دسواں باب
ازدواجی زندگی کی پائیدار بنیاد ڈالیں
”تہری ڈوری جلد نہیں ٹوٹتی۔“—واعظ ۴:۱۲۔
۱، ۲. (ا) جب کسی کی شادی ہوتی ہے تو ہمارے دل میں کونسے سوال آتے ہیں اور اِس کی کیا وجہ ہے؟ (ب) ہم اِس باب میں کن سوالوں پر غور کریں گے؟
کیا آپ شادیوں پر جانا پسند کرتے ہیں؟ بہتیرے لوگوں کو شادی میں شریک ہونا اچھا لگتا ہے کیونکہ یہ بڑی خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ اِس موقعے پر دُلہادُلہن بہت ہی پیارے لگتے ہیں، اُن کے دلوں میں بڑی اُمنگیں ہوتی ہیں اور وہ بہت سی خوشیوں کی اُمید رکھتے ہیں۔
۲ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں بہت سی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں۔ جب ہم شادی کے موقعے پر دُلہادُلہن کو دیکھتے ہیں تو ہم خوش تو ہوتے ہیں لیکن اِس کے ساتھساتھ ہمارے دل میں یہ سوال اُٹھتے ہیں: ”کیا اِن کی ازدواجی زندگی خوشگوار ہوگی؟ کیا یہ دونوں زندگیبھر ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے؟“ یہ تو وقت ہی بتا سکے گا۔ لیکن اگر شوہر اور بیوی ازدواجی زندگی کے سلسلے میں خدا کی ہدایات پر عمل کریں گے تو اُن کی زندگی خوشگوار رہے گی۔ (امثال ۳:۵، ۶) اِن ہدایات پر عمل کرنے سے شوہر اور بیوی خدا کی محبت میں قائم رہ سکیں گے۔ آئیں اب ہم اِن چار سوالوں پر غور کریں: شادی کرنے کی واجب وجوہات کیا ہیں؟ اگر آپ شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں تو کس قسم کا شخص آپ کے لئے اچھا جیونساتھی ثابت ہوگا؟ آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ ازدواجی زندگی کی ذمہداریوں کو اچھی طرح سے نبھانے کے قابل ہوں؟ شوہر اور بیوی اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟ بائبل میں اِن تمام سوالوں کا جواب پایا جاتا ہے۔
شادی کرنے کی واجب وجوہات
۳. مسیحیوں کو نامناسب وجوہات کی بِنا پر شادی کیوں نہیں کرنی چاہئے؟
۳ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ حقیقی خوشی حاصل کرنے کے لئے شادی کرنا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ذرا سوچیں: یسوع مسیح کنوارا تھا۔ اُس نے مشورہ دیا کہ جو لوگ کنوارے رہ سکتے ہیں، وہ خدا کی بادشاہت کی خاطر شادی نہ کریں۔ (متی ۱۹:۱۰-۱۲) پولس رسول نے بھی شادی نہ کرنے کے فائدے بیان کئے۔ (۱-کرنتھیوں ۷:۳۲-۳۵) غور کریں کہ یسوع مسیح اور پولس رسول نے شادی کرنے سے منع نہیں کِیا۔ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ ”بیاہ کرنے سے منع“ کرنا ”شیاطین کی تعلیم“ میں شامل ہے۔ (۱-تیمتھیس ۴:۱-۳) البتہ جو شخص کنوارا رہتا ہے، وہ یہوواہ خدا کی خدمت کرنے پر پوری توجہ دے سکتا ہے۔ اِس لئے نامناسب وجوہات کی بِنا پر شادی کرنا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر کئی لوگ محض اِس لئے شادی کرتے ہیں کیونکہ رشتہدار یا دوست اُن پر دباؤ ڈالتے ہیں۔
۴. اگر والدین کی ازدواجی زندگی خوشگوار ہو تو بچے کس قسم کے ماحول میں پرورش پائیں گے؟
