باب نمبر 1
خدا کون ہے؟
1، 2. ہمارے ذہن میں اکثر کس طرح کے سوال آتے ہیں؟
بچے بہت سے سوال پوچھتے ہیں۔ آپ اُن کے ایک سوال کا جواب دے رہے ہوتے ہیں کہ وہ دوسرا سوال پوچھ لیتے ہیں۔ آپ دوسرے سوال کا جواب دیتے ہیں تو تیسرا سوال تیار ہوتا ہے۔ یوں وہ سوال پر سوال پوچھتے ہی جاتے ہیں۔
2 چاہے ہم بچے ہوں یا بڑے، ہمارے ذہن میں بہت سے سوال آتے ہیں۔ شاید ہمارے ذہن میں ایسے سوال آئیں کہ ہم کیا کھائیں گے، کیا پہنیں گے یا کیا خریدیں گے۔ یا شاید ہم زندگی اور مستقبل کے حوالے سے اہم سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہیں۔ لیکن جب ہمیں اِن سوالوں کے تسلیبخش جواب نہیں ملتے تو ہو سکتا ہے کہ ہم جواب تلاش کرنے کی کوشش ہی چھوڑ دیں۔
3. بہت سے لوگ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ اُنہیں اپنے اہم سوالوں کے جواب نہیں مل سکتے؟
3 کیا ہمیں اپنے سوالوں کے جواب پاک کلام سے مل سکتے ہیں؟ شاید کچھ لوگ اِس سوال کا جواب ”ہاں“ میں دیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ پاک کلام کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ شاید وہ سوچتے ہیں کہ صرف مذہبی رہنما یا عالم ہی ایسے اہم سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں۔ اور کچھ لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے شرمندگی محسوس ہوتی ہے کہ اُنہیں اِن سوالوں کے جواب نہیں آتے۔ لیکن آپ کا کیا خیال ہے؟
4، 5. (الف) آپ کن سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ (ب) آپ کو اپنے سوالوں کے جواب کیوں تلاش کرتے رہنا چاہیے؟
4 ہو سکتا ہے کہ آپ ایسے سوالوں کے جواب حاصل کرنا چاہیں: ”میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟“ ”مرنے کے بعد اِنسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟“ یا ”خدا کیسی ہستی ہے؟“ عظیم اُستاد، یسوع مسیح نے کہا: ”مانگتے رہیں تو آپ کو دیا جائے گا؛ ڈھونڈتے رہیں تو آپ کو مل جائے گا؛ دروازہ کھٹکھٹاتے رہیں تو آپ کے لیے کھولا جائے گا۔“ (متی 7:7) اِس لیے تب تک ہمت نہ ہاریں جب تک آپ کو اپنے سوالوں کے تسلیبخش جواب نہ مل جائیں۔
5 اگر آپ اپنے سوالوں کے جواب ”ڈھونڈتے رہیں“ گے تو آپ کو پاک کلام سے اِن کے جواب مل جائیں گے۔ (امثال 2:1-5) اور یقین مانیں کہ پاک کلام کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اِس کی تعلیم حاصل کرنے سے آپ کی زندگی خوشگوار ہو جائے گی اور آپ کو ایک شاندار مستقبل کی اُمید ملے گی۔ آئیں، اب ایک ایسے سوال پر غور کریں جس نے بہت سے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔
کیا خدا کو ہماری فکر ہے؟
6. بہت سے لوگ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ خدا کو اُن کی فکر نہیں ہے؟
6 بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ”خدا کو ہماری فکر نہیں ہے۔ اگر اُس کو ہماری فکر ہوتی تو دُنیا کے حالات اِتنے بُرے نہ ہوتے۔“ دُنیا میں ہر طرف نفرت، جنگیں اور مصیبتیں نظر آتی ہیں۔ لوگ بیمار ہوتے ہیں، تکلیفیں اُٹھاتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ اِس وجہ سے کچھ لوگ کہتے ہیں: ”اگر خدا کو ہماری فکر ہے تو وہ ہماری تکلیفیں دُور کیوں نہیں کر دیتا؟“
7. (الف) کچھ لوگ کیوں مانتے ہیں کہ خدا ظالم ہے؟ (ب) ہم اِس بات پر یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ خدا ہماری مصیبتوں کا ذمےدار نہیں ہے؟
