سبق نمبر 84
یسوع پانی پر چلے
یسوع نہ صرف بیماروں کو ٹھیک کر سکتے تھے اور مُردوں کو زندہ کر سکتے تھے بلکہ اُن میں آندھی اور بارش کو روکنے کی طاقت بھی تھی۔ جب یسوع پہاڑ پر دُعا کر رہے تھے تو اُنہوں نے دیکھا کہ نیچے گلیل کی جھیل میں طوفان آیا ہوا تھا۔ اُن کے رسول اپنی کشتی میں تھے اور اُنہیں کشتی چلانے میں بہت مشکل ہو رہی تھی۔ یسوع پہاڑ سے نیچے اُترے اور پانی پر چل کر کشتی کے قریب آنے لگے۔ جب رسولوں نے دیکھا کہ کوئی پانی پر چل رہا ہے تو وہ بہت ڈر گئے۔ لیکن یسوع نے اُن سے کہا: ”ڈریں مت! مَیں ہوں!“
پطرس نے کہا: ”مالک! اگر واقعی آپ ہیں تو مجھے حکم دیں کہ میں پانی پر چل کر آپ کے پاس آؤں۔“ یسوع نے کہا: ”آئیں!“ تب پطرس اُس طوفان میں اپنی کشتی سے اُترے اور چل کر یسوع کی طرف آنے لگے۔ لیکن جیسے ہی وہ یسوع کے قریب پہنچے، اُنہوں نے طوفان کو دیکھا اور وہ ڈر گئے۔ پھر وہ ڈوبنے لگے۔ اُنہوں نے چلّا کر کہا: ”مالک! مجھے بچائیں!“ یسوع نے اپنا ہاتھ اُن کی طرف بڑھایا اور اُن سے کہا: ”آپ کا ایمان اِتنا کمزور کیوں ہے؟ آپ نے شک کیوں کِیا؟“
یسوع اور پطرس کشتی میں چلے گئے اور فورا ہی طوفان رُک گیا۔ ذرا سوچیں کہ یہ سب دیکھ کر باقی رسولوں کو کیسا لگا ہوگا! اُنہوں نے کہا: ”آپ واقعی خدا کے بیٹے ہیں۔“
یسوع نے ایک اَور موقعے پر بھی طوفان کو روکا۔ ایک بار جب یسوع اور اُن کے رسول کشتی میں بیٹھ کر گلیل کی جھیل کے دوسری طرف جا رہے تھے تو یسوع کشتی کے پچھلے حصے میں جا کر سو گئے۔ جب وہ سو رہے تھے تو اچانک ایک بہت زبردست طوفان آیا۔ لہریں زور زور سے کشتی سے ٹکرانے لگی اور کشتی پانی سے بھر گئی۔ رسولوں نے یسوع کو جگایا اور کہا: ”اُستاد! ہم مرنے والے ہیں! ہماری مدد کریں!“ یسوع اُٹھے اور اُنہوں نے جھیل سے کہا: ”شش، چپ!“ اُسی وقت ہوا رُک گئی اور سکون ہو گیا۔ یسوع نے اپنے رسولوں سے پوچھا: ”کیا آپ میں ذرا سا بھی ایمان نہیں ہے؟“ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ”ہوا اور لہریں تک اِن کا حکم مانتی ہیں۔“ اِس سے رسولوں نے سیکھا کہ اگر وہ یسوع پر پورا بھروسا کریں گے تو اُنہیں کسی بھی چیز سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
”اگر مجھے یقین نہ ہوتا کہ مَیں جیتے جی یہوواہ کی اچھائی دیکھوں گا تو میرا کیا ہوتا؟“—زبور 27:13