پانچواں باب
فدیہ خدا کی طرف سے ایک بیشقیمت تحفہ
فدیہ کیا ہے؟
خدا نے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا؟
فدیہ آپ کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے؟
آپ فدیے کے لئے کیسے قدر دکھا سکتے ہیں؟
۱، ۲. (ا) ایک تحفے کی اہمیت کس بات پر منحصر ہے؟ (ب) ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ یسوع مسیح کی جان کی قربانی ایک نہایت ہی قیمتی تحفہ ہے؟
کیا آپ کو کبھی ایک ایسا تحفہ ملا ہے جو آپ کی نظروں میں بہت اہمیت رکھتا ہے؟ ایسے تحفے کی اہمیت اِس کی قیمت پر منحصر نہیں ہے۔ یہ تحفہ آپ کی نظروں میں اس لئے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ آپ کے لئے خوشی کا باعث بنا ہے یا پھر یہ آپ کی کسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
۲ خدا نے ایک ایسا ہی تحفہ انسانوں کو دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہوواہ خدا نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ لیکن یہوواہ خدا نے ہمیں ایک ایسا تحفہ بھی دیا ہے جو باقی ساری نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ تحفہ یسوع مسیح کی جان کی قربانی ہے جو اُس نے فدیے کے طور پر دی۔ (متی ۲۰:۲۸) ہم اِس باب میں دیکھیں گے کہ یہ قربانی اِس لئے ایک نہایت ہی قیمتی تحفہ ہے کیونکہ یہ آپ کے لئے خوشی کا باعث بن سکتی ہے اور آپ کی ایک خاص ضرورت کو پورا بھی کر سکتی ہے۔ اس قربانی کا بندوبست کرنے سے یہوواہ خدا نے آپ کے لئے اپنی محبت کا اظہار کِیا ہے۔
فدیہ کیا ہے؟
۳. یسوع مسیح کی جان کی قربانی کے ذریعے خدا نے کس بات کا انتظام کِیا؟ اس قیمتی تحفے کی قدر کرنے کے لئے ہمیں کس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے؟
۳ یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کی جان کی قربانی کے ذریعے گُناہوں کی معافی اور موت سے چھٹکارے کا انتظام کِیا ہے۔ چونکہ اِس قربانی کی قیمت کی بِنا پر ہمیں مخلصی یعنی رِہائی ملتی ہے اِس لئے اس قیمت کو فدیہ کہا جاتا ہے۔ (افسیوں ۱:۷) پاک صحائف میں بتایا جاتا ہے کہ ہمیں یسوع کی جان کی قربانی اور فدیے کی ضرورت کیوں پڑی۔ خدا کی نافرمانی کرنے سے آدم نے بہت کچھ گنوا دیا۔ جب ہم اس بات کو سمجھ جائیں گے کہ آدم نے کیا کچھ گنوایا تھا تو ہم یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ یسوع کی جان کی قربانی خدا کی طرف سے ایک بہت ہی قیمتی تحفہ کیوں ہے۔
۴. ہر لحاظ سے بےعیب ہونے کی وجہ سے آدم کس قسم کی زندگی کا لطف اُٹھا رہا تھا؟
۴ جب خدا نے آدم کو خلق کِیا تو آدم ہر لحاظ سے بےعیب تھا۔ اُسے بیماری، بڑھاپے اور موت کا شکار نہیں بننا تھا۔ اُسے خدا کی قربت کا شرف بھی حاصل تھا۔ پاک صحائف میں بتایا جاتا ہے کہ آدم ”خدا کا [بیٹا] تھا۔“ (لوقا ۳:۳۸) یہوواہ خدا اور آدم کے درمیان اتنا ہی گہرا بندھن تھا جتنا کہ ایک والد اور اُس کے بیٹے کے درمیان ہوتا ہے۔ خدا نے اپنے بیٹے آدم کو دلچسپ کام کرنے کو دئے اور اُسے ہدایت بھی دی۔—پیدایش ۱:۲۸-۳۰؛ ۲:۱۶، ۱۷۔
