا ہم انسانوں سے تقاضا کیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچے فطری طور پر بےصبر ہوتے ہیں۔ انہیں جو کچھ بھی پسند آ جائے وہ چاہتے ہیں کہ انہیں مل جائے، اور یہ ابھی مل جائے! لیکن جیسے کہ آپ شاید تجربے سے جانتے ہوں، یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے کہ جو کچھ آپ چاہتے ہیں وہ فوراً دستیاب نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ جائز خواہشات کے سلسلے میں بھی ہمیں انہیں پورا کرنے کیلئے مناسب وقت کا انتظار کرنا سیکھنا چاہیے۔ بہتیرے یہ سبق سیکھ لیتے ہیں جب کہ دیگر کبھی ایسا نہیں کرتے۔
جو لوگ الہی مقبولیت کے خواہاں ہیں انکے پاس انتظار کرنا سیکھنے کیلئے خاص وجوہات ہے۔ مسیحیت کے زمانے سے پہلے کے یہوواہ کے ایک خادم، یرمیاہ نے اس پر زور دیا: ”یہ خوب ہے کہ آدمی امیدوار رہے اور خاموشی سے خداوند کی نجات کا انتظار کرے۔“ بعد میں، مسیحی شاگرد یعقوب نے کہا: ”پس اے بھائیو! خداوند کی آمد تک صبر کرو۔“—نوحہ ۳:۲۶، یعقوب ۵:۷۔
الہی مقاصد کی تکمیل کے سلسلے میں یہوواہ کا اپنا ایک ٹائمٹیبل ہے۔ اگر ہم کسی خاص کام کرنے کے اسکے مقررہ وقت تک انتظار کرنے کے ناقابل ہوتے ہیں تو ہم غیرمطمئن اور عدماطمینان کا شکار ہو جائینگے، جو کہ خوشی کا گلا گھونٹ دیگا۔ خوشی کے بغیر خدا کا خادم روحانی طور پر کمزور پڑ جائیگا، جیسے نحمیاہ نے اپنے ملک کے لوگوں کو بتایا: ”خداوند میں شادمانی تمہارا زور ہے۔“—نحمیاہ ۸:۱۰، دی نیو انگلش بائبل۔
انتظار کرنا سیکھنے کی حکمت
کنوارے لوگوں کیلئے شادی کرنے کی خواہش رکھنا یا بےاولاد جوڑوں کیلئے بچوں کا خواہاں ہونا ایک فطری خواہش ہے۔ مزیدبرآں مناسب مادی ضروریات یا خواہشات کو پورا کرنے کے متمنی ہونے میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ تاہم، یہ یقین رکھتے ہوئے کہ جلد ہی یہ نظام ختم ہو جائے گا اور یہ کہ آنے والے نئے نظام میں خدا ”اپنی مٹی کھولیگا اور ہر جاندار کی خواہش کو پورا کریگا،“ بہتیرے مسیحیوں نے ان خواہشات کو پورا کرنے کیلئے کسی موزوں وقت کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔—زبور ۱۴۵:۱۶۔
تاہم، اس پختہ مسیحی امید کے بغیر لوگ، التوا کی بمشکل ہی کوئی وجہ پائیں گے۔ یہوواہ پر ایمان کی کمی کی وجہ سے جس کی طرف سے ”ہر اچھی بخشش اور کامل انعام،“ آتا ہے وہ ایسے مستقبل پر نگاہ رکھنے کی حکمت کی بابت سوال اٹھاتے ہیں جس پر انہیں شک ہے۔ وہ اس عقیدے کی مطابقت میں زندگی گزارتے ہیں: ”آؤ کھائیں پیئیں کیونکہ کل تو مر ہی جائینگے۔“—یعقوب ۱:۱۷، ۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۲، یسعیاہ ۲۲:۱۳۔
ترقییافتہ قوموں میں کاروبار کی اشتہاری دنیا فوری تسکین کے اس واضح رجحان سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ لوگوں کو خود کو بگاڑنے کی حوصلہافزائی کی جاتی ہے۔ تجارتی دنیا ہمیں یہ یقین دلانا چاہے گی کہ جدید سہولیات اور آسائشیں قطعی ضروریات ہیں۔ یہ بحث کی جاتی ہے کہ پھر ان کے بغیر کیوں رہا جائے، بالخصوص اس وقت جبکہ کریڈٹ کارڈز، قسطوں پر ادائیگی کے منصوبے، اور ”ابھی خریدیں—بعد میں قیمت ادا کریں“ کی اسکیمیں یہ ممکن بناتی ہیں کہ ہم یہ سب کچھ حاصل کرسکتے اور ابھی حاصل کر سکتے ہیں؟ اس کے علاوہ، یہ بھی کہ ”آپ بہترین میز پر حق رکھتے ہیں، اپنے اوپر رحم کرو! یاد رکھیں، یا تو ابھی اس سے لطفاندوز ہوں یا شاید کبھی نہیں!“ مشہور نعرے ایسے دعوے کرتے ہیں۔
اسی دوران میں، ترقیپذیر ملکوں کے اندر لاکھوں لاکھ لوگ محض ضروریات زندگی کیلئے ہی کوشاں ہیں—یا پھر اس سے بھی کم۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی چیز انسانی سیاست اور معاشرتی نظام کی ناکاملیت اور ناانصافی پر زور دے سکتی ہے؟
انتظار کرنا سیکھنے کی حکمت اس سے دیکھی گئی ہے کہ لاکھوں لوگ ایسا کرنے کیلئے رضامند نہیں—یا ایسا کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاتے—یوں وہ فوری خواہشات کی تسکین کی خاطر بہت زیادہ مقروض ہو چکے ہیں۔ غیرمتوقع حالات، جیسے بیماری یا بےروزگاری کا مطلب شاید بربادی ہو۔ جرمن نیوز پیپر فرینکفرٹر الگیمینی زیتگ نے بیان کیا کہ کیوں جرمنی کے رپورٹشدہ ایک ملین لوگ بےگھر ہیں: ”عام طور پر، بےگھر ہونا بےروزگاری یا بھاری قرضوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔“-
اپنے بل ادا کرنے سے قاصر رہنے کی وجہ سے، بہتیرے ایسے بدقسمت افراد گھر اور اپنا سب کچھ کھونے کا المناک نقصان برداشت کرتے ہیں۔ اکثراوقات، اضافی دباؤ بھی خاندانی پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ غیرمحفوظ شادیاں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ مایوسی کے دورے اور صحت کے دیگر مسائل روزمرہ کا معمول بن جاتے ہیں۔ مسیحیوں کے سلسلے میں، روحانیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو کہ غلط سوچ اور نامناسب چالچلن پر منتج ہو سکتا ہے۔ لوگ جنہوں نے غیردانشمندانہ طور پر سب کچھ حاصل کر لینے کی خواہش کیساتھ آگے بڑھنا شروع کیا وہ آخرکار سب کچھ گنوا بیٹھے۔
بہتیروں کیلئے، ایک نیا چیلنج
یسوع نے واضح کیا تھا کہ ہمیں ہوشیار ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ”دنیا کی فکر اور دولت کا فریب اور اور چیزوں کا لالچ داخل ہو کر کلام کو دبا [دے] اور وہ بےپھل رہ [جائے]۔“ (مرقس ۴:۱۹) ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی نظام نے کامیابی کے ساتھ فکروں کو ختم نہیں کیا، بشمول معاشی فکروں کے، جنکا ذکر یسوع نے کیا تھا۔
کمیونزم نے ریاستی کنٹرول والی معاشیات کے ذریعے چیزوں کو برابر کرنے کی کوشش کی تھی جسے مشرقی یورپی ممالک نے اب مسترد کر دیا ہے۔ آزاد کاروباری نظام کے برعکس، سابقہ نظام نے ان ممالک میں افراد کو کچھ معاشی تحفظ فراہم کیا جسے سرمایہدارانہ نظام اکثر دینے میں ناکام ہو جاتا ہے۔ پھر بھی، تفکرات جنکا ذکر یسوع نے کیا اشیائے صرف کی کمیابیوں اور ذاتی آزادی کی کمی کی شکل میں موجود تھیں۔
اس وقت، ان میں سے بہت سے ممالک منڈی میں خریدوفروخت والی معاشیات کو متعارف کرا رہے ہیں، اور یوں اپنے شہریوں کو ایک نئے چیلنج سے دوچار کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ بیان کرتی ہے: ”سادگی تصرف کے مغربی معیار تک فوراً پہنچنے کی خواہش کیساتھ جڑی ہوئی ہے“ اسے انجام دینے کیلئے ”مشرقی جرمنی نیولینڈر (جرمنی کے سابقہ کمیونسٹ حصے میں نئی بننے والی جرمن ریاستیں) میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد قرضوں کے بھنور کی طرف بہے چلی جا رہی ہے۔“ رپورٹ اضافہ کرتی ہے: ”ابتدائی آسودگی ختم ہونے کے بعد اب نئی معاشی آزادی کا خوف اور مایوسی پھیل رہی ہے۔“ فکریں موجود ہیں، لیکن اب وہ سرمایادارانہ لباس میں ملبوس ہیں۔
عظیمتر سیاسی اور معاشی آزادیوں نے معاشی بہتری کے نئے امکانات کھول دئے ہیں۔ لہذا، بہتیرے اشخاص اپنے ذاتی کاروبار شروع کرنے یا ملازمت کے بہتر مواقع کے ساتھ کسی دوسرے ملک میں منتقل ہو جانے کے خیال پر سنجیدہ غوروفکر کی آزمائش میں پڑ سکتے ہیں۔
اس طرح کے فیصلے ذاتی معاملے ہیں۔ ایک مسیحی کیلئے اپنے معاشی حالات کو بہتر بنانے کی خواہش کرنا غلط نہیں ہے۔ شاید اس نے اس بات سے باخبر ہوتے ہوئے، اپنے خاندان کی دیکھبھال کرنے کی خواہش سے تحریک پائی ہو کہ ”اگر کوئی اپنوں اور خاص کر اپنے گھرانے کی خبرگیری نہ کرے تو ایمان کا منکر اور بےایمان سے بدتر ہے۔“—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
اسلئے ان فیصلوں پر نکتہچینی کرنا نامناسب ہے جو دوسرے کرتے ہیں۔ اسکے ساتھ ہی ساتھ، مسیحیوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ بھاری قرض اٹھانے کے ذریعے معاشی تسکین حاصل کرنا جو انکو پھندے میں پھنسا سکتے ہیں غیردانشمندی ہے۔ اسی طرح سے ایک ایسے طریقے سے معاشی تسکین حاصل کرنا بھی غلط ہوگا جس میں روحانی مفادات اور ذمہداریوں سے غفلت کرنا شامل ہو۔