7 کچھ لوگ مانتے ہیں کہ خدا ظالم ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت آتی ہے تو مذہبی رہنما کہتے ہیں کہ ”خدا کی یہی مرضی تھی۔“ اِس طرح وہ خدا کو اِلزام دے رہے ہوتے ہیں۔ لیکن پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا بُرائی کا ذمےدار نہیں ہے۔ یعقوب 1:13 میں لکھا ہے کہ ”جب کوئی شخص آزمائش کا سامنا کر رہا ہو تو یہ نہ کہے کہ ”خدا مجھے آزما رہا ہے۔“ کیونکہ خدا نہ تو بُرے کام کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کو بُرے کاموں سے آزماتا ہے۔“ یہ سچ ہے کہ خدا نے ابھی تک مصیبتوں کو ختم نہیں کِیا۔ لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اِنسانوں پر مصیبتیں لاتا ہے۔ (ایوب 34:10-12 کو پڑھیں۔) آئیں، ایک مثال پر غور کریں۔
8، 9. کیا خدا کو اُن مصیبتوں کا ذمےدار ٹھہرانا صحیح ہے جو اِنسانوں پر آتی ہیں؟ مثال کے ذریعے واضح کریں۔
8 ذرا تصور کریں کہ ایک نوجوان اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا ہے۔ اُس کا باپ اُس سے بہت پیار کرتا ہے اور اُس نے اُسے اچھے فیصلے کرنا سکھایا ہے۔ لیکن پھر بیٹا اپنے باپ کی بات ماننا چھوڑ دیتا ہے اور گھر چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہ بُرے کام کرنے لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ مصیبت میں پڑ جاتا ہے۔ کیا بیٹے پر آنے والی مصیبتوں کا ذمےدار اُس کا باپ ہے کیونکہ اُس نے اپنے بیٹے کو گھر چھوڑنے سے نہیں روکا؟ بالکل نہیں۔ (لُوقا 15:11-13) اِسی طرح جب اِنسانوں نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور بُرے کام کرنے لگے تو اُس نے اُنہیں نہیں روکا۔ تو پھر کیا یہ صحیح ہوگا کہ خدا کو اُن مصیبتوں کا ذمےدار ٹھہرایا جائے جو اِنسانوں پر آتی ہیں؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا جب ہم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔
9 لیکن خدا نے ابھی تک بُرائی کو ختم کیوں نہیں کِیا؟ اِس کتاب کے باب نمبر 11 میں آپ سیکھیں گے کہ پاک کلام میں اِس سوال کا کیا جواب دیا گیا ہے۔ مگر یقین مانیں، خدا ہم سے بہت پیار کرتا ہے اور وہ ہم پر آنے والی مصیبتوں کا ذمےدار نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ صرف وہی اِن مصیبتوں کو ختم کر سکتا ہے۔—یسعیاہ 33:2۔
10. ہم یہ یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ خدا اُس سارے نقصان کی بھرپائی کر دے گا جو بُرے لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے؟
10 خدا قدوس یعنی پاک ہے۔ (یسعیاہ 6:3) اُس کا ہر کام صحیح اور بُرائی سے پاک ہوتا ہے۔ اِس لیے ہم اُس پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ لیکن اِنسانوں کے بارے میں ایسا نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ اکثر بُرے کام کرتے ہیں۔ چاہے ایک حکمران کتنا بھی نیک نیت ہو، وہ اُس نقصان کی بھرپائی نہیں کر سکتا جو بُرے لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کسی بھی اِنسان کے پاس اُتنی طاقت نہیں جتنی خدا کے پاس ہے۔ صرف وہی بُرائی کو ختم کر سکتا ہے اور وہ بہت جلد ایسا کرے گا۔ وہ اُس سارے نقصان کی بھرپائی کر دے گا جو بُرے لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔—زبور 37:9-11 کو پڑھیں۔
اِنسانوں کو تکلیف میں دیکھ کر خدا کیسا محسوس کرتا ہے؟
11. اِنسانوں کو تکلیف میں دیکھ کر خدا کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟
11 جب خدا یہ دیکھتا ہے کہ دُنیا کے حالات کتنے بُرے ہیں اور اِنسانوں کو کتنی مشکلوں کا سامنا ہے تو اُسے کیسا محسوس ہوتا ہے؟ پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”[یہوواہ] اِنصاف کو پسند کرتا ہے۔“ (زبور 37:28) لہٰذا جب اِنسانوں کے ساتھ نااِنصافی ہوتی ہے یا اُنہیں تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خدا کو بہت دُکھ ہوتا ہے۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ قدیم زمانے میں جب خدا نے دیکھا کہ زمین پر بہت زیادہ بُرائی ہے تو اُس نے ”دل میں غم کِیا۔“ (پیدایش 6:5، 6) اور خدا بدلا نہیں ہے۔ (ملاکی 3:6) پاک کلام سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خدا کو آج بھی اِنسانوں کی بہت فکر ہے۔—1-پطرس 5:7 کو پڑھیں۔
12، 13. (الف) ہم دوسروں سے محبت کیوں کرتے ہیں؟ (ب) جب ہم لوگوں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے؟ (ج) ہم یہ یقین کیوں رکھ سکتے ہیں کہ خدا نااِنصافی اور دُکھ تکلیف کو ختم کر دے گا؟
12 پاک کلام میں لکھا ہے کہ خدا نے ہمیں اپنی صورت پر بنایا ہے۔ (پیدایش 1:26) اِس کا مطلب ہے کہ خدا نے ہمیں بھی وہ خوبیاں دی ہیں جو اُس کے اندر ہیں۔ اِسی وجہ سے جب ہم کسی بےقصور شخص کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو ہمیں دُکھ ہوتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر ہمیں دُکھ ہوتا ہے تو خدا کو کتنا دُکھ ہوتا ہوگا!
پاک کلام کے مطابق سب چیزوں کو یہوواہ خدا نے بنایا ہے۔
13 پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”خدا محبت ہے۔“ (1-یوحنا 4:8) خدا جو کچھ بھی کرتا ہے، محبت کی بِنا پر کرتا ہے۔ اور چونکہ خدا محبت کرتا ہے اِس لیے اُس نے ہمارے اندر بھی محبت کرنے کی صلاحیت ڈالی ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر آپ کے پاس اِتنی طاقت ہوتی کہ آپ دُنیا سے نااِنصافی اور دُکھ تکلیف کو ختم کر سکتے تو کیا آپ ایسا کرتے؟ بےشک آپ ایسا کرتے کیونکہ آپ دوسروں سے پیار کرتے ہیں۔ تو پھر کیا خدا نااِنصافی اور دُکھ تکلیف کو ختم نہیں کرے گا؟ ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ خدا ایسا ضرور کرے گا کیونکہ وہ ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اُسے اِنسانوں سے محبت ہے۔ ہم یہ بھی یقین رکھ سکتے ہیں کہ اِس کتاب کے شروع میں خدا کے جن وعدوں کا ذکر کِیا گیا ہے، وہ ضرور پورے ہوں گے۔ لیکن اِن وعدوں پر اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے آپ کو خدا کے بارے میں مزید علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
خدا کے بارے میں علم حاصل کریں
اگر آپ کسی سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو آپ اُسے اپنا نام بتاتے ہیں۔ خدا نے پاک کلام میں ہمیں اپنا نام بتایا ہے۔
14. (الف) خدا کا نام کیا ہے؟ (ب) ہمیں کیسے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں اِسے اِستعمال کرنا چاہیے؟
14 اگر آپ کسی سے دوستی کرنا چاہتے ہیں تو آپ اُسے اپنے بارے میں سب سے پہلے کیا بتائیں گے؟ ظاہر ہے کہ آپ اُسے اپنا نام بتائیں گے۔ کیا خدا کا کوئی نام ہے؟ بہت سے مذاہب میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ خدا کا نام ”خدا“ یا ”خداوند“ ہے۔ لیکن ”خدا“ اور ”خداوند“ نام نہیں بلکہ لقب ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے ”بادشاہ“ اور ”صدر“ نام نہیں بلکہ لقب ہیں۔ خدا نے اپنے کلام میں بتایا ہے کہ اُس کا نام یہوواہ ہے۔ زبور 83:18 میں لکھا ہے: ”تُو ہی جس کا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“ پاک کلام میں خدا کا نام ہزاروں بار اِستعمال ہوا ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اُس کے نام کو جانیں اور اِسے اِستعمال کریں۔ خدا نے ہمیں اپنا نام اِس لیے بتایا ہے کہ ہم اُس کے دوست بن سکیں۔
15. نام یہوواہ کا کیا مطلب ہے؟
15 نام یہوواہ بہت وسیع مطلب رکھتا ہے۔ اِس نام کا مطلب ہے کہ خدا اپنے ہر وعدے اور اِرادے کو پورا کر سکتا ہے۔ کوئی بھی اُسے اپنے وعدوں اور اِرادوں کو پورا کرنے سے نہیں روک سکتا۔ یہ نام صرف سچے خدا کا ہی ہو سکتا ہے۔a
16، 17. (الف) یہوواہ خدا کو ’لامحدود قدرت کا مالک‘ کیوں کہا گیا ہے؟ (ب) اُسے ’ابدیت کا بادشاہ‘ کیوں کہا گیا ہے؟ (ج) اُسے خالق کیوں کہا گیا ہے؟
16 ہم نے زبور 83:18 میں پڑھا تھا کہ یہوواہ خدا کے بارے میں کہا گیا کہ ”تُو ہی . . . تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“ مکاشفہ 15:3 میں اُس کے بارے میں لکھا ہے: ”یہوواہ خدا، لامحدود قدرت کے مالک! تیرے کام شاندار اور حیرانکُن ہیں۔ ابدیت کے بادشاہ! تیری راہیں راست اور سچی ہیں۔“ اِس آیت میں یہوواہ خدا کو ’لامحدود قدرت کا مالک‘ اور ’ابدیت کا بادشاہ‘ کہا گیا ہے۔ اُسے ’لامحدود قدرت کا مالک‘ اِس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ کائنات کی سب سے طاقتور ہستی ہے۔ اور اُسے ’ابدیت کا بادشاہ‘ اِس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ سے موجود ہے۔ زبور 90:2 سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ بےشک یہ جان کر ہماری حیرت کی اِنتہا نہیں رہتی!
17 صرف یہوواہ خدا ہی خالق ہے۔ مکاشفہ 4:11 میں لکھا ہے: ”اَے یہوواہ، ہمارے خدا، تُو عظمت اور عزت اور طاقت کے لائق ہے کیونکہ تُو نے سب چیزیں بنائی ہیں اور ساری چیزیں تیری مرضی سے وجود میں آئیں اور بنائی گئیں۔“ بِلاشُبہ فرشتوں سے لے کر آسمان کے ستاروں تک اور پھلوں سے لے کر سمندر میں تیرتی مچھلیوں تک، سب چیزیں یہوواہ خدا نے ہی بنائی ہیں۔
کیا ہم یہوواہ خدا کے دوست بن سکتے ہیں؟
18. کچھ لوگ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ وہ کبھی خدا کے قریب نہیں جا سکتے؟ اور اِس بارے میں خدا کے کلام میں کیا لکھا ہے؟
18 کچھ لوگ یہوواہ خدا کی شاندار خوبیوں کے بارے میں جان کر یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ”خدا تو اِنسانوں سے بہت دُور ہے، وہ بہت بڑی ہستی ہے اور اُس کے پاس بہت زیادہ طاقت ہے تو پھر وہ ہماری فکر کیوں کرے گا؟“ لیکن کیا یہوواہ خدا یہ چاہتا ہے کہ ہم ایسا محسوس کریں؟ ہرگز نہیں۔ یہوواہ خدا ہمارے قریب آنا چاہتا ہے۔ پاک کلام میں لکھا ہے کہ ”وہ ہم میں سے کسی سے دُور نہیں۔“ (اعمال 17:27) خدا چاہتا ہے کہ آپ اُس کے قریب جائیں۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ اگر آپ اُس کے قریب جائیں گے تو وہ بھی ”آپ کے قریب آئے گا۔“—یعقوب 4:8۔
19. (الف) آپ خدا کے قریب کیسے جا سکتے ہیں؟ (ب) آپ کو یہوواہ خدا کی کون سی خوبیاں سب سے زیادہ پسند ہیں؟
19 آپ خدا کے قریب کیسے جا سکتے ہیں؟ یسوع مسیح نے کہا: ”ہمیشہ کی زندگی صرف وہ لوگ پائیں گے جو تجھے یعنی واحد اور سچے خدا کو اور یسوع مسیح کو قریب سے جانیں گے جسے تُو نے بھیجا ہے۔“ (یوحنا 17:3) پاک کلام کی تعلیم حاصل کرتے رہیں۔ اِس طرح آپ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کو جان جائیں گے اور ہمیشہ کی زندگی حاصل کر پائیں گے۔ ہم نے پہلے سیکھا ہے کہ ”خدا محبت ہے۔“ (1-یوحنا 4:16) لیکن خدا کی اَور بھی بہت سی شاندار خوبیاں ہیں۔ مثال کے طور پر پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا رحیم اور مہربان ہے، وہ غصہ کرنے میں جلدی نہیں کرتا، وہ بےحد شفیق اور وعدے کا پکا ہے۔ (خروج 34:6) وہ ”نیک اور معاف کرنے کو تیار ہے۔“ (زبور 86:5) وہ صبر سے کام لیتا ہے اور وفاداری کرتا ہے۔ (2-پطرس 3:9؛ مکاشفہ 15:4) جتنا زیادہ آپ پاک کلام کو پڑھیں گے اُتنا زیادہ آپ اُس کی شاندار خوبیوں سے واقف ہو جائیں گے۔
20، 21. اگر ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے تو ہم اُس کی قربت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟
20 لیکن اگر ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے تو ہم اُس کی قربت کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ (یوحنا 1:18؛ 4:24؛ 1-تیمُتھیُس 1:17) جب آپ پاک کلام میں یہوواہ خدا کے بارے میں پڑھتے ہیں تو وہ آپ کے لیے ایک حقیقی ہستی بن جاتا ہے۔ (زبور 27:4؛ رومیوں 1:20) جیسے جیسے آپ یہوواہ خدا کے بارے میں علم حاصل کریں گے، آپ کے دل میں اُس کے لیے محبت بڑھتی جائے گی اور آپ خود کو اُس کے قریب محسوس کریں گے۔
جتنا پیار ایک باپ اپنے بچے سے کرتا ہے، اُس سے کہیں زیادہ پیار ہمارا آسمانی باپ ہم سے کرتا ہے۔
21 آپ سمجھ جائیں گے کہ یہوواہ خدا ہمارا آسمانی باپ ہے۔ (متی 6:9) اُس نے ہمیں زندگی دی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم ایک بہترین زندگی گزاریں۔ بےشک ایک شفیق باپ اپنے بچوں کے لیے ایسا ہی چاہے گا۔ (زبور 36:9) خدا کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم یہوواہ خدا کے دوست بن سکتے ہیں۔ (یعقوب 2:23) ذرا سوچیں کہ یہ کتنی بڑی بات ہے کہ پوری کائنات کا خالق یہ چاہتا ہے کہ آپ اُس کے دوست بنیں!
22. اگر کوئی آپ کو بائبل کورس کرنے سے منع کرے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
22 ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ آپ کو بائبل کورس کرنے سے منع کریں۔ شاید وہ سوچیں کہ کہیں آپ اپنا مذہب نہ بدل لیں۔ لیکن کسی کو بھی یہ اِجازت نہ دیں کہ وہ آپ کو یہوواہ خدا کا دوست بننے سے روکے۔ بِلاشُبہ یہوواہ خدا سے اچھا دوست کوئی نہیں ہو سکتا۔
23، 24. (الف) آپ کو سوال کیوں پوچھنے چاہئیں؟ (ب) اگلے باب میں ہم کیا سیکھیں گے؟
23 بائبل کورس کے دوران شاید آپ کچھ باتوں کو نہ سمجھ پائیں۔ لیکن یسوع مسیح کی اِس بات کو یاد رکھیں کہ ہمیں چھوٹے بچوں کی طرح خاکسار ہونا چاہیے۔ (متی 18:2-4) اور بچے بہت سے سوال پوچھتے ہیں اِس لیے ہمیں بھی سوال پوچھنے سے ہچکچانا نہیں چاہیے۔ خدا چاہتا ہے کہ آپ کو اپنے سوالوں کے جواب ملیں۔ لہٰذا پوری توجہ سے بائبل کورس کریں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ جو کچھ آپ سیکھ رہے ہیں، وہ سچ ہے یا نہیں۔—اعمال 17:11 کو پڑھیں۔
24 یہوواہ خدا کے بارے میں سیکھنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ہم پاک کلام یعنی بائبل کی تعلیم حاصل کریں۔ اگلے باب میں ہم سیکھیں گے کہ بائبل کس لحاظ سے دوسری کتابوں سے فرق ہے۔
a اگر آپ کی بائبل میں نام یہوواہ نہیں ہے یا اگر آپ اِس نام کے مطلب اور تلفظ کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کتاب کے آخر میں نکتہ نمبر 1 کو دیکھیں۔