۴ آئیں دیکھیں کہ شادی کرنے کی کچھ مناسب وجوہات کیا ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا شادی کا بانی ہے۔ (پیدایش ۲:۱۸) اِس لئے شادی کرنے کے بھی فائدے ہوتے ہیں اور یہ خوشیاں لا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ اِس لئے شادی کرتے ہیں کیونکہ وہ اولاد کی خواہش رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بچوں کے لئے یہ بہت اہم ہے کہ گھر کا ماحول پُرسکون ہو اور اُن کی تربیت پیار سے کی جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا اگر شوہر اور بیوی کے آپس کے تعلقات اچھے ہوں۔ (زبور ۱۲۷:۳؛ افسیوں ۶:۱-۴) لیکن شادی کرنے کی اَور بھی مناسب وجوہات ہوتی ہیں۔
۵، ۶. (ا) واعظ ۴:۹-۱۲ میں قریبی دوستی کے کونسے فائدے بتائے گئے ہیں؟ (ب) میاںبیوی کیا کر سکتے ہیں تاکہ اُن کا بندھن تہری ڈوری کی طرح ہو؟
۵ آئیں ذرا واعظ ۴:۹-۱۲ پر غور کریں جہاں لکھا ہے: ”ایک سے دو بہتر ہیں کیونکہ اُن کی محنت سے اُن کو بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ گِریں تو ایک اپنے ساتھی کو اُٹھائے گا لیکن اُس پر افسوس جو اکیلا ہے جب وہ گِرتا ہے کیونکہ کوئی دوسرا نہیں جو اُسے اُٹھا کھڑا کرے۔ پھر اگر دو اکٹھے لیٹیں تو گرم ہوتے ہیں پر اکیلا کیونکر گرم ہو سکتا ہے؟ اور اگر کوئی ایک پر غالب ہو تو دو اُس کا سامنا کر سکتے ہیں اور تہری ڈوری جلد نہیں ٹوٹتی۔“
۶ اِن آیات میں قریبی دوستوں کی اہمیت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ظاہری بات ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جو دوستی ہوتی ہے، یہ سب سے قریبی دوستی ہوتی ہے۔ میاںبیوی ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے دُکھسُکھ میں شریک ہوتے ہیں اور اُنہیں شادی کے بندھن میں تحفظ بھی فراہم ہوتا ہے۔ لیکن اُن کا بندھن اَور بھی مضبوط بن سکتا ہے۔ وہ کیسے؟ جیسا کہ واعظ ۴:۹-۱۲ سے ظاہر ہوتا ہے، دو لڑیوں کی ڈوری مضبوط تو ہوتی ہے لیکن تین لڑیوں کی ڈوری اِس سے بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ اِسی طرح اگر میاںبیوی یہوواہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تو خدا اُن کے بندھن میں شامل ہوگا۔ یوں اُن کا بندھن تہری ڈوری کی طرح ہوگا اور آسانی سے ٹوٹ نہیں سکے گا۔
۷، ۸. (ا) پولس رسول نے ایسے کنوارے مسیحیوں کو کونسا مشورہ دیا جنہیں اپنی جنسی خواہشات پر قابو پانا مشکل لگتا ہے؟ (ب) بائبل میں شادی کے سلسلے میں کونسی حقیقت بیان کی گئی ہے؟
۷ خدا کے کلام میں مرد اور عورت کو صرف شادی کے بندھن میں اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ میاںبیوی ایک دوسرے کی جنسی ضروریات کو پورا کرنے سے خوشی حاصل کر سکتے ہیں۔ (امثال ۵:۱۸) عام طور پر جنسی خواہشات نوجوانی میں زور پکڑتی ہیں جب ایک شخص ازدواجی زندگی کی ذمہداریوں کو نبھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ لیکن کبھیکبھار زندگی کے اِس مرحلے سے گزرنے کے بعد بھی ایک شخص میں یہ خواہشات بہت زوردار ہوتی ہیں۔ اُس کے لئے اِن خواہشات پر قابو پانا مشکل ہو سکتا ہے اور وہ کوئی نہ کوئی غلط کام کرنے کے خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اِس لئے پولس رسول نے کنوارے لوگوں کو یہ مشورہ دیا: ”اگر ضبط نہ کر سکیں تو بیاہ کر لیں کیونکہ بیاہ کرنا [شہوت میں] مست ہونے سے بہتر ہے۔“—۱-کرنتھیوں ۷:۹؛ یعقوب ۱:۱۵۔
