سبق 14
خدا نے زمین پر ایک تنظیم کیوں قائم کی ہے؟
1. خدا نے بنیاسرائیل کو اپنی قوم کیوں بنایا؟
خدا نے ابرہام نبی کی اولاد کو ایک قوم بنایا اور اُنہیں شریعت دی۔ اُس نے اِس قوم کا نام اسرائیل رکھا اور اُنہیں یہ ذمہداری دی کہ وہ اُس کی عبادت برقرار رکھیں اور اُس کے کلام کی حفاظت کریں۔ (زبور 147:19، 20) یوں بنیاسرائیل کی وجہ سے سب قوموں کو فائدہ پہنچا۔ پیدایش 22:18 کو پڑھیں۔
خدا نے بنیاسرائیل کو اپنے گواہوں کے طور پر چُنا۔ بنیاسرائیل کی مثال سے دوسری قومیں دیکھ سکتی تھیں کہ خدا کے حکم انسان کے فائدے کے لئے ہیں۔ (استثنا 4:6) لہٰذا بنیاسرائیل کے ذریعے دوسرے لوگ بھی سچے خدا سے واقف ہو سکتے تھے۔ یسعیاہ 43:10، 12 کو پڑھیں۔
2. خدا نے سچے مسیحیوں کی کلیسیا کیوں قائم کی؟
کچھ صدیوں بعد بنیاسرائیل خدا کی خوشنودی کھو بیٹھے۔ اِس لئے یہوواہ خدا نے اُن کی جگہ مسیحی کلیسیا قائم کی۔ (متی 21:43؛ 23:37، 38) اب بنیاسرائیل کی بجائے سچے مسیحی یہوواہ کے گواہ بن گئے۔ اعمال 15:14، 17 کو پڑھیں۔
یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو تمام قوموں کو خوشخبری سنانے اور شاگرد بنانے کا کام سونپا۔ (متی 10:7، 11؛ 24:14؛ 28:19، 20) دُنیا کے اِس آخری زمانے میں یہ کام زوروں پر ہے۔ یہوواہ خدا نے تمام قوموں میں سے لاکھوں لوگوں کو اُس کی عبادت کرنے کے لئے جمع کِیا ہے۔ (مکاشفہ 7:9، 10) مسیحی کلیسیا اِس لئے قائم کی گئی تاکہ اِس کے افراد ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھائیں۔ پوری دُنیا میں اُن کے اجلاسوں پر ایک جیسی تعلیم دی جاتی ہے۔ عبرانیوں 10:24، 25 کو پڑھیں۔
3. یہوواہ کے گواہوں کی موجودہ تنظیم کیسے قائم ہوئی؟
یہوواہ کے گواہوں کی موجودہ تنظیم کا آغاز 1870ء کے لگبھگ ہوا۔ اُس وقت مسیحیوں کا ایک چھوٹا گروہ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے جمع ہونے لگا۔ وہ بائبل کی ایسی سچائیوں کو سمجھنے لگے جن پر صدیوں سے پردہ پڑا ہوا تھا۔ اُن کو پتہ تھا کہ یسوع مسیح نے مسیحی کلیسیا کو اِس لئے قائم کِیا کہ وہ خوشخبری کی مُنادی کرے۔ اِس لئے اِن مسیحیوں نے پوری دُنیا میں بادشاہت کی مُنادی کرنا شروع کِیا۔ سن 1931ء میں اُنہوں نے نام یہوواہ کے گواہ اختیار کِیا۔ اعمال 1:8؛ 2:1، 4؛ 5:42 کو پڑھیں۔
4. یہوواہ کے گواہوں کی رہنمائی کیسے کی جاتی ہے؟
پہلی صدی عیسوی میں بزرگوں کی ایک جماعت بہت سے ملکوں میں کلیسیاؤں کی رہنمائی کرتی تھی۔ یہ جماعت یسوع مسیح کو کلیسیا کا سربراہ مانتی تھی۔ (اعمال 16:4، 5) آجکل بھی تجربہکار بزرگوں کی ایک جماعت یہوواہ کے گواہوں کی رہنمائی کرتی ہے۔ اِس جماعت کو گورننگ باڈی کہا جاتا ہے۔ وہ پوری دُنیا میں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ کے دفتروں کی نگرانی کرتی ہے۔ اِن دفتروں میں 600 سے زیادہ زبانوں میں کتابوں اور رسالوں کا ترجمہ کِیا جاتا ہے، اِن کو چھاپا جاتا ہے اور کلیسیاؤں تک پہنچایا جاتا ہے۔ اِس طرح گورننگ باڈی 1 لاکھ سے زیادہ کلیسیاؤں کو بائبل سے ہدایات اور حوصلہافزائی دیتی ہے۔ ہر کلیسیا میں نگہبان ہیں جو بڑی محبت سے خدا کے گلّے کی نگہبانی کرتے ہیں۔ 1-پطرس 5:2، 3 کو پڑھیں۔
یسوع مسیح کے رسولوں کی طرح یہوواہ کے گواہ بھی گھرگھر جا کر خوشخبری کی مُنادی کرتے ہیں۔ (اعمال 20:20) وہ ایسے لوگوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں جو سچائی سے محبت رکھتے ہیں۔ لیکن یہوواہ کے گواہ صرف ایک تنظیم نہیں ہیں بلکہ وہ ایک بڑے خاندان کی طرح ہیں۔ وہ یہوواہ خدا کو اپنا باپ سمجھتے ہیں اور آپس میں اِتنی محبت رکھتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کو بہنبھائی خیال کرتے ہیں۔ (2-تھسلنیکیوں 1:3) چونکہ یہوواہ خدا کے بندے اُسے خوش کرتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرتے ہیں اِس لئے وہ واقعی مبارک لوگ ہیں۔ زبور 33:12؛ اعمال 20:35 کو پڑھیں۔