باب نمبر 18
اپنی زندگی خدا کے لیے وقف کریں اور بپتسمہ لیں
1. اِس کتاب سے بائبل کورس کرنے کے بعد آپ کے ذہن میں کون سا سوال آ سکتا ہے؟
آپ نے اِس کتاب کے ذریعے پاک کلام کی بہت سی سچائیوں کے بارے میں سیکھا ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے سیکھا ہے کہ خدا نے اِنسانوں کو ہمیشہ کی زندگی دینے کا وعدہ کِیا ہے، مُردے کچھ بھی نہیں جانتے اور مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔ (واعظ 9:5؛ لُوقا 23:43؛ یوحنا 5:28، 29؛ مکاشفہ 21:3، 4) شاید آپ یہوواہ کے گواہوں کے اِجلاسوں میں جا رہے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ وہ صحیح طریقے سے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ (یوحنا 13:35) شاید آپ نے یہوواہ خدا سے اپنی دوستی مضبوط کرنے کے لیے قدم اُٹھانا شروع کر دیے ہیں اور یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ آپ اُس کی خدمت کریں گے۔ اِس لیے شاید آپ سوچیں کہ ”مجھے اَور کیا کرنا ہوگا تاکہ مَیں خدا کی خدمت کر سکوں؟“
2. ایک ایتھیوپیائی شخص بپتسمہ کیوں لینا چاہتا تھا؟
2 یسوع مسیح کے زمانے میں رہنے والے ایک ایتھیوپیائی شخص کے ذہن میں بھی ایسا ہی سوال تھا۔ اُس نے یسوع مسیح کے ایک شاگرد فِلپّس سے پوچھا: ”اب مجھے بپتسمہ لینے سے کونسی چیز روکتی ہے؟“ دراصل یسوع مسیح کے زندہ ہونے کے کچھ عرصے بعد فِلپّس اُس شخص سے ملے اور اُسے اِس بات کا ثبوت دیا کہ یسوع ہی مسیح ہیں۔ اِس بات کا اُس کے دل پر اِتنا اثر ہوا کہ وہ اُسی وقت بپتسمہ لینا چاہتا تھا۔—اعمال 8:26-36، اُردو ریوائزڈ ورشن۔
3. (الف) یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو کیا حکم دیا؟ (ب) ایک شخص کو بپتسمہ کیسے دیا جانا چاہیے؟
3 بائبل میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اگر ہم یہوواہ خدا کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بپتسمہ لینا چاہیے۔ یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو یہ حکم دیا: ”سب قوموں کے لوگوں کو شاگرد بنائیں اور اُن کو . . . بپتسمہ دیں۔“ (متی 28:19) یسوع مسیح نے خود بھی بپتسمہ لیا تھا۔ اُن کے سر پر پانی نہیں چھڑکا گیا تھا بلکہ اُنہیں پانی میں ڈبکی دی گئی تھی۔ (متی 3:16) آج بھی جب کسی شخص کو بپتسمہ دیا جاتا ہے تو اُسے پانی میں ڈبکی دی جانی چاہیے۔
4. جب آپ بپتسمہ لیں گے تو دوسرے لوگوں کو کیا پتہ چلے گا؟
4 جب آپ بپتسمہ لیں گے تو دوسرے لوگوں کو پتہ چلے گا کہ آپ دل سے خدا کے دوست بننا چاہتے ہیں اور اُس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ (زبور 40:7، 8) شاید آپ سوچیں کہ ”مجھے کیا کرنا ہوگا تاکہ مَیں بپتسمہ لے سکوں؟“
علم حاصل کریں اور ایمان لائیں
5. (الف) بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو کیا کرنا ہوگا؟ (ب) اِجلاسوں میں جانا کیوں اہم ہے؟
5 بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کو قریب سے جاننا ہوگا۔ آپ پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنے سے ایسا کر رہے ہیں۔ (یوحنا 17:3 کو پڑھیں۔) لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ پاک کلام میں کہا گیا ہے کہ ہمیں یہوواہ خدا کی مرضی کے متعلق ”صحیح علم سے معمور“ ہونا چاہیے۔ (کُلسّیوں 1:9) یہوواہ کے گواہوں کے اِجلاسوں کے ذریعے آپ یہوواہ خدا کی قربت حاصل کر سکتے ہیں۔ اِس وجہ سے آپ کو باقاعدگی سے اِن اِجلاسوں میں جانا چاہیے۔—عبرانیوں 10:24، 25۔
بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔
6. بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کے پاس بائبل کا کتنا علم ہونا چاہیے؟
6 یہوواہ خدا آپ سے یہ توقع نہیں کرتا کہ بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو پاک کلام کی ہر بات کا علم ہو۔ اُس نے ایتھیوپیائی شخص سے بھی یہ توقع نہیں کی تھی۔ (اعمال 8:30، 31) اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہمیشہ یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھتے رہیں گے۔ (واعظ 3:11) لیکن بپتسمہ لینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آپ بائبل کی بنیادی تعلیمات سے واقف ہوں اور اِنہیں قبول کریں۔—عبرانیوں 5:12۔
7. پاک کلام کی تعلیم حاصل کرنے سے آپ کو کیا فائدہ ہوا ہے؟
7 پاک کلام میں لکھا ہے: ”ایمان کے بغیر خدا کو خوش کرنا ممکن نہیں ہے۔“ (عبرانیوں 11:6) لہٰذا بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو اپنے اندر ایمان پیدا کرنا ہوگا۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ شہر کُرنتھس کے کچھ لوگوں نے یسوع مسیح کے پیروکاروں کی تعلیمات کو سنا اور پھر وہ ”ایمان لانے اور بپتسمہ لینے لگے۔“ (اعمال 18:8) اِسی طرح بائبل کی تعلیم حاصل کرنے سے آپ اِس بات پر ایمان لے آئے ہیں کہ خدا اپنے وعدے ضرور پورے کرتا ہے اور صرف یسوع مسیح کی قربانی کے ذریعے ہمیں گُناہ اور موت کی قید سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔—یشوع 23:14؛ اعمال 4:12؛ 2-تیمُتھیُس 3:16، 17۔
دوسروں کو وہ باتیں بتائیں جو آپ سیکھ رہے ہیں
8. آپ کے دل میں یہ خواہش کیسے پیدا ہوگی کہ آپ دوسروں کو بھی وہ باتیں بتائیں جو آپ سیکھ رہے ہیں؟
8 جیسے جیسے آپ بائبل کی تعلیم حاصل کریں گے اور دیکھیں گے کہ اِس پر عمل کرنے سے آپ کو کون سے فائدے ہو رہے ہیں، آپ کا ایمان مضبوط ہوگا۔ پھر آپ کے دل میں دوسروں کو بھی وہ باتیں بتانے کی خواہش پیدا ہوگی جو آپ سیکھ رہے ہیں۔ (یرمیاہ 20:9؛ 2-کُرنتھیوں 4:13) لیکن آپ کو کن لوگوں کو اِن باتوں کے بارے میں بتانا چاہیے؟
ایمان کے ذریعے آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوگی کہ آپ دوسروں کو بھی وہ باتیں بتائیں جو آپ سیکھ رہے ہیں۔
9، 10. (الف) شروع میں آپ کن لوگوں کو اُن باتوں کے بارے میں بتا سکتے ہیں جو آپ سیکھ رہے ہیں؟ (ب) اگر آپ کلیسیا کے ساتھ مل کر مُنادی کا کام کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا ہوگا؟
9 شاید آپ اپنے گھر والوں، دوستوں، پڑوسیوں یا اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو وہ باتیں بتانا چاہیں جو آپ سیکھ رہے ہیں۔ یہ اچھی بات ہے لیکن ایسا کرتے وقت ہمیشہ نرمی اور پیار سے بات کریں۔ پھر ایک وقت آئے گا جب آپ کلیسیا کے ساتھ مل کر مُنادی کا کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ جب آپ کو لگے کہ آپ ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں تو یہوواہ کے اُس گواہ سے بات کریں جو آپ کو بائبل کورس کرا رہا ہے۔ اگر وہ یہ سمجھے گا کہ آپ مُنادی کا کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپنی زندگی بائبل کے اصولوں کے مطابق گزار رہے ہیں تو آپ دونوں کلیسیا کے بزرگوں سے بات کر سکتے ہیں۔ پھر دو بزرگ آپ سے ملیں گے۔