۸ ایک شخص چاہے کسی بھی وجہ سے شادی کرنے کی خواہش رکھے لیکن اُسے اِس حقیقت کو مان لینا چاہئے کہ جو لوگ بیاہ کرتے ہیں وہ ”جسمانی تکلیف پائیں گے۔“ (۱-کرنتھیوں ۷:۲۸) شادیشُدہ لوگوں کو کچھ ایسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جن سے کنوارے لوگ آزاد ہوتے ہیں۔ لیکن اگر آپ شادی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کیا کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہ ہو؟ سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ آپ جیونساتھی کا انتخاب کرتے وقت سوچسمجھ کر کام لیں۔
جیونساتھی کا انتخاب
۹، ۱۰. (ا) پولس رسول نے بےایمانوں کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے سے کیسے خبردار کِیا؟ (ب) بےایمانوں سے شادی نہ کرنے کی ہدایت کو نظرانداز کرنے کا انجام اکثر کیا ہوتا ہے؟
۹ پولس رسول نے خدا کے الہام سے ایک ایسا اہم اصول بتایا جو جیونساتھی کا انتخاب کرتے وقت ہمارے کام آئے گا۔ اُس نے لکھا: ”بےایمانوں کے ساتھ ناہموار جُوئے میں نہ جتو۔“ (۲-کرنتھیوں ۶:۱۴) کسان جانتے ہیں کہ اگر دو ایسے جانوروں کو ایک ہی جُوئے میں جُوتا جائے جو قد اور طاقت کے لحاظ سے بہت فرق ہیں تو دونوں جانوروں کو تکلیف ہوگی۔ اِسی طرح اگر خدا کا ایک خادم کسی ایسے شخص کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جائے جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتا تو اُن کے درمیان کھچاؤ اور کشیدگی پیدا ہوگی۔ اگر اُن دونوں میں سے ایک خدا کی محبت میں قائم رہنا چاہتا ہے اور دوسرے کو اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں تو وہ بہت سے اہم معاملات میں فرق نظریے رکھیں گے۔ یوں اُن میں بہت سے مسئلے پیدا ہوں گے۔ اِس وجہ سے پولس رسول نے یہوواہ خدا کے خادموں کو ”صرف خداوند میں“ شادی کرنے کی تاکید کی۔—۱-کرنتھیوں ۷:۳۹۔
۱۰ بعض کنوارے مسیحیوں کا خیال ہے کہ اُن سے تنہائی برداشت نہیں ہوتی۔ اِس لئے وہ کسی ایسے شخص سے شادی کر لیتے ہیں جو یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتا۔ ایسا کرنے سے وہ بائبل کی نصیحت کو نظرانداز کرتے ہیں۔ لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی شادیوں کا انجام دُکھ اور تکلیف ہوتا ہے۔ چونکہ ایسے مسیحیوں کا جیونساتھی خدا کی خدمت میں اُن کے ساتھ شریک نہیں ہوتا اِس لئے وہ خود کو پہلے سے بھی زیادہ تنہا محسوس کرتے ہیں۔ خوشی کی بات ہے کہ ہزاروں کنوارے مسیحی خدا کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اُس کے وفادار رہتے ہیں۔ (زبور ۳۲:۸) اُنہوں نے یہوواہ خدا کے ایک خادم ہی سے شادی کرنے کا عزم کِیا ہے، چاہے اُنہیں کچھ عرصے تک کنوارا کیوں نہ رہنا پڑے۔
۱۱. آپ ایک اچھے جیونساتھی کا انتخاب کیسے کر سکتے ہیں؟ (صفحہ ۱۱۴ پر بکس کو بھی دیکھیں۔)
۱۱ البتہ ہر ایسا شخص جو یہوواہ خدا کی عبادت کرتا ہے آپ کے لئے اچھا جیونساتھی ثابت نہیں ہوگا۔ اگر آپ شادی کرنا چاہتے ہیں تو کسی ایسے شخص کا انتخاب کریں جس کی شخصیت اور مزاج آپ کی شخصیت اور مزاج سے ہمآہنگ ہو۔ اِس بات کا بھی خیال رکھیں کہ وہ شخص خدا سے گہری محبت رکھتا ہو اور خدا کی خدمت کے سلسلے میں آپ جیسے ارادے رکھتا ہو۔ دیانتدار نوکر جماعت نے اِس موضوع پر بہت سے مضامین شائع کئے ہیں۔ اِن پر غور کریں اور خدا سے دُعا کریں کہ وہ آپ کو جیونساتھی کے انتخاب کے سلسلے میں اچھا فیصلہ کرنے کی توفیق دے۔a—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
