یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • tw باب 17 ص.‏ 151-‏158
  • خاندان کے طور پر سچے خدا کی عبادت کریں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خاندان کے طور پر سچے خدا کی عبادت کریں
  • سچے خدا کی عبادت کریں
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • شادی کے بندھن کے بارے میں خدا کا نظریہ
  • ہر فرد سرداری کے بندوبست کا احترام کرے
  • بہترین مشورہ حاصل کریں
  • شادی کے بندھن کو مضبوط بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2016ء
  • اپنے خاندان کیلئے ایک پائدار مستقبل محفوظ کر لیں
    خاندانی خوشی کا راز
  • ازدواجی زندگی کی پائیدار بنیاد ڈالیں
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • اپنی شادی کو ایک دائمی بندھن بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مزید
سچے خدا کی عبادت کریں
tw باب 17 ص.‏ 151-‏158

سترھواں باب

خاندان کے طور پر سچے خدا کی عبادت کریں

۱.‏ شادی کے سلسلے میں خدا کی راہنمائی پر عمل کرنے کے کون سے اچھے نتائج نکلے ہیں؟‏

یہوواہ خدا ہی نے شادی کی بنیاد ڈالی۔ اپنے کلام کے ذریعے وہ خاندانوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ اس راہنمائی پر عمل کرنے کے اچھے نتائج نکلے ہیں۔ مثال کے طور پر بہت سے جوڑوں نے اپنی شادی کے بندھن کو مضبوط بنا لیا ہے۔ کئی ایسے جوڑے بھی ہیں جو شادی کئے بغیر اکٹھے رہتے تھے لیکن خدا کے معیاروں کے بارے میں سیکھنے کے بعد اُنہوں نے اپنی شادی کو قانونی شکل دے دی۔ بعض لوگ اپنے بیاہتا ساتھی کے علاوہ دوسروں سے بھی جنسی تعلقات بڑھاتے تھے لیکن اب وہ اپنے بیاہتا ساتھی کے وفادار ہیں۔ کئی آدمی اپنے بیوی بچوں کو مارتے پیٹتے اور گالیاں دیتے تھے لیکن اب وہ ان کے ساتھ نرمی اور پیار سے پیش آتے ہیں۔‏

۲.‏ مسیحیوں کو خاندانی زندگی میں کن اصولوں پر عمل کرنا چاہئے؟‏

۲ مسیحیوں کو گھریلو زندگی میں خدا کے دئے ہوئے اصولوں پر عمل کرنا چاہئے، مثلاً ہمیں شادی کو زندگی بھر کا بندھن خیال کرنا چاہئے۔ خاندان کے افراد کو اپنی اپنی ذمہ‌داریوں پر پورا اُترنا چاہئے اور ایک دوسرے سے اچھا سلوک بھی کرنا چاہئے۔ (‏افسیوں ۵:‏۳۳–‏۶:‏۴‏)‏ لیکن گھریلو زندگی کے متعلق بائبل کے اصولوں سے محض واقف ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ہمیں ان کو عمل میں لانے کی ضرورت بھی ہے۔ یسوع مسیح نے ایسے لوگوں کی ملامت کی جو زبان سے تو خدا کی عزت کر رہے تھے لیکن جو اپنے اعمال سے اُس کے حکموں کی خلاف‌ورزی کر رہے تھے۔ (‏متی ۱۵:‏۴-‏۹‏)‏ اگر ہم دینداری کا محض دکھاوا کریں گے اور گھریلو زندگی میں خدا کی ہدایات کو خاطر میں نہ لائیں گے تو ہم بالکل ان لوگوں کی طرح ہوں گے۔ لہٰذا ہم محبت کی بِنا پر خدا کے وفادار رہنا چاہتے ہیں کیونکہ ایسی دینداری ”‏بڑے نفع کا ذریعہ ہے۔“‏—‏۱-‏تیمتھیس ۵:‏۴؛‏ ۶:‏۶؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۵‏۔‏

شادی کے بندھن کے بارے میں خدا کا نظریہ

۳.‏ (‏ا)‏ آجکل شادی کو کیسا خیال کِیا جاتا ہے؟ (‏ب)‏ شادی کے سلسلے میں ہمیں کس کا نظریہ اپنانا چاہئے؟ (‏پ)‏ بائبل میں سے پیراگراف کے بعد دئے گئے سوالوں کا جواب دیں۔‏

