خداداد آزادی پر قائم رہیں !
”مسیح نے ہمیں [ایسی آزادی] کے لئے آزاد کیا ہے۔ پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جوئے میں نہ جتو۔“ گلتیوں ۵:۱۔
۱، ۲. خداداد آزادی کیسے کھو دی گئی؟
یہوواہ کے لوگ آزاد ہیں۔ لیکن وہ خدا سے خودمختار نہیں ہونا چاہتے، کیونکہ اس کا مطلب شیطان کی غلامی ہوگی۔ وہ یہوواہ کیساتھ اپنے قریبی رشتہ کو عزیز رکھتے ہیں اور اس آزادی سے لطفاندوز ہوتے ہیں جو وہ انہیں دیتا ہے۔
۲ ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوا، نے گناہ کرنے سے اپنی خداداد آزادی کو کھو دیا اور گناہ، موت اور ابلیس کے غلام بن گئے۔ (پیدایش ۳:۱-۱۹، رومیوں ۵:۱۲) شیطان نے ساری دنیا کو تباہی کی گنہگارانہ راہ ۔ پر ڈال دیا! لیکن وہ جو خداداد آزادی پر قائم رہتے ہیں وہ حیاتابدی کی راہ پر گامزن ہیں۔ متی ۷:۱۳، ۱۴، ۱-یوحنا ۵:۱۹۔
غلامی سے آزادی
۳. عدن میں خدا نے کس امید کی پیشکش کی؟
۳ یہوواہ نے یہ مقصد ٹھہرایا کہ جو انسان اس کے نام کو جلال دیتے ہیں وہ شیطان، گناہ، اور موت کی غلامی سے آزاد ہونگے۔ اس امید کا اعلان خدا نے اس وقت کیا تھا جب اس نے اس سانپ کو جسے شیطان عدن میں استعمال کر رہا تھا یہ کہا: ”میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کچلیگا اور تو اس کی ایڑی پر کاٹیگا۔“ (پیدایش ۳:۱۴، ۱۵) یہوواہ کی آسمانی تنظیم کی نسل، یسوع مسیح، کی ایڑی پر زخم اس وقت لگا جب اس نے سولی پر جان دی، لیکن اس طرح سے خدا نے ایماندار بنیآدم کو گناہ اور موت سے آزاد کرنے کے لئے فدیے کی قربانی فراہم کی۔ (متی ۲۰:۲۸، یوحنا ۳:۱۶) وقت آنے پر، یسوع اس پرانے سانپ، شیطان کے سر کو کچلیگا۔ مکاشفہ ۱۲:۹۔
۴. ابرہام کس قسم کی آزادی سے لطفاندوز ہوا تھا، اور یہوواہ نے اس سے کس چیز کا وعدہ کیا؟
۴ عدن میں دئے گئے اس وعدہ کے کوئی ۲،۰۰۰ سال بعد، ”خدا کے دوست“ ابرہام نے خدا کی فرمانبرداری کی اور کسی دوسری جگہ جانے کیلئے اور کے شہر کو چھوڑ دیا۔ (یعقوب ۲:۲۳، عبرانیوں ۱۱:۸) یوں اس نے خداداد آزادی کو حاصل کیا اور اسکے بعد شیطان کے جھوٹے مذہب، سیاست اور لالچی تجارت والی دنیا کا غلام نہ رہا۔ عدن کی پیشنگوئی میں، خدا نے مزید اس وعدے کا اضافہ کیا کہ زمین کی سب قومیں اور خاندان ابرہام اور اسکی نسل کے وسیلہ سے برکت پائینگی۔ (پیدایش ۱۲:۳، ۲۲:۱۷، ۱۸) ابرہام سزا کے حکم سے آزاد تھا کیونکہ ”وہ یہوواہ پر ایمان لایا اور اسے اس نے اسکے حق میں راستبازی شمار کیا۔“ (پیدایش ۱۵:۶) آجکل بھی، یہوواہ کیساتھ قریبی رشتہ سزا کے حکم اور شیطان کے قبضہ میں پڑی ہوئی اس دنیا کی غلامی سے خداداد آزادی بخشتا ہے۔
ایک جاذبتوجہ علامتی ڈرامہ
۵. اضحاق کی پیدایش کو کن حالات کیساتھ وابستہ کیا گیا؟