دوسروں سے سیکھنا
دوسری جنگ عظیم کے بعد کے سالوں میں، ہزاروں جرمن جنگ سے پاش پاش یورپ سے دوسرے ملکوں کو ہجرت کر گئے، بالخصوص آسٹریلیا اور کینیڈا میں۔ اسلئے بہتیرے اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے قابل تھے، لیکن ان میں سے کوئی بھی مکمل طور پر ان معاشی فکروں سے چھٹکارا پانے کے قابل نہ تھا جنکا ذکر یسوع نے کیا۔ معاشی مسائل کے حل نے بعض اوقات نئے مسائل کو جنم دیا۔—گھر کی یاد، ایک بیگانہ زبان، نئے کھانوں کا عادی ہونا، مختلف رسوم، نئے دوستوں کے مطابق بننا، یا مختلف رجحانات سے نپٹنا۔
ان مہاجرین میں سے کچھ یہوواہ کے گواہ تھے۔ قابلتعریف طور پر، ان میں سے زیادہ نے ہجرت سے متعلق مخصوص مسائل کو اپنی روحانیت کو دبانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ لیکن مستثنیات تھیں۔ بعض فریب دینے والی دولت کی قوت کا شکار ہو گئے۔ انکی تھیوکریٹک پیشرفت انکی معاشی ترقی کے دوشبدوش چلنے میں ناکام ہو گئی۔
یقیناً یہ ممکنہ طور پر ایسے غیردانشمندانہ فیصلے کرنے سے پہلے اپنی حالت کا بغور جائزہ لینے کی حکمت کو واضح کرتی ہے۔ مادہپرستانہ رجحانات شاگرد بنانے کے پھر کبھی نہ دہرائے جانے والے کام میں ہمیں سست بنا دینگے جو کہ مسیحیوں کو تفویض کیا گیا ہے۔ خواہ ہم کہیں بھی رہیں، یہ بات سچ ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک ایسا نہیں جسکے شہری معاشی فکروں سے آزاد ہیں۔
اچھی لڑائی لڑنا
پولس نے تیمتھیس کو فہمائش کی: ”راستبازی۔ دینداری۔ ایمان۔ محبت۔ صبر اور حلم کا طالب ہو۔ ایمان کی اچھی کشتی لڑ۔ اس ہمیشہ کی زندگی پر قبضہ کر لے جسکے لئے تو بلایا گیا تھا۔“ کرنتھی مسیحیوں سے اس نے کہا: ”ثابت قدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزایش کرتے رہو۔“—۱-تیمتھیس ۶:۱۱، ۱۲، ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸۔
اس عمدہ نصیحت پر عمل کرنا کامیابی کے ساتھ مادہپرستی کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ ہے، اور ایک مسیحی کے کرنے کیلئے واقعی بہت زیادہ کام ہے! بعض ممالک میں جہاں پر بادشاہتی منادوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے، بہت زیادہ لوگ سچائی تک بہت کم رسائی رکھتے ہیں۔ یسوع نے صحیح طور پر پیشینگوئی کی تھی: ”فصل تو بہت ہے لیکن مزدور تھوڑے ہیں۔“—متی ۹:۳۷۔
ان ممالک میں معاشی تفکرات کو سردست انہیں روحانی کام سے ہٹانے کی اجازت دینے کی بجائے، یہوواہ کے گواہ حالیہ مواقع کو پوری طرح استعمال کرتے ہوئے حالت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب عارضی طور پر بیروزگار ہوتے ہیں تو ان میں سے بہتیرے منادی کرنے کی اپنی کارگزاری کو وسیع کرتے ہیں۔ انکی خدمت، یہوواہ کی حمد کے نعرے کو بلند کرنے کے علاوہ، انہیں اپنے ذاتی معاشی مسائل سے نپٹنے کیلئے ضروری خوشی بھی دیتی ہے۔
یہ گواہ منادی کرنے کے کام کو اولیت دیتے ہیں اور معاشی مشکلات کو دوسرے درجے پر رکھتے ہیں، جس سے وہ عالمی برادری پر واضح کر دیتے ہیں کہ وہ پورے طور پر یہوواہ پر توکل کرتے ہیں کہ انکی دیکھبھال کرے۔ اسکا وعدہ ہے: ”پہلے اسکی بادشاہی اور اسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تم کو مل جائینگی۔“—متی ۶:۳۳۔
جب سے ۱۹۱۹ میں سچی پرستش کی بحالی ہوئی ہے، یہوواہ نے اپنے لوگوں کو ڈگمگانے نہیں دیا۔ اس نے انہیں شدید اذیت میں سے اور بعض جگہوں پر زیرزمین دہوں کی کارگزاری میں سے بچایا ہے۔ یہوواہ کے گواہ عزممصمم رکھتے ہیں کہ ابلیس جو کچھ اذیت کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اسے وہ مادہپرستی کے زیادہ عیارانہ پھندے سے بھی انجام نہیں دے پائیگا!
ہر لحاظ سے انتظار کرنا سیکھنا
کشادہ کنگڈم ہال، قیمتی آلاتصوت، اسمبلی ہال، اور پرکشش بیتایل ہومز خدا کو جلال دیتے ہیں اور ایک خاموش گواہی پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنے لوگوں کو برکت دے رہا ہے۔ ایسے ممالک میں جہاں پر طویل عرصے تک کام بند تھا یہوواہ کے گواہ محسوس کر سکتے ہیں کہ انہیں دوسرے ممالک کے معیار تک پہنچنے کیلئے بہت کچھ کرنا ہے۔ لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ روحانی ترقی کرتے رہیں۔ مادی طریقے سے خدا کی برکت کی ظاہری علامتیں وقت آنے پر آئینگی۔
یہوواہ کے مخصوصشدہ خادموں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے، ایسا نہ ہو کہ ذاتی مفادات کے حصول میں، وہ یہ محسوس کرنا شروع کر دیں کہ انہوں نے بعض مادی چیزوں کے بغیر کافی وقت گزارا ہے۔ معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں سے چھٹکارے کی آرزو قابلسمجھ ہے، لیکن یہوواہ کے لوگ اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہتے کہ خدا کے سب خادم چھٹکارے کی آرزو میں ہیں۔ نابینے پھر سے دیکھنے کی آرزو کرتے ہیں، دائمالمرض بیمار بحالشدہ صحت کی آرزو کرتے ہیں، افسردہ لوگ ایک روشن نقطۂنظر کی تمنا کرتے ہیں، اور غمزدہ اپنے مرے ہوئے عزیزوں کو پھر سے زندہ دیکھنے کی آرزو کرتے ہیں۔
حالات کی وجہ سے، ہر مسیحی کسی نہ کسی لحاظ سے یہوواہ کی نئی دنیا کا انتظار کرنے کیلئے مجبور ہے کہ اسکے مسائل حل کرے۔ اسے ہم کو خود سے پوچھنے کی اکساہٹ دینی چاہیے، ”اگر میرے پاس کھانے اور پہننے کو ہے تو کیا مجھے ان چیزوں پر قناعت کرنے اور معاشی مسائل سے چھٹکارے کا انتظار کرنے کیلئے تیار نہیں رہنا چاہیے؟“—۱-تیمتھیس ۶:۸۔
مسیحی جو پورے طور پر یہوواہ پر توکل کرتے ہیں وہ یقین رکھ سکتے ہیں کہ اگر وہ صرف انتظار کرنے کیلئے تیار ہیں تو انکی تمام جائز خواہشات اور ضروریات جلد پوری ہو جائینگی۔ کسی نے بھی بےفائدہ انتظار نہیں کیا ہوگا۔ ہم پولس کے الفاظ کو دہراتے ہیں: ”ثابتقدم اور قائم رہو اور خداوند کے کام میں ہمیشہ افزایش کرتے رہو کیونکہ یہ جانتے ہو کہ تمہاری محنت خداوند میں بیفائدہ نہیں ہے۔“—۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۸۔
پس کیا انتظار کرنا سیکھ لینا واقعی کوئی بڑا مسئلہ ہونا چاہیے؟ (۸ ۱۰/۱۵ w۹۳)
[صفحہ 10 پر تصویر]
انتظار کرنا سیکھ لینا آپکی زندگی بچا سکتا ہے