مسیحی زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے حوالے سے ہدایات
فہرست
1. اِس دستاویز میں دی گئی ہدایتیں اُن تمام لوگوں کے لیے ہیں جو مسیحی زندگی اور خدمت والے اِجلاس میں حصے پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو کوئی حصہ دیا جاتا ہے، اُنہیں اپنے حصے سے متعلق اُن ہدایتوں کو دیکھنا چاہیے جو زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے قاعدے میں اور اِس دستاویز میں ہیں۔ تمام مبشروں کی حوصلہافزائی کی جانی چاہیے کہ وہ طالبِعلموں کے حصے پیش کرنے کو تیار رہیں۔ جو لوگ باقاعدگی سے عبادتوں پر آتے ہیں، وہ بھی طالبِعلموں کے حصے پیش کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ بائبل کی تعلیمات سے متفق ہیں اور بائبل کے اصولوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مبشر نہیں ہے لیکن پھر بھی طالبِعلموں کے حصے پیش کرنا چاہتا ہے تو زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا نگہبان اُس سے طالبِعلموں کے حصے پیش کرنے کی شرائط پر باتچیت کرے گا اور پھر اُس کو بتائے گا کہ کیا وہ اِن شرائط پر پورا اُترتا ہے یا نہیں۔ اِس باتچیت کے دوران اُس مبشر کو بھی موجود ہونا چاہیے جو اُس شخص کو بائبل کورس کراتا ہے یا اگر ایک بچہ حصے پیش کرنا چاہتا ہے تو اُس کے والدین میں سے ایک کو موجود ہونا چاہیے، بشرطیکہ وہ مبشر ہو۔ طالبِعلموں کے حصے پیش کرنے کے لیے وہی شرائط ہیں جو غیربپتسمہیافتہ مبشر بننے کے لیے ہوتی ہیں۔—اوڈی ب. 8 پ. 8؛ ”خوشیوں بھری زندگی“ صفحہ 254 پر پہلا بکس۔
اِبتدائی کلمات
2. ایک منٹ۔ ہر ہفتے زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا میزبان پہلے گیت اور دُعا کے بعد پروگرام کی ایک جھلک پیش کرے گا۔ ایسا کرتے وقت وہ اُن نکتوں کو نمایاں کرے گا جو کلیسیا کے لیے سب سے زیادہ فائدہمند ہیں۔
پاک کلام سے سنہری باتیں
3. تقریر: دس منٹ۔ اِس کا عنوان اور دو یا تین نکتوں والا خاکہ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے قاعدے میں دیا گیا ہے۔ یہ تقریر ایک بزرگ یا لائق خادم کو دی جانی چاہیے۔ اگر بائبل پڑھنے کے ہفتہوار شیڈول میں ایک نئی کتاب شروع ہوتی ہے تو اِس کو متعارف کرانے کے لیے ایک ویڈیو دِکھائی جائے گی۔ مقرر ویڈیو میں سے ایسے نکتوں کا ذکر کر سکتا ہے جو موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ اُن نکتوں پر بات کرے جو خاکے میں ہیں۔ اُسے مرکزی خیالوں کو نمایاں کرنے کے لیے قاعدے میں دی گئی تصویروں کو بھی اِستعمال کرنا چاہیے۔ مقرر ہماری دوسری کتابوں اور رسالوں سے بھی معلومات اِستعمال کر سکتا ہے، بشرطیکہ اِن کا خاکے میں دیے گئے نکتوں سے گہرا تعلق ہو۔