۱۲. (ا) کئی ممالک میں کونسا رواج پایا جاتا ہے؟ (ب) والدین اِس سلسلے میں کس کی مثال سے سیکھ سکتے ہیں؟
۱۲ کئی ممالک میں یہ رواج ہے کہ والدین اپنے بچوں کے لئے جیونساتھی کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایسے ممالک میں لوگوں کا خیال ہے کہ والدین زیادہ دانشمند اور تجربہکار ہیں اِس لئے وہ اپنے بچوں کے لئے اچھے جیونساتھی کا انتخاب کریں گے۔ جو والدین اِس رواج پر عمل کرتے ہیں وہ ابرہام کی مثال سے سیکھ سکتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ابرہام نے اپنے خادم کو بھیجا تاکہ وہ اضحاق کے لئے بیوی کا انتخاب کرے۔ ابرہام نے یہ شرط نہیں رکھی تھی کہ لڑکی کے خاندان کو دولتمند ہونا چاہئے اور اُونچا رُتبہ رکھنا چاہئے۔ اِس کی بجائے وہ چاہتا تھا کہ اضحاق ایک ایسی لڑکی سے شادی کرے جو یہوواہ خدا کی عبادت کرتی ہے۔ (پیدایش ۲۴:۳، ۶۷) اگر والدین ابرہام کی اِس مثال پر عمل کرتے ہیں تو اُن کے بچوں کی ازدواجی زندگی عموماً خوشگوار ہوتی ہے۔b
ازدواجی زندگی کی ذمہداریاں
۱۳-۱۵. (ا) جب ایک جوان آدمی شادی کرنے کا سوچتا ہے تو اُسے امثال ۲۴:۲۷ پر کیوں غور کرنا چاہئے؟ (ب) ایک جوان عورت ازدواجی زندگی کی ذمہداریاں اُٹھانے کے لئے تیاری کیسے کر سکتی ہے؟
۱۳ شاید آپ اِس لئے شادی کرنے کا سوچ رہے ہوں کیونکہ آپ ایک ساتھی کی قربت یا پھر اولاد کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن خود سے پوچھیں: ”کیا مَیں واقعی ازدواجی زندگی کی ذمہداریوں کو پورا کرنے کے قابل ہوں؟“ بائبل میں شوہر اور بیوی کی ذمہداریاں بتائی گئی ہیں۔ ذرا اِن پر غور کریں۔
۱۴ جب ایک جوان آدمی شادی کرنے کا سوچتا ہے تو اُسے بائبل کے اِس اصول پر غور کرنا چاہئے: ”اپنا کام باہر تیار کر۔ اُسے اپنے لئے کھیت میں درست کر لے اور اُس کے بعد اپنا گھر بنا۔“ (امثال ۲۴:۲۷) ’اپنا گھر بنانے‘ سے مُراد شادی کرنا ہے۔ پُرانے زمانے میں ایک شخص تب ہی شادی کر سکتا تھا جب وہ بیوی اور بچوں کی ضروریاتِزندگی پوری کرنے کے قابل تھا۔ اکثر اُسے کھیتوں میں محنت کر کے روزی کمانی پڑتی تھی۔ یہی اصول آج بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو آدمی شادی کرنا چاہتا ہے اُسے بیویبچوں کی ضروریات پوری کرنے کو تیار ہونا چاہئے۔ جب تک وہ جسمانی طور پر اِس قابل ہے اُسے روزی کمانے کے لئے محنت کرنی پڑے گی۔ خدا کے کلام میں ظاہر کِیا گیا ہے کہ ایک آدمی جو اپنے گھرانے کی جسمانی اور روحانی ضروریات کو پورا نہیں کرتا اور اُن سے محبت سے پیش نہیں آتا، وہ بےایمانوں سے بدتر ہے۔—۱-تیمتھیس ۵:۸۔
۱۵ جو عورت شادی کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اُسے بھی بڑی ذمہداریاں اُٹھانے کو تیار ہونا چاہئے۔ بائبل میں ایسی سگھڑ بیوی کے ہنر اور خوبیوں کا ذکر ہے جو اپنے شوہر کا بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ (امثال ۳۱:۱۰-۳۱) اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیوی کے کندھوں پر بھاری ذمہداریاں ہوتی ہیں۔ کئی مرد اور عورتیں ازدواجی زندگی کی ذمہداریوں کو پورا کرنے کے قابل نہیں ہوتے لیکن پھر بھی شادی کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل خودغرض ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے ہونے والے جیونساتھی کی بہتری کا نہیں سوچتے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ایک شخص شادی کرنے سے پہلے ازدواجی زندگی کے بارے میں خدا کے اصولوں کو اچھی طرح سے سمجھ لے۔ آئیں اِن میں سے کچھ پر غور کریں۔
۱۶، ۱۷. جب ایک مسیحی شادی کرنے کا سوچتا ہے تو اُسے بائبل کے کن اصولوں پر غور کرنا چاہئے؟
۱۶ شادی کرنے سے پہلے ایک شخص کو سمجھ لینا چاہئے کہ خدا شوہر اور بیوی سے کونسی توقعات رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک مسیحی مرد کو سمجھ لینا چاہئے کہ اپنے گھرانے کی سربراہی کرنے میں کیا کچھ شامل ہے۔ سربراہ کے طور پر اُسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے بیویبچوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ اِس کی بجائے اُسے یسوع مسیح کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنے گھرانے کی سربراہی کرنی چاہئے۔ (افسیوں ۵:۲۳) ایک مسیحی عورت کو سمجھ لینا چاہئے کہ خدا بیویوں سے کن باتوں کی توقع رکھتا ہے۔ کیا وہ اِس بات سے واقف ہے کہ شادی کرنے پر وہ اپنے ”شوہر کی شریعت“ کی پابند ہو جائے گی؟ (رومیوں ۷:۲) یوں تو ایک مسیحی عورت یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کی شریعت کی پابند ہوتی ہے۔ (گلتیوں ۶:۲) لیکن جب وہ شادی کرتی ہے تو اُس کا شوہر بھی اُس پر اختیار رکھتا ہے۔ کیا وہ ایک ایسے شخص کے تابع رہنے کو تیار ہے جو انسان ہونے کے ناطے غلطیاں کرے گا؟ اگر ایک مسیحی عورت کو یہ بات گوارا نہیں ہے تو بہتر ہے کہ وہ شادی نہ کرے۔
۱۷ ایک شخص کو اِس بات سے واقف ہونا چاہئے کہ جب وہ شادی کرے گا تو اُسے اپنے جیونساتھی کے فائدے کا خیال رکھنا ہوگا۔ (فلپیوں ۲:۴) یہ بات اُس اصول سے ظاہر ہوتی ہے جسے پولس رسول نے ازدواجی زندگی کے سلسلے میں بیان کِیا تھا۔ اُس نے خدا کے الہام سے لکھا: ”تُم میں سے بھی ہر ایک اپنی بیوی سے اپنی مانند محبت رکھے اور بیوی اِس بات کا خیال رکھے کہ اپنے شوہر سے ڈرتی رہے“ یعنی دل سے اُس کا احترام کرے۔ (افسیوں ۵:۲۱-۳۳) پولس رسول جانتا تھا کہ ہر شوہر یہ چاہتا ہے کہ بیوی اُس کا احترام کرے۔ اِسی طرح ہر بیوی یہ چاہتی ہے کہ اُس کا شوہر اُس سے پیار کرے۔ ایک دوسرے کی اِس خواہش کو پورا کرنے سے میاںبیوی ایک دوسرے کے فائدے کا خیال رکھ رہے ہوں گے۔
جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے کے لئے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں تو اُنہیں کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ لے جانا چاہئے
۱۸. جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو اُنہیں اپنے جذبات پر قابو کیوں رکھنا چاہئے؟
۱۸ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو بہتر طور پر جاننے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ اِس دوران اُنہیں اِس بات کا اندازہ لگانا چاہئے کہ آیا وہ ایک دوسرے کے لئے اچھے جیونساتھی ثابت ہوں گے یا نہیں۔ لیکن اِس کے ساتھساتھ اُنہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو اُن میں جنسی کشش پیدا ہوتی ہے۔ اگر وہ ایسے جذبات پر قابو نہیں رکھیں گے تو وہ کوئی غلط کام کرنے کے خطرے میں ہوں گے۔ جب دو لوگ واقعی ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں تو وہ اپنے ساتھی کو کوئی ایسی حرکت کرنے پر نہیں اُکسائیں گے جس سے وہ یہوواہ خدا کی خوشنودی کھو بیٹھے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۴:۶) لہٰذا جب لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں تو اُنہیں خود پر قابو رکھنا چاہئے۔ خود پر قابو رکھنا ایک ایسی خوبی ہے جو زندگیبھر ہمارے کام آئے گی چاہے ہم شادی کریں یا نہ کریں۔
اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب بنائیں
۱۹، ۲۰. دُنیا کے برعکس مسیحیوں کو شادی کی بندھن کے بارے میں کیسا نظریہ رکھنا چاہئے؟ تشبیہ دے کر واضح کریں۔
۱۹ میاںبیوی کی ازدواجی زندگی تب ہی کامیاب رہے گی اگر وہ اپنے عہدوپیمان کو پورا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ فلموں اور کہانیوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ہیرو اور ہیروئن کی شادی ہو جاتی ہے تو فلم یا کہانی ختم ہو جاتی ہے۔ یوں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ شادی کرنے سے وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے ہیں۔ لیکن دراصل شادی کرنا منزل نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ شادی کا بندھن پوری زندگی کے لئے رہے۔ (پیدایش ۲:۲۴) افسوس کی بات ہے کہ آجکل بہت سے لوگ شادی کے بارے میں خدا کا نظریہ نہیں رکھتے ہیں۔ کئی ممالک میں لوگ کہتے ہیں کہ شادی کرنا دو رسیوں کو گِرہ باندھ کر ایک کرنے کی طرح ہوتا ہے۔ البتہ بہتیرے لوگوں کا خیال ہے کہ جس طرح گِرہ کو آسانی سے کھولا جا سکتا ہے اِسی طرح شادی کے بندھن کو بھی آسانی سے توڑا جا سکتا ہے۔
۲۰ آجکل کئی لوگ شادی کو تھوڑے ہی عرصے کا بندھن خیال کرتے ہیں۔ وہ شادی تو کر لیتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے اُنہیں فائدہ حاصل ہوتا ہے لیکن جونہی مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ اِس بندھن کو توڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ البتہ یاد رکھیں کہ بائبل میں شادی کے بندھن کو تین لڑیوں کی ڈوری سے تشبیہ دی گئی ہے۔ کئی ترجموں میں اِسے ”رسی“ بھی کہا گیا ہے۔ جو رسیاں بہری جہازوں پر استعمال ہوتی ہیں وہ اتنی مضبوط ہوتی ہیں کہ وہ تیز طوفانوں میں بھی نہیں ٹوٹتیں۔ اِسی طرح یہوواہ خدا چاہتا ہے کہ شادی کا بندھن اتنا مضبوط ہو کہ وہ کبھی نہ ٹوٹے۔ یاد رکھیں کہ یسوع مسیح نے میاںبیوی کے بارے میں کہا تھا: ”جسے خدا نے جوڑا ہے اُسے آدمی جُدا نہ کرے۔“ (متی ۱۹:۶) آپ کو بھی ایسا ہی نظریہ رکھنا چاہئے۔ پھر آپ شادی کے بندھن کو کبھی بوجھ نہیں خیال کریں گے۔
۲۱. شوہر اور بیوی یہوواہ خدا کی مثال سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
۲۱ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی خوبیوں پر توجہ دینی چاہئے نہ کہ ایک دوسرے کی خامیوں پر۔ یوں اُن کی ازدواجی زندگی خوشگوار اور پُرسکون رہے گی۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا ہماری خوبیوں کو خاطر میں لاتا ہے نہ کہ ہماری خامیوں کو۔ زبورنویس نے لکھا: ”اَے [یاہ]! اگر تُو بدکاری کو حساب میں لائے تو اَے [یہوواہ]! کون قائم رہ سکے گا؟“ (زبور ۱۳۰:۳) شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی قدر کرنی چاہئے اور ایک دوسرے کو معاف کرنے کو تیار رہنا چاہئے۔—کلسیوں ۳:۱۳۔
۲۲، ۲۳. ابرہام اور سارہ نے شادیشُدہ جوڑوں کے لئے کونسی مثال قائم کی؟
۲۲ میاںبیوی کیا کر سکتے ہیں تاکہ اُن کا بندھن پائیدار اور مضبوط رہے؟ اِس سلسلے میں ابرہام اور سارہ کی مثال پر غور کریں۔ اُنہیں بھی زندگی میں مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ابرہام اپنے گھروالوں کے ساتھ اُور نامی ترقییافتہ شہر میں ایک آرامدہ گھر میں رہ رہا تھا۔ لیکن پھر جب سارہ کی عمر تقریباً ۶۰ سال تھی تو ابرہام نے فیصلہ کِیا کہ وہ اِس آرامدہ زندگی کو چھوڑ کر آئندہ بیابان میں خیموں میں رہیں گے۔ ذرا تصور کریں کہ ایسی زندگی کس قدر مشکل تھی۔ لیکن اِس کے باوجود سارہ نے اپنے شوہر کے ساتھ تعاون کِیا اور اُس کی تابعدار رہی۔ سارہ اپنے شوہر کے لئے اچھی مددگار ثابت ہوئی کیونکہ اُس نے ابرہام کے منصوبوں کو کامیاب بنانے کی بھرپور کوشش کی۔ وہ محض دکھاوے کے لئے نہیں بلکہ دل سے اپنے شوہر کا احترام کرتی تھی۔ خدا کے کلام میں بتایا گیا ہے کہ سارہ ”اپنے دل میں“ اپنے شوہر کو خداوند کہتی تھی۔c—پیدایش ۱۸:۱۲؛ ۱-پطرس ۳:۶۔
۲۳ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ابرہام اور سارہ ہر معاملے میں متفق تھے۔ ایک بار سارہ نے ایک تجویز پیش کی لیکن اُس کی بات ابرہام کو ”نہایت بُری معلوم ہوئی۔“ البتہ یہوواہ خدا کے حکم پر ابرہام نے اپنی بیوی کی بات مان لی۔ اِس کے نتیجے میں اُن کے خاندان کو بہت سی برکات حاصل ہوئیں۔ (پیدایش ۲۱:۹-۱۳) چاہے شوہر اور بیوی کتنے ہی سال سے ازدواجی بندھن میں بندھے ہوں وہ ابرہام اور سارہ کی مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
۲۴. شادیشُدہ جوڑے خدا کی بڑائی کیسے کر سکتے ہیں؟
۲۴ مسیحی کلیسیا میں ہزاروں ایسے شادیشُدہ جوڑے پائے جاتے ہیں جن کی ازدواجی زندگی مثالی ہے۔ بیویاں دل سے اپنے شوہر کا احترام کرتی ہیں اور شوہر اپنی بیوی کے ساتھ محبت اور عزت سے پیش آتے ہیں۔ ایسے جوڑے اپنی زندگی میں خدا کی خدمت کو پہلا درجہ دیتے ہیں۔ اگر آپ شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں تو سوچسمجھ کر جیونساتھی کا انتخاب کریں اور ایسی خوبیاں پیدا کریں جن سے آپ ازدواجی زندگی کی ذمہداریوں کو پورا کرنے کے قابل ہوں گے۔ جب آپ شادی کرتے ہیں تو اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کی پوری کوشش کریں تاکہ یہوواہ خدا کی بڑائی ہو۔ اِس طرح آپ اور آپ کا جیونساتھی یہوواہ خدا کی محبت میں قائم رہیں گے۔
a کتاب خاندانی خوشی کا راز کے دوسرے باب کو دیکھیں۔ اِس کتاب کو یہوواہ کے گواہوں نے شائع کِیا ہے۔
b قدیم زمانے میں خدا کے کئی خادم ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے تھے۔ یہوواہ خدا نے اِس رواج کو قائم تو نہیں کِیا تھا لیکن اُس نے موسیٰ کی شریعت میں اِس رواج کے سلسلے میں قوانین عائد کئے تھے۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ خدا مسیحیوں کو ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔—متی ۱۹:۹؛ ۱-تیمتھیس ۳:۲۔
c اُردو بائبل کے مطابق سارہ نے پیدایش ۱۸:۱۲ میں اپنے شوہر کو دل میں ”میرا خاوند“ کہا تھا۔ لیکن ۱-پطرس ۳:۶ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُس نے دراصل ابرہام کو ”خداوند“ کہا تھا۔