10 بزرگ آپ سے بات کریں گے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ کیا آپ بائبل کی بنیادی تعلیمات کو سمجھتے ہیں اور اِن پر ایمان رکھتے ہیں؛ کیا آپ اپنی روزمرہ زندگی میں بائبل کے اصولوں پر عمل کرتے ہیں اور کیا آپ واقعی یہوواہ کے گواہ بننا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بزرگ کلیسیا کے تمام ارکان کی دیکھبھال کرتے ہیں اور وہ آپ کی بھی دیکھبھال کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا اُن سے بات کرنے سے نہ ہچکچائیں۔ (اعمال 20:28؛ 1-پطرس 5:2، 3) آپ سے بات کرنے کے بعد بزرگ آپ کو بتائیں گے کہ آیا آپ کلیسیا کے ساتھ مل کر مُنادی کا کام کر سکتے ہیں یا نہیں۔
11. یہ کیوں اہم ہے کہ آپ کلیسیا کے ساتھ مُنادی کا کام کرنے سے پہلے اپنی زندگی میں تبدیلیاں کریں؟
11 ہو سکتا ہے کہ بزرگ آپ کو بتائیں کہ کلیسیا کے ساتھ مُنادی کا کام کرنے سے پہلے آپ کو اپنی زندگی میں کچھ اَور تبدیلیاں کرنی پڑیں گی۔ لیکن یہ تبدیلیاں کرنا اہم کیوں ہوگا؟ کیونکہ جب ہم دوسروں کو خدا کے بارے میں بتاتے ہیں تو ہم یہوواہ خدا کے نمائندوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ اِس لیے ہمیں اپنی زندگی ایسے گزارنی چاہیے کہ یہوواہ خدا کی بڑائی ہو۔—1-کُرنتھیوں 6:9، 10؛ گلتیوں 5:19-21۔
توبہ کریں اور اپنی روِش بدلیں
12. سب لوگوں کو توبہ کرنے کی ضرورت کیوں ہے؟
12 بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو کچھ اَور بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ پطرس رسول نے کہا: ”توبہ کریں اور اپنی روِش بدلیں تاکہ آپ کے گُناہ مٹائے جائیں۔“ (اعمال 3:19) توبہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا مطلب اپنے گُناہوں پر دل سے شرمندہ ہونا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص کا چالچلن ٹھیک نہیں ہے تو یہ لازمی ہے کہ وہ بپتسمہ لینے سے پہلے توبہ کرے۔ لیکن اگر ایک شخص نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اچھے کام کرنے کی کوشش کی ہے تو بھی اُسے توبہ کرنی چاہیے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب گُناہ کرتے ہیں اور ہمیں خدا سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔—رومیوں 3:23؛ 5:12۔
13. ’اپنی روِش بدلنے‘ کا کیا مطلب ہے؟
13 کیا اپنے گُناہوں پر شرمندہ ہونا کافی ہے؟ جی نہیں۔ پطرس رسول نے کہا کہ ’اپنی روِش بدلنا‘ بھی ضروری ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کوئی غلط کام کرتے ہیں تو اِسے چھوڑ دیں اور صحیح کام کرنا شروع کریں۔ اِس سلسلے میں ایک مثال پر غور کریں۔ فرض کریں کہ آپ کسی ایسی جگہ پر جا رہے ہیں جہاں آپ پہلے کبھی نہیں گئے۔ کچھ دیر سفر کرنے کے بعد آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ کیا کریں گے؟ بےشک آپ رُکیں گے، اپنا راستہ بدلیں گے اور پھر صحیح سمت میں جائیں گے۔ اِسی طرح بائبل کی تعلیم حاصل کرنے سے شاید آپ کو پتہ چلے کہ آپ کو اپنی کچھ عادتوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ’اپنی روِش بدلنے‘ یعنی اپنی زندگی میں ضروری تبدیلیاں کرنے اور صحیح کام کرنے کے لیے تیار رہیں۔
اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کریں
کیا آپ نے یہوواہ خدا سے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ آپ اُس کی خدمت کریں گے؟
14. آپ اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کیسے کر سکتے ہیں؟
14 بپتسمہ لینے سے پہلے آپ کو ایک اَور اہم قدم اُٹھانا ہوگا۔ آپ کو اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کرنی ہوگی۔ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ دُعا میں یہوواہ خدا سے وعدہ کریں کہ آپ صرف اُس کی عبادت کریں گے اور اُس کی مرضی کو اپنی زندگی میں پہلا درجہ دیں گے۔—متی 4:10۔
15، 16. ایک شخص کے دل میں یہ خواہش کیسے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کرے؟
15 یہوواہ خدا کی خدمت کرنے کا وعدہ کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا وعدہ کرنا جس سے آپ پیار کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک لڑکا ایک لڑکی کو پسند کرنے لگتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ اُس لڑکی کی شخصیت سے واقف ہو جاتا ہے۔ پھر اُسے اُس سے محبت ہو جاتی ہے اور وہ اُس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ اُس کی زندگی کا ایک بہت بڑا فیصلہ ہوتا ہے۔ لیکن وہ اِس ذمےداری کو اُٹھانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے کیونکہ وہ اُس لڑکی سے پیار کرتا ہے۔
16 جیسے جیسے آپ یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھتے ہیں، آپ اُس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور اُس کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ پھر آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ آپ دُعا میں اُس سے وعدہ کریں کہ آپ اُس کی خدمت کریں گے۔ پاک کلام میں کہا گیا ہے کہ جو شخص یسوع مسیح کا پیروکار بننا چاہتا ہے، وہ ”اپنے لیے جینا چھوڑ دے۔“ (مرقس 8:34) اِس کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا مطلب ہے کہ آپ یہوواہ خدا کی فرمانبرداری کرنے کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیں۔ یہوواہ خدا کی مرضی پر چلنا اپنی خواہشوں اور منصوبوں کو پورا کرنے سے زیادہ اہم ہے۔—1-پطرس 4:2 کو پڑھیں۔
اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کرنے سے نہ ڈریں
17. کچھ لوگ اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کیوں نہیں کرتے؟
17 کچھ لوگ اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف نہیں کرتے کیونکہ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ خدا کی خدمت کرنے کا وعدہ توڑ نہ بیٹھیں۔ وہ یہوواہ خدا کو مایوس نہیں کرنا چاہتے۔ یا شاید وہ سوچتے ہیں کہ اگر وہ اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف نہیں کریں گے تو اُنہیں اپنے کاموں کے لیے اُسے جواب بھی نہیں دینا پڑے گا۔
18. آپ اِس خوف پر قابو کیسے پا سکتے ہیں کہ کہیں آپ یہوواہ خدا کو مایوس نہ کر دیں؟
18 یہوواہ خدا سے محبت کی بِنا پر آپ اِس خوف پر قابو پا سکتے ہیں کہ کہیں آپ اُسے مایوس نہ کر دیں۔ اِس محبت کی وجہ سے آپ اُس وعدے کو نبھانے کی پوری کوشش کریں گے جو آپ نے اُس سے کِیا ہے۔ (واعظ 5:4؛ کُلسّیوں 1:10) آپ یہ نہیں سوچیں گے کہ یہوواہ خدا کی مرضی پر چلنا بہت مشکل ہے۔ یوحنا رسول نے لکھا: ”خدا سے محبت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم اُس کے حکموں پر عمل کریں اور اُس کے حکم ہمارے لیے بوجھ نہیں ہیں۔“—1-یوحنا 5:3۔
19. آپ کو اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کرنے سے ڈرنا کیوں نہیں چاہیے؟
19 اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آپ بالکل بےعیب ہوں۔ یہوواہ خدا ہم سے کسی ایسے کام کی توقع نہیں کرتا جو ہم نہیں کر سکتے۔ (زبور 103:14) وہ صحیح کام کرنے میں آپ کی مدد کرے گا۔ (یسعیاہ 41:10) یہوواہ خدا پر پورا بھروسا رکھیں اور ’وہ آپ کی راہنمائی کرے گا۔‘—امثال 3:5، 6۔
سب کے سامنے اپنے ایمان کا اِقرار کریں
20. اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کرنے کے بعد اگلا قدم کیا ہے؟
20 کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ خود کو یہوواہ خدا کے لیے وقف کرنے کے لیے تیار ہیں؟ جب آپ اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کر لیتے ہیں تو آپ اگلا قدم اُٹھانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں یعنی بپتسمہ لینے کے لیے۔
21، 22. آپ اپنے ایمان کا ”اِقرار“ کیسے کر سکتے ہیں؟
21 اپنی کلیسیا کی بزرگوں کی جماعت کے منتظم کو بتائیں کہ آپ نے اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کر لی ہے اور اب آپ بپتسمہ لینا چاہتے ہیں۔ پھر وہ کچھ بزرگوں کا بندوبست کرے گا جو آپ سے بائبل کی بنیادی تعلیمات پر بات کریں گے اور یہ دیکھیں گے کہ آپ اِن تعلیمات کو سمجھ گئے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ بزرگ یہ سمجھیں گے کہ آپ بپتسمہ لینے کے لیے تیار ہیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ آپ یہوواہ کے گواہوں کے اگلے اِجتماع پر بپتسمہ لے سکتے ہیں۔ اُس اِجتماع پر ایک تقریر کی جائے گی جس میں بپتسمے کی اہمیت کو واضح کِیا جائے گا۔ اِس تقریر کا مقرر بپتسمے کے اُمیدواروں سے دو سوال پوچھے گا۔ اِن سوالوں کے جواب دینے سے آپ سب لوگوں کے سامنے اپنے ایمان کا ”اِقرار“ کریں گے۔—رومیوں 10:10۔
22 پھر آپ کو بپتسمہ دیا جائے گا یعنی پانی میں ڈبکی دی جائے گی۔ بپتسمہ لے کر آپ یہ ظاہر کریں گے کہ آپ نے اپنی زندگی یہوواہ خدا کے لیے وقف کر لی ہے اور اب آپ یہوواہ کے گواہ ہیں۔
بپتسمہ کس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟
23. ”باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ“ لینے کا کیا مطلب ہے؟
23 یسوع مسیح نے کہا کہ اُن کے پیروکاروں کو ”باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ“ دیا جائے گا۔ (متی 28:19 کو پڑھیں۔) ”باپ اور بیٹے اور پاک روح کے نام سے بپتسمہ“ لینے کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا مطلب ہے کہ بپتسمہ لینے والا شخص یہوواہ خدا کے اِختیار کو تسلیم کرتا ہے، اُس کے مقصد میں یسوع مسیح کے کردار کو سمجھتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ خدا اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے اپنی پاک روح کو کیسے اِستعمال کرتا ہے۔—زبور 83:18؛ متی 28:18؛ گلتیوں 5:22، 23؛ 2-پطرس 1:21۔
بپتسمہ لے کر آپ یہ ظاہر کریں گے کہ آپ خدا کی مرضی پر چلنا چاہتے ہیں۔
24، 25. (الف) بپتسمہ کس بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے؟ (ب) اگلے باب میں کس سوال کا جواب دیا جائے گا؟
24 بپتسمہ ایک بہت اہم بات کی طرف اِشارہ کرتا ہے۔ جب آپ پانی میں ڈبکی لیتے ہیں تو اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ اپنے پُرانے طرزِزندگی کے لحاظ سے مر گئے ہیں یعنی آپ نے اِسے ترک کر دیا ہے۔ اور جب آپ پانی سے باہر آتے ہیں تو آپ خدا کی مرضی کے مطابق ایک نئی زندگی کی شروعات کرتے ہیں۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب سے آپ یہوواہ خدا کی خدمت کریں گے۔ یاد رکھیں کہ آپ نے خود کو کسی اِنسان، تنظیم یا کام کے لیے وقف نہیں کِیا۔ آپ نے خود کو یہوواہ خدا کے لیے وقف کِیا ہے۔
25 جب آپ خود کو خدا کے لیے وقف کرتے ہیں تو آپ اُس کے اَور قریب ہو جاتے ہیں۔ (یعقوب 4:8) اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک شخص محض بپتسمہ لے کر نجات حاصل کر سکتا ہے۔ پولُس رسول نے لکھا کہ ”احترام اور خوف کے ساتھ نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔“ (فِلپّیوں 2:12) بپتسمہ تو نجات کی طرف پہلا قدم ہے۔ لیکن آپ یہوواہ خدا کے قریب رہنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ اِس کتاب کے آخری باب میں اِس سوال کا جواب دیا جائے گا۔