باب 33
یسعیاہ نبی کی ایک پیشگوئی کی تکمیل
جھیل کے کنارے پر بڑی بِھیڑ
یسوع مسیح نے یسعیاہ نبی کی پیشگوئی پوری کی
جب یسوع مسیح کو پتہ چلا کہ فریسی اور ہیرودیس کے حامی اُنہیں مار ڈالنے کی سازش کر رہے ہیں تو وہ اپنے شاگردوں کے ساتھ گلیل کی جھیل کے لیے روانہ ہو گئے۔ وہاں بھی بہت سے لوگ اُن کے پاس آئے۔ یہ لوگ نہ صرف گلیل سے بلکہ دُوردراز علاقوں سے بھی آئے جیسے کہ صور اور صیدا کے ساحلی شہروں سے، یروشلیم اور اِس کے جنوب میں واقع اِدومیہ سے اور دریائےاُردن کے مشرق سے۔ یسوع مسیح بہت سے لوگوں کو شفا دے رہے تھے۔ اِس لیے ہر طرف سے بیمار لوگ یسوع کو چُھونے کے لیے اُن پر چڑھنے لگے کیونکہ وہ بھی شفا پانا چاہتے تھے۔—مرقس 3:9، 10۔
رش اِتنا زیادہ تھا کہ یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ ایک چھوٹی کشتی کا بندوبست کریں تاکہ وہ اِس پر سوار ہو کر لوگوں کو تعلیم دے سکیں۔ اِس کے علاوہ وہ کشتی میں آسانی سے جھیل کے کنارے پر واقع دوسری بستیوں تک پہنچ سکتے تھے تاکہ وہاں بھی لوگوں کی مدد کریں۔
یسوع کے شاگرد متی نے لکھا کہ یسوع کے اِن کاموں سے ’وہ بات پوری ہوئی جو یسعیاہ نبی نے کہی تھی۔‘ (متی 12:17) یہ کون سی پیشگوئی تھی؟
یسعیاہ نبی نے لکھا تھا: ”دیکھو! میرا پیارا خادم جسے مَیں نے چُنا ہے اور جس سے مَیں خوش ہوں۔ مَیں اپنی روح اُس پر نازل کروں گا اور وہ قوموں کو دِکھائے گا کہ حقیقی اِنصاف کیا ہے۔ وہ نہ تو بحث کرے گا اور نہ ہی چلّائے گا۔ اُس کی آواز سڑکوں پر سنائی نہیں دے گی۔ وہ کسی جھکے ہوئے سرکنڈے کو نہیں کچلے گا اور ٹمٹماتی ہوئی بتی کو نہیں بجھائے گا جب تک کہ وہ اِنصاف قائم نہ کر دے۔ اور اُس کے نام سے قومیں اُمید لگائیں گی۔“—متی 12:18-21؛ یسعیاہ 42:1-4۔
یسوع مسیح ہی خدا کے پیارے خادم تھے جن سے خدا خوش تھا۔ اُنہوں نے لوگوں کو دِکھایا کہ حقیقی اِنصاف کیا ہے جس پر فریسیوں کی مذہبی روایتوں کی وجہ سے پردہ پڑ گیا تھا۔ فریسیوں نے جس طرح سے شریعت کی تشریح کی، اِس سے نااِنصافی کو فروغ ملا۔ مثال کے طور پر وہ سبت کے دن کسی بیمار کی مدد کرنے سے منع کرتے تھے جو کہ سراسر نااِنصافی تھی۔ یسوع مسیح نے اِنصافپسندی کے سلسلے میں خدا کا معیار واضح کِیا اور اپنے کاموں سے ثابت کِیا کہ خدا نے اپنی روح اُن پر نازل کی تھی۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے لوگوں کے کندھوں سے بےبنیاد روایتوں کا بوجھ ہٹا لیا۔ اِس وجہ سے مذہبی پیشوا یسوع مسیح کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔
مگر پیشگوئی میں درج اِس بات کا کیا مطلب تھا کہ ”وہ نہ تو بحث کرے گا اور نہ ہی چلّائے گا۔ اُس کی آواز سڑکوں پر سنائی نہیں دے گی“؟ جب یسوع مسیح شفا دیتے تھے یا کسی شخص میں سے بُرا فرشتہ نکالتے تھے تو وہ اُسے یہ تاکید بھی کرتے تھے کہ ”لوگوں کو مت بتاؤ کہ مَیں کون ہوں۔“ (مرقس 3:12) یسوع نہیں چاہتے تھے کہ سڑکوں پر اُن کا چرچا کِیا جائے یا اُن کے کاموں کو بڑھا چڑھا کر بتایا جائے اور لوگ اِس وجہ سے اُن کے پاس آئیں۔
یسوع مسیح نے اُن لوگوں کو تسلیبخش پیغام سنایا جن کی حالت ایک جھکے ہوئے سرکنڈے یا ٹمٹماتی ہوئی بتی کی طرح تھی۔ اُنہوں نے کسی جھکے ہوئے سرکنڈے کو نہیں کچلا اور ٹمٹماتی ہوئی بتی کو نہیں بجھایا۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے بڑی نرمی اور پیار سے خاکسار اور ضرورتمند لوگوں کو ہمت دی۔ واقعی، قومیں یسوع کے نام سے اُمید لگا سکتی ہیں!