۳ آجکل طلاق لینے والوں کی تعداد میں بے‌جا اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی لوگوں کی شادی تھوڑے ہی عرصہ کے بعد ٹوٹ جاتی ہے جبکہ کئی لوگ بہت سالوں کے بعد طلاق لے لیتے ہیں۔ ایسے لوگ شاید شادی کے بندھن کی قدر نہیں کرتے ہیں۔ لیکن مسیحی یہوواہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے آئیں ہم چند سوالوں اور صحیفوں پر غور کرکے دیکھیں کہ خدا کے نزدیک میاں بیوی کا بندھن کب تک قائم رہنا چاہئے۔‏

شادی کا عہدوپیمان کرتے وقت میاں بیوی کو کب تک اکٹھے رہنے کی ٹھان لینی چاہئے؟ (‏مرقس ۱۰:‏۶-‏۹؛‏ رومیوں ۷:‏۲، ۳‏)‏

خدا کے نزدیک طلاق لینا اور دوبارہ شادی کرنا صرف کس صورت میں جائز ہے؟ (‏متی ۵:‏۳۱، ۳۲؛‏ ۱۹:‏۳-‏۹‏)‏

یہوواہ خدا ایسے لوگوں کو کیسا خیال کرتا ہے جو ناجائز وجوہات کی بِنا پر طلاق لیتے ہیں؟ (‏ملاکی ۲:‏۱۳-‏۱۶)‏

جب شادی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں تو کیا ان کا حل یہ ہے کہ میاں بیوی علیٰحدہ ہو جائیں؟ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۱۰-‏۱۳‏)‏

میاں بیوی کا علیٰحدہ رہنا کون سی صورتحال میں جائز ہے؟ (‏زبور ۱۱:‏۵؛‏ لوقا ۴:‏۸؛‏ ۱-‏تیمتھیس ۵:‏۸‏)‏

۴.‏ بہتیرے بیاہتا ساتھیوں کا بندھن کیوں مضبوط رہتا ہے؟‏

۴ آجکل بہتیرے بیاہتا ساتھیوں کا بندھن مضبوط رہتا ہے۔ ان کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ اکثر یہ ثابت ہوا ہے کہ پُختہ عمر میں شادی کرنا بہتر ہوتا ہے۔ یہ بھی اہم ہے کہ آپ ایک ایسے بیاہتا ساتھی کا انتخاب کریں جو آپ جیسی سوچ رکھے، جس کے مشغلے آپ کے مشغلوں سے زیادہ فرق نہ ہوں اور جو کُھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ البتہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہوواہ خدا سے محبت رکھے اور مسئلوں کو حل کرنے کے لئے اُس کے کلام کی راہنمائی قبول کرے۔ (‏زبور ۱۱۹:‏۹۷،‏ ۱۰۴؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏ ایک ایسا شخص یہ نہیں سوچے گا کہ جب شادی میں مسئلے کھڑے ہوں گے تو ہم علیٰحدہ ہو جائیں گے یا طلاق لے لیں گے۔ وہ بیاہتا ساتھی کی غلطیوں کا بہانہ بنا کر اپنی ذمہ‌داریاں پوری کرنے سے انکار نہیں کرے گا بلکہ وہ مسئلوں کو حل کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔‏

۵.‏ (‏ا)‏ بیاہتا ساتھیوں کو شادی کے سلسلے میں یہوواہ کا وفادار کیوں رہنا چاہئے؟ (‏ب)‏ اپنے بیاہتا ساتھی کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرتے وقت بھی یہوواہ کے معیاروں پر چلنے سے کونسے فائدے حاصل ہو سکتے ہیں؟‏

۵ شیطان کا دعویٰ ہے کہ مشکلات کا سامنا کرتے وقت ہم سب یہوواہ خدا کی نافرمانی کریں گے۔ (‏ایوب ۲:‏۴، ۵؛‏ امثال ۲۷:‏۱۱‏)‏ کئی یہوواہ کے گواہوں کا بیاہتا ساتھی جو خود یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتا ان کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ اس کے باوجود ایسے زیادہ‌تر گواہ اپنے شادی کے عہدوپیمان پر قائم رہتے ہیں۔ (‏متی ۵:‏۳۷‏)‏ اکثر اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آخرکار اُن کا بیاہتا ساتھی بھی یہوواہ خدا کی عبادت کرنے لگا ہے۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۱، ۲‏)‏ لیکن فرض کریں کہ ایک شوہر اپنے رویے میں تبدیلی نہ لائے یا پھر اپنی بیوی کو چھوڑ دے، تو ایسی صورتحال میں بیوی کے لئے یہ جاننا تسلی کا باعث ہوگا کہ اُسے یہوواہ خدا کے وفادار رہنے کا اَجر ضرور ملے گا۔—‏زبور ۵۵:‏۲۲؛‏ ۱۴۵:‏۱۶‏۔‏

ہر فرد سرداری کے بندوبست کا احترام کرے

۶.‏ کس بندوبست کا احترام کرنے سے شادی کامیاب رہے گی؟‏

۶ شادی کو صرف اُس وقت کامیاب نہیں کہا جا سکتا جب میاں بیوی ایک ساتھ رہتے ہیں بلکہ اُن کے گھر کا ماحول خوشحال اور پُرسکون بھی ہونا چاہئے۔ اس وجہ سے میاں بیوی دونوں کو سرداری کے بندوبست کا احترام کرنا چاہئے۔ یہوواہ خدا کے اس بندوبست کی وضاحت ۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳ میں یوں کی گئی ہے:‏ ”‏ہر مرد کا سر مسیح اور عورت کا سر مرد اور مسیح کا سر خدا ہے۔“‏

۷.‏ شوہر کو خاندان کی سرداری کس طرح کرنی چاہئے؟‏

۷ اِس آیت میں سب سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ ہر مرد کو اپنے سر یعنی یسوع مسیح کے تابع رہنا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ خاندان کی سرداری کرتے ہوئے شوہر کو یسوع مسیح کی خوبیوں کی عکاسی کرنی چاہئے۔ غور کیجئے کہ یسوع مسیح ہمیشہ یہوواہ خدا کے تابع رہتا ہے۔ وہ کلیسیا سے گہری محبت رکھتا ہے اور اُس کی ضروریات کو پورا بھی کرتا ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۳:‏۱۵‏)‏ یہاں تک کہ یسوع نے ”‏اپنے آپ کو [‏کلیسیا]‏ کے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“‏ یسوع مغرور اور سخت‌دل نہیں بلکہ ’‏حلیم اور دل کا فروتن‘‏ ہے۔ اُس کی سرداری کے نتیجے میں اُس کے شاگردوں ’‏کی جانیں آرام پاتی ہیں۔‘‏ ایک شوہر جو اپنے خاندان کے ساتھ اِسی طرح پیش آتا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ واقعی یسوع مسیح کے تابع ہے۔ جب ایک مسیحی بیوی اپنے شوہر کے ساتھ تعاون کرتی ہے اور اُس کی سرداری کو قبول کرتی ہے تو اُسے بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں اور وہ آرام پاتی ہے۔—‏افسیوں ۵:‏۲۵-‏۳۳؛‏ متی ۱۱:‏۲۸، ۲۹؛‏ امثال ۳۱:‏۱۰،‏ ۲۸‏۔‏

۸.‏ (‏ا)‏ بائبل کے اصولوں کی بِنا پر مسئلوں کو حل کرنا ہمیں کبھی‌کبھار مشکل کیوں لگتا ہے؟ (‏ب)‏ اگر ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا ہو تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟‏

۸ البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسیحی خاندانوں میں کبھی مسئلے کھڑے نہیں ہوں گے۔ خدا کے معیاروں کو اپنانے سے پہلے شاید ایک خاندان کے کچھ افراد میں کسی غلط سوچ نے جڑ پکڑی ہو۔ اس وجہ سے شاید وہ خاندان کے سردار کے اختیار کو ماننا پسند نہ کریں اور نرمی اور پیار سے دی جانے والی اصلاح کو قبول نہ کریں۔ ہم بائبل کی اس نصیحت سے واقف ہیں کہ ”‏قہر اور غصہ اور شوروغل اور بدگوئی .‏ .‏ .‏ تُم سے دُور کی جائیں۔“‏ (‏افسیوں ۴:‏۳۱‏)‏ لیکن ہو سکتا ہے کہ خاندان کے کچھ افراد صرف تب ہی آپ کی بات مانیں جب آپ اُنہیں جھڑکتے یا ان کے ساتھ سخت لہجہ اختیار کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں آپ کو کیا کرنا چاہئے؟ ذرا یسوع مسیح کی مثال پر غور کریں۔ جب دوسروں نے اسے گالیاں اور دھمکیاں دیں تو وہ خود گالیاں اور دھمکیاں دینے پر نہیں اُتر آیا۔ اِس کی بجائے اُس نے اپنے آسمانی باپ پر بھروسہ کِیا۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۲، ۲۳‏)‏ اسی طرح اگر آپ کے گھروالوں میں کھچاؤ ہے تو دُنیاوی رویہ اپنانے کی بجائے یہوواہ خدا کی مدد حاصل کرنے کے لئے دُعا کریں۔ اس طرح آپ ثابت کریں گے کہ آپ کو خدا پر بھروسہ ہے۔—‏امثال ۳:‏۵-‏۷‏۔‏

۹.‏ کئی مسیحی شوہروں نے اپنے گھروالوں سے کیسے پیش آنا سیکھ لیا ہے؟‏

۹ یاد رکھیں کہ خاندانی مسئلوں کو حل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ لیکن بائبل کی ہدایات کو صبر سے عمل میں لانے سے یہ مسئلے حل ضرور ہوں گے۔ کئی شادیوں میں تب ہی بہتری آئی جب شوہر یہ سمجھ گیا کہ یسوع مسیح کلیسیا کی سرداری کس طرح سے کرتا ہے۔ کلیسیا کے تمام اراکین سے اکثر غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود یسوع مسیح ان سے محبت رکھتا ہے۔ وہ خدا کے کلام اور اپنی اچھی مثال کے ذریعے ان کی اصلاح بھی کرتا ہے۔ سب سے بڑھ کر اُس نے ان کے لئے اپنی جان تک دے دی۔ (‏۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏)‏ یسوع مسیح کی مثال پر غور کرنے کے بعد بہتیرے مسیحی شوہروں نے اچھے طریقے سے اپنے گھروالوں کی سرداری کرنا اور بڑے پیار سے ان کی اصلاح کرنا شروع کر دی۔ اس طرح ان کی گھریلو زندگی زیادہ خوشگوار بن گئی۔ اس کے برعکس اگر ایک شوہر گھروالوں کو ہر وقت جھڑکتا رہتا ہے یا اُن سے بات نہیں کرتا تو گھر کے ماحول میں بہتری نہیں آ سکتی۔‏

۱۰.‏ (‏ا)‏ مسیحی گھرانے میں بھی بیوی یا شوہر کی وجہ سے ماحول کیسے بگڑ سکتا ہے؟ (‏ب)‏ اس حالت میں بہتری لانے کے لئے کیا کِیا جا سکتا ہے؟‏

۱۰ اس صورت میں کیا کِیا جا سکتا ہے جب شوہر اپنے بیوی بچوں کے جذبات کا لحاظ نہیں رکھتا یا ان کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے قدم نہیں اُٹھاتا؟ یا پھر جب بیوی اپنے شوہر سے تعاون کرنے اور اُس کی تابعداری کرنے سے انکار کرتی ہے؟ اکثر ایسے مسئلوں کو تب ہی حل کِیا جا سکتا ہے جب خاندان کے افراد اِن پر کُھل کر مگر باادب انداز میں بات کریں۔ (‏پیدایش ۲۱:‏۱۰-‏۱۲؛‏ امثال ۱۵:‏۲۲‏)‏ شاید ایسا کرنے سے خاندان کے تمام اختلافات ایک دم سے دُور نہ ہوں۔ لیکن اگر خاندان کا ہر فرد خدا کی پاک روح کے پھل ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا تو گھر کا ماحول زیادہ خوشگوار بن جائے گا۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ چاہے خاندان کے دوسرے افراد ایسا کر رہے ہوں یا نہیں، ہمیں ان کا لحاظ رکھنے میں پہل کرنی چاہئے۔ اس طرح ہم یہوواہ خدا کے لئے اپنی محبت ظاہر کریں گے۔—‏کلسیوں ۳:‏۱۸-‏۲۱‏۔‏

بہترین مشورہ حاصل کریں

۱۱، ۱۲.‏ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے یہوواہ خدا ہماری مدد کیسے کرتا ہے؟‏

۱۱ آجکل لوگ خاندانی مسائل کا حل ڈھونڈنے کے لئے طرح طرح کے ماہرین سے مشورہ لیتے ہیں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ خدا کے کلام ہی میں بہترین مشورہ پایا جاتا ہے۔ ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی تنظیم کے ذریعے اس کی راہنمائی پر چلنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کیا آپ اِس مدد کا پورا فائدہ اُٹھا رہے ہیں؟—‏زبور ۱۱۹:‏۱۲۹، ۱۳۰؛‏ میکاہ ۴:‏۲۔‏

۱۲ باقاعدگی سے مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہونے کے علاوہ کیا آپ خاندان کے طور پر بائبل کا مطالعہ کرنے کے لئے بھی وقت نکالتے ہیں؟ ایسا کرنے سے خاندان کا ہر فرد یہ سیکھ جائے گا کہ اُسے خدا کی ہدایات پر کیسے عمل کرنا چاہئے۔ اس طرح نہ صرف گھریلو ماحول زیادہ خوشگوار بن جائے گا بلکہ پورا خاندان خدا کی عبادت میں متحد بھی ہو جائے گا۔—‏استثنا ۱۱:‏۱۸-‏۲۱۔‏

۱۳.‏ (‏ا)‏ اگر خاندانی معاملوں کے بارے میں سوال اُٹھتے ہیں تو آپ ان کا جواب کہاں سے حاصل کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ ہمارے فیصلوں سے کیا ظاہر ہونا چاہئے؟‏

۱۳ خاندانی معاملوں کے بارے میں طرح طرح کے سوال اُٹھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا بائبل فیملی پلاننگ کی اجازت دیتی ہے؟ کیا کوئی ایسی صورتحال ہے جب حمل گِرانا جائز ہوتا ہے؟ اگر آپ کا ایک بچہ روحانی باتوں میں دلچسپی نہیں لیتا تو آپ کو اسے کس حد تک خاندان کی روحانی سرگرمیوں میں شامل کرنا چاہئے؟ اِن جیسے بے‌شمار سوالوں کا جواب یہوواہ کے گواہوں کے رسالوں اور کتابوں میں دیا گیا ہے۔ ان مطبوعات میں سے اپنے سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کا طریقہ سیکھ لیں۔ اگر آپ کے پاس ایسی زیادہ‌تر مطبوعات نہیں ہیں تو آپ کنگڈم ہال کی لائبریری سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اپنے سوالوں کے متعلق پُختہ مسیحی بہن‌بھائیوں سے بھی مشورہ لے سکتے ہیں۔ لیکن ان سے یہ توقع نہ کریں کہ وہ آپ کو بتائیں کہ آپ کو کیا کرنا چاہئے۔ اکثر آپ کو ایک معاملے کے بارے میں خود ہی یا اپنے بیاہتا ساتھی کے ساتھ ملکر فیصلہ کرنا ہوگا۔ بہرحال، ایسے فیصلے کریں جن سے ظاہر ہو کہ آپ خاندان کے طور پر سچے خدا کی عبادت کرتے ہیں۔—‏رومیوں ۱۴:‏۱۹؛‏ افسیوں ۵:‏۱۰‏۔‏

اِن سوالات پر تبصرہ کریں

‏• یہوواہ خدا کے وفادار رہنے اور اپنے بیاہتا ساتھی کے وفادار رہنے میں کیا تعلق ہے؟‏

‏• خاندانی مسائل سے نپٹنے کے لئے ہمیں کن اصولوں پر عمل کرنا چاہئے؟‏

‏• خاندان کے افراد کی غلطیوں کے باوجود ہم خاندان کا ماحول زیادہ خوشگوار بنانے کے لئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏صفحہ ۱۵۵ پر تصویر]‏

خاندان کی سرداری کرتے ہوئے شوہر کو یسوع مسیح کی خوبیوں کی عکاسی کرنی چاہئے

‏[‏صفحہ ۱۵۷ پر تصویر]‏

خاندان کے طور پر باقاعدگی سے بائبل کا مطالعہ کرنے سے گھریلو ماحول خوشگوار ہو جاتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں