یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏8 ص.‏ 15-‏20
  • ‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • روح‌القدس سے بپتسمہ‌یافتہ
  • ‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏ بپتسمہ‌یافتہ
  • روح کے پھل
  • روح القدس سے مقررشدہ
  • روح سے ہدایت حاصل کریں
  • روح اور منادی کا کام
  • اپنے بپتسمے کے مطابق زندگی گزارنا
  • رُوح کے موافق چلنے اور خود کو یہوواہ کے لئے وقف کرنے میں تعلق
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • پاک روح کی رہنمائی —‏رسولوں کے زمانے سے لے کر آج تک
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • یہوواہ کی روح‌القدس کی بخشش
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • یہوواہ کی روح اسکے لوگوں کی راہنمائی کرتی ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏8 ص.‏ 15-‏20

‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏

‏”‏پس تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور انکو .‏ .‏ .‏ روح‌القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔“‏ متی ۲۸:‏۱۹‏۔‏

۱.‏ روح‌القدس کے سلسلے میں یوحنا اصطباغی نے کونسی نئی اصطلا‌ح استعمال کی؟‏

ہمارے سن عام کے سن ۲۹ میں یوحنا اصطباغی اسرائیل میں مسیحا کی راہ تیار کرنے کیلئے سرگرم تھا اور اپنی خدمتگزاری کے دوران، اس نے روح‌القدس کی بابت کسی نئی بات کا اعلان کیا۔ عبرانی صحائف نے روح کی بابت جو کچھ بتایا تھا، بیشک یہودی اس سے پہلے ہی واقف تھے۔ جب یوحنا نے کہا:‏ ”‏میں تو تمکو توبہ کیلئے پانی سے بپتسمہ دیتا ہوں لیکن جو میرے بعد آتا ہے .‏ .‏ .‏ وہ تمکو روح‌القدس سے بپتسمہ دیگا۔“‏ (‏متی ۳:‏۱۱‏)‏ ”‏روح‌القدس سے بپتسمہ”‏ایک نیا اظہار تھا۔‏

۲.‏ روح‌القدس کے سلسلے میں یسوع نے کس نئے اظہار کو متعارف کرایا؟‏

۲ آنے والا یسوع تھا۔ دراصل اپنی زمینی زندگی کے دوران، یسوع نے کسی کو بھی روح‌القدس سے بپتسمہ نہ دیا، اگرچہ اس نے روح کے متعلق بہت مرتبہ کلام کیا۔ اسکے علاوہ، اپنی قیامت کے بعد، اس نے روح‌القدس کا ایک اور نئے طریقے سے بھی ذکر کیا۔ اس نے اپنے شاگردوں کو بتایا:‏ ”‏پس تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور انکو باپ اور بیٹے اور روح‌القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔“‏ (‏متی ۲۸:‏۱۹‏)‏ ”‏کے نام سے“‏ کے اظہار کا مطلب ہے ”‏کی قدرافزائی میں“‏۔ باپ، بیٹے اور روح‌القدس کی قدرافزائی میں پانی کے بپتسمے کو روح‌القدس کے بپتسمے سے مختلف ہونا تھا۔ روح‌القدس کے سلسلے میں یہ بھی ایک نیا اظہار تھا۔‏

روح‌القدس سے بپتسمہ‌یافتہ

۳، ۴.‏ (‏ا)‏روحالقدس سے ابتدائی بپتسمے کب ہوئے تھے؟ (‏ب)‏ ان کو بپتسمہ دینے کے علاوہ، ۳۳ س۔ ع۔ کے پینتکست پر روح‌القدس نے یسوع کے شاگردوں کے حق میں کیسے کام کیا؟‏

۳ جہاں تک روح‌القدس سے بپتسمہ کا تعلق ہے، اپنے آسمان پر جانے سے تھوڑا پہلے یسوع نے اپنے شاگردوں سے وعدہ کیا تھا:‏ ”‏تم تھوڑے دنوں کے بعد روح‌القدس سے بپتسمہ پاؤگے۔“‏ (‏اعمال ۱:‏۵،‏ ۸‏)‏ اس کے تھوڑی ہی دیر بعد وہ وعدہ پورا ہو گیا تھا۔ جب یسوع نے آسمان سے روح‌القدس سے پہلے بپتسموں کو انجام دیا تو یروشلیم کے ایک بالاخانے میں جمع کوئی ۱۲۰ شاگردوں پر روح‌القدس نازل ہوئی۔ (‏اعمال ۲:‏۱-‏۴،‏۳۳‏)‏ کس نتیجے کے ساتھ ؟ شاگرد مسیح کے روحانی بدن کا ایک حصہ بن گئے۔ جیسے‌کہ پولس رسول وضاحت کرتا ہے، انہوں نے ”‏ایک ہی روح کے وسیلہ سے ایک بدن ہونے کے لئے بپتسمہ لیا۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۲:‏۱۳‏)‏ اس کے ساتھ ہی ساتھ ان کو خدا کی آسمانی بادشاہت میں مستقبل کے بادشاہ اور کاہن ہونے کے لئے مسح کر دیا گیا تھا۔ (‏افسیوں ۱:‏۱۳، ۱۴،‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۲،‏ مکاشفہ ۲۰:‏۶‏)‏ روح‌القدس نے مستقبل کی اس پرشکوہ میراث کے نشان اور مہر کے طور پر بھی کام انجام دیا، لیکن یہاں پر ہی معاملہ ختم نہیں ہو گیا تھا۔ ۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

۴ چند سال پہلے یسوع نیکدیمس کو بتا چکا تھا:‏ ”‏جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔ .‏ .‏ .‏ جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔“‏ (‏یوحنا ۳:‏۳،‏ ۵‏)‏ اب ۱۲۰ انسان نئے سرے پیدا ہو چکے تھے۔ روح‌القدس کے ذریعے سے انہیں خدا کے روحانی فرزندوں، مسیح کے بھائیوں کے طور پر لے‌پالک بنا لیا گیا تھا۔ (‏یوحنا ۱:‏۱۱-‏۱۳،‏ رومیوں ۸:‏۱۵،۱۴‏)‏ ان کے سلسلے میں روح‌القدس کی یہ تمام کارگزاریاں معجزوں سے کہیں زیادہ شاندار تھیں۔ اسکے علاوہ، یک وقتی معجزات کے برعکس، روح‌القدس نے رسولوں کی وفات کے بعد کام کرنا بند نہیں کیا بلکہ ہمارے زمانے تک سرگرم‌عمل رہی ہے۔ یہوواہ کے گواہوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ روح سے بپتسمہ‌یافتہ مسیح کے بدن کے اعضاؤں میں سے آخری کو اپنے درمیان رکھتے ہیں، اور یہ روحانی خوراک کو بروقت فراہم کرنے کیلئے ”‏دیانتدار اور عقلمند خادم“‏ کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔ متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏۔‏

‏”‏روح‌القدس کے نام سے“‏ بپتسمہ‌یافتہ

۵، ۶.‏ روحالقدس سے ابتدائی بپتسمے پانی کے بپتسموں کا سبب کیسے بنے؟‏

۵ لیکن باپ، بیٹے، اور روح‌القدس کے نام میں پانی کے بپتسمے کی بابت کئے گئے وعدے کا کیا ہو؟ وہ پہلے شاگرد جنہوں نے روح کا بپتسمہ پایا تھا ان کو اس طرح کا پانی کا بپتسمہ نہیں لینا پڑا تھا۔ وہ پہلے ہی سے یوحنا کا پانی کا بپتسمہ پا چکے تھے، اور چونکہ اس خاص وقت پر یہوواہ کو وہ بپتسمہ قابل‌قبول تھا، اسلئے ان کو دوبارہ بپتسمہ پانے کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر ۳۳ س۔ع۔ کے پینتکست پر، لوگوں کے ایک بڑے مجمع نے پانی کا نیا بپتسمہ حاصل کیا۔ یہ کیسے واقع ہوا؟‏

۶ روح‌القدس میں ۱۲۰ کے بپتسمے کیساتھ زور کا شور بھی تھا جس نے بڑے ہجوم کو راغب کیا۔ وہ رسولوں کو زبانوں میں، یعنی غیر زبانوں میں کلام کرتے ہوئے سنکر حیران تھے، جنکو وہاں پر حاضرین نے سمجھ لیا۔ پطرس رسول نے وضاحت کی کہ یہ معجزہ اس چیز کی شہادت تھی کہ یسوع کے ذریعے خدا کی روح کو انڈیلا گیا تھا، جو مردوں میں سے زندہ کیا جا چکا تھا اور آسمان میں خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھا تھا۔ پطرس نے اپنے سامعین کی حوصلہ‌افزائی کی:‏ ”‏پس اسرائیل کا سارا گھرانا یقین جان لے کہ خدا نے اسی یسوع کو جسے تم نے مصلوب کیا خداوند بھی کیا اور مسیح بھی۔“‏ پھر اس نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا:‏ ”‏توبہ کرو اور تم میں سے ہرایک اپنے گناہوں کی معافی کیلئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے تو تم روح‌القدس انعام میں پاؤگے۔“‏ کوئی ۳،۰۰۰ اشخاص نے جوابی‌عمل دکھایا۔ اعمال ۲:‏۳۶،‏ ۳۸،‏ ۴۱‏۔‏

۷.‏ ۳۳ س۔ع۔ کے پینتکست پر ۳،۰۰۰ بپتسمہ پانے والوں کا باپ، بیٹے، اور روح‌القدس کے نام سے بپتسمہ کسطرح ہوا تھا؟‏

۷ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے باپ، بیٹے، اور روح‌القدس کے نام سے (‏ کی قدرافزائی میں)‏ بپتسمہ لیا تھا؟ جی‌ہاں۔ اگرچہ پطرس نے انہیں باپ کے نام سے بپتسمہ لینے کیلئے تو نہیں کہا، وہ یہوواہ کو پہلے ہی حاکم اعلی تسلیم کرتے تھے، چونکہ وہ پیدایشی یہودی تھے، ایک ایسی قوم کے رکن جو اسکے لئے مخصوص تھی۔ پطرس نے یہ ضرور کہا:‏ ”‏بیٹے کے نام سے بپتسمہ لو۔“‏ اسلئے انکے بپتسمے نے انکی طرف سے یسوع کو مسیح اور خداوند تسلیم کرنے کا اشارہ دیا۔ وہ اب اسکے شاگرد تھے اور انہوں نے تسلیم کر لیا تھا کہ گناہوں کی معافی اب سے اسکے ذریعے سے تھی۔ آخرکار، بپتسمہ روح‌القدس کی قدرافزائی میں تھا، اور یہ اس وعدے کو عملی‌جامہ پہنانے کے جواب میں تھا کہ وہ روح‌القدس انعام میں پائینگے۔‏

۸.‏ (‏ا)‏پانی کے بپتسمے کے علاوہ، ممسوح مسیحیوں نے اور کونسا بپتسمہ پایا ہے؟ (‏ب)‏ ۱۴۴،۰۰۰ کے علاوہ اور کون روح‌القدس کے نام سے پانی کا بپتسمہ پاتے ہیں؟‏

۸ جنہوں نے ۳۳ س۔ع۔ میں پینتکست کے دن پانی میں بپتسمہ لیا، انہوں نے آسمان کی بادشاہت میں مستقبل کے بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر مسح ہوتے ہوئے، روح کا بپتسمہ بھی پایا۔ مکاشفہ کی کتاب کے مطابق یہ صرف ۱۴۴،۰۰۰ ہیں۔ اسلئے روح‌القدس سے بپتسمہ پانے والوں اور بادشاہتی وارثوں کے طور پر ”‏مہر“‏ حاصل کرنے والوں کی حتمی تعداد ۱۴۴،۰۰۰ ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۴،‏ ۱۴:‏۱‏)‏ بہر حال، تمام نئے شاگردوں کو خواہ ان کی امید کوئی بھی ہو باپ، بیٹے، اور روح‌القدس کے نام سے پانی میں بپتسمہ دیا جاتا ہے۔ (‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰‏)‏ پس تمام مسیحیوں کے لئے روح‌القدس کے نام سے بپتسمہ، کیا مفہوم رکھتا ہے، خواہ وہ ”‏چھوٹے گلے“‏ میں سے ہوں یا ”‏دوسری بھیڑوں“‏ میں سے؟ (‏لوقا ۱۲:‏۳۲،‏ یوحنا ۱۰:‏۱۶‏)‏ اس کا جواب دینے سے پہلے آئیے ہم مسیحی دور میں روح کے بعض کاموں پر غور کریں۔‏

روح کے پھل

۹.‏ تمام مسیحیوں کیلئے روح‌القدس کی کونسی کارگزاری اہم ہے؟‏

۹ روح‌القدس کا ایک اہم کام مسیحی شخصیات کو ترقی دینے میں ہماری مدد کرنا ہے۔ درست ہے کہ ناکاملیت کی وجہ سے ہم گناہ کرنے سے بچ نہیں سکتے۔ (‏رومیوں ۷:‏۲۱-‏۲۳‏)‏ لیکن جب ہم خالص نیت سے توبہ کرتے ہیں، تو یہوواہ ہمیں مسیح کی قربانی کی بنیاد پر معاف کرتا ہے۔ (‏متی ۱۲:‏۳۱، ۳۲،‏ رومیوں ۷:‏۲۴، ۲۵،‏ ۱-‏یوحنا ۲:‏۱، ۲‏)‏ اسکے علاوہ، یہوواہ ہم سے توقع کرتا ہے کہ گناہ کیلئے اپنی رغبت کے خلاف سخت جدوجہد کریں، اور روح‌القدس ایسا کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ ”‏روح کے موافق چلو،“‏ پولس نے کہا، ”‏تو جسم کی خواہش کو ہرگز پورا نہ کروگے۔“‏ (‏گلتیوں ۵:‏۱۶‏)‏ پولس آگے ظاہر کرتا ہے کہ روح ہمارے اندر اعلی‌ترین صفات پیدا کر سکتی ہے۔ اس نے لکھا:‏ ”‏روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمان، حلم، ضبط نفس ہے۔“‏ گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏، NW۔‏

۱۰.‏ ایک مسیحی میں روح کے پھل کیسے پیدا ہوتے ہیں؟‏

۱۰ روح ایک مسیحی میں ایسے پھل کو کیسے ممکن بناتی ہے؟ خودبخود ایسے واقع نہیں ہوتا صرف اسلئے کہ ہم مخصوص‌شدہ اور بپتسمہ‌یافتہ مسیحی ہیں۔ ہمیں اسکے لئے محنت کرنا پڑتی ہے۔ لیکن اگر ہم ان دوسروں مسیحیوں کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں جو ان صفات کو ظاہر کرتے ہیں، اگر ہم خدا سے اسکی روح کیلئے دعا کرتے ہیں تاکہ مخصوص صفات کو ترقی دینے کیلئے ہماری مدد کرے، اگر ہم بری صحبتوں سے بچتے ہیں اور مشورت اور اچھے نمونوں کیلئے بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں، تو پھر روح کا پھل ہمارے اندر ترقی پائیگا۔ امثال ۱۳:‏۲۰،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳،‏ گلتیوں ۵:‏۲۴-‏۲۶،‏ عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

روح القدس سے مقررشدہ

۱۱.‏ بزرگ کس طریقے سے روح‌القدس سے مقرر ہوتے ہیں؟‏

۱۱ افسس کے بزرگوں سے بات‌چیت کرتے وقت پولس نے روح‌القدس کی ایک اور کارگزاری کو متعارف کرایا تھا جب اس نے کہا:‏ ”‏پس اپنی اور اس سارے گلہ کی خبرداری کرو جسکا روح‌القدس نے تمہیں نگہبان ٹھہرایا تاکہ خدا کی کلیسیا کی گلہ‌بانی کرو جسے اس نے خاص اپنے [‏بیٹے کے]‏ خون سے مول لیا۔ (‏اعمال ۲۰:‏۲۸‏)‏ جی‌ہاں، کلیسیائی نگہبان، یا بزرگ روح‌القدس کے ذریعے مقرر ہوتے ہیں۔ کس طریقے سے؟ اسطرح سے کہ مقررشدہ بزرگوں کو الہامی بائبل میں بیان‌کردہ لیاقتوں پر پورا اترنا چاہیے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۱۳،‏ ططس ۱:‏۵-‏۹‏)‏ وہ ان لیاقتوں کو روح‌القدس کی مدد ہی سے پیدا کر سکتے ہیں۔ علاوہ‌ازیں، بزرگوں کی جماعت جو ایک نئے بزرگ کی سفارش کرتی ہے، وہ یہ دیکھنے کیلئے روح‌القدس کی ہدایت کیلئے دعا کرتی ہے کہ آیا وہ ان لیاقتوں پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اور اصل تقرری روح سے مسح‌شدہ دیانتدار اور عقلمند خادم کی زیرنگرانی کی جاتی ہے۔‏

روح سے ہدایت حاصل کریں

۱۲.‏ روح ہم پر بائبل کے ذریعے کس طرح اثر کر سکتی ہے؟‏

۱۲ مسیحی تسلیم کرتے ہیں کہ پاک صحیفے روح‌القدس کے زیراثر لکھے گئے تھے۔ لہذا وہ روح سے تحریک یافتہ حکمت کیلئے تحقیقات کرتے ہیں جیسے مسیحیوں سے پہلے کے گواہوں نے کی تھی۔ (‏امثال ۲:‏۱-‏۹‏)‏ وہ انہیں پڑھتے ہیں، ان پر غوروفکر کرتے ہیں، اور انہیں اپنی زندگیوں کی راہنمائی ‎“کرنے دیتے ہیں۔ (‏زبور ۱:‏۱-‏۳،‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ یوں وہ روح کی مدد سے ”‏خدا کی تہ کی باتیں بھی دریافت“‏ کر لیتے ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۲:‏۱۰،‏ ۱۳،‏ ۳:‏۱۹‏)‏ اس طریقے سے خدا کے خادموں کی راہنمائی کرنا ہمارے زمانہ میں خدا کی روح کی ایک اہم کارگزاری ہے۔‏

۱۳، ۱۴.‏ کلیسیا میں مسائل سے نپٹنے کیلئے یسوع نے کس چیز کو استعمال کیا، اور آجکل وہ کسطرح ویسے ہی کرتا ہے؟‏

۱۳ علاوہ‌ازیں، مکاشفہ کی کتاب میں، قیامت‌یافتہ یسوع نے ایشیا کوچک میں سات کلیسیاؤں کے نام پیغامات بھیجے۔ (‏مکاشفہ، ۲ اور ۳ ابواب)‏ ان میں اس نے آشکارا کیا کہ اس نے کلیسیاؤں کا معائنہ کیا ہے اور ان کی روحانی حالت کو دیکھ لیا ہے۔ اس نے دیکھا کہ بعض ایمان کا ایک اچھا نمونہ قائم کر رہی تھیں۔ جبکہ دوسری کلیسیاؤں میں بزرگوں نے فرقہ‌وارنیت، بداخلاقی، نیم‌گرم رویے کو اجازت دے رکھی تھی تاکہ گلے کو بگا‌ڑ دیں۔ سردیس میں ماسوائے چند وفادار اشخاص کے، کلیسیا روحانی طور پر مردہ تھی۔ (‏مکاشفہ ۳:‏۱،‏ ۴‏)‏ یسوع نے ان مسائل پر کیسے قابو پایا؟ روح‌القدس سے۔ سات کلیسیاؤں کو نصیحت کرتے وقت، ہر بار یسوع کا پیغام اس اظہار کے ساتھ ختم ہوا:‏ ”‏جس کے کان ہوں وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔“‏ مکاشفہ ۲:‏۷،‏ ۱۱،‏ ۱۷،‏ ۲۹،‏ ۳:‏۶،‏ ۱۳،‏ ۲۲‏۔‏

۱۴ آجکل بھی یسوع کلیسیاؤں کا معائنہ کرتا ہے۔ اور جب وہ مسائل کو دیکھتا ہے، تو اب بھی وہ ان پر روح‌القدس کے ذریعے ہی قابو پاتا ہے۔ روح مسائل کو سمجھنے اور ان پر قابو پانے کے لئے براہراست ہماری بائبل پڑھائی کے ذریعے سے ہماری مدد کر سکتی ہے۔ مدد روح سے مسح‌شدہ دیانتدار اور عقلمند خادم کے ذریعے شائع کئے گئے لٹریچر کے ذریعے بھی آ سکتی ہے۔ یا یہ کلیسیا میں روح سے مقررشدہ بزرگوں سے آ سکتی ہے۔ معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، چاہے نصیحت اشخاص کے لئے ہو یا پوری کلیسیا کے لئے ہو، کیا ہم یسوع کے الفاظ کو سنتے ہیں:‏ ”‏جس کے کان ہوں وہ سنے کہ روح کلیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔“‏

روح اور منادی کا کام

۱۵.‏ منادی کرنے کے کام کے سلسلے میں روح نے یسوع کیلئے کیا کام کیا؟‏

۱۵ ایک موقع پر جب یسوع نے ناصرت کے ایک عبادت‌خانے میں منادی کی تو اس نے روح کی ایک اور کارگزاری کا بھی ذکر کیا۔ ریکارڈ ہمیں‌بتا تا ہے:‏ ”‏کتاب کھول کر اس نے وہ مقام نکالا جہاں یہ لکھا تھا کہ [‏یہوواہ کی روح]‏ مجھ پر ہے۔ اسلئے کہ اس نے مجھے غریبوں کو خوشخبری دینے کیلئے مسح کیا۔ اس نے مجھے بھیجا کہ قیدیوں کو رہائی اور اندھوں بینائی پانے کی خبر سناؤں۔ کچلے ہوؤں کو آزاد کروں۔ پھر وہ ان سے کہنے لگا کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سامنے پورا ہوا۔“‏ (‏لوقا ۴:‏۱۷، ۱۸،‏ ۲۱،‏ یسعیاہ ۶۱:‏ ۱، ۲‏)‏ جی‌ہاں، یسوع کو روح‌القدس کے ذریعے خوشخبری کی منادی کرنے کیلئے مسح کیا گیا تھا۔‏

۱۶.‏ پہلی صدی میں خوشخبری کی منادی کرنے میں روح‌القدس کسطرح گہرا واسطہ رکھتی تھی؟‏

۱۶ اپنی موت سے تھوڑا پہلے، یسوع نے اپنے پیروکاروں کے ذریعے منادی کے ایک شاندار منظم کام کے انجام دئے جانے کی پیشینگوئی کی تھی۔ اس نے کہا:‏ ”‏ضرور ہے کہ پہلے سب قوموں میں انجیل کی منادی کی جا ئے۔“‏ (‏مرقس ۱۳:‏۱۰‏)‏ ان الفاظ کی ابتدائی تکمیل پہلی صدی میں ہوئی، اور روح‌القدس کے ذریعے اداکردہ کردار قابل‌توجہ تھا۔ یہ روح‌القدس ہی تھی جس نے فلپس کو حبشی خوجہ کو منادی کرنے کیلئے ہدایت دی تھی۔ روح‌القدس نے کرنیلیس کیلئے پطرس کو ہدایت دی، اور روح‌القدس نے ہدایت دی کہ پولس اور برنباس کو انطاکیہ سے رسولوں کے طور پر بھیجا جائے۔ بعد میں جب پولس آسیہ اور بتونیہ میں منادی کرنا چاہتا تھا تو روح‌القدس نے کسی طریقے سے اسکو منع کر دیا۔ خدا گواہی دینے کے کام کو یورپ تک لے جانا چاہتا تھا۔ اعمال ۸:‏۲۹،‏ ۱۰:‏۱۹،‏ ۱۳:‏۲،‏ ۱۶:‏۶، ۷‏۔‏

۱۷.‏ آجکل منادی کے کام سے روح‌القدس کا گہرا واسطہ کسطرح ہے؟‏

۱۷ آجکل بھی روح‌القدس منادی کرنے کے کام میں شدت سے سرگرم ہے۔ یسعیاہ ۶۱:‏۱، ۲ کی اضافی تکمیل میں، یہوواہ کی روح نے منادی کرنے کیلئے یسوع کے بھائیوں کو مسح کیا ہے۔ مرقس ۱۳:‏۱۰ کی آخری تکمیل میں، ان ممسوح لوگوں نے بڑی بھیڑ کی مدد سے خوشخبری کی منادی واقعی ”‏سب قوموں“‏ میں کر دی ہے۔ (‏مکاشفہ ۷:‏۹‏)‏ اور روح اس کام میں سب کی حمایت کرتی ہے۔ پہلی صدی کی طرح، یہ نئے علاقے کھولتی ہے اور کام کی عمومی ترقی کی راہنمائی کرتی ہے۔ یہ لوگوں کو مستحکم کرتی ہے، کم‌ہمتی پر قابو پانے میں اور تعلیم دینے کی اپنی مہارتوں کو بڑھانے میں انکی مدد کرتی ہے۔ اسکے علاوہ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا:‏ ”‏تم میرے سبب سے حاکموں اور بادشاہوں کے سامنے حاضر کئے جاؤگے تاکہ انکے اور غیر قوموں کیلئے گواہی ہو۔ لیکن جب وہ تمکو پکڑوائیں تو فکر نہ کرنا کہ ہم کس طرح کہیں یا کیا کہیں .‏ .‏ .‏ کیونکہ بولنے والے تم نہیں بلکہ تمہارے باپ [‏کی]‏ روح ہے جو تم میں [‏بولتی]‏ ہے۔“‏ متی ۱۰:‏۱۸-‏۲۰‏۔‏

۱۸، ۱۹.‏ ”‏آب حیات مفت لینے“‏ کیلئے روح کس طریقے سے حلیمدل اشخاص کو دعوت دینے میں دلہن کے ساتھ شامل ہے؟‏

۱۸ مکاشفہ کی کتاب میں، بائبل پھر منادی کے کام میں روح‌القدس کی وابستگی پر زور دیتی ہے۔ اس سلسلے میں یوحنا رسول بیان کرتا ہے:‏ ”‏اور روح اور دلہن کہتی ہیں آ اور سننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آب حیات مفت لے۔“‏ (‏مکاشفہ ۲۲:‏۱۷‏)‏ ۱۴۴،۰۰۰ کے بقیے میں سے جو ابھی تک زمین پر ہیں، دلہن کی نمائندگی کرتے ہوئے آب حیات مفت لینے کیلئے سب کو دعوت دیتے ہیں۔ لیکن غور کریں، روح‌القدس بھی کہتی ہے کہ ”‏آ!“‏ کس لحاظ سے؟‏

۱۹ پیغام جس کی منادی دلہن جماعت کے ذریعے ہو رہی ہے جنکی مدد آجکل دوسری بھیڑوں کی بڑی بھیڑ کے ذریعے ہوتی ہے بائبل سے ہے، جو براہراست روح‌القدس کے زیراثر لکھی گئی تھی۔ اور اسی روح نے الہامی کلام کو سمجھنے اور اسکی دوسروں پر وضاحت کرنے میں دلہن جماعت کے دلوں اور ذہنوں کو کھول دیا ہے۔ وہ جو یسوع مسیح کے نئے شاگردوں کے طور پر بپتسمہ لیتے ہیں آب حیات مفت لینے کیلئے خوش ہوتے ہیں۔ اور وہ بھی دوسروں کو روح اور دلہن کے ساتھ ”‏آ!“‏ کہنے میں تعاون کرنے کیلئے جوش پاتے ہیں۔ آجکل چار ملئین سے زائد روح کیساتھ اس کام میں شریک ہیں۔‏

اپنے بپتسمے کے مطابق زندگی گزارنا

۲۰، ۲۱.‏ روح‌القدس کے نام سے اپنے بپتسمے کے مطابق ہم کس طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، اور ہمیں اس بپتسمے کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟‏

۲۰ روح‌القدس کے نام سے بپتسمہ لینا ایک اعلانیہ اظہار ہے کہ ہم روح‌القدس کی قدرافزائی کرتے ہیں اور یہوواہ کے مقاصد میں جو کردار یہ ادا کرتی ہے اسے تسلیم کرتے ہیں۔ یہ دلالت کرتی ہے کہ یہوواہ کے لوگوں میں اسکی سرگرمی کو روکنے والا کوئی بھی کام نہ کرنے سے ہم اسکا ساتھ دیں گے۔ یوں ہم دیانتدار اور عقلمند خادم کو تسلیم کرتے اور اسکے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ ہم کلیسیا میں بزرگوں کے انتظام کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ (‏عبرانیوں ۱۳:‏۷،‏ ۱۷،‏ ۱-‏پطرس ۵:‏۱-‏۴‏)‏ ہم جسمانی نہیں، بلکہ روحانی عقل سے زندگی بسر کرتے ہیں اور روح کو اپنی شخصیت کو ڈھالنے، اور زیادہ مسیح جیسی بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔ (‏رومیوں ۱۳:‏۱۴‏)‏ اور ان لاکھوں لوگوں سے ”‏آ!“‏ کہنے میں ہم پورے دل سے روح اور دلہن کے ساتھ شریک ہو جاتے ہیں جو ابھی تک جوابی عمل کر سکتے ہیں۔‏

۲۱ ”‏روح‌القدس کے نام سے“‏ بپتسمہ لینا کتنی سنجیدہ بات ہے! تاہم، کتنی برکات مل سکتی ہیں! دعا ہے کہ جو اسطرح سے بپتسمہ لیتے ہیں انکی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے۔ اور دعا ہے کہ جب ہم یہوواہ کے لئے خدمت کرتے اور ”‏روحانی جوش میں بھرے رہتے ہیں”‏تو ہم سب اس بپتسمے کے مطلب کے مطابق زندگی بسر کرتے رہیں۔ رومیوں ۱۲:‏۱۱‏۔ (‏۱۳ ۲/۱ w۹۲)‏

روح‌القدس کی بابت آپکو کیا یاد ہے؟‏

▫ ۳۳ س۔ع۔ کے پینتکست پر روح‌القدس کن طریقوں سے سرگرم‌عمل تھی؟‏

▫ ہم کسطرح روح کے پھل پیدا کر سکتے ہیں؟‏

▫ بزرگ کس طریقے سے روح‌القدس کے ذریعے مقرر ہوتے ہیں؟‏

▫ یسوع روح‌القدس کے ذریعے سے کسطرح کلیسیا میں مسائل پر قابو پاتا ہے؟‏

▫ منادی کے کام سے روح کا گہرا واسطہ کس طرح ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

جس بپتسمے کی منادی پطرس نے کی تھی وہ باپ اور روح‌القدس کے نام سے بھی تھا

‏[‏تصویر]‏

خوشخبری کی منادی سے روح کا گہرا واسطہ ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں