خدا کا روزانتقام
جیسے کہ ہم نے گذشتہ مضمون میں دیکھا، کہ مختلف وجوہات کیبنا پر ہمارے لیے انتقام لینے کی کوشش کرنا غلط ہے۔ یہ اس لیے بھی غلط ہے کہ انجام کار یہ کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کرتا۔ یہ اس لیے بھی غلط ہے کہ یہ دوستی کے رشتوں کو مضبوط بنانے کی بجائے دشمنی کی دیوار کھڑی کرتا ہے۔ اور یہ اس لیے بھی غلط ہے کیونکہ یہ انتقامی خیالات کو دل میں رکھنے والے کے لیے بھی نقصاندہ ہے۔
تاہم، انسانی انتقام کیوں غلط ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ کو اسرائیل سے مخاطب موسی کے ان الفاظ سے دیکھا جا سکتا ہے: ”[یہوواہ] تیرا خدا رحیم خدا ہے۔“ (استثنا ۴:۳۱) چونکہ خدا رحیم ۔ ہے، ہمیں بھی اس کی طرح رحیم ہونا چاہیے۔ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو بتایا: ”جیسا تمہارا باپ رحمدل ہے، تم بھی رحمدل ہو۔“ لوقا ۶:۳۶۔
پھر بھی، بائبل یہوواہ کو ”انتقام لینے والے خدا“ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ (زبور ۹۴:۱) یسعیاہ نبی ”یہوواہ کے سالمقبول“ اور اس کے ساتھ ساتھ ”ہمارے خدا کے روزانتقام“ کی بابت بیان کرتا ہے۔ (یسعیاہ ۶۱:۲) کیسے خدا ایک ہی وقت میں رحمدل اور انتقام لینے والا ہو سکتا ہے؟ اور اگر ہمیں خدا کے رحم کی نقل کرنی ہے، تو انتقام لینے میں بھی کیوں ہمیں اس کی نقل نہیں کرنی چاہیے؟
پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ ، خدا اس لیے رحیم ہے کیونکہ وہ بنیآدم سے محبت کرتا ہے، اور وہ اس وقت تک معاف کرتا رہتا ہے جبتک کہ وہ ایسا کر سکتا ہے تاکہ انسانوں کو یہ موقع دے کہ وہ اپنی راہیں تبدیل کر لیں۔ رسول پولس کی طرح، بہتیروں نے، اس رحم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ لیکن خدا انتقام بھی لیتا ہے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے معنی میں کیونکہ ایسا رحم فقط اسی وقت تک جاری رہ سکتا ہے۔ جب بعض یہ ظاہر کر چکیں گے کہ وہ اپنی راہیں نہیں بدلیں گے، تب خدا اپنے روزانتقام پر اپنا عدالتی فیصلہ سنا دے گا۔
دوسرے سوال کے جواب میں، ہم اسلئے انتقام لینے میں حقبجانب نہیں کہ خدا انتقام لیتا ہے۔ یہوواہ انصاف میں کامل ہے۔ انسان نہیں ہیں۔ خدا کسی معاملے کو ہر پہلو سے دیکھتا ہے اور ہمیشہ راست فیصلہ کرتا ہے۔ ہم پر ایسا کرنے کا بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے پولس نے نصیحت کی: ”اے عزیزو اپنا انتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو کیونکہ یہ لکھا ہے [یہوواہ] فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے بدلہ میں ہی دوں گا۔“ (رومیوں ۱۲:۱۹) پس اپنی خاطر، ہمیں انتقام کو یہوواہ کے اوپر چھوڑ دینا چاہیے۔
روزانتقام کیوں؟
تاہم، بائبل کئی مقامات پر غیرتائب غلطی کے مرتکب سے جوابدہی کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، پولس رسول نے پہلے سے بتا دیا تھا کہ خدا، یسوع کے ذر یعے، ان سب سے ”بدلہ لے گا جو ہمارے خدا کو نہیں پہچانتے اور ہمارے خداوند یسوع کی خوشخبری کو نہیں ما نتے۔“ (۲۔تھسلنیکیوں ۱:۸) ان الفاظ پر سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے ہمارے پاس اچھی وجوہات ہیں۔ کیوں؟
ایک وجہ تو یہ ہے کہ آجکل اکثریت خدا کی حاکمیت کی اطاعت نہ کرنے پر ڈٹی ہوئی ہے، وہ اسکے راست آئین کی پرواہ نہیں کر تے۔ خواہ وہ خدا پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا نہیں، انکا چالچلن واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے خود کو جوابدہ محسوس نہیں کر تے۔ اس طرح کے تمام لوگوں پر زبورنویس کے الفاظ عائد ہوتے ہیں: ”شریر کس لئے خدا کی اہانت کرتا ہے؟ اس نے اپنے دل میں کہا ہے تو بازپرس نہ کریگا۔“ (زبور ۱۰:۱۳، NW) یقیناً، یہوواہ ہمیشہ اس طریقے سے اپنی اہانت کی اجازت نہیں دیگا۔ اگرچہ وہ محبت کا خدا ہے، مگر وہ منصف خدا بھی ہے۔ وہ انصاف کے لئے پکارنے والوں کی ضرور سنے گا: ”اٹھ اے [یہوواہ]! اے خدا اپنا ہاتھ بلند کر! [دکھیوں] کو نہ بھول۔“ زبور ۱۰:۱۲۔
اس کے علاوہ، قانون کی اطاعت نہ کرنے والے لوگ تو اس زمین کو بھی تباہ کر رہے ہیں جس پر ہم رہتے ہیں۔ وہ فضا، زرعیزمین، اور پانی کو آلودہ کرتے ہیں، وہ زمین کو ناانصافی اور ظلم سے بھرتے ہیں۔ نیز وہ کیمیاوی، جوہری، اور دوسرے مہلک ہتھیاروں کے انبار لگاتے ہیں جو نسلانسانی کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔ فرمانبردار بنیآدم کے لیے ایک محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے الہیٰ مداخلت لازمی ہے۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) یسعیاہ اسی مداخلت کا حوالہ روزانتقام کے طور پر دیتا ہے۔
خدا کا روزانتقام کیا انجام دیگا؟
وائنز ایکسپوزٹری ڈکشنری آف اولڈ اینڈ نیو ٹسٹامنٹ ورڈز کے مطابق، یونانی صحائف میں، انتقام کے لیے لفظ کو جب خدا کےسلسلے میں استعمال کیا جاتا ہے، تو اس کا لفظی مطلب ہے ””جو انصاف سے تحریک پاتا ہے،“ نہ کہ جیسا کہ اکثر انسانی انتقام کے سلسلے میں ہوتا ہے، نقصان کے احساس سے یا محض برہمی کے احساس سے۔“ پس خدا کا اپنے دشمنوں کے خلاف انتقام ایک ذاتی خونیفساد کی طرح ایک بےقابو کشتوخون کا وقت نہ ہو گا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ”یہوواہ خدائی عقیدت والے لوگوں کو آزمائش سے نکال لینا اور ناراست لوگوں کو عدالت کے دن تک ہلاک ہونے کے لیے رکھنا جانتا ہے۔“ ۲۔ پطرس ۲:۹، NW۔
خدا کے خادم خدا کے روزانتقام کا ایک ایسے وقت کے طور پر خوشی سے انتظار کرتے ہیں جب راست چالچلن کا بولبالا ہوگا اور راستباز شریر کے ظلم سے چھڑائے جائیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کینہجو یا انتقامپرور ہیں۔ بائبل آ گاہ کرتی ہے کہ ”جو اوروں کی مصیبت سے خوش ہوتا ہے بےسزا نہ چھوٹیگا۔“ (امثال ۱۷:۵) اس کے برعکس، انتقام کے ہر فیصلے کو خدا پر چھوڑتے ہو ئے، وہ ہمدردی اور رحم کو ترقی دیتے ہیں۔
سچ ہے، غصہور اشخاص کیلئے اس طرح کا ردعمل دکھانا مشکل ہے۔ مگر ایسا ممکن ہے، اور بہتوں نے ایسا کیا ہے۔ مثال کے طور پر، پیڈرو کا بچپن ناخوشگوار تھا اور اکثر اپنے بڑے بھائی سے پٹتا تھا۔ لہذا وہ ایک تشددآمیز شخص بن گیا، جس کو لگاتار پولیس سے پریشانی کا سامنا رہتا تھا اور اپنے بھائی پر آنے والے غصے کو اپنی بیوی اور بچوں پر نکالتا۔ آخرکار، اس نے ایک یہوواہ کے گواہ کی بات سنی اور اسکے بعد بائبل مطالعہ شروع کر دیا۔ ”یہوواہ کی مدد کے ساتھ ،“ وہ بیان کرتا ہے، ”میں بدل گیا، اور اب، لوگوں کے ساتھ لڑنے کی بجا ئے، میں ایک مسیحی بزرگ کے طور پر انکی مدد کرتا ہوں۔“ بائبل اور روح القدس کی مدد سے، بیشمار دوسرے کینہجو یا انتقامپرور بھی اسی طرح سے دوسروں کے لیے محبت اور صبر دکھانے کے لیے بدل گئے ہیں۔
آپ کیا کریں گے؟
خدا کے روزانتقام کے آنے کو ذہن میں رکھنا یہوواہ کے صبر سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہماری مدد کریگا۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے موقع غیرمحدود نہیں ہے۔ وہ دن جلد آئیگا۔ پطرس رسول نے ظاہر کیا ہے کہ وہ پہلے ہی کیوں نہ آ گیا: ”[یہوواہ] اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے اسلئے کہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔“ ۲۔ پطرس ۳:۹۔
لہذا، یہ اشد ضروری ہے کہ صحائف کا مطالعہ کرنے اور انکی نصیحت کا اطلاق کرنے سے، خدا کے روزحساب کے لئے اب تیاری کریں۔ ایسا کرنا زبورنویس کے الفاظ پر عمل کرنے میں ہماری مدد کریگا: ”قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے بیزار نہ ہو اس سے برائی ہی نکلتی ہے۔ کیونکہ بدکردار کاٹ ڈالے جائینگے لیکن جن کو [یہوواہ] کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے۔“ زبور ۳۷:۸، ۹۔ (۵ ۱۱/۱ w۹۱)
[صفحہ 7 پر تصویر]
خدا کے روزانتقام کے بعد، ”یہوواہ پر توکل کرنے والے زمین کے وارث ہونگے“