یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏1 ص.‏ 3-‏7
  • نیک لوگ کیوں دکھ اٹھاتے ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • نیک لوگ کیوں دکھ اٹھاتے ہیں؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ایوب کے دکھ
  • خدا غلطی پر نہیں
  • نیک اور بد دونوں دکھ اٹھاتے ہیں
  • جس وجہ سے خداپرست لوگ دکھ اٹھاتے ہیں
  • عنقریب—‏دکھ ختم!‏
  • ایوب—‏ایک صابر اور راستباز انسان
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
  • اؔیوب نے صبر کیا—‏ہم بھی کر سکتے ہیں!‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1995ء
  • ایوب نے یہوواہ کے نام کی بڑائی کی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2009ء
  • ایوب کی کتاب مشکلیں سہتے وقت آپ کے کام آ سکتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2025ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏1 ص.‏ 3-‏7

نیک لوگ کیوں دکھ اٹھاتے ہیں؟‏

سال ۱۹۱۴ تھا اور دنیا جنگ میں ملوث ہو چکی تھی۔ اچانک، سائبیریا کے جنگی قیدی کیمپ میں ٹائیفس کی بیماری پھیلنا شروع ہو گئی۔ لیکن یہ محض شروعات ہی تھی۔ یہ خوفناک بیماری شہریوں تک پھیل گئی اور صرف چھ ماہ میں ۱۵۰،۰۰۰ کی موت کا موجب بنی۔ جنگی دور کی حالتوں اور اس کے دوران جو انقلاب روس میں آیا ٹائیفس سے تین ملین مر گئے۔ آپ خوب نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ بہت سے نیک لوگ اور انکے سوگوار خاندانی اراکین متاثرین کے درمیان تھے۔‏

انسانی المیہ کی یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہو سکتا ہے آپ نے خود بھی اس دکھ کا تجربہ کیا ہو جو عزیزوں کے بیماری، حادثہ، اور کسی قسم کی آفتوں کا شکار ہو جانے پر منتج ہوتا ہے۔ جب کوئی راستباز شخص کسی لاعلاج بیماری کی تکلیف میں پڑ جاتا ہے تو غالباً آپ پریشان ہو جاتے ہیں۔ ممکن ہے آپ اس وقت بہت غمگین ہوتے ہیں جب کوئی نیک شخص—‏شاید ایک سخت محنتی، خاندان والا آدمی—‏ایک حادثہ میں مر جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سوگواروں کا غم ان کے لئے آپ کے دل کو دکھائے۔‏

بہتیرے یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ شخص جو نیک کام کرتا ہے اسے دکھوں سے آزادی کا اجر ملنا چاہیے۔ کچھ لوگ دکھ کو اس بات کا ثبوت خیال کرتے ہیں کہ متاثرہ شخص بدکار ہے۔ ان تینوں آدمیوں کی یہی بحث تھی جو کوئی ۳،۶۰۰ سال پہلے گزرے ہیں۔ وہ نیک آدمی ایوب کے ہم‌عصر تھے۔ آئیے ہم ان کے زمانے پر چلیں جب ہم اس سوال کے جواب کی تلاش کرنا شروع کرتے ہیں، کہ نیک لوگ کیوں دکھ اٹھاتے ہیں؟‏

ایوب کے دکھ

جب ایوب کے تین مبیّنہ دوستوں نے اس سے ملاقات کی تو وہ اس وقت ناقابل‌بیان درد اور بیماری میں مبتلا تھا۔ وہ اپنے دس بچوں سے محروم ہو چکا تھا اور اپنا سارا مادی مال‌واسباب کھو چکا تھا۔ جو لوگ ایوب کی بڑی عزت کرتے تھے وہ اس سے متنفر ہو چکے تھے۔ حتی کہ اس کی بیوی نے بھی اس سے مُنہ موڑ لیا اور زور دیا کہ وہ خدا کی تکفیر کرے اور مر جائے۔—‏ایوب ۱:‏۱-‏۲:‏۱۳،‏ ۱۹:‏۱۳-‏۱۹‏۔‏

