یہوواہ کے لئے محبت سچی پرستش کو تحریک دیتی ہے
”اور خدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اس کے حکموں پر عمل کریں۔“ ۱-یوحنا ۵:۳۔
۱، ۲. ہمیں کس محرک کے ساتھ یہوواہ کی خدمت کرنی چاہئے؟
کوئی ۸۰ ملاقاتیوں پر مشتمل جاپان سے ایک گروپ کیلیفورنیا یو۔ایس۔ اے۔ میں یہوواہ کے گواہوں کے اسمبلی ہال کا دورہ کر رہا تھا۔ خوشنما ماحول نے، بشمول ایک مکمل باغ کے جس میں نیلکنٹھ ، فاختائیں، اور ہمنگ برڈ تھے، انہیں ان کے عظیم خالق یہوواہ خدا کی قربت کا اور زیادہ احساس دلایا۔ ان کے ٹور گائیڈ نے جلد ہی یہ جان لیا کہ گروپ کا تقریباً ہر شخص بطور پائنیر کے کلوقتی خدمت کر رہا تھا۔ پس، بعد میں، گروپ سے ایک سوال کیا گیا جو کہ اکثر پوچھا گیا ہے: ”جاپان میں اتنے زیادہ پائنیر کیوں ہیں؟“ ایک لمحے کیلئے بالکل سکوت سا طاری ہو گیا۔ اسکے بعد ایک جوان عورت نے جواب دیا: ”کیونکہ ہم یہوواہ سے محبت کرتے ہیں۔“
۲ یہوواہ کیلئے محبت کیسے یہ ہمیں اس کی خدمت میں سرگرم ہونے کیلئے اکساتی ہے! یہ سچ ہے کہ ہر کوئی پائنیر کا کام نہیں کر سکتا۔ بلاشبہ، ہمارے چالیس ملین سے زیادہ بادشاہتی پبلشروں میں سے اکثریت اس شرف کو کو حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوئی۔ لیکن بہتیرے جنکے حالات اسکی اجازت دیتے ہیں انہوں نے اسکو اپنایا ہے۔ ہم میں سے باقی بھی ”یہوواہ پر توکل اور نیکی“ کر سکتے ہیں، اور یوں شاگرد بنانے کے کام میں کچھ حصہ لے کر اپنی محبت کا اظہار کر سکتے ہیں۔ (زبور ۳۷:۳، ۴) اور یہوواہ کے تمام مخصوص شدہ پرستار انکی مشفقانہ حمایت کرنے سے جو پائنیرنگ کر رہے ہیں، پائنیر روح کو ترقی دینے میں شریک ہو سکتے ہیں۔ متی ۲۴:۱۴، ۲۸:۱۹۔
۳. یہوواہ کے گواہوں اور نامنہاد مسیحیوں کے درمیان کونسا قابلغور فرق دیکھا جا سکتا ہے؟
۳ بہتیرے نامنہاد مسیحیوں کے برعکس، جو کہ بڑی آسانی سے مذہب کو بطور اپنی زندگیوں کے محض ملحقات کے خیال کرتے ہیں، یہوواہ کے گواہ اپنے خدا کے لئے گہری محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں جو کہ انہیں ”پہلے بادشاہی اور اس کی راستبازی کی تلاش کر نے“ کی تحریک دیتی ہے۔ یہ سب قربانی کا تقاضا کرتا ہے، لیکن یہ قربانی کس قدر بیشقیمت ثابت ہوئی ہے! متی ۶:۳۳، ۱۶:۲۴) یہ پہلے بڑے حکم کی مطابقت میں ہے، جو کہ بنیادی طور پر موسیٰ کے ذریعے دیا گیا اور بعد میں یسوع مسیح نے اس کو دوہرایا: ”[یہوواہ] ہمارا خدا ایک ہی [یہوواہ] ہے اور تو [یہوواہ] اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھ ۔“ مرقس ۱۲:۲۹، ۳۰، استثنا ۶:۴، ۵۔
۴، ۵. کون وفادار خیال کیے جا سکتے ہیں، اور وفاداری کیسے دکھائی جا سکتی ہے؟
۴ یہوواہ کے گواہوں کے ہیڈکواٹر اسٹاف میں سے ایک نے حال ہی میں، واچ ٹاور سوسائٹی کے ۹۸ سالہ صدر ایف۔ ڈبلیو۔ فرانز سے جو کہ ۷۰ سال سے زیادہ عرصہ سے کلوقتی خدمت میں ہے یہ کہا: ”بھائی فرانز ”آپ وفاداری کا اچھا نمونہ رہے ہیں۔“ اور بھائی فرانز نے جواب دیا: جیہاں! آپکو وفادار رہنا ہی ہے۔“ یہ تمام بات چیت کا خلاصہ ہے۔ ہم بادشاہتی کارگزاری کے جس بھی میدان میں خدمت کر رہے ہوں، ہم وفادار ہو سکتے ہیں۔ ۱-کرنتھیوں ۴:۲، گلتیوں ۳:۹۔
۵ یہ سچ ہے کہ بہتیرے یہ چاہیں گے کہ یہوواہ کی خدمت میں اور زیادہ حصہ لے سکیں، لیکن صحیفائی ذمہداریاں یا صحت کے مسائل شاید انہیں کسی حد تک محدود کر دیں۔ تاہم، وہ جو پائنیر خدمت سرانجام دینے کے قابل نہیں، انہیں کم وفادار خیال نہیں کیا جا سکتا۔ بعض بہت سے مشکل حالات کے باوجود بھی کئی سالوں تک وفادار رہے ہیں۔ جیہاں، وہ وفادار ثابت ہوئے ہیں! انہوں نے یہوواہ کے لئے محبت ظاہر کی ہے اور اس کے تھیوکریٹک بندوبست کی حمایت میں ہیں۔ جیہاں، وہ وفادار ثابت ہوئے ہیں! انہوں نے یہوواہ کے لئے محبت ظاہر کی ہے اور اس کے تھیوکریٹک بندوبست کی حمایت میں انہوں نے پورے دلوجان سے مستعدی سے خدمت کی ہے۔ انہوں نے پائنیروں کی کارگزاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور امکانی پائنیروں کی حوصلہافزائی کی ہے، اکثر خود اپنے بچوں کی، تاکہ وہ پائنیرنگ کا کام کرنے کو اپنی زندگی میں ایک پیشے کے طور پر رکھیں جو کہ باقی تمام کاموں سے اعلیٰ ہے۔ مقابلہ کریں استثنا ۳۰:۱۹، ۲۰۔
۶، ۷. ۱-سموئیل ۳۰:۲۵-۱۶ میں درج واقعہ کا اطلاق آجکل کیسے ہوتا ہے؟
۶ آجکل خدا کے تمام لوگوں کے پرمحبت اتحادعمل کی مثال ۱-سموئیل ۳۰:۲۵-۱۶ کے واقعہ سے دی جا سکتی ہے۔ عمالیقیوں کے خلاف جنگ میں، ”داؤد رات کے پہلے پہر سے لیکر دوسرے دن کی شام تک انکو مارتا رہا“ اور بہت سا لوٹ کا مال حاصل کیا۔ خیمہ میں واپسی کے بعد، داؤد کے کچھ جنگی مردوں نے کہا کہ جو لوگ ان کیساتھ میدانجنگ میں نہیں گئے انہیں لوٹ کے مال میں سے کوئی حصہ نہ دیا جائے۔ لیکن داؤد نے جواب دیا: ”اس امر میں کون تمہاری مانیگا؟ کیونکہ جیسا اسکا حصہ ہے جو لڑائی میں جاتا ہے ویسا ہی اسکا حصہ ہوگا جو سامان کے پاس ٹھہرتا ہے۔ دونوں برابر کا حصہ پائینگے۔“
۷ یہی اصول آج بھی لاگو ہوتا ہے۔ پائنیر ہماری روحانی جنگ کی صفاول میں رہیں۔ لیکن کلیسیا کے دوسرے لوگ دلوجان سے ان کی وفادارانہ حمایت کرتے ہیں۔ اور ۱۹۹۱ کے دوران انکی اس متحدہ کارگزاری کے شاندار نتائج کی تصویرکشی ۱۹۹۲ ائیر بک میں کی گئی ہے۔
ایک نمایاں رپورٹ
۸. (ا)عالمی رپورٹ، کل پبلشر، اور یہوواہ کی خدمت میں ان کے صرفشدہ گھنٹے کیا آشکارا کرتے ہیں؟ (ب) رپورٹ میں پیش کیے جانے والے نئے ممالک کی بابت کونسے نکات آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں؟
۸ جیہاں، ۱۹۹۲ ائیر بک ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ کے پرجوش پرستاروں کی متحدہ کاوشیں ۱۹۹۱ کے دوران کیسے ایک خوشگوار عالمگیر توسیع کا باعث ہوئی ہیں۔ ۴،۲۷۸،۸۲۰ بادشاہتی پبلشروں کی ایک شاندار انتہائی تعداد ریکارڈ کی گئی ہے ۵.۶ فیصد اضافہ۔ انہوں نے ۰۲۱، ۸۷۰، ۹۵۱ گھنٹے (تقریباً ایک بلئین!) خدمت کے لئے صرف کئے۔ اور ان ممالک میں ہمارے بھائیوں کی نہایت شاندار کوششیں قابلغور ہیں جہاں پہلے کام پر پابندی تھی مگر اب عالمی رپورٹ میں ان کے نام شامل ہیں جیسے کہ بلغاریہ، کیمرون، چیکوسلواکیہ، ایتھوپیا، موزمبیق، نیکاراگوا، راوانڈا، اور یو۔ایس۔ایس۔آر۔
۹، ۱۰. پائینروں نے مشکل حالات کے چیلنج کا مقابلہ کیسے کیا ہے؟ (ب) پائینر خدمت میں داخل ہونے کے لئے کیا حوصلہافزائی کی گئی ہے؟
۹ حالیہ برسوں میں پائنیر روح پوری دنیا میں ترقی کر گئی ہے۔یہاں تک کہ جن ممالک میں حال ہی میں مذہبی آزادی دی گئی ہے، وہاں بھی پائنیروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشکل معاشی حالتیں بھی ان باعزم گواہوں کو خود کو یہوواہ کی پرستش کے لئے سب کچھ قربان کر دینے سے روک نہیں سکتیں۔ (مقابلہ کریں ۲-کرنتھیوں ۱۱:۲۳، ۲۷۔) ہر ماہ اوسطاً ۱۴ فیصد بادشاہتی پبلشر پائنیرنگ کرتے رہے۔ پائنیروں کی چوٹی کی تعداد ۷۸۰،۲۰۲ ہے، جو کہ تمام پبلشروں کا شاندار ۱۸ فیصد ہے۔
۱۰ ان خوشیوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے جس کا تجربہ پائنیروں کو ہوا ہے، دوسرے بھی اس خدمت کو کرنے کی حوصلہافزائی پاتے ہیں۔ اگر آپ ابھی تک پائنیر نہیں ہیں، تو کیا یہوواہ کے لئے محبت آپ کو یہ کہنے کی تحریک نہیں دیتی، جیسا کہ ہم یسعیاہ ۶:۸ میں پڑھتے ہیں، ”میں حاضر ہوں مجھے بھیج؟“ یا اپنے بائبل کے مستعد مطالعے کے ذریعہ، شاید خدا کا کلام آپ کے دل میں اس کی خواہش کو اس حد تک سلگا دے کہ اگلا قدم بس آپ کا اس خدمت میں داخل ہونا ہی ہو؟ مشکل کے وقت میں بھی، یہوواہ کے کلام نے یرمیاہ کو اس حد تک تحریک دی کہ وہ اس سے باز نہ رہ سکا۔ یرمیاہ ۲۰:۹۔
نوعانسان کی پرمحبت خدمت
۱۱. گھریلو بائبل مطالعوں کی کارگزاری میں کیسے ترقی ہوئی؟
۱۱ سالانہ رپورٹ کا ایک خصوصی پہلو مفت گھریلو بائبل مطالعوں کی تعداد میں اضافہ ہے، ۳،۹۴۷،۲۶۱ ہر ماہ باقاعدگی سے پوری دنیا میں کرائے جاتے ہیں۔ یہ ایک پرمحبت بندوبست ہے جس کے ذریعے یہوواہ کے گواہ اس دلچسپی کی پیروی کرتے ہیں جو کہ وہ اپنے علاقے میں گھر گھر کی منادی میں تلاش کرتے ہیں۔ اسی سرگرمی کے ساتھ کام کرتے ہوئے جس کا اظہار رسول پولس نے کیا، ہم ہر قوم اور نسل کے لوگوں کے ساتھ بائبل مطالعے کرکے خوش ہیں۔ ”اس کا یہودیوں اور یونانیوں کو بلاجھجک گواہی دینا“ بلاشبہ کئی گھنٹوں تک سچائی سکھانے کا تقاضا کرتا تھا۔ (اعمال ۲۰:۲۰، ۲۱) یہ آج بھی ایسا ہی ہے۔ یہوواہ کے گواہ ”سب آدمیوں کی نجات پانے اور سچائی کی پہچان تک پہنچنے“ میں مدد کر رہے ہیں۔ ۱-تیمتھیس ۲:۴۔
۱۲-۱۴. یورپ سے کونسی پرمسرت رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں؟
۱۲ مشرقی یورپ میں بائبل مطالعہ کی اضافی کارگزاری کی کیا ہی پرجوش رپورٹ! وہاں پر کئی دہوں تک ہمارے بھائیوں کو چھوٹے گروپوں میں ملنا پڑا، شاید سارے گروپ کے لئے کسی ایک پرانے واچ ٹاور کی نقلنویس مشین سے حاصلشدہ، ایک پرانی کاپی کے ساتھ ۔ لیکن اب ان ممالک میں بائبلوں اور بائبل لٹریچر کی افراط ہے۔ یہ کسی کو سلیمان کی غزلالغزلات ۲:۴، کنگ جیمز ورشن: کی یاد دلاتا ہے: ”وہ (یسوع مسیح) مجھے (روحانی) میخانہ کے اندر لایا اور اس کی محبت کا جھنڈا میرے اوپر تھا۔“ رسالوں کی اپنی ذاتی کاپیاں رکھتے ہوئے، بہتیرے ”حق کے کلام کو درستی“ کے ساتھ پیش کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ ۲-تیمتھیس ۲:۱۵۔
۱۳ سینٹ پیٹرز برگ روس میں، ۱۰۳ بپلشروں کی ایک کلیسیا نے حال ہی میں ۳۰۰ سے زائد گھریلو بائبل مطالعوں کی رپورٹ دی۔ بائبل مطالعہ کی اس کوشش کے نتیجہ میں، صرف آٹھ ماہ کے اندر اندر ۵۳ نئے گواہوں نے بپتسمہ لیا۔ آدھی سے زیادہ کلیسیا آٹھ ماہ یا اس سے بھی کم عرصہ سے سچائی میں ہے! اور ان کے پاس کوئی بزرگ بھی نہیں صرف ایک خدمتگزار خادم ہے جو کہ ان کی روحانی ترقی کی نگہداشت کرتا ہے۔
۱۴ ایستونیہ میں ایک بادشاہتی بپلشر سے اس کے بائبل مطالعے نے اجازت چاہی کہ آیا وہ اپنے چند دوستوں کو مطالعہ میں مدعو کر سکتی ہے۔ جب اگلے ہفتے گواہ اس گھر پر پہنچی تو اس نے ۵۰ لوگوں کو جمع پایا! بیشک ، اس تمام دلچسپی کی دیکھ بھال کرنے کے لئے خصوصی انتظامات درکار تھے۔
۱۵. میموریل کی حاضری اور بپتسموں کا بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟
۱۵ مطالعہ کرنے والوں کی اکثریت مسیحی رفاقت کا مزہ پہلی بار مسیح کی موت کی یادگار پر حاضر ہونے سے ہی اٹھاتی ہے۔ اس گذشتہ سال یہ حاضری پہلی بار ۰۰۰، ۰۰۰، ۱۰ سے آگے بڑھی، پوری دنیا میں ۲۰۷، ۶۶ کلیسیاؤں میں ۱۵۸، ۶۵۰، ۱۰ اس پرمسرت موقع پر حاضر تھے۔ لاطینی امریکہ، افریقہ ، اور مشرقی یورپ کے بیشمار ممالک میں، حاضری بادشاہتی بپلشروں کی تعداد سے تین یا چار گنا زیادہ تھی۔ اب ہمیں اس سال ۱۷ اپریل بروز جمعہ منعقدشدہ میموریل کے حاضرین کی مدد کیلئے تیاری کرنی چاہیے۔ امید کی جاتی ہے کہ جو بائبل طالبعلم میموریل پر حاضر ہوئے وہ بپتسمہ کی جانب بڑھیںگے ۔ جہاں تک بپتسموں کا تعلق ہے، ۱۹۹۱ میں ہم نے پھر سے یہ دیکھا کہ ۰۰۰، ۳۰۰ سے زائد نے پانی میں بپتسمہ لیکر یہوواہ کیلئے مخصوصیت کا اظہارکیا۔
محبان خدائی آزادی
۱۶. ”محبانآزادی“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں سے کونسی ہیجانخیز رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں؟
۱۶ ۱۹۹۱ کے خدمتی سال کا ایک قابلغور پہلو ”محبانآزادی“ ڈسٹرکٹ کنونشنوں کا سلسلہ رہا ہے، جو شمالی نصف کرہ میں مکمل ہو کر ۱۹۹۲ میں جنوبی نصف کرہ میں بھی جاری رہا۔ پہلی بار، کئی ایک مشرقی یورپی ممالک میں پورے کا پورا کنونشن پروگرام پیش کیا گیا، جہاں پر کہ ہمارے بھائی اپنی نئی حاصلکردہ آزادی کو یہوواہ کی حمد کرنے میں استعمال کرکے خوش ہو رہے ہیں۔ اکتوبر ۱۹۹۱ میں ۵۴ ممالک میں پہلی ۷۰۵ کنونشنوں پر ۹۳۷، ۷۷۴، ۴ کی کل حاضری کی رپورٹ دی گئی تھی۔
۱۷، ۱۸. (ا)یہوواہ کے پرستار کن آذادیوں سے لطفاندوز ہوتے ہیں اور وہ کن آزادیوں کی آرزو رکھتے ہیں؟ (ب) خدائیآزادی دنیاوی آزادیوں سے کیسے فرق ہے؟
۱۷ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا: ”سچائی تمہیں آزاد کریگی۔“ (یوحنا ۸:۳۲) آج، بائبل کی سچائی نے لاکھوں لوگوں کو دنیائے مسیحیت کے عقائد سے آزاد کیا ہے۔ ان لاکھوں لوگوں نے یہ جان لیا ہے کہ مسیح کی کفارے کی قربانی کا یہوواہ کا بندوبست بنیآدم کے لئے یہ ممکن بنائیگا کہ ”فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہوں۔“ (رومیوں ۸:۱۹-۲۲) یہ کیا ہی شاندار آزادی ہوگی ان مناسب حدود کے اندر فردوسی زمین پر ابد تک زندہ رہنا جن کا تعین پرمحبت طور پر یہوواہ کریگا! یسعیاہ ۲۵:۶-۸، مقابلہ کریں اعمال ۱۷:۲۴-۲۶۔
۱۸ آزادیاں جن سے یہوواہ کے گواہ اب لطفاندوز ہوتے ہیں، اور خدا کے نئے دستورالعمل میں اور زیادہ لطفاندوز ہونے کی توقع کرتے ہیں، وہ ہمارے خدا، یہوواہ کی طرف سے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۳:۱۷) وہ کسی بھی سیاسی یا انقلابی تحریک پر بھروسہ نہیں کرتے۔ (یعقوب ۱:۱۷) اس موقف کی بابت کسی بھی طرح کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے، ۱۹۹۱ کی کنونشن کے بلے تھے جنہیں مشرقی یورپ کے بعض ممالک میں یہوواہ کے گواہوں نے پہن رکھا تھا جن پر فقط ”محبان آزادی“ کی بجائے ”محبان خدائی آزادی“ لکھا ہوا تھا۔
یہوواہ کے لئے گہری محبت
۱۹. کیسے یہوواہ کیساتھ دعائیہ قربت ہمیں قائم رکھ سکتی ہے؟
۱۹ یہوواہ کے لئے ہماری محبت اور اس پر ہمارا بھروسہ دعا میں اس کے قریب جانے کا باعث ہوگا۔ یہ یہوواہ کیساتھ گہری قربت ہی تو ہے جس نے ہمارے بھائیوں کو بہتیری مشکلات اور اذیتیں برداشت کرنے میں مدد دی ہے۔ (زبور ۲۵:۱۴، ۱۵) اپنی کڑی آزمائش کے وقت، یسوع نے دعا کے ذریعہ اپنے باپ کیساتھ گہری قربت کو برقرار رکھا۔ (لوقا ۲۲:۳۹-۴۶) دعا کے ذریعہ یہوواہ کیساتھ ایسی قربت ہی نے ستفنس کو سنگسار کئے جانے کی تکلیف کو برداشت کرنے کے قابل بنایا۔ سنگسار کئے جانے سے تھوڑی دیر پہلے آسمان کا طرف غور سے نظر کرتے ہوئے، اس نے کہا: ”دیکھو! میں آسمان کو کھلا اور ابنآدم [یسوع] کو خدا کی دہنی طرف جا کھڑا دیکھتا ہوں۔“ اعمال ۷:۵۶۔
۲۰-۲۲. کیسے ایک تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا دعاؤں کو سنتا ہے؟
۲۰ جیسا کہ اکثر یہوواہ کے پرستاروں کو اس کا تجربہ ہوا ہے، یہوواہ ان کی ان دعاؤں کے جواب دیتا ہے جو اس کی مرضی کی مطابقت میں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک افریقی ملک میں جہاں پر کہ یہوواہ کے گواہوں کے کام پر پابندی ہے، ایک اسپیشل پائینر جو بس کے ذریعے شمال کی طرف سفر کر رہا تھا اس کے پاس لے جانے کے لئے بادشاہتی لٹریچر اور خطوط کا ایک بھاری تھیلا تھا۔ بس پر سامان رکھنے والے نوکر نے اس بھائی سے پوچھا: ”اس تھیلے میں کیا ہے؟“ بھائی نے کہا پہلی بات جو اس کے دماغ میں آئی وہ یہ تھی: ”ڈاک ۔“
۲۱ راستے میں بس معمول کے مطابق ایک روڈ چیک پوائنٹ کے پاس سے بغیر رکے گزر گئی، اور ٹریفک پولیس نے اس کا پیچھا کیا اور اسے روک لیا، اس خدشے کے ساتھ کہ وہ کوئی ممنوع مال لے کر جا رہی ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ تمام مسافر بس سے اتر جائیں اور یہ کہ سارے سامان کی تلاشی لی جائے۔ یہ ایک تشویشناک مرحلہ تھا! اس بھائی نے بڑبڑاتے ہجوم سے تھوڑا دور ہٹ کر، اپنے گھٹنوں پر جھک کر یہوواہ سے دعا کی۔ جب وہ واپس ہجوم میں شامل ہوا تو، ہر مسافر کے سامان کو کھولا اور بیحد احتیاط کے ساتھ اس کی تلاشی لی جا رہی تھی۔ جب بھائی کے تھیلے کے کھلنے کی باری آئی تو اس نے خاموشی سے یہوواہ سے مدد کے لئے درخواست کی۔
۲۲ ”یہ تھیلا کس کا ہے، اور اس میں کیا ہے؟“ پولیس مین زور سے چلایا۔ اس سے پیشتر کہ وہ بھائی اپنا منہ کھولتا، بس کا نوکر بول اٹھا اور کہا: ”یہ ڈاک ہے اس ڈاکخانے سے اس ڈاکخانے کیلئے۔“ افسر نے جواب دیا، ”بہت اچھا۔“ اس نے تھیلے کو اٹھایا اور اسے نوکر کے حوالہ کرتے ہوئے اسے حکم دیا، ”اسے سفر کے دوران دھیان سے کسی محفوظ جگہ پر رکھنا۔“ اسپیشل پائنیر دوبارہ اپنے گھٹنوں کے بل جھکا تاکہ دعا کے سننے والے کا شکریہ ادا کرے۔ زبور ۶۵:۲، امثال ۱۵:۲۹۔
۲۳. یہوواہ نے کس چیز کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن وہ کیوں بعضاوقات اذیت کو اپنا پورا کام کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
۲۳ تاہم، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہوواہ کے پرستار آفترساں واقعات سے بالکل آزاد ہیں۔ بعض حالتوں میں، بائبل وقتوں اور آج کے زمانے میں بھی، یہوواہ نے اس کا مظاہرہ کیا ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو بچا سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک راستی برقرار رکھنے کا مسئلہ ہے، وہ بسااوقات اذیت کو پوری طرح اپنا کام کرنے دیتا ہے۔ (مقابلہ کریں متی ۲۶:۳۹۔) اسکے علاوہ، یہوواہ خودبخود اپنے لوگوں کو حادثات، خانہجنگی، یا جرم سے نہیں بچا لیتا، اگرچہ بائبل پر مبنی عملی حکمت کا استعمال بڑا سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ (امثال ۲۲:۳، واعظ ۹:۱۱) بہرحال، ہم یہ اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ چاہے ہم مشکل حالات سے بچائے جائیں یا نہ، ہماری وفاداری بااجر ثابت ہوگی، اگر ضروری ہو تو قیامت پانے کے ذریعے ہی۔ متی ۱۰:۲۱، ۲۲، ۲۴:۱۳۔
۲۴. یہوواہ نے کونسی پرمحبت بخششیں فراہم کی ہیں، اور ہم اس کی محبت کا جواب کیسے دے سکتے ہیں؟
۲۴ یہوواہ کی پرمحبت بخششیں کیا ہی حیرانکن ہیں! بنیآدم کیلئے اس زمین اور اس پر کی ہر ایک چیز اسکی محبت کا ایک نمایاں اظہار ہے۔ (زبور ۱۰۴:۱، ۱۳-۱۶، ۱۱۵:۱۶) اور خدا کی اپنے بیٹے، یسوع مسیح، کی مشفقانہ بخشش، تاکہ وہ بنیآدم کیلئے گناہ اور موت کا کفارہ دے اس کی سب سے بڑی پرمحبت بخشش ہے۔ ”جو محبت خدا کو ہم سے ہے وہ اس سے ظاہر ہوئی کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اسکے سبب سے زندہ رہیں۔ محبت اس میں نہیں کہ ہم نے خدا سے محبت کی بلکہ اس میں ہے کہ اس نے ہم سے محبت کی اور ہمارے گناہوں کے کفارہ کیلئے اپنے بیٹے کو بھیجا۔“ (۱-یوحنا ۴:۹، ۱۰) اس محبت کے جواب میں، دعا ہے کہ ہم بھی یہ عہد کریں ”کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوع میں ہے اس سے ہم کو نہ موت جدا کر سکیگی نہ زندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ استقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اور مخلوق۔“ رومیوں ۸:۳۸، ۳۹۔ (۹ ۱/۱ w۹۲)
اس مضمون پر نظرثانی کرنا
▫ وفادار ہونے کا کیا مطلب ہے؟
▫ کارگزاری کے کونسے حلقوں میں ہم یہوواہ کے لئے محبت کا اظہار کر سکتے ہیں؟
▫ خدمتی سال کی رپورٹ کے کونسے پہلو آپ کو خاص طور پر دلچسپ لگے؟
▫ یہوواہ کی پرمحبت بخششوں کے لئے ہم کسطرح سے قدردانی دکھا سکتے ہیں؟
[بکس]
اتنے زیادہ پائنیر کیوں؟
رپورٹ کے مطابق، ۲،۶۰۰ سالوں تک جاپانی اپنے شہنشاہوں کے پرجوش پرستار رہے۔ صرف اس ۲۰ ویں صدی کی جنگوں ہی میں، تین ملئین سے زائد جاپانی فوجیوں نے اپنی جانیں قربان کر دیں، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ اپنے شہنشاہدیوتا کیلئے عزت دکھانے کا موت سے بڑھ کر اور کوئی طریقہ نہیں۔ لیکن بدھسٹ۔شنٹو عسکریت دوسری جنگ عظیم میں ناکام ہو گئی، اور اسکے بعد شہنشاہ نے دیوتا ہونے سے انکار کر دیا۔ کیا چیز اس مذہبی خلا کو پر کر سکتی تھی؟ خوشی کی بات ہے کہ یہوواہ کے گواہوں کے مشنریوں کے ذریعے اور اسکے بعد مقامی گواہوں کے ذریعے منعقد کیے گئے بائبل مطالعوں نے بہتیروں کو سچے خدا، یہوواہ کو تلاش کرنے، اور اس کیلئے اپنی زندگیاں مخصوص کرنے میں مدد دی۔ یہ مخصوصیت ان جاپانی گواہوں کیلئے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر سابقہ زمانوں میں انہوں نے اپنی زندگیاں شہنشاہدیوتا کیلئے قربان کی تھیں، تو اب زندہ خدا اور کائنات کے خالق حاکماعلیٰ یہوواہ کیلئے کیوں نہ زیادہ جوش کیساتھ بطور پائنیروں کے اپنی لیاقتیں صرف کریں گے!
[تصویر]
محبان خدائی آزادی یہوواہ کے پرستار اگست ۹-۱۱، ۱۹۹۱ کی پراگ کنونشن پر