۵ تاکہ ابرہام کی اولاد ہو، اس کی بانجھ بیوی، سارہ نے، اسے اپنی لونڈی، ہاجرہ کی پیشکش کی تاکہ اس کے لئے اولاد پیدا کرے۔ اس سے ابرہام اسماعیل کا باپ بنا، لیکن خدا نے اسے وعدہ کی ہوئی نسل کے طور پر قبول نہ کیا۔ اس کی بجائے، جب ابرہام ۱۰۰ سال کا اور سارہ ۹۰ سال کی تھی تو یہوواہ نے انہیں اضحاق نام کا ایک بیٹا پیدا کرنے کے قابل بنایا۔ جب اسماعیل نے اضحاق کا تمسخر اڑایا، تو ہاجرہ اور اس کے بیٹے کو وہاں سے رخصت کر دیا گیا، اور یوں ابرہام کا بیٹا اضحاق آزاد عورت سارہ سے ابرہام کی غیرمتنازع نسل کے طور پر رہ گیا۔ ابرہام کی طرح، اضحاق نے بھی ایمان کا مظاہرہ کیا اور خداداد آزادی سے لطف اٹھایا۔ پیدایش ۱۶:۱-۱۶، ۲۱:۱-۲۱، ۲۵:۵-۱۱۔
۶، ۷. جھوٹے استادوں نے بعض گلتیہ کے مسیحیوں کو کس بات کیلئے قائل کر لیا تھا، لیکن پولس نے کیا وضاحت کی؟
۶ ان واقعات نے ایسی چیزوں کا عکس پیش کیا جو خداداد آزادی کے متوالوں کے لئے نہایت اہم ہیں۔ اس کا ذکر اس خط میں کیا گیا جو رسول پولس نے تقریباً ۵۰ تا ۵۲ س۔ع۔ میں گلتیوں کی کلیسیا کو لکھا۔ اس وقت تک مجلسعاملہ نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ مسیحیوں کے لئے ختنہ ضروری نہیں۔ لیکن جھوٹے استادوں نے بعض گلتیوں کو اس چیز کے لئے ورغلایا تھا کہ یہ مسیحیت کا ایک اہم جز ہے۔
۷ پولس نے گلتیوں کو بتایا: آدمی شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح پر ایمان لانے سے راستباز ٹھہرتا ہے۔ (گلتیوں ۱:۱-۳:۱۴) شریعت نے اس وعدہ کو جو کہ ابرہامی عہد کے ساتھ وابستہ تھا کالعدم قرار نہیں دیا بلکہ گناہوں کو ظاہر کیا اور مسیح تک پہنچانے کو استاد بنی۔ (۳:۱۵-۲۵) اپنی موت سے، یسوع نے ان کو جو شریعت کے ماتحت تھے یہ حق بخشتے ہوئے کہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں رہا کر دیا۔ لہذا، دنوں، مہینوں، مقررہ وقتوں، اور برسوں کو ماننے کا مطلب دوبارہ ان کی غلامی کرنا ہوگا۔ (۴:۱-۲۰) پھر پولس نے لکھا:
۸، ۹. (ا)پولس نے گلتیوں ۴:۲۱-۲۶ میں جو کچھ کہا، اسے اپنے الفاظ میں مختصراً بیان کریں. (ب) اس علامتی ڈرامے میں، ابرہام، سارہ، کس شخص کی یا کس چیز کی تصویرکشی کرتے ہیں، اور وعدہ کی ہوئی نسل کون ہے؟
۸ ”مجھ سے کہو تو۔ تم جو شریعت کے ماتحت ہونا چاہتے ہو کیا شریعت کی بات نہیں سنتے؟ یہ لکھا ہے کہ ابرہام کے دو بیٹے تھے۔ ایک [اسماعیل] جو لونڈی [ہاجرہ] سے اور دوسرا [اضحاق] جو آزاد عورت [سارہ] سے۔ مگر لونڈی کا بیٹا جسمانی طور پر اور آزاد کا بیٹا وعدہ کے سبب سے پیدا ہوا۔ ان باتوں میں تمثیل پائی جاتی ہے اس لئے کہ یہ عورتیں گویا دو عہد ہیں۔ ایک کوہ سینا کا [شرعی عہد جہاں خدا نے اسرائیلیوں کیساتھ عہد قائم کیا] جس سے غلام پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہاجرہ ہے۔ [دوسرا عہد وہ تھا جو نسل کی بابت ابرہام کیساتھ کیا گیاتھا۔] اور ہاجرہ عرب کا کوہ سینا ہے اور موجودہ یروشلیم اسکا جواب ہے کیونکہ وہ اپنے لڑکوں [ابرہام، اضحاق اور یعقوب کی اولاد] سمیت غلامی میں ہے۔ مگر عالم بالا کی یروشلیم آزاد ہے اور وہی ہماری ماں ہے۔“ گلتیوں ۴:۲۱-۲۶۔
۹ اس علامتی ڈرامے میں، ابرہام یہوواہ کی تصویرکشی کرتا تھا۔ ”آزاد عورت،“ سارہ نے خدا کی ”عورت“ یا پاک عالمگیر تنظیم کی تصویر پیش کی۔ اس نے مسیح کو جنم دیا، جو اس علامتی عورت اور عظیم ابرہام کی نسل ہے۔ (گلتیوں ۳:۱۶) لوگوں کو ناپاک پرستش، گناہ، اور شیطان سے رہائی کی راہ دکھانے کیلئے، یسوع نے سچائی کی تعلیم دی اور جھوٹے مذہب کو فاش کیا، لیکن یروشلیم اور اسکے فرزند مذہبی غلامی ہی میں رہے کیونکہ انہوں نے اس کو رد کیا۔ (متی ۲۳:۳۷، ۳۸) یسوع کے یہودی پیروکار شریعت سے آزاد ہو گئے، جس نے ناکاملیت ، موت، اور گناہ میں انکی غلامی کو ظاہر کیا۔ بلاشبہ وہ سب انسان آزاد ہیں جو یسوع کو بطور خدا کی ”عورت“ کے بھیجے گئے مسیحائی بادشاہ اور نجات دہندہ کے قبول کرتے ہیں جو ”اسیروں کو رہائی کا پیغام دیتا ہے“! یسعیاہ ۶۱:۱، ۲، لوقا ۴:۱۸، ۱۹۔
غلامانہ جوئے سے بچیں
۱۰، ۱۱. مسیح نے اپنے پیروکاروں کو غلامی کے کس جوئے سے آزاد کیا، اور آجکل کیا مماثلتیں حاصل کی جا سکتی ہیں؟
۱۰ انکو جو ”بڑے اضحاق“ مسیح کیساتھ ابرہام کی نسل کو تشکیل دیتے ہیں، پولس نے کہا: ”عالمبالا کی یروشلیم آزاد ہے، اور وہی ہماری ماں ہے۔ . . . پس اے بھائیو ہم اضحاق کیطرح وعدہ کے فرزند ہیں۔ اور جیسے اس وقت جسمانی پیدایش والا [اسماعیل] روحانی پیدایش والے [اضحاق] کو ستاتا تھا ویسے ہی اب بھی ہوتا ہے۔ . . . ہم لونڈی کے فرزند نہیں بلکہ آزاد کے ہیں۔ مسیح نے ہمیں [شریعت سےایسی آزادی] کیلئے آزاد کیا ہے۔ پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جوئے میں نہ جتو۔“ گلتیوں ۴:۲۶-۵:۱۔
۱۱ اگر یسوع کے پیروکاروں میں سے کسی نے شریعت کی تابعداری کی ہوتی تو وہ غلامی کے جوئے میں پھنس گئے ہوتے۔ جھوٹا مذہب موجودہ غلامی کا جوا ہے، اور دنیائے مسیحیت قدیم یروشلیم اور اسکے بچوں کی مماثل ہے۔ لیکن ممسوح لوگ عالم بالا ، خدا کی آزاد آسمانی تنظیم کے بچے ہیں۔ وہ اور زمینی امید والے انکے ساتھی اس دنیا کا حصہ نہیں اور نہ ہی وہ شیطان کی غلامی میں ہیں۔ (یوحنا ۱۴:۳۰، ۱۵:۱۹، ۱۷:۱۴، ۱۶) سچائی اور مسیح کی قربانی کے ذریعہ آزاد کئے جانے کی وجہ سے آئیں ہم اپنی خداداد آزادی پر قائم رہیں۔
خداداد آزادی کیلئے ڈٹ جانا
۱۲. ایمانداروں نے کیا روش اختیار کی ہے، اور اب کس چیز پر بحث کی جائیگی؟
۱۲ لاکھوں اب یہوواہ کے گواہوں کے طور پر حقیقی آزادی سے لطفاندوز ہوتے ہیں۔ کئی دوسرے لاکھوں کیساتھ بائبل مطالعے کئے جا رہے ہیں، جن میں سے بہتیرے ”ہمیشہ کی زندگی کیطرف مائل“ ہیں۔ ایماندار بن جانے کے بعد، وہ بھی بپتسمہ کے ذریعے خداداد آزادی کیلئے ڈٹ جائینگے۔ (اعمال ۱۳:۴۸، ۱۸:۸) لیکن مسیحی بپتسمہ سے پہلے کونسے اقدام ہیں؟
۱۳. علم اور بپتسمہ کے مابین کیا تعلق ہے؟
۱۳ بپتسمہ لینے سے پہلے، ایک شخص کو صحائف کا حقیقی علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ (افسیوں ۴:۱۳) اسی لئے یسوع نے اپنے پیروکاروں کو بتایا: ”جاؤ . . . اور سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور انہیں باپ اور بیٹے اور روحالقدس کے نام سے بپتسمہ دو اور انہیں تعلیم دو کہ ان سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمکو حکم دیا۔“ متی ۲۸:۱۹، ۲۰۔
۱۴. باپ، بیٹے، اور روحالقدس کے نام سے بپتسمہ لینا کس علم کا تقاضا کرتا ہے؟
۱۴ باپ کے نام سے بپتسمہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ یہوواہ کے عہدے اور اسکے اختیار کو بطور خدا، خالق ، اور کائنات کے حاکماعلیٰ کے تسلیم کریں۔ (پیدایش ۱۷:۱، ۲-سلاطین ۱۹:۱۵، مکاشفہ ۴:۱۱) بیٹے کے نام سے بپتسمہ لینا مسیح کے درجہ اور اختیار کو بطور ایک بلندتر روحانی مخلوق ، مسیحائی بادشاہ، اور اس ذریعہ کے تسلیم کرنے کا تقاضا کرتا ہے جسکے وسیلے سے خدانے ”برابر کا فدیہ“ فراہم کیا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۲:۵، ۶، دانیایل ۷:۱۳، ۱۴، فلپیوں ۲:۹-۱۱) روحالقدس کے نام سے بپتسمہ لینے والا شخص اس بات کو جان جاتا ہے کہ یہ خدا کی سرگرم قوت ہے جسے یہوواہ نے مخلوقات کو بنانے اور بائبل کے لکھنے والوں کو الہام دینے کیلئے، اور اسکے علاوہ اور کئی دوسرے طریقوں سے بھی استعمال کیا۔ (پیدایش ۱:۲، ۲-پطرس ۱:۲۱) بلاشبہ، خدا اور مسیح، اور روحالقدس کی بابت سیکھنے کیلئے ابھی اور بہت کچھ ہے۔
۱۵. بپتسمہ پانے سے پہلے ایک شخص کو ایمان کا مظاہرہ کرنے کی کیوں ضرورت ہے؟
۱۵ بپتسمہ سے پہلے، ایک شخص کو حقیقی علم پر مبنی ایمان کا مظاہرہ بھی کرنا چاہیے۔ ”بغیر ایمان کے [یہوواہ] کو پسند آنا ناممکن ہے۔“ (عبرانیوں ۱۱:۶) جو شخص خدا ، مسیح، اور الہی مقصد پر ایمان رکھتا ہے، وہ خدا کے کلام کی مطابقت میں رہتے ہوئے اور خوشخبری کی منادی میں پرمطلب حصہ لیتے ہوئے، یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک بننا چاہے گا۔ وہ یہوواہ کی سلطنت کے جلال کا بیان کریگا۔ زبور ۱۴۵:۱۰-۱۳، متی ۲۴:۱۴۔
۱۶. توبہ کیا ہے، اور یہ مسیحی بپتسمہ کیساتھ کس طرح تعلق رکھتی ہے؟
۱۶ بپتسمہ کیلئے توبہ ایک اور اولین تقاضا ہے۔ توبہ کرنے کا مطلب ہے کہ ”گذشتہ (یا باارادہ) عمل یا چالچلن کی بابت ”پچھتاوے یا بےاطمینانی کے باعث“ اپنی سوچ کو تبدیل کر لینا یا جو کچھ کسی نے کیا ہے یا کرنا چھوڑ دیا ہے، اس پر ”افسردگی، پشیمانی، یا ندامت محسوس کرنا۔“ پہلی صدی کے یہودیوں کو یسوع مسیح کے خلاف اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کی ضرورت تھی۔ (اعمال ۳:۱۱-۲۶) کرنتھس کے بعض ایمانداروں نے حرامکاری، بت پرستی، زناکاری، لونڈےبازی، چوری، لا لچ، شراب نوشی، گالیاں بکنے، ظلم کرنے سے توبہ کر لی تھی۔ نتیجہ کے طور پر وہ مسیح کے خون سے ”دھل گئے“ اور ان لوگوں کے طور پر ”پاک کئے گئے“ جو یہوواہ کی خدمت کے لئے چنے گئے تھے، اور یسوع مسیح کے نام اور خدا کی روح کے وسیلہ ”راستباز ٹھہرے“۔ (۱-کرنتھیوں ۶:۹-۱۱) لہذا، توبہ گناہ کے پریشانکن جرم سے نیک ضمیر اور خداداد آزادی کی جانب ایک قدم ہے۔ ۱-پطرس ۳:۲۱۔