سات دن اور رات تک ایوب کے ملاقاتیوں نے خاموشی سے اس کی تکلیف کا مشاہدہ کیا۔ پھر ان میں سے ایک نے اس پر ناراست چال‌چلن کا الزام لگایا جس کی وجہ سے مبیّنہ طور پر وہ سزا پا رہا تھا۔ ”‏کیا تجھے یاد ہے“‏، اس آدمی الیفز نے کہا:‏ ”‏کہ کبھی کوئی معصوم بھی ہلاک ہوا ہے؟ یا کہیں راستباز بھی کاٹ ڈالے گئے؟ میرے دیکھنے میں تو جو گناہ کو جوتتے اور دکھ بوتے ہیں وہی اسکو کاٹتے ہیں۔ وہ خدا کے دم سے ہلاک ہوتے اور اسکے غضب کے جھوکے سے بھسم ہوتے ہیں۔“‏—‏ایوب ۴:‏۷-‏۹‏۔‏

پس الیفز نے حجت پیش کی کہ خدا ایوب کو اس کے گناہوں کی سزا دے رہا تھا۔ آجکل بھی، کچھ دلیل دیتے ہیں کہ ناگہانی آفات خدا کے کام ہیں جو لوگوں کو غلط‌کاری کی سزا دینے کیلئے ترتیب دئے گئے ہیں۔ لیکن یہوواہ ایوب کو ناراست کاموں کا مرتکب ہونے کی وجہ سے سزا نہیں دے رہا تھا۔ یہ بات ہم اس لئے جانتے ہیں کیونکہ خدا نے بعد میں الیفز کو بتایا:‏ ”‏میرا غضب تجھ پر اور تیرے دونوں دوستوں پر بھڑکا ہے کیونکہ تم نے میری بابت وہ بات نہ کہی جو حق ہے جیسے میرے بندہ ایوب نے کہی۔“‏—‏ایوب ۴۲:‏۷‏۔‏

خدا غلطی پر نہیں

آجکل، لاکھوں—‏یقیناً بشمول بہتیرے نیک لوگوں کے—‏غربت‌زدہ اور فاقہ‌کشی کے قریب ہیں۔ کچھ لوگ تلخی سے بھر جاتے ہیں، اور اپنی تکلیفوں کا الزام خدا کو دیتے ہیں۔ لیکن کال کا الزام خدا پر نہیں لگایا جا سکتا۔ درحقیقت وہی ہے جو نسل‌انسانی کے لئے خوراک مہیا کرتا ہے۔—‏زبور ۶۵:‏۹‏۔‏

خودغرضی، لالچ اور دوسرے انسانی عناصر بھوکوں تک خوراک کی تقسیم کو شاید روکیں۔ جنگ قحط کے اسباب میں سے ہے۔ مثال کے طور پر، دی ورلڈ بک انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے:‏ ”‏جنگ کا نتیجہ قحط ہو سکتا ہے اگر بہتیرے کسان اپنے کھیتوں کو چھوڑ دیں اور مسلح فوجوں میں شامل ہو جائیں۔ بعض معاملوں میں، فوج نے دانستہ طور پر قحط پیدا کیا ہے تاکہ ہتھیار ڈالنے کے لئے دشمن کو بھوکا رکھا جائے۔ فوج ذخیرہ‌کردہ خوراک اور بڑھتی ہوئی فصلوں کو برباد کرتی ہے اور دشمن کی خوراک کی فراہمی کو منقطع کرنے کے لئے ناکہ‌بندی لگاتی ہے۔ ناکہ‌بندیوں نے نائیجیریا کی خانہ‌جنگی (‏۱۹۶۷-‏۱۹۷۰)‏ کے دوران جہازوں کے ذریعے خوراک کی ترسیل کو بیافرا کے خطے میں پہنچنے سے روکا۔ نتیجہ ایک کال ہوا اور ایک ملین سے زائد بیافرا کے لوگوں کو غالباً فاقہ‌کشی کرنا پڑی۔“‏