4. سنہری باتوں کی تلاش: دس منٹ۔ یہ سوال اور جواب والا حصہ ہے۔ اِسے تعارف اور اِختتام کے بغیر پیش کِیا جانا چاہیے۔ یہ حصہ ایک بزرگ یا لائق خادم کو دیا جانا چاہیے۔ مقرر کو سامعین سے دونوں سوال پوچھنے چاہئیں۔ وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ حوالہشُدہ آیتوں کو پڑھا جائے گا یا نہیں۔ بہن بھائیوں کے جواب 30 سیکنڈ یا اِس سے کم ہونے چاہئیں۔
5. تلاوت: چار منٹ۔ طالبِعلموں کا یہ حصہ ایک مرد یا لڑکے کو دیا جانا چاہیے۔ طالبِعلم قاعدے میں دی گئی آیتوں کو تعارف اور اِختتام کے بغیر پڑھے گا۔ اِجلاس کا چیئرمین طالبِعلم کی مدد کرے گا تاکہ وہ قدرتی انداز میں، سمجھ کے ساتھ، روانی سے اور صحیح طریقے سے پڑھے، اہم لفظوں پر زور دے، آواز میں اُتار چڑھاؤ لائے اور مناسب وقفے دے۔ تلاوت کے حصے میں کبھی کم اور کبھی زیادہ آیتیں پڑھنی ہوتی ہیں۔ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا نگہبان اِس بات کو ذہن میں رکھ کر طالبِعلموں کی پڑھنے کی لیاقت کے مطابق اُنہیں حصے دے گا۔
شاگرد بنانے کی تربیت
6. پندرہ منٹ۔ عبادت کے اِس حصے کے دوران طالبِعلموں کو یہ موقع ملے گا کہ وہ مُنادی کے لیے پریکٹس کریں اور باتچیت کرنے، مُنادی کرنے اور تعلیم دینے کی اپنی مہارت میں نکھار لائیں۔ اگر ضروری ہے تو بزرگوں کو بھی طالبِعلموں کے حصے دیے جا سکتے ہیں۔ ہر طالبِعلم کو کتاب ”تعلیم اور تلاوت“ یا ”محبت دِکھائیں“ کے اُس نکتے پر کام کرنا چاہیے جو اِجلاس کے قاعدے میں اُس کے حصے کے ساتھ دیا گیا ہے۔ کبھی کبھار شیڈول میں ”باتچیت“ والا حصہ بھی ہوگا۔ یہ حصہ ایک بزرگ یا لائق خادم کو دیا جانا چاہیے۔—یہ جاننے کے لیے کہ ”باتچیت“ والے حصوں کو کیسے کِیا جانا چاہیے، پیراگراف 15 کو دیکھیں۔
7. باتچیت شروع کرنا: طالبِعلموں کا یہ حصہ ایک بہن یا ایک بھائی کر سکتا ہے۔ طالبِعلم کے مددگار کو اُس کا ہمجنس یا رشتےدار ہونا چاہیے۔ طالبِعلم اور اُس کا مددگار بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر حصہ پیش کر سکتے ہیں۔—اِس حصے کے موضوع اور منظر کے بارے میں معلومات کے لیے پیراگراف 12 اور 13 کو دیکھیں۔
8. باتچیت جاری رکھنا: طالبِعلموں کا یہ حصہ ایک بہن یا ایک بھائی کر سکتا ہے۔ طالبِعلم کے مددگار کو اُس کا ہمجنس یا رشتےدار ہونا چاہیے۔ (بادشاہتی خدمتگزاری 5/97 ص. 1) طالبِعلم اور اُس کا مددگار بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر حصہ پیش کر سکتے ہیں۔ طالبِعلم کو اپنے حصے میں دِکھانا چاہیے کہ پچھلی ملاقات کی باتچیت جاری رکھنے کے لیے واپسی ملاقات کے دوران کیا کہا جا سکتا ہے۔—اِس حصے کے موضوع اور منظر کے بارے میں معلومات کے لیے پیراگراف 12 اور 13 کو دیکھیں۔
9. شاگرد بنانا: طالبِعلموں کا یہ حصہ ایک بہن یا ایک بھائی کر سکتا ہے۔ طالبِعلم کے مددگار کو اُس کا ہمجنس یا رشتےدار ہونا چاہیے۔ (بادشاہتی خدمتگزاری 5/97 ص. 1) طالبِعلم اور اُس کا مددگار بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر حصہ پیش کر سکتے ہیں۔ اِس حصے میں بائبل کورس کا ایک منظر دِکھایا جانا چاہیے۔ تمہید یا اِختتام کی صرف اُس وقت ضرورت ہوگی اگر طالبِعلم اِس نکتے پر کام کر رہا ہے۔ تمام پیراگرافوں یا آیتوں کو پڑھ کر سنانے کی ضرورت نہیں لیکن ایسا کِیا جا سکتا ہے۔
10. اپنے عقیدوں کی وضاحت کرنا: اگر یہ حصہ ایک تقریر کی شکل میں ہوگا تو اِسے ایک بھائی کرے گا۔ لیکن اگر یہ حصہ ایک منظر کی شکل میں ہوگا تو یہ ایک بہن یا بھائی کر سکتا ہے۔ طالبِعلم کے مددگار کو اُس کا ہمجنس یا رشتےدار ہونا چاہیے۔ طالبِعلم کو موضوع میں دیے گئے سوال کا واضح جواب دینا چاہیے اور ساتھ ساتھ اُس شخص کے احساسات کا لحاظ بھی رکھنا چاہیے جس سے وہ بات کر رہا ہے۔ اُسے قاعدے میں دیے گئے حوالے کی معلومات کو اِستعمال کرنا چاہیے لیکن وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ حوالہشُدہ کتاب یا رسالے کا ذکر کرے گا یا نہیں۔
11. تقریر: یہ حصہ ایک بھائی کو دیا جانا چاہیے جو اِسے کلیسیا کو ایک تقریر کے طور پر پیش کرے گا۔ اگر یہ تقریر کتاب ”محبت دِکھائیں“ کے ”اِضافی معلومات—حصہ 1“ پر مبنی ہے تو طالبِعلم کو دِکھانا چاہیے کہ اُن آیتوں کو مُنادی کے کام میں کیسے اِستعمال کِیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ سمجھا سکتا ہے کہ آیت کو کس صورتحال میں اِستعمال کِیا جا سکتا ہے، آیت کا مطلب کیا ہے اور اِس کی مدد سے کسی شخص کو ایک اہم بات کیسے سمجھائی جا سکتی ہے۔ اگر تقریر کتاب ”محبت دِکھائیں“ کے کسی سبق پر مبنی ہے تو طالبِعلم کو دِکھانا چاہیے کہ مُنادی میں اُس نکتے پر کیسے عمل کِیا جا سکتا ہے۔ وہ اُس شخص کی مثال پر توجہ دِلا سکتا ہے جس کا ذکر سبق کے شروع میں ہوا ہے یا پھر وہ اُن اِضافی آیتوں کا ذکر کر سکتا ہے جو سبق کے آخر میں دی گئی ہیں۔
12. موضوع: اِس پیراگراف اور اگلے پیراگراف میں دی گئی معلومات حصہ ”باتچیت شروع کرنا“ اور حصہ ”باتچیت جاری رکھنا“ پر لاگو ہوتی ہیں۔ اگر کوئی اَور ہدایت نہیں دی گئی ہے تو طالبِعلم کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اُس شخص سے جس سے وہ بات کر رہا ہے، ایک سادہ سی بائبل کی سچائی کے بارے میں بات کرے اور دِکھائے کہ یہ اُس کے لیے اہمیت کیوں رکھتی ہے۔ پھر اُسے اگلی ملاقات کے لیے بنیاد ڈالنی چاہیے۔ طالبِعلم کو ایک ایسا موضوع چُننا چاہیے جس میں آپ کے علاقے کے لوگ دلچسپی لیتے ہیں اور جو اُن کے لیے فائدہمند ہوگا۔ وہ یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ تعلیم دینے کے اوزاروں میں سے کسی ویڈیو، کتاب یا رسالے کو متعارف کرائے گا یا نہیں۔ اُسے اپنی پیشکش زبانی یاد نہیں کرنی چاہیے بلکہ اُسے قدرتی انداز میں اُس شخص سے باتچیت کرنی چاہیے اور اُس میں دلچسپی دِکھانی چاہیے۔
13. منظر: طالبِعلم منظر کو مقامی صورتحال کے مطابق ڈھال سکتا ہے۔ حصے کے ساتھ دیے گئے منظر میں یہ دِکھایا جا سکتا ہے:
(1) گھر گھر جا کر مُنادی: آپ گھر گھر کی مُنادی کرنے، فون پر گواہی دینے یا خط کے ذریعے گواہی دینے کا منظر دِکھا سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ آپ ایک ایسے شخص سے واپسی ملاقات کا منظر بھی دِکھا سکتے ہیں جو گھر گھر کی مُنادی کے دوران ملا تھا۔
(2) موقع ملتے ہی گواہی: اِس میں دِکھایا جانا چاہیے کہ ہم کسی شخص سے باتچیت کرتے وقت گواہی دینے کا موقع کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔ اِس میں کام کی جگہ پر، سکول میں، آس پڑوس میں، بس یا ٹرین میں یا روزمرہ کے کامکاج نمٹاتے وقت لوگوں سے باتچیت کرنے کا منظر دِکھایا جا سکتا ہے۔
(3) عوامی جگہوں پر گواہی: اِس میں ٹرالی لگا کر گواہی دینے، کاروباری جگہوں پر گواہی دینے، سڑک پر ملنے والے لوگوں کو گواہی دینے یا کسی ایسی جگہ گواہی دینے کا منظر دِکھایا جا سکتا ہے جہاں لوگ عام طور پر ملتے ہیں۔
14. ویڈیوز، کتابوں، رسالوں اور پرچوں کا اِستعمال: صورتحال کو مدِنظر رکھ کر طالبِعلم کسی ویڈیو، کتاب،رسالے یا پرچے کو پیش کر سکتا ہے۔ اگر طالبِعلم کے حصے میں ویڈیو شامل ہے یا اگر وہ ایک ویڈیو اِستعمال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اُسے ویڈیو کو متعارف کرانا چاہیے اور اِس پر باتچیت کرنی چاہیے لیکن اِسے چلانا نہیں چاہیے۔
مسیحیوں کے طور پر زندگی
15. گیت کے بعد پہلے 15 منٹ کے دوران ایک یا دو ایسے حصے پیش کیے جائیں گے جن میں دِکھایا جائے گا کہ ہم روزمرہ زندگی میں پاک کلام کے اصولوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ اگر کوئی اَور ہدایت نہیں دی گئی ہے تو یہ حصے کسی بزرگ یا لائق خادم کو دیے جا سکتے ہیں۔ لیکن ”مقامی ضروریات“ والا حصہ ہمیشہ ایک بزرگ ہی کرے گا۔ جب ایک حصہ باتچیت کی شکل میں ہوگا تو مقرر پورے حصے کے دوران سوال پوچھ سکتا ہے، اُن سوالوں کے علاوہ بھی جو قاعدے میں دیے گئے ہیں۔ اُس کی تمہید زیادہ لمبی نہیں ہونی چاہیے تاکہ اہم نکتوں پر بات کرنے اور سامعین کے جوابوں کے لیے کافی وقت ہو۔ اگر حصے میں ایک اِنٹرویو شامل ہے تو بہتر ہوگا کہ جس بہن یا بھائی کا اِنٹرویو لیا جائے گا، وہ پلیٹفارم پر آئے، بشرطیکہ ایسا کرنا ممکن ہے۔
16. کلیسیا کے طور پر بائبل کا مطالعہ: تیس منٹ۔ یہ حصہ ایک لائق بزرگ کو دیا جانا چاہیے۔ (اگر کلیسیا میں کم بزرگ ہیں تو کوئی لائق خادم بھی یہ حصہ کر سکتا ہے۔) بزرگوں کی جماعت فیصلہ کرے گی کہ کون کلیسیا کے طور پر بائبل کا مطالعہ کرانے کے لائق ہے۔ جو بھائی یہ مطالعہ کرائے گا، اُسے اچھی طرح سے پیشوائی کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔ اُسے وقت کی پابندی کرنی چاہیے، اہم آیتوں کو نمایاں کرنا چاہیے اور سامعین کی یہ دیکھنے میں مدد کرنی چاہیے کہ وہ سیکھی ہوئی باتوں پر کیسے عمل کر سکتے ہیں۔ مطالعہ کرانے کے لیے چُنے گئے بھائیوں کو اُن ہدایتوں پر غور کرنا چاہیے جو سوال اور جواب والے حصوں کے بارے میں دی گئی ہیں۔ (م23.04 ص. 24، بکس) اگر اُس ہفتے کے لیے چُنے گئے پیراگرافوں پر اچھی طرح سے باتچیت ہو چُکی ہے تو مطالعے کو وقت سے پہلے ختم کِیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہو، مطالعہ کرانے اور پیراگرافوں کو پڑھنے کے لیے ہر ہفتے فرق فرق بھائیوں کو چُنا جانا چاہیے۔ اگر زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا چیئرمین ہدایت دیتا ہے کہ کلیسیا کے طور پر بائبل کے مطالعے سے وقت کاٹا جائے تو مطالعہ کرانے والا بھائی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ یہ کیسے کرے گا۔ مثال کے طور پر وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ کچھ پیراگرافوں کو نہیں پڑھوائے گا۔
اِختتامی کلمات
17. تین منٹ۔ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا چیئرمین اِجلاس کی کچھ اہم اور فائدہمند باتوں کو دُہرائے گا۔ اگر وقت ہو تو وہ ایسا کرنے کے لیے سامعین سے پوچھ سکتا ہے کہ اُنہیں کون سی باتیں فائدہمند لگی ہیں۔ وہ کچھ ایسی باتوں کا ذکر بھی کرے گا جن پر اگلے ہفتے والے اِجلاس میں غور کِیا جائے گا۔ اِس کے علاوہ اگر وقت ہے تو وہ اُن طالبِعلموں کے نام کا اِعلان کر سکتا ہے جو اگلے ہفتے حصے کریں گے۔ اگر کوئی اَور ہدایت نہیں دی گئی ہے تو چیئرمین اپنے اِختتامی کلمات کے دوران ضروری اِعلانات کرے گا اور خط پڑھ کر سنائے گا۔ لیکن مُنادی کے بندوبست اور عبادتگاہ کی صفائی کے شیڈول جیسی عام معلومات کا اِعلان پلیٹفارم سے نہیں کِیا جانا چاہیے بلکہ اِنہیں نوٹس بورڈ پر لگایا جانا چاہیے۔ اگر اِختتامی کلمات کے لیے دیے گئے وقت میں تمام اِعلان کرنے یا خط پڑھنے کے لیے کافی وقت نہیں ہوگا تو چیئرمین ”مسیحیوں کے طور پر زندگی“ میں حصے پیش کرنے والے بھائیوں کو اپنے حصوں سے وقت کاٹنے کو کہہ سکتا ہے۔ (پیراگراف 16 اور 19 کو دیکھیں۔) عبادت کے آخر میں گیت اور دُعا ہوگی۔
تعریف اور مشورے
18. طالبِعلموں کے ہر حصے کے بعد زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے چیئرمین کے پاس تقریباً ایک منٹ ہوگا جس میں وہ طالبِعلم کی تعریف کر سکتا ہے اور اُس کو مشورے دے سکتا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ ذہن میں رکھے گا کہ طالبِعلم کو کس نکتے پر کام کرنا تھا۔ جب چیئرمین طالبِعلم کا حصہ متعارف کرائے گا تو وہ اُس نکتے کا ذکر نہیں کرے گا جس پر طالبِعلم کو کام کرنا ہے۔ لیکن طالبِعلم کے حصے کے بعد وہ پہلے تو اُس کی مناسب تعریف کر سکتا ہے اور پھر اُس نکتے کا ذکر کر سکتا ہے جس پر طالبِعلم کام کر رہا تھا اور بتا سکتا ہے کہ طالبِعلم نے اِس نکتے پر اچھی طرح سے عمل کیوں کِیا ہے یا پھر وہ طالبِعلم کو اِس نکتے کے حوالے سے مشورے دے سکتا ہے۔ اگر چیئرمین کو لگتا ہے کہ ایسا کرنا طالبِعلم یا سامعین کے لیے فائدہمند ہوگا تو وہ حصے کے کچھ اَور پہلوؤں پر بھی بات کر سکتا ہے۔ چیئرمین اِجلاس کے بعد یا کسی اَور موقعے پر طالبِعلم کو کتاب ”تعلیم اور تلاوت،“ ”محبت دِکھائیں“ یا ”منسٹری سکول“ کی بِنا پر مزید مشورے دے سکتا ہے۔ وہ اُسے اُس نکتے کے حوالے سے جس پر طالبِعلم کو کام کرنا تھا یا کسی اَور نکتے کے حوالے سے مشورے دے سکتا ہے۔—زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے چیئرمین اور اِمدادی مُشیر کی ذمےداریوں کے بارے میں مزید معلومات کے لیے پیراگراف 19، 24 اور 25 کو دیکھیں۔
وقت کی پابندی
19. کسی حصے کو مقررہ وقت سے زیادہ لمبا نہیں ہونا چاہیے، یہاں تک کہ اِجلاس کے چیئرمین کے تبصروں کو بھی نہیں۔ حالانکہ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے قاعدے میں ہر حصے کے لیے وقت مقرر کِیا گیا ہے لیکن اگر حصے کے لیے دی گئی معلومات پر مناسب حد تک بات کی گئی ہے تو یہ ضروری نہیں کہ پورے وقت کو اِستعمال کرنے کے لیے مزید معلومات شامل کی جائیں۔ اگر کوئی شخص مقرر کیے گئے وقت سے زیادہ وقت لیتا ہے تو زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے چیئرمین یا اِمدادی مُشیر کو اُسے الگ سے مشورہ دینا چاہیے۔ (پیراگراف 24 اور 25 کو دیکھیں۔) پورے اِجلاس کو 1 گھنٹہ 45 منٹ کے اندر اندر ختم ہونا چاہیے۔ اِس میں گیت اور دُعائیں بھی شامل ہیں۔
حلقے کے نگہبان کے دورے والا ہفتہ
20. جب حلقے کا نگہبان کلیسیا کا دورہ کرتا ہے تو پروگرام زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے قاعدے کے مطابق کِیا جانا چاہیے۔ اِس میں صرف یہ تبدیلی کی جانی چاہیے کہ کلیسیا کے طور پر بائبل کے مطالعے کی بجائے حلقے کا نگہبان 30 منٹ کی خدمتی تقریر کرے گا۔ خدمتی تقریر سے پہلے زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا چیئرمین اُس شام کے پروگرام کے اہم نکتوں کی دُہرائی کرے گا، اگلے ہفتے کے پروگرام کے کچھ نکتوں کا ذکر کرے گا اور ضروری اِعلانات کرے گا یا خط پڑھ کر سنائے گا۔ اِس کے بعد وہ حلقے کے نگہبان کو متعارف کرائے گا۔ خدمتی تقریر کے بعد حلقے کا نگہبان اِجلاس کا اِختتام کرے گا۔ وہ خود ایک گیت چُن سکتا ہے اور کسی اَور بھائی کو دُعا کرنے کو کہہ سکتا ہے۔ حلقے کے نگہبان کے دورے کے دوران کلیسیا کی زبان میں کوئی اِضافی جماعتیں نہیں کی جانی چاہئیں۔ اگر کلیسیا کے ساتھ ایک گروپ منسلک ہے تو وہ حلقے کے نگہبان کے دورے کے دوران اپنی زبان میں اِجلاس کر سکتا ہے۔ لیکن حلقے کے نگہبان کی خدمتی تقریر کے لیے گروپ کو کلیسیا میں شامل ہو جانا چاہیے۔
اِجتماع والا ہفتہ
21. حلقے کے اِجتماع یا علاقائی اِجتماع کے ہفتے میں کلیسیا کی عبادتیں نہیں ہوں گی۔ بہن بھائیوں کو یاد دِلائیں کہ وہ اُس ہفتے کی عبادت کے پروگرام کا خود مطالعہ کریں یا اپنے گھر والوں کے ساتھ ایسا کریں۔
یادگاری تقریب والا ہفتہ
22. اگر یادگاری تقریب ہفتے کے دوران ہوگی تو زندگی اور خدمت والا اِجلاس نہیں ہوگا۔
زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا نگہبان
23. بزرگوں کی جماعت ایک بزرگ کو زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے نگہبان کے طور پر چُنے گی۔ اُس کی ذمےداری اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ اِجلاس منظم طریقے سے اور اُن ہدایتوں کے مطابق کِیا جائے جو اِس دستاویز میں دی گئی ہیں۔ اُسے اِمدادی مُشیر کے ساتھ اچھا تعاون کرنا چاہیے۔ جونہی اگلے دو مہینوں کا قاعدہ دستیاب ہوتا ہے، زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے نگہبان کو پورے دو مہینوں کے پروگرام کے لیے تمام حصہ لینے والوں کو چُننا چاہیے۔ اِس میں طالبِعلموں کے حصوں کے علاوہ ایسے حصے بھی شامل ہیں جو بزرگوں یا خادموں کو دیے جاتے ہیں۔ اِس کے علاوہ اُسے زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے لیے چیئرمینوں کو بھی چُننا چاہیے۔ یہ ایسے بھائی ہونے چاہئیں جنہیں بزرگوں کی جماعت نے اِس ذمےداری کے لیے منظور کِیا ہے۔ (پیراگراف 3-16 اور 24 کو دیکھیں۔) طالبِعلموں کے حصوں کے لیے بہن بھائی چُنتے وقت اُسے اِس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ طالبِعلم کی عمر کیا ہے، وہ کتنا تجربہ رکھتا ہے اور کیا وہ اُس موضوع کے حوالے سے مثالی ہے جس پر اُسے بات کرنی ہے۔ وہ اِجلاس کے دوسرے حصوں کے لیے بھائی چُنتے وقت بھی اِنہی باتوں کو ذہن میں رکھے گا۔ ہر بہن یا بھائی کو کم از کم تین ہفتے پہلے اپنا حصہ دے دیا جانا چاہیے۔ طالبِعلموں کو اُن کے حصوں سے مطلع کرنے کے لیے فارم ”مسیحی زندگی اور خدمت—اِجلاس میں آپ کا حصہ“ (ایس-89) اِستعمال کِیا جانا چاہیے۔ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا نگہبان اِس بات کو یقینی بنائے گا کہ اِجلاس کا شیڈول نوٹس بورڈ پر لگایا جائے۔ بزرگوں کی جماعت زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے نگہبان کی مدد کرنے کے لیے کسی اَور بزرگ یا خادم کو چُن سکتی ہے۔ لیکن بزرگوں اور خادموں والے حصوں کے لیے بھائیوں کو چُننے کی ذمےداری صرف بزرگوں کو دی جانی چاہیے۔
زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا چیئرمین
24. ہر ہفتے کوئی بزرگ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کی میزبانی کرے گا۔ (جہاں کم بزرگ ہیں، وہاں کوئی لائق خادم بھی یہ ذمےداری نبھا سکتا ہے۔) زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے چیئرمین کو اِبتدائی اور اِختتامی کلمات تیار کر کے رکھنے چاہئیں۔ وہ تمام حصوں کو متعارف کرائے گا اور اگر بزرگوں کی جماعت چھوٹی ہے تو وہ پروگرام کے دوسرے حصے بھی کر سکتا ہے، جیسا کہ کوئی ایسا حصہ جس میں صرف ویڈیو دِکھائی جائے گی لیکن اَور کوئی باتچیت نہیں ہوگی۔ اُسے حصوں کے بیچ خود زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے۔ بزرگوں کی جماعت یہ فیصلہ کرے گی کہ کون سے بزرگ اِس ذمےداری کے لائق ہیں۔ لائق بزرگ باری باری اِجلاس کی میزبانی کریں گے۔ لیکن مقامی صورتحال کو مدِنظر رکھ کر زندگی اور خدمت والے اِجلاس کا نگہبان دوسرے بزرگوں کی نسبت زیادہ مرتبہ میزبانی کر سکتا ہے۔ اگر ایک بزرگ کلیسیا کے طور پر بائبل کا مطالعہ کرانے کے لائق ہے تو عموماً وہ میزبانی کرنے کے لائق بھی ہوگا۔ لیکن اِس بات کو ذہن میں رکھیں کہ جو بزرگ زندگی اور خدمت والے اِجلاس کی میزبانی کرتا ہے، اُسے طالبِعلموں کو شفقت بھرے انداز میں فائدہمند مشورے دینے اور اُن کی تعریف کرنے کے قابل بھی ہونا چاہیے۔ یہ چیئرمین کی ذمےداری ہے کہ اِجلاس وقت پر ختم ہو۔ (پیراگراف 17 اور 19 کو دیکھیں۔) اگر چیئرمین چاہتا ہے اور پلیٹفارم پر کافی جگہ ہے تو پلیٹفارم پر اُس کے لیے ایک الگ مائیکروفون کھڑا کِیا جا سکتا ہے تاکہ جس دوران وہ ایک حصے کو متعارف کراتا ہے، اُس دوران حصہ پیش کرنے والا بھائی آ کر روسٹرم پر کھڑا ہو سکے۔ اِسی طرح چیئرمین وقت بچانے کے لیے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ تلاوت والے حصے اور شاگرد بنانے کی تربیت والے حصوں کے دوران پلیٹفارم پر ہی بیٹھا رہے گا۔
اِمدادی مُشیر
25. اِمدادی مُشیر کی ذمےداری ہے کہ جہاں ضروری ہو، وہ بزرگوں یا خادموں کو اُن کے حصوں کے حوالے سے الگ سے مشورے دے۔ اِن حصوں میں زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے حصے، عوامی تقریریں، مینارِنگہبانی کا مطالعہ یا کلیسیا کے طور پر بائبل کا مطالعہ کرانا یا اِن کے دوران پیراگرافوں کو پڑھنا شامل ہے۔—پیراگراف 19 کو دیکھیں۔
اِضافی جماعتیں
26. اگر کلیسیا میں زیادہ بہن بھائی ہیں تو طالبِعلموں کے حصوں کے لیے اِضافی جماعتیں منعقد کی جا سکتی ہیں۔ ہر اِضافی جماعت کے لیے ایک لائق مُشیر کو مقرر کِیا جانا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو یہ بھائی ایک بزرگ ہو۔ لیکن اگر ضروری ہو تو ایک لائق خادم بھی یہ ذمےداری نبھا سکتا ہے۔ بزرگوں کی جماعت فیصلہ کرے گی کہ کس کو یہ ذمےداری دی جائے گی۔ وہ یہ فیصلہ بھی کرے گی کیا فرق فرق بھائی یہ ذمےداری باری باری نبھائیں گے یا نہیں۔ مُشیر کو اُن ہدایتوں پر عمل کرنا چاہیے جو پیراگراف 18 میں دی گئی ہیں۔ اگر اِضافی جماعتیں منعقد کی جائیں گی تو حصہ ”سنہری باتوں کی تلاش“ کے بعد اِضافی جماعت کے طالبِعلموں سے کہا جانا چاہیے کہ وہ اِضافی جماعت والے کمرے میں چلے جائیں۔ پھر طالبِعلموں کے آخری حصے کے بعد وہ دوبارہ سے کلیسیا میں شامل ہو جائیں گے۔
ویڈیوز
27. زندگی اور خدمت والے اِجلاس کے دوران جو ویڈیوز دِکھائی جاتی ہیں، اِنہیں جےڈبلیو لائبریری ایپ میں دستیاب کِیا جائے گا اور اِنہیں فرق فرق ڈیوائسز کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے۔
© 2025 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
S-38-UD 9/25