۵. آدم کس لحاظ سے ”خدا کی صورت“ پر بنایا گیا تھا؟
۵ آدم ”خدا کی صورت“ پر بنایا گیا تھا۔ (پیدایش ۱:۲۷) اِس کا یہ مطلب نہیں کہ آدم دیکھنے میں خدا کی طرح تھا۔ جیسا کہ ہم پہلے باب میں سیکھ چکے ہیں یہوواہ خدا تو ایک روحانی ہستی ہے۔ (یوحنا ۴:۲۴) خدا کی صورت میں بنائے جانے کا مطلب یہ ہے کہ آدم خدا کی طرح محبت، حکمت، انصاف اور قوت کا مالک تھا۔ آدم ایک اَور لحاظ سے بھی خدا کی صورت پر بنایا گیا تھا، وہ اپنی مرضی کے مطابق چل سکتا تھا۔ یہوواہ خدا نے آدم کو ایک مشین کی طرح نہیں بنایا تھا جو اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتی۔ بلکہ آدم اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کر سکتا تھا۔ وہ اچھائی اور بُرائی میں فرق بھی جانتا تھا۔ اگر آدم، خدا کا فرمانبردار رہتا تو وہ ہمیشہ تک زمینی فردوس میں زندگی کا لطف اُٹھاتا۔
۶. نافرمانی کرنے سے آدم نے اپنے اور اپنی اولاد کے لئے کیا گنوا دیا تھا؟
۶ یہوواہ خدا کی نافرمانی کرنے پر آدم کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔ اِس نافرمانی کی سزا موت تھی۔ (پیدایش ۳:۱۷-۱۹) افسوس کی بات ہے کہ آدم نے نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی ہونے والی اولاد کے لئے بھی ہمیشہ کی زندگی گنوا دی۔ خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے: ”ایک آدمی کے سبب سے گُناہ دُنیا میں آیا اور گُناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اس لئے کہ سب نے گُناہ کِیا۔“ (رومیوں ۵:۱۲) جیہاں، آدم کی وجہ سے ہم سب نے گُناہ کا داغ ورثے میں پایا ہے۔ خدا کا کلام آگے بیان کرتا ہے کہ آدم نے خود کو اور اپنی اولاد کو بھی گُناہ اور موت ”کے ہاتھ“ بیچ دیا تھا۔ (رومیوں ۷:۱۴) آدم اور حوا نے تو جانبوجھ کر خدا کی نافرمانی کی اِس لئے اُنہیں معاف نہیں کِیا جا سکتا تھا۔ لیکن کیا اُن کی اولاد نجات کی اُمید رکھ سکتی تھی؟
۷، ۸. فدیے سے کیا مُراد ہے؟
۷ یہوواہ خدا نے آدم کی اولاد کے لئے فدیے کا بندوبست کِیا۔ فدیہ کیا ہے؟ فدیہ ایک ایسی قیمت ہے جو رِہائی کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک قیدی کی رِہائی کے لئے قیمت ادا کی جائے تو اُسے فدیہ کہا جاتا ہے۔ فدیے کے طور پر جو قیمت ادا کی جاتی ہے اُس کو مانگی ہوئی قیمت کے برابر ہونا پڑتا ہے۔ مثلاً اگر آپ کسی کی گاڑی کو نقصان پہنچاتے ہیں تو آپ کو معاوضے کے طور پر وہی قیمت ادا کرنی ہوگی جو اُس نقصان کو بھرنے کے لئے ضروری ہے۔
۸ آدم کے گُناہ کے نتیجے میں ہم سب گُناہ اور موت کی دَلدل میں پھنس گئے۔ کیا ہمیں اِس دَلدل سے رِہائی مل سکتی ہے؟ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ خدا نے ہمارے لئے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا اور یہ ہمارے لئے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔
خدا نے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا؟
۹. کس طرح کا شخص فدیے کی قیمت ادا کر سکتا تھا؟
۹ ایک بےعیب شخص یعنی آدم نے ہمارے لئے ہمیشہ کی زندگی گنوا دی تھی۔ ایسا کوئی شخص جس نے آدم کے گُناہ کا داغ ورثے میں پایا تھا اپنی جان دے کر فدیے کی قیمت ادا نہیں کر سکتا تھا۔ (زبور ۴۹:۷، ۸) صرف ایک ایسا شخص فدیے کی قیمت ادا کر سکتا تھا جس کی جان آدم کی بےعیب جان کے برابر تھی۔ یہ خدا کا انصاف تھا جس نے مقرر کِیا تھا کہ ”جان کا بدلہ جان“ ہو۔ (استثنا ۱۹:۲۱) لہٰذا ایک بےعیب شخص ہی یہ فدیہ ادا کر سکتا تھا۔—۱-تیمتھیس ۲:۶۔
۱۰. یہوواہ خدا نے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا؟
۱۰ یہوواہ خدا نے فدیے کا بندوبست کیسے کِیا؟ اُس نے اپنی روحانی مخلوق میں سے ایک کو زمین پر بھیجا۔ اس مقصد کے لئے خدا نے اپنی روحانی مخلوق میں سے سب سے خاص کو یعنی اپنے پیارے اور اکلوتے بیٹے کو چُنا۔ (۱-یوحنا ۴:۹، ۱۰) خدا کا یہ بیٹا آسمان کو چھوڑ کر زمین پر رہنے پر راضی تھا۔ (فلپیوں ۲:۷) جیسا کہ ہم چوتھے باب میں دیکھ چکے ہیں، ایک معجزے کے ذریعے یہوواہ خدا نے اپنے بیٹے کی زندگی کو مریم نامی ایک عورت کے رحم میں منتقل کر دی۔ چُونکہ یسوع مسیح خدا کی پاک روح کے ذریعے ایک بےعیب انسان کے طور پر پیدا ہوا اس لئے وہ گُناہ کے داغ سے پاک تھا۔—لوقا ۱:۳۵۔
۱۱. ایک شخص کی جان کروڑوں لوگوں کے لئے فدیے کے طور پر کیسے دی جا سکتی تھی؟
۱۱ یسوع مسیح نے اپنی جان فدیے کے طور پر پیش کی۔ لیکن کروڑوں لوگوں کے لئے ایک شخص کی جان فدیے کے طور پر کیسے دی جا سکتی تھی؟ غور کیجئے کہ کروڑوں لوگ ایک شخص کے ذریعے ہی گنہگار بنے تھے۔ چُونکہ آدم نے خدا کی نافرمانی کرکے گُناہ کِیا تھا اِس لئے اُسے گُناہ کا داغ لگ گیا۔ لہٰذا آدم اپنی اولاد کو ورثے میں صرف گُناہ اور موت ہی دے سکتا تھا۔ پاک صحائف میں یسوع مسیح کو ”پچھلا آؔدم“ کہا جاتا ہے کیونکہ ہمیں نجات دلانے کے لئے اُس نے آدم کی جگہ لے لی۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۴۵) یسوع ہمیشہ سے خدا کا فرمانبردار رہا تھا اور وہ گُناہ کے داغ سے بھی پاک تھا، اِس لئے اُسے موت کبھی نہ آتی۔ لیکن وہ اپنی بےعیب جان کی قربانی دینے کے لئے تیار تھا۔ اِس طرح یسوع نے فدیے کی قیمت ادا کرکے ہمیں گُناہ اور موت سے رِہائی دلائی۔—رومیوں ۵:۱۹؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۲۱، ۲۲۔
۱۲. اذیتناک موت سہنے سے یسوع مسیح نے کس بات کا ثبوت پیش کِیا؟
۱۲ پاک صحائف میں ہمیں تفصیل سے بتایا جاتا ہے کہ یسوع کو اپنی موت سے پہلے کیا کچھ سہنا پڑا تھا۔ پہلے اُسے کوڑے لگوائے گئے، پھر اُسے سُولی پر چڑھایا گیا جہاں اُسے ایک اذیتناک موت سہنی پڑی۔ (یوحنا ۱۹:۱، ۱۶-۱۸، ۳۰؛ مزید معلومات کے لئے اس کتاب کے صفحہ ۲۰۴-۲۰۶ کو دیکھیں۔) یسوع کو اتنی اذیت کیوں سہنی پڑی؟ اِس کتاب کے ایک دوسرے باب میں ہم دیکھیں گے کہ شیطان نے دعویٰ کِیا تھا کہ سخت اذیت کا سامنا کرتے وقت کوئی بھی انسان خدا کا وفادار نہیں رہے گا۔ ایک اذیتناک موت سہنے سے یسوع نے شیطان کے اِس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ بلاشُبہ یسوع نے اِس بات کا ثبوت دیا کہ ایک بےعیب انسان شیطان کی آزمائشوں کا سامنا کرتے وقت بھی خدا کا وفادار رہ سکتا ہے۔ اپنے اِس بیٹے کی وفاداری کو دیکھ کر یہوواہ خدا کا دِل کتنا شاد ہوا ہوگا!—امثال ۲۷:۱۱۔
۱۳. فدیے کی قیمت کیسے ادا کی گئی؟
۱۳ فدیے کی قیمت کیسے ادا کی گئی؟ سن ۳۳ عیسوی میں، یہودی مہینے نیسان کی چودھویں تاریخ کو خدا نے اپنے بیٹے کا قتل ہونے دیا۔ اِس طرح یسوع نے اپنی بےعیب جان کی قربانی دی اور انسانوں کے لئے ”ایک ہی بار قربان“ ہو گیا۔ (عبرانیوں ۱۰:۱۰) تیسرے دن پر یہوواہ خدا نے یسوع کو ایک روحانی ہستی کے طور پر زندہ کر دیا۔ آسمانوں پر یسوع نے یہوواہ خدا کو اپنی بےعیب انسانی جان کی قیمت فدیے کے طور پر پیش کی۔ (عبرانیوں ۹:۲۴) یہوواہ خدا نے یسوع کی انسانی جان کی قیمت کو قبول کر لیا اور اِس طرح انسانوں کو گُناہ اور موت سے رِہائی دلانے کا بندوبست کِیا۔—رومیوں ۳:۲۳، ۲۴۔
فدیہ آپ کے لئے کیا اہمیت رکھتا ہے؟
۱۴، ۱۵. اپنے گُناہوں کی معافی حاصل کرنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟
۱۴ فیالحال ہم گُناہ اور موت کی دَلدل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اِس کے باوجود، خدا ہم کو فدیے کے ذریعے آج بھی برکتوں سے نوازتا ہے۔ آئیں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے اِس بیشقیمت تحفے سے ہمیں کون سے فائدے حاصل ہیں۔
۱۵ گُناہوں کی معافی۔ چُونکہ ہم نے گُناہ کا داغ ورثے میں پایا ہے اِس لئے اچھے کام کرنا ہمارے لئے آسان نہیں ہے۔ ہم سب یا تو اپنے اعمال سے یا زبان سے گُناہ کرتے ہیں۔ لیکن یسوع مسیح کی قربانی کے وسیلے سے ہمیں ”گُناہوں کی معافی حاصل ہے۔“ (کلسیوں ۱:۱۳، ۱۴) البتہ اِس معافی کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے گُناہوں سے دل سے توبہ کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ یسوع مسیح کی جان کی قربانی پر ایمان رکھتے ہوئے ہمیں خدا سے معافی کی التجا بھی کرنی چاہئے۔—۱-یوحنا ۱:۸، ۹۔
۱۶. ہم صاف دِل سے خدا کی عبادت کیوں کر سکتے ہیں؟ ایک صاف ضمیر رکھنے کے کونسے فائدے ہیں؟
۱۶ صاف ضمیر۔ اگر کسی غلطی کی وجہ سے ہمارا ضمیر ہمیں ملامت کرتا رہتا ہے تو ہم مایوسی اور احساسِکمتری کا شکار بن سکتے ہیں۔ لیکن فدیے کی بِنا پر ہمیں گُناہوں کی معافی حاصل ہے اِس لئے ہم صاف دِل سے یہوواہ خدا کی عبادت کر سکتے ہیں۔ (عبرانیوں ۹:۱۳، ۱۴) چُونکہ ہمارا دل صاف ہے اس لئے ہم دلیری سے خدا سے دُعا مانگ سکتے ہیں۔ (عبرانیوں ۴:۱۴-۱۶) اس کے علاوہ ایک صاف ضمیر ہمارے لئے سکون، اعتماد اور خوشی کا باعث ہوتا ہے۔
۱۷. یسوع کی جان کی قربانی کے ذریعے ہمیں کن برکتوں سے نوازا جائے گا؟
۱۷ زمین پر فردوس میں ہمیشہ کی زندگی۔ رومیوں ۶:۲۳ میں لکھا ہے: ”گُناہ کی مزدوری موت ہے۔“ اسی آیت میں آگے بیان کِیا گیا ہے: ”مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوؔع میں ہمیشہ کی زندگی ہے۔“ تیسرے باب میں ہم نے دیکھا تھا کہ آنے والے فردوس میں خدا ہمیں بہت سی برکتوں سے نوازے گا۔ (مکاشفہ ۲۱:۳، ۴) ان برکات میں اچھی صحت اور ہمیشہ کی زندگی بھی شامل ہیں۔ یہ سب کچھ اِس لئے ممکن ہے کیونکہ یسوع مسیح نے ہمارے لئے اپنی جان کی قربانی دی۔ لیکن اِن برکات کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں یسوع کی قربانی کے لئے قدر دکھانا ہوگی۔
آپ فدیہ کے لئے کیسے قدر دکھا سکتے ہیں؟
۱۸. یسوع کی جان کی قربانی کے لئے ہمیں خدا کا شکرگزار کیوں ہونا چاہئے؟
۱۸ یسوع کی جان کی قربانی کے لئے ہمیں یہوواہ خدا کا شکرگزار کیوں ہونا چاہئے؟ ذرا تصور کریں کہ ایک شخص نے آپ کو تحفہ دیا ہے۔ اُس نے تحفہ چننے میں اپنا قیمتی وقت اور اسے خریدنے میں اپنا پیسہ بھی خرچ کِیا ہے۔ یہ جان کر کہ اُس شخص نے کتنے پیار سے اِس تحفے کا بندوبست کِیا ہے، کیا آپ کے دل میں اُس کی قدر نہیں بڑھے گی؟ یہوواہ خدا نے بھی اپنا بہت کچھ دے کر ہمارے لئے فدیے کا بندوبست کِیا ہے۔ خدا نے واقعی ہمیں اپنی سب سے قیمتی چیز تحفے میں دی ہے۔ یوحنا ۳:۱۶ میں ہم پڑھتے ہیں: ”خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا۔“ فدیے کا بندوبست کرنے سے یہوواہ خدا نے ہمارے لئے اپنی گہری محبت کا اظہار کِیا۔ اپنی جان دینے سے یسوع مسیح نے بھی ہمارے لئے اپنی محبت کا ثبوت پیش کِیا۔ (یوحنا ۱۵:۱۳) اِس لئے ہم اِس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح ہم میں سے ہر ایک سے محبت رکھتے ہیں۔—گلتیوں ۲:۲۰۔
۱۹، ۲۰. آپ کیسے دکھا سکتے ہیں کہ آپ فدیے کی قدر کرتے ہیں؟
۱۹ آپ کیسے دکھا سکتے ہیں کہ آپ فدیے کے تحفے کی قدر کرتے ہیں؟ پہلے تو اس تحفے کے دینے والے یعنی یہوواہ خدا کے بارے میں مزید علم حاصل کریں۔ (یوحنا ۱۷:۳) اِس کتاب کی مدد سے آپ ایسا کر پائیں گے۔ جوں جوں آپ یہوواہ خدا کو جاننے لگیں گے اُس کے لئے آپ کی محبت بڑھتی جائے گی۔ اِس کے نتیجے میں آپ کی یہ خواہش ہوگی کہ آپ یہوواہ خدا کے حکموں پر عمل کرنے سے اُسے خوش کریں۔—۱-یوحنا ۵:۳۔
۲۰ دوسرا یہ کہ یسوع مسیح کی جان کی قربانی پر ایمان لائیں۔ یسوع مسیح کے بارے میں کہا گیا: ”جو بیٹے پر ایمان لاتا ہے ہمیشہ کی زندگی اُس کی ہے۔“ (یوحنا ۳:۳۶) یسوع پر ایمان لانے کا کیا مطلب ہے؟ ہمارا ایمان صرف باتوں سے ظاہر نہیں ہوتا۔ یعقوب ۲:۲۶ میں بتایا جاتا ہے: ”ایمان بھی بغیر اعمال کے مُردہ ہے۔“ جیہاں، ہمارا ایمان ہمارے ”اعمال“ یعنی ہمارے کاموں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یسوع پر ایمان لانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اُس کی نقل کریں، صرف باتوں سے نہیں بلکہ اعمال سے بھی۔—یوحنا ۱۳:۱۵۔
۲۱، ۲۲. (ا) ہمیں ہر سال یسوع کی موت کی یادگاری پر کیوں حاضر ہونا چاہئے؟ (ب) چھٹے اور ساتویں باب میں کس بات کی وضاحت کی جائے گی؟
۲۱ یسوع کی موت کی یادگاری پر حاضر ہونے سے بھی آپ فدیے کے لئے قدر دکھا سکتے ہیں۔ سن ۳۳ عیسوی میں ۱۴ نیسان کو یسوع نے ایک خاص تقریب قائم کی۔ پاک صحائف میں اسے ”عشایِربانی“ کہا جاتا ہے۔ (۱-کرنتھیوں ۱۱:۲۰؛ متی ۲۶:۲۶-۲۸) اِس تقریب کو یسوع کی موت کی یادگاری بھی کہا جاتا ہے۔ یسوع نے اس تقریب کو اِس لئے قائم کِیا تاکہ اُس کے پیروکار اِس بات کو یاد رکھیں کہ اُس نے اپنی جان فدیے کے طور پر دی تھی۔ اِس تقریب کے بارے میں یسوع نے کہا تھا: ”میری یادگاری کے لئے یہی کِیا کرو۔“ (لوقا ۲۲:۱۹) اس تقریب پر حاضر ہونے سے ہمارے ذہن میں یہ بات تازہ رہتی ہے کہ یہوواہ خدا اور یسوع مسیح ہم سے کتنی محبت رکھتے ہیں۔ فدیے کی قدر دکھاتے ہوئے ہمیں ہر سال یسوع کی موت کی یادگاری پر حاضر ہونا چاہئے۔a
۲۲ یسوع کی جان کی قربانی واقعی خدا کی طرف سے ایک بیشقیمت تحفہ ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۹:۱۴، ۱۵) یہ بیشقیمت تحفہ اُن لوگوں کو بھی فائدہ پہنچائے گا جو فوت ہو گئے ہیں۔ وہ کیسے؟ چھٹے اور ساتویں باب میں اِس بات کی وضاحت کی جائے گی۔
[فٹنوٹ]
a عشایِربانی کے بارے میں مزید معلومات کے لئے اس کتاب کے صفحہ ۲۰۶-۲۰۸ کو دیکھیں۔
پاک صحائف کی تعلیم یہ ہے
▪ یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کی جان کی قربانی کے ذریعے انسانوں کو گُناہ اور موت سے رِہائی دلانے کا بندوبست کِیا۔—افسیوں ۱:۷۔
▪ یہوواہ خدا نے فدیے کا بندوبست کرنے کے لئے اپنے اکلوتے بیٹے کو زمین پر بھیجا۔—۱-یوحنا ۴:۹، ۱۰۔
▪ فدیے کے ذریعے ہمیں اپنے گُناہوں کی معافی، ایک صاف ضمیر اور ہمیشہ کی زندگی کی اُمید حاصل ہوتی ہے۔—۱-یوحنا ۱:۸، ۹۔
▪ یہوواہ خدا کے بارے میں علم حاصل کرنے سے، یسوع کی جان کی قربانی پر ایمان لانے سے اور اُس کی موت کی یادگاری پر حاضر ہونے سے ہم فدیے کے لئے قدر دکھاتے ہیں۔—یوحنا ۳:۱۶۔
[صفحہ ۵۲ پر تصویر]
اپنے اکلوتے بیٹے کی جان کی قربانی کے ذریعے یہوواہ خدا نے فدیے کا بندوبست کِیا
[صفحہ ۵۴ پر تصویر]
یہوواہ خدا کے بارے میں علم حاصل کرنے سے ہم فدیے کے لئے قدر دکھاتے ہیں