دوسری عالمی جنگ کے دوران، جب بہتیرے نیک لوگوں نے تکلیف اٹھائی اور مر گئے تو بعض نے خاصکر غلطی سے خدا پر الزام لگایا۔ تو بھی، انسان نفرت کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے سے خدا کے قوانین کو توڑتے ہیں۔ جب یسوع مسیح سے پوچھا گیا کہ ”‏حکموں میں سے اول کونسا ہے“‏ تو اس نے جواب دیا:‏ ”‏اول یہ ہے اے اسرائیل سن۔ خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ اور تو خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ۔ دوسرا یہ ہے کہ تو اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ ان سے بڑا اور کوئی حکم نہیں۔“‏—‏مرقس ۱۲:‏۲۸-‏۳۱‏۔‏

بہت زیادہ قتل‌عام میں ملوث ہونے سے جب انسان خدا کے قوانین کو توڑتے ہیں تو کیا کوئی مناسب طور پر خدا پر الزام لگا سکتا ہے اگر نتیجہ دکھ نکلتا ہے؟ اگر والدین اپنے بچوں کو بتاتے ہیں کہ آپس میں نہ لڑیں اور وہ ان کے نیک مشورے کو حقیر جانتے ہیں تو کیا یہ ذمہ‌دار ہیں اگر وہ زخمی ہوتے ہیں؟ جس طرح والدین ذمہ‌دار نہیں ہیں اسی طرح جب لوگ الہٰی قوانین کو حقیر جانتے ہیں تو خدا بھی انسانی تکلیفوں کیلئے ذمہ‌دار نہیں ہے۔‏

اگرچہ ہو سکتا ہے کہ نتیجہ دکھ نکلے جب خدا کے قوانین کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو بھی بائبل ہرگز اشارہ نہیں دیتی کہ عام آفات خدا کے کام ہیں جو بدکاروں کو سزا دینے کے لئے ترتیب دئے گئے ہیں۔ جب پہلے انسانی جوڑے نے گناہ کیا تو وہ اس کی خاص برکت اور تحفظ سے محروم ہو گئے۔ یہوواہ کے مقاصد کو سرانجام دینے کے لئے الہٰی مداخلت کے معاملوں کے سوا، جو کچھ نسل‌انسانی کے ساتھ روزبروز واقع ہوا ہے وہ اس صحیفائی اصول کے ذریعے اثرپزیر ہوا ہے:‏ ”‏نہ تو دوڑ میں تیز رفتار کو سبقت ہے نہ روٹی دانشمند کو ملتی ہے نہ دولت عقلمندوں کو اور نہ عزت اہل‌خرد کو بلکہ ان سب کے لئے وقت اور حادثہ ہے۔“‏—‏واعظ ۹:‏۱۱‏۔‏

نیک اور بد دونوں دکھ اٹھاتے ہیں

درحقیقت، موروثی گناہ اور ناکاملیت کی وجہ سے نیک اور بد دونوں دکھ اٹھاتے ہیں۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ مثال کے طور پر راستباز اور شریر لوگ ایک جیسی دردناک بیماریوں کا تجربہ کرتے ہیں۔ وفادار مسیحی تیمتھیس نے ”‏اکثر ‎]بیمار، ‎[NW رہنے“‏ سے دکھ اٹھایا تھا۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۲۳‏)‏ جب پولس رسول ”‏اپنے جسم میں کانٹے“‏ کا ذکر کرتا ہے تو وہ شاید کچھ جسمانی تکلیف کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۷-‏۹‏)‏ حتی کہ اپنے وفادار خادموں کے لئے بھی، خدا اب موروثی کمزوریوں یا بیماری کے لئے اثرپزیریوں کو ختم نہیں کرتا۔‏

ہو سکتا ہے کہ خداپرست لوگ بھی بعض‌اوقات ناقص سمجھ استعمال کرنے یا صحیفائی مشورہ کے اطلاق میں ناکام ہونے کے باعث دکھ اٹھائیں۔ مثال دیکر سمجھانے کے لئے:‏ وہ جو خدا کی نافرمانی کرتا اور ایک بے‌ایمان سے شادی کرتا ہے شاید ازدواجی مشکلات اٹھائے جن سے وہ بچ سکتا تھا۔ (‏استثنا ۷:‏۳، ۴،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۹‏)‏ اگر ایک مسیحی متوازن غذا نہیں کھاتا اور کافی آرام نہیں کرتا تو ہوسکتا ہے کہ وہ صحت کو برباد کرنے کی وجہ سے دکھ اٹھائے۔‏

اگر ہم کمزوری کا شکار ہو جاتے اور غلط چال‌چلن میں ملوث ہو جاتے ہیں تو یہ جذباتی دکھ پر منتج ہو سکتا ہے۔ شاہ داؤد کی بت‌سبع کے ساتھ زناکاری اس پر بڑا دکھ لائی۔ (‏زبور ۵۱‏)‏ غلط‌کاری کو چھپانے کی کوشش کرتے وقت، اس نے شدید پریشانی اٹھائی تھی۔ ”‏جب میں خاموش رہا“‏، اس نے کہا ”‏تو دن بھر کے کراہنے سے میری ہڈیاں گھل گئیں۔ .‏.‏.‏ میری تراوت گرمیوں کی خشکی سے بدل گئی۔“‏ (‏زبور ۳۲:‏۳، ۴‏)‏ اپنی خطا پر شدید کوفت نے داؤد کی طاقت کو کم کر دیا تھا جیسے کہ ایک درخت خشک‌سالی کے دوران یا گرمی کی دھوپ میں زندگی‌بخش تراوت کھو دیتا ہے۔ اس نے ظاہراً دماغی اور جسمانی دونوں طرح سے دکھ اٹھایا تھا۔ لیکن زبور ۳۲ ظاہر کرتا ہے کہ ایک شخص کے توبہ کرکے گناہوں کا اقرار کرنے اور خدا سے معافی حاصل کرنے سے ایسے دکھ سے تسکین پائی جا سکتی ہے۔—‏امثال ۲۸:‏۱۳‏۔‏

برے لوگ اکثر عیش‌پرستانہ روش کے حصول کی وجہ سے دکھ اٹھاتے ہیں، نہ کہ الہٰی سزا کے طور پر۔ ہیرودیس‌اعظم بری عادات کی وجہ سے بیماری سے بھرا ہوا تھا۔ یہودی تاریخ‌دان جوزیفس نے کہا کہ اپنے آخری دنوں میں ہیرودیس نے ”‏خوفناک اذیتیں اٹھائی تھیں۔ اپنے آپ کو نوچنے کی اس کی شدید خواہش تھی، اس کی انتڑیاں ناسورزدہ ہو گئی تھیں اور اس کے اعضائے‌مخصوصہ بوسیدہ ہو گئے اور ان میں کیڑے پڑ چکے تھے۔ اس نے کیلیروئے پر گرم چشموں میں اپنی سسکیوں اور اینٹھن کو تسکین دینے کی بیکار کوشش کی .‏.‏.‏ ہیرودیس اب ایسی شدید تکلیف میں مبتلا تھا کہ اس نے خود کو گھائل کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کے قریبی رشتہ‌دار نے روک دیا۔“‏—‏پال ایل.‏ مائیر کی ترجمہ اور تدوین‌شدہ، جوزیفس:‏ دی اسینشل رائٹنگز۔‏

خدا کے آئین کے ساتھ وابستہ رہنا جنسی بیماری جیسی چیزوں کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ پھر بھی اسکی خوشنودی کے طالب نیک لوگوں کے اپنے حصے میں بظاہر زیادہ دکھ کیوں آتے ہیں؟‏

جس وجہ سے خداپرست لوگ دکھ اٹھاتے ہیں

ایک بنیادی وجہ کہ کیوں نیک لوگ دکھ اٹھاتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ راستباز ہیں۔ یہ بات آبائی بزرگ یعقوب کے بیٹے یوسف کے معاملہ سے واضح کی گئی ہے۔ اگرچہ فوطیفار کی بیوی اپنے ساتھ جنسی تعلقات کے لئے یوسف پر لگاتار زور دیتی رہی، اس نے کہا:‏ ”‏بھلا میں کیوں ایسی بڑی بدی کروں اور خدا کا گنہگار بنوں؟“‏ (‏پیدایش ۳۹:‏۹‏)‏ یہ غیرمنصفانہ قید میں جانے کا باعث بنا، اور یوسف کو دکھ اٹھانا پڑا کیونکہ وہ راستباز تھا۔‏