۱۷. رجوع لانے کا کیا مطلب ہے، اور یہ اس شخص سے جو بپتسمہ کا منصوبہ بناتا ہے کس بات کا تقاضا کرتا ہے؟
۱۷ اس سے پہلے کہ کوئی شخص یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر بپتسمہ لے رجوع لانا بھی نہایت ضروری ہے۔ ایک تائب شخص کی تبدیلی اسکے غلط روش کو ترک کرنے اور جو کچھ صحیح ہے وہی کرنے کا مصمم ارادہ کرنے کے بعد واقع ہوتی ہے۔ رجوع لانے سے متعلق عبرانی اور یونانی افعال کا مطلب ہے ”الٹے پھر آنا، مڑنا، یا پلٹنا۔“ جب یہ مثبت طور پر روحانی معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے تو یہ غلط روش سے پلٹ کر خدا کی جانب رجوع کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ (۱-سلاطین ۸:۳۳، ۳۴) رجوع لانا ”توبہ کے موافق کاموں“ کا تقاضا کرتا ہے جنکو ہم یہوواہ کے حکم کے مطابق عمل کرنے، جھوٹے مذہب کو چھوڑنے، اور پوری طرح سے اپنے دل کو صرف یہوواہ ہی کی خدمت پر لگانے سے انجام دیتے ہیں۔ (اعمال ۲۶:۲۰، استثنا ۳۰:۲، ۸، ۱۰، ۱-سموئیل ۷:۳) یہ ”ایک نئے دل اور نئی روح“، تبدیلشدہ سوچ، میلان اور زندگی میں مقصد کا تقاضا کرتا ہے۔ (حزقیایل ۱۸:۳۱) نتیجہ کے طور پر حاصل ہونے والی نئی انسانیت بیدین خصوصیات کی جگہ خدائی خوبیوں کو دے دیتی ہے۔ (کلسیوں ۳:۵-۱۴) جیہاں، حقیقی توبہ ایک شخص کے واقعی ”رجوع لا نے“ کا باعث بنتی ہے۔ اعمال ۳:۱۹۔
۱۸. خدا سے دعا میں کیوں مخصوصیت کرنی چاہیے، اور اس قدم کی اہمیت کیا ہے؟
۱۸ دعا میں خدا کے لئے مخصوصیت بپتسمہ سے پہلے کی جانی چاہیے۔ (مقابلہ کریں لوقا ۳:۲۱، ۲۲۔) مخصوصیت کا مطلب ہے کہ کسی مقدس مقصد کے لئے الگ کر لینا۔ یہ قدم اس قدر ضروری ہے کہ ہمیں دعا میں خدا کے حضور اپنے اس فیصلے کا اظہار کرنا چاہیے کہ ہم ہمیشہ کیلئے بلاشرکت غیرے اس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ (استثنا ۵:۸، ۹، ۱-تواریخ ۲۹:۱۰-۱۳) بیشک ، ہماری مخصوصیت کسی کام کیلئے ہی نہیں بلکہ خود خدا کے لئے ہے۔ اس بات کی وضاحت واچ ٹاور سوسائٹی کے پہلے صدر، چارلس ٹیز رسل کے جنازہ پر کی گئی تھی۔ ۱۹۱۶ میں اس موقع پر، سیکرٹری خزانچی، ڈبلیو۔ ای۔ وان ایمبرگ نے کہا: ”یہ عالمگیر کام کسی ایک آدمی کا کام نہیں۔ یہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ خدا کا کام ہے اور یہ لاتبدیل ہے۔ ماضی میں خدا نے بہت سے خادموں کو استعمال کیا ہے اور بلاشبہ وہ مستقبل میں بھی بہتیروں کو استعمال کریگا۔ ہماری نذر (مخصوصیت) کسی انسان کے لئے، یا کسی انسان کے کام کیلئے نہیں، بلکہ خدا کی مرضی کو پورا کرنے کیلئے ہے جیسے کہ وہ اپنے کلام اور خدائی فضل سے دی جانے والی راہنمائیوںکے ذریعے ہم پر آشکارا کریگا۔ ابھی تک خدا ہی سربراہ ہے۔“ لیکن خدا کیلئے مخصوصیت کے سلسلے میں اور کیا کیا جانا چاہیے؟
۱۹. (ا)افراد یہوواہ کے لئے اپنی مخصوصیت کا اعلانیہ اظہار کیسے کرتے ہیں؟ (ب) پانی کا بپتسمہ کس چیز کی علامت ہے؟
۱۹ جب ایک شخص بپتسمہ لیتا ہے تو یہوواہ کیلئے اس کی مخصوصیت کا اعلانیہ ثبوت مل جاتا ہے۔ بپتسمہ اس چیز کی علامت ہے کہ پانی میں بپتسمہ لینے والے شخص نے یہوواہ خدا کے لیے یسوع مسیح کے وسیلے غیرمشروط مخصوصیت کی ہے۔ (مقابلہ کریں متی ۱۶:۲۴۔) بپتسمہ پانے والا شخص جب پانی میں دفن ہوتا اور پھر اوپر آتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے پرانے چالچلن کے سلسلے میں علامتی طور پر مر جاتا ہے اور ایک نئی طرز زندگی کیلئے زندہ ہوتا ہے تاکہ اب غیرمشروط طور پرخدا کی مرضی پوری کرے۔ (مقابلہ کریں رومیوں ۶:۴-۶۔) جب یسوع کا بپتسمہ ہوا تو اس نے خود کو غیرمشروط طور پر اپنے آسمانی باپ کے حضور پیش کیا۔ (متی ۳:۱۳-۱۷) اور صحائف بار بار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ لائق ایمانداروں کو بپتسمہ لینا چاہیے۔ (اعمال ۸:۱۳، ۱۶:۲۷-۳۴، ۱۸:۸) اسلئے، آجکل یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک بننے کیلئے، ایک شخص کو ایسا ایماندار ہونے کی ضرورت ہے جو حقیقت میں ایمان کا اظہار کرتا ہے اور بپتسمہ لیتا ہے۔ مقابلہ کریں اعمال ۸:۲۶-۳۹۔
قائم رہیں!
۲۰. بائبل کی چند مثالیں کونسی ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتی ہیں کہ بپتسمہشدہ یہوواہ کے گواہوں کے طور پر ہم خداداد آزادی کیلئے ڈٹ جانے سے برکات حاصل کرینگے؟
۲۰ اگر آپ بپتسمہ کے ذریعے یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک بنتے ہوئے اپنی خداداد آزادی کے لئے ڈٹ گئے ہیں تو وہ اسی طرح سے آپ کو برکت دیگا جیسے اس نے ماضی میں اپنے خادموں کو دی تھی۔ مثال کے طور پر، خدا نے عمر رسیدہ ابرہام اور سارہ کو خدا ترس بیٹے، اضحاق ، سے نوازا۔ ایمان ہی سے موسی نے ”گناہ کا چند روزہ لطف اٹھانے کی نسبت“ خدا کے لوگوں کیساتھ بدسلوکی برداشت کرنا پسند کیا ”اور مسیح [کی قدیم مثل یا خدا کے ممسوح] کے لئے لعن طعن اٹھانے کو مصر کے خزانوں کی بڑی دولت سے زیادہ جانا کیونکہ اس کی نگاہ اجر پانے پر تھی۔“ (عبرانیوں ۱۱:۲۴-۲۶) موسیٰ کو یہ شرف حاصل تھا کہ یہوواہ نے اسے اسرائیلیوں کو مصر کی غلامی سے رہائی دلانے کے لئے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ، کیونکہ اس نے وفاداری سے خدا کی خدمت کی تھی، اسے مردوں میں سے زندہ کیا جائیگا اور وہ بڑے موسیٰ، یسوع مسیح کے تحت، ”تمام رو ئےزمین پر سرداروں“ میں سے ایک کے طور پر خدمت کریگا۔ زبور ۴۵:۱۶، استثنا ۱۸:۱۷-۱۹۔
۲۱. قدیم وقتوں کی خداپرست عورتوں کی بابت کونسی حوصلہافزا مثالیں دی گئی ہیں؟
۲۱ آجکل مخصوصشدہ مسیحی ان عورتوں پر غور کرنے سے بھی حوصلہ پا سکتے ہیں جو حقیقت میں آزاد اور شادمان ہوئیں۔ ان میں سے ایک موآبی روت تھی، جسے بیوگی کے درد اور جھوٹے مذہب سے خداداد آزادی کے لطف دونوں ہی کا تجربہ حاصل ہوا۔ اپنے لوگوں اور اپنے دیوتاؤں کو چھوڑتے ہوئے، وہ اپنی بیوہ ساس، نعومی کے ساتھ چمٹی رہی۔ روت نے کہا: ”جہاں تو جائے گی میں جاؤں گی اور جہاں تو رہے گی میں رہوں گی۔ تیرے لوگ میرے لوگ اور تیرا خدا میرا خدا ہوگا۔“ (روت ۱:۱۶) بوعز کی بیوی کے طور پر، روت داؤد کے دادا عوبید کی ماں بنی۔ (روت ۴:۱۳-۱۷) خدا نے اس غیراسرائیلی فروتن عورت کو مسیحا یسوع کی ایک امالاسلاف بننے کی اجازت دیتے ہوئے ”پورا اجر“ بخشا! (روت ۲:۱۲) روت اس وقت کتنی خوش ہوگی جب وہ مردوں میں سے قیامت پائے گی اور یہ جان لے گی کہ اسے اتنا بڑا شرف ملا ہے! اسی طرح کی خوشی زندہ ہونے والی ماضی کی کسبی راہب کو بھی حاصل ہوگی، جسے بداخلاقی اور جھوٹی پرستش سے آزادی حاصل ہوئی تھی، اور اس کے ساتھ ساتھ گنہگار لیکن تائب بتسبع کو بھی، کیونکہ وہ بھی یہ جان جائیں گی کہ یہوواہ نے انہیں یسوع مسیح کی ایک امالااسلاف بننے کی اجازت دی ہے۔ متی ۱:۱-۶، ۱۶۔
۲۲. اگلے مضمون میں کس چیز پر گفتگو کی جائے گی؟
۲۲ خداداد آزادی حاصل کرنے والوں پر غور کرنے کا سلسلہ بہت طویل ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، ان کی تعداد میں ایسے ایماندار مرد اور عورتیں شامل ہیں جن کا ذکر عبرانیوں ۱۱ باب میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے مصیبت اور بدسلوکی کو برداشت کیا، اور ”دنیا ان کے لائق نہ تھی۔“ اس وقت سے لیکر، ان کی فہرست میں پہلی صدی کے مسیح کے وفادار پیروکار اور دوسرے وفادار اشخاص کے علاوہ ان لاکھوں لوگوں کا شمار بھی ہے جو اب یہوواہ کے گواہوں کے طور پر اس کی خدمت کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم آگے دیکھیں گے، اگر آپ ان کے ساتھ مل کر خداداد آزادی کے لئے ڈٹ گئے ہیں تو آپ کے پاس خوش ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ (۱۳ ۳/۱۵ w۹۲)
آپ کیسے جواب دیں گے؟
▫ جب خداداد آزادی کو کھو دیا گیا تو خدا نے کونسی امید پیش کی؟
▫ مسیح نے اپنے پیروکاروں کو کونسے ”غلامی کے جو ئے“ سے رہائی دلائی؟
▫ بطور یہوواہ کے گواہ کے بپتسمہ لینے سے پہلے کونسے اقدام اٹھانا ضروری ہے؟
▫ کونسی صحیفائی مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہم خداداد آزادی کیلئے ڈٹ جانے سے برکات حاصل کرینگے؟
[تصویر]
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک کے طور پر بپتسمہ پانے سے پہلے کونسے اقدام ہیں؟