لیکن کیوں خدا اپنے وفادار بندوں کو دکھ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے؟ جواب باغی فرشتہ شیطان یعنی ابلیس کے اٹھائے ہوئے متنازع مسئلہ میں موجود ہے۔ اس متنازع مسئلہ میں خدا کے لئے راستی شامل تھی۔ ہم کیسے جانتے ہیں؟ اس لئے کہ یہ بات راستباز ایوب کے معاملہ سے ظاہر کی گئی تھی جس کا ذکر شروع میں کیا گیا۔‏

آسمان میں خدا کے ملکوتی بیٹوں کی ایک مجلس میں، یہوواہ نے شیطان سے پوچھا:‏ ”‏کیا تو نے میرے بندہ ایوب کے حال پر کچھ غور کیا؟ کیونکہ زمین پر اسکی طرح کامل اور راستباز آدمی جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا ہو کوئی نہیں۔“‏ ابلیس کا جواب ثابت کرتا ہے کہ اس کی بابت ایک تکرار تھی کہ آیا انسان زیرآزمائش یہوواہ کے لئے راستی برقرار رکھ سکے گا۔ شیطان نے دعوی کیا کہ ایوب خدا کی خدمت مادی برکات سے استفادہ کرنے کی وجہ سے کرتا ہے اور محبت سے نہیں کرتا۔ تب شیطان نے کہا:‏ ”‏پر تو ذرا اپنا ہاتھ بڑھا کر جو کچھ اس ‎]ایوب[‎ کا ہے اسے چھو ہی دے تو کیا وہ تیرے مُنہ پر تیری تکفیر نہ کریگا؟“‏ یہوواہ نے جواب دیا:‏ ”‏دیکھ اسکا سب کچھ تیرے اختیار میں ہے۔ صرف اس کو ہاتھ نہ لگانا۔“‏—‏ایوب ۱:‏۶-‏۱۲‏۔‏

شیطان جو کچھ کر سکتا تھا اسکے باوجود، ایوب نے راست روش برقرار رکھی اور ثابت کیا کہ وہ محبت کی وجہ سے یہوواہ کی خدمت کرتا ہے۔ واقعی ایوب نے اپنے الزام لگانے والوں کو بتایا:‏ ”‏خدا نہ کرے کہ میں تمہیں راست ٹھہراؤں۔ میں مرتے دم تک اپنی راستی کو ترک نہ کروں گا۔“‏ (‏ایوب ۲۷:‏۵‏)‏ جی‌ہاں، ایسے راستی برقرار رکھنے والے راستبازی کی خاطر دکھ اٹھانے کے لئے ہمیشہ رضامند رہے ہیں۔ (‏۱-‏پطرس ۴:‏۱۴-‏۱۶‏)‏ بائبل ان بہتیروں کے بارے میں بتاتی ہے جنہوں نے خدا کے لئے قابل‌اعتماد محبت رکھی ہے اور جنہوں نے اسکی عزت اور شیطان کے اس دعوی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے راستبازی کی زندگیاں گزاری ہیں کہ وہ تمام انسانوں کو یہوواہ سے پھیر سکتا ہے۔ ہر فرد جو خدا کے لئے راستی برقرار رکھنے کی وجہ سے دکھ اٹھاتا ہے خوش ہو سکتا ہے کہ وہ شیطان کو جھوٹا ثابت کر رہا ہے اور یہوواہ کے دل کو شاد کر رہا ہے۔—‏امثال ۲۷:‏۱۱‏۔‏

خدا اپنے وفادار بندوں کے دکھ اٹھانے سے بے‌پرواہ نہیں ہے۔ زبورنویس داؤد نے کہا:‏ ”‏خداوند گرتے ہوئے کو سنبھالتا اور جھکے ہوئے کو اٹھا کھڑا کرتا ہے۔“‏ (‏زبور ۱۴۵:‏۱۴‏)‏ ممکن ہے کہ زندگی کے دکھوں اور بطور اس کے لوگوں کے انہیں جس اذیت کا تجربہ ہوتا ہے اس کو برداشت کرنے کے لئے یہوواہ کے مخصوص‌شدہ لوگوں کے پاس حسب‌ضرورت ذاتی طاقت کی کمی ہو۔ لیکن خدا انہیں مضبوط کرتا اور سنبھالتا اور حکمت عطا کرتا ہے جو انکی آزمائشوں کو برداشت کرنے کے لئے ضروری ہے۔ (‏زبور ۱۲۱:‏۱-‏۳،‏ یعقوب ۱:‏۵، ۶‏)‏ اگر ستانے والے یہوواہ کے وفادار خادموں میں سے بعض کو مار ڈالیں تو ان کے پاس قیامت کی خداداد امید ہے۔ (‏یوحنا ۵:‏۲۸، ۲۹،‏ اعمال ۲۴:‏۱۵‏)‏ اس حد تک بھی، خدا کسی بھی دکھ کے اثرات کو پلٹ سکتا ہے جس کا تجربہ اس سے محبت کرنے والے کرتے ہیں۔ وہ ایوب کے دکھ کو اختتام تک لایا اور کثرت سے اس راستباز آدمی کو برکت دی اور ہم اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں یہوواہ اپنے لوگوں کو ترک نہ کرے گا۔—‏ایوب ۴۲:‏۱۲-‏۱۶،‏ زبور ۹۴:‏۱۴‏۔‏

عنقریب—‏دکھ ختم!‏

پس ہر کوئی موروثی ناکاملیت اور اس شریر نظام‌العمل کے درمیان زندگی کی وجہ سے دکھ کا تجربہ کرتا ہے۔ خداپرست افراد بھی یہوواہ کے لئے راستی برقرار رکھنے کی وجہ سے دکھ اٹھانے کی توقع کر سکتے ہیں۔ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۲‏)‏ لیکن وہ خوش ہو سکتے ہیں، اس لئے کہ خدا جلد ہی آنسو، موت، ماتم، آہ‌ونالہ، اور درد کا خاتمہ لائے گا۔ اس سلسلے میں یوحنا رسول نے لکھا:‏

‏”‏پھر میں نے ایک نئے آسمان اور نئی زمین کو دیکھا کیونکہ پہلا آسمان اور پہلی زمین جاتی رہی تھی اور سمندر بھی نہ رہا۔ پھر میں نے شہرمقدس نئے یروشلیم کو آسمان پر سے خدا کے پاس سے اترتے دیکھا اور وہ اس دلہن کی مانند آراستہ تھا جس نے اپنے شوہر کے لئے سنگار کیا ہو۔ پھر میں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ ان کے ساتھ سکونت کرے گا اور وہ اس کے لوگ ہوں گے اور خدا آپ ان کے ساتھ رہے گا اور ان کا خدا ہوگا۔ اور وہ ان کی آنکھوں سب آنسو پونچھ دے گا۔ اس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد-‏ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا دیکھ میں سب چیزوں کو نیا بنا دیتا ہوں۔ پھر اس نے کہا لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۱-‏۵‏۔‏

اسی طرح، پطرس رسول نے اعلان کیا:‏ ”‏لیکن اس [‏یہوواہ خدا کے]‏ وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ آگے کیا ہی شاندار امکانات رکھے ہیں!‏ فردوسی زمین پر زندگی آپ کا شادمان شرف ہو سکتا ہے۔ (‏لوقا ۲۳:‏۴۳‏)‏ لہذا، موجودہ دور کے دکھوں کو اجازت نہ دیں کہ آپ کو تلخ کر دیں۔ اس کی بجائے، پرامید ہو کر مستقبل کو دیکھیں۔ اپنی امید اور اعتماد کو خدا کی بالکل قریب نئی دنیا پر رکھیں۔ اس روش پر چلیں جو یہوواہ خدا کے حضور قابل‌قبول ہے اور آپ تمام دکھوں سے پاک دنیا میں ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ (‏۳ ۹/۱۵ w۹۲)‏

‏[‏صفحہ 4 پر تصویر]‏

اگرچہ ایوب نے دکھ اٹھایا، وہ خدا کے حضور قابل‌قبول روش پر چلا

‏[‏صفحہ 7 پر تصویر]‏

آپ تمام دکھوں سے پاک دنیا میں زندہ رہ سکتے ہیں

‏[‏صفحہ 3 پر تصویر کا حوالہ]‏

Collier‎’s Photographic History of the European War

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں