یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • tw باب 1 ص.‏ 4-‏13
  • سچے خدا کی عبادت میں متحد

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سچے خدا کی عبادت میں متحد
  • سچے خدا کی عبادت کریں
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ہمارا اتحاد کس بات کا ثبوت ہے؟‏
  • یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والے لوگ متحد کیوں ہیں؟‏
  • اتحاد کی وجوہات
  • دُنیاوی سوچ میں پڑنے سے خبردار رہیں
  • خدا کے سچے خادم متحد ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
  • یہوؔواہ کا خاندان بیش قیمت اتحاد سے لطف‌اندوز ہوتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ان آخری ایّام میں اتحاد برقرار رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • سچے مسیحیوں کا اتحاد خدا کے لئے جلال کا باعث
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2010ء
مزید
سچے خدا کی عبادت کریں
tw باب 1 ص.‏ 4-‏13

پہلا باب

سچے خدا کی عبادت میں متحد

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ پوری دُنیا میں کونسی حیران‌کُن بات واقع ہو رہی ہے؟ (‏ب)‏ خدا کے کلام میں کونسے وعدے پائے جاتے ہیں؟‏

پوری دُنیا میں ہر ایک قوم اور قبیلہ میں سے لاکھوں لوگ سچے خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔ اور ہر سال ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ خدا کے کلام میں اِن لوگوں کو یہوواہ کے ”‏گواہ“‏ کہا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ایک ”‏بڑی بِھیڑ“‏ ہیں جو ”‏رات دن [‏خدا]‏ کی عبادت کرتے ہیں۔“‏ (‏یسعیاہ ۴۳:‏۱۰-‏۱۲؛‏ مکاشفہ ۷:‏۹-‏۱۵‏)‏ وہ جان گئے ہیں کہ یہوواہ ہی سچا خدا ہے۔ اس لئے وہ اُس کے احکام پر عمل کرنے کے لئے اپنی زندگی میں تبدیلیاں لا رہے ہیں۔ وہ یہ بھی جان گئے ہیں کہ ہم اِس بگڑتی ہوئی دُنیا کے ”‏اخیر زمانہ“‏ میں رہ رہے ہیں۔ خدا اس دُنیا کو ختم کرنے والا ہے جس کے بعد وہ زمین کو ایک فردوس میں تبدیل کر دے گا۔—‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱-‏۵،‏ ۱۳؛‏ ۲-‏پطرس ۳:‏۱۰-‏۱۳‏۔‏

۲ اُس وقت کے بارے میں خدا کے کلام میں یہ وعدے پائے جاتے ہیں:‏ ”‏تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا۔ .‏ .‏ .‏ لیکن حلیم مُلک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۱۰، ۱۱‏)‏ ”‏صادق زمین کے وارث ہوں گے اور اُس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۲۹‏)‏ ”‏[‏خدا]‏ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۴‏۔‏

۳.‏ خدا کے خادم اُس کی عبادت میں متحد کیوں ہیں؟‏

۳ جو لوگ آج سچے خدا کی عبادت میں متحد ہیں وہ اس فردوس کی بنیاد ڈالیں گے۔ ان لوگوں میں اتحاد اس لئے ہے کیونکہ وہ سیکھ گئے ہیں کہ خدا کی مرضی کیا ہے اور وہ اسے بجا لانے کی بھرپور کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایسا کرنے کی اہمیت یسوع مسیح نے یوں ظاہر کی:‏ ”‏ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خدایِ‌واحد اور برحق کو اور یسوؔع مسیح کو جِسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔“‏ (‏یوحنا ۱۷:‏۳‏)‏ اس کے علاوہ یوحنا رسول نے لکھا:‏ ”‏دُنیا اور اُس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہے گا۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۷‏۔‏

ہمارا اتحاد کس بات کا ثبوت ہے؟‏

۴.‏ (‏ا)‏ جبکہ لوگ بڑی تعداد میں سچے خدا کی عبادت کرنے کے لئے جمع کئے جا رہے ہیں تو یہ کس بات کا ثبوت ہے؟ (‏ب)‏ میکاہ ۴:‏۱، ۲ میں لوگوں کو ایک بھائی‌چارے میں جمع کئے جانے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏

۴ جبکہ لوگ بڑی تعداد میں سچے خدا کی عبادت کرنے کے لئے جمع کئے جا رہے ہیں تو یہ کس بات کا ثبوت ہے؟ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس بُری دُنیا کا خاتمہ بہت ہی نزدیک ہے اور خدا جلد ہی زمین پر فردوس قائم کرنے والا ہے۔ بائبل کی بہت سی پیشینگوئیوں میں بتایا گیا ہے کہ خدا ان آخری دنوں میں اپنے لوگوں کو ایک بھائی‌چارے میں جمع کرے گا۔ ہم ان پیشینگوئیوں کی تکمیل اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پیشینگوئی میں بتایا گیا ہے کہ ”‏آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ [‏یہوواہ]‏ کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کِیا جائے گا [‏یعنی یہوواہ کی عبادت دوسرے معبودوں کی عبادت سے بلند ہوگی]‏ .‏ .‏ .‏ اور اُمتیں وہاں پہنچیں گی۔ اور بہت سی قومیں آئیں گی اور کہیں گی آؤ [‏یہوواہ]‏ کے پہاڑ پر چڑھیں اور یعقوؔب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُس کے راستوں پر چلیں گے۔“‏—‏میکاہ ۴:‏۱، ۲؛‏ زبور ۳۷:‏۳۴‏۔‏

۵، ۶.‏ (‏ا)‏ ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ قومیں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کے لئے جمع ہو رہی ہیں؟ (‏ب)‏ ہمیں خود سے کونسے سوال پوچھنے چاہئیں؟‏

۵ یہ بات درست ہے کہ پوری کی پوری قومیں یہوواہ کی عبادت کرنے کے لئے جمع نہیں ہو رہی ہیں لیکن مختلف قوموں میں سے لاکھوں لوگ ضرور ایسا کر رہے ہیں۔ یہ لوگ یہوواہ خدا کی خوبیوں اور اُس کے وعدوں کے بارے میں سیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ وہ خدا کی مرضی کے بارے میں مزید علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ خدا کی خوشنودی حاصل کر سکیں۔ زبورنویس کی طرح وہ بھی خدا سے یوں دُعا کرتے ہیں:‏ ”‏مجھے سکھا کہ تیری مرضی پر چلوں اس لئے کہ تُو میرا خدا ہے۔“‏—‏زبور ۱۴۳:‏۱۰‏۔‏

۶ کیا آپ بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہیں یہوواہ خدا اپنی عبادت کرنے کے لئے جمع کر رہا ہے؟ کیا آپ مانتے ہیں کہ بائبل یہوواہ خدا کی طرف سے ہے؟ کیا یہ آپ کے چال‌چلن سے ظاہر ہوتا ہے؟ کیا آپ نے ’‏خدا کے راستوں پر چلنے‘‏ کا پکا ارادہ کر لیا ہے؟‏

یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والے لوگ متحد کیوں ہیں؟‏

۷.‏ (‏ا)‏ عبادت کے سلسلے میں یہوواہ خدا کیا چاہتا ہے؟ (‏ب)‏ ہمیں یہوواہ خدا کی عبادت کرنے کی آگاہی پر جلد سے جلد عمل کیوں کرنا چاہئے؟ (‏پ)‏ ہم ایسا کرنے میں دوسروں کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟‏

۷ یہوواہ خدا شروع ہی سے چاہتا تھا کہ تمام فرشتے اور انسان اُس کی عبادت میں متحد ہوں۔ واقعی ہم اُس وقت کے منتظر ہیں جب پوری کائنات میں یہوواہ خدا ہی کی عبادت کی جائے گی۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۱۹-‏۲۲‏)‏ لیکن اس سے پہلے کہ ایسا ہو یہوواہ خدا اُن سب کو ہلاک کر دے گا جو اُس کے احکام پر چلنے سے انکار کرتے ہیں۔ البتہ وہ رحیم ہے اس لئے وہ لوگوں کو اس آنے والی تباہی سے آگاہ کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی روش بدل کر اُس کی مرضی بجا لائیں۔ (‏یسعیاہ ۵۵:‏۶، ۷‏)‏ اور اسی وجہ سے ہمارے زمانے میں ”‏ہر قوم اور قبیلہ اور اہلِ‌زبان اور اُمت“‏ کو آگاہ کِیا جا رہا ہے کہ ”‏خدا سے ڈرو اور اُس کی تمجید کرو کیونکہ اُس کی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے اور اُسی کی عبادت کرو جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور پانی کے چشمے پیدا کئے۔“‏ (‏مکاشفہ ۱۴:‏۶، ۷‏)‏ کیا آپ اس آگاہی پر عمل کر رہے ہیں؟ تو پھر آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ دوسرے لوگوں کو سچے خدا کے بارے میں جاننے اور اُس کی عبادت کرنے میں مدد دیں۔‏

۸.‏ بائبل کی بنیادی سچائیوں کے بارے میں سیکھنے کے بعد ہمیں کیا کرنے کی خواہش رکھنی چاہئے؟‏

۸ یہوواہ خدا ایسے لوگوں کی عبادت کو قبول نہیں کرتا جو اُس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن اُس کے حکموں پر عمل نہیں کرتے۔ بلکہ خدا چاہتا ہے کہ لوگ ”‏اُس کی مرضی کے علم“‏ کو حاصل کرکے اسے عمل میں لائیں۔ (‏کلسیوں ۱:‏۹، ۱۰‏)‏ اس وجہ سے خلوص‌دل لوگ بائبل کی بنیادی سچائیوں کے بارے میں سیکھنے کے بعد پختگی کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ یہوواہ خدا کو بہتر طور پر جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ اُس کے کلام کے بارے میں اپنی سمجھ کو بڑھانا چاہتے ہیں تاکہ وہ خدا کے حکموں پر بہتر طور پر عمل کر سکیں۔ وہ خود میں یہوواہ خدا کی خوبیاں پیدا کرنے اور ہر معاملے میں خدا کی سوچ کو اپنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ دل‌وجان سے اُس کام میں حصہ لیتے ہیں جس کا حکم خدا نے اپنے کلام میں دیا ہے۔ کیا آپ بھی ان لوگوں میں شامل ہیں؟—‏مرقس ۱۳:‏۱۰؛‏ عبرانیوں ۵:‏۱۲–‏۶:‏۳‏۔‏

۹.‏ آجکل یہوواہ کی عبادت کرنے والے لوگ متحد کیوں ہیں؟‏

۹ بائبل میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہوواہ خدا کی عبادت کرنے والے لوگوں کو متحد ہونا چاہئے۔ (‏افسیوں ۴:‏۱-‏۳‏)‏ یہ بات سچ ہے کہ دُنیا میں زیادہ‌تر لوگ بٹے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم سب خطاکار ہیں لیکن پھر بھی سچے خدا کی عبادت کرنے والوں میں مثالی اتحاد پایا جانا چاہئے۔ یسوع مسیح نے دُعا کی تھی کہ اُس کے سب شاگرد ایک ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ ان لوگوں کو یہوواہ خدا اور یسوع مسیح کے ساتھ دوستی رکھنی چاہئے اور اُنہیں آپس میں بھی متحد ہونا چاہئے۔ (‏یوحنا ۱۷:‏۲۰، ۲۱‏)‏ اس اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے یہوواہ خدا نے مسیحی کلیسیا کا انتظام کِیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے۔‏

اتحاد کی وجوہات

۱۰.‏ (‏ا)‏ اس کتاب میں دئے گئے سوالوں کے جواب دینے کے لئے بائبل کو استعمال کرنے سے ہم خود میں کون سی خوبیاں پیدا کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ پیراگراف میں دئے گئے سوالات کے جواب دیتے وقت اس بات پر غور کریں کہ ان سات نکات کا ہمارے اتحاد سے کیا تعلق ہے۔‏

۱۰ اس پیراگراف میں ہمارے اتحاد کی سات وجوہات بتائی گئی ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک پر غور کرتے ہوئے اُن سوالوں کے جواب بھی دیں جو ساتھ میں دئے گئے ہیں۔ ایسا کرتے وقت اِس بات پر بھی غور کریں کہ یہ نکتے یہوواہ خدا اور مسیحی بہن‌بھائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے میں آپ کے لئے کیسے فائدہ‌مند ثابت ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُن صحیفوں کو بھی بائبل میں پڑھیں جن کا اس پیراگراف میں حوالہ تو دیا گیا ہے لیکن جنہیں درج نہیں کِیا گیا ہے۔ ایسا کرنے سے آپ خود میں حکمت، فہم اور اچھے اور بُرے میں تمیز کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔—‏امثال ۵:‏۱، ۲؛‏ فلپیوں ۱:‏۹-‏۱۱‏۔‏

‏(‏۱)‏ ہم سب یہوواہ خدا کے معیاروں کو تسلیم کرتے ہیں۔‏ ”‏سارے دل سے [‏یہوواہ]‏ پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔ اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔“‏—‏امثال ۳:‏۵، ۶‏۔‏

ہمیں فیصلے کرتے وقت یہوواہ خدا کی راہنمائی کیوں حاصل کرنی چاہئے؟ (‏زبور ۱۴۶:‏۳-‏۵؛‏ یسعیاہ ۴۸:‏۱۷‏)‏

‏(‏۲)‏ ہم سب خدا کے کلام سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔‏ ”‏جب خدا کا پیغام ہماری معرفت تمہارے پاس پہنچا تو تُم نے اُسے آدمیوں کا کلام سمجھ کر نہیں بلکہ (‏جیسا حقیقت میں ہے)‏ خدا کا کلام جان کر قبول کِیا اور وہ تُم میں جو ایمان لائے ہو تاثیر بھی کر رہا ہے۔“‏—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۱۳‏۔‏

اپنی سمجھ کے مطابق فیصلہ کرنا ہمارے لئے نقصاندہ کیوں ثابت ہو سکتا ہے؟ (‏امثال ۱۴:‏۱۲؛‏ یرمیاہ ۱۰:‏۲۳، ۲۴؛‏ ۱۷:‏۹‏)‏

اگر ہم یہ نہیں جانتے کہ خدا کے کلام میں ایک معاملے کے بارے میں کونسی ہدایت دی گئی ہے تو ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ (‏امثال ۲:‏۳-‏۵؛‏ ۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶، ۱۷‏)‏

‏(‏۳)‏ ہم سب اُس تعلیم سے فائدہ حاصل کرتے ہیں جو یہوواہ خدا اپنی تنظیم کے ذریعے مہیا کرتا ہے۔‏ ”‏تیرے سب فرزند [‏یہوواہ]‏ سے تعلیم پائیں گے اور تیرے فرزندوں کی سلامتی کامل ہوگی۔“‏ (‏یسعیاہ ۵۴:‏۱۳‏)‏ ”‏محبت اور نیک کاموں کی ترغیب دینے کے لئے ایک دوسرے کا لحاظ رکھیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہونے سے باز نہ آئیں جیسا بعض لوگوں کا دستور ہے بلکہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور جس قدر اُس دن کو [‏یعنی عدالت کے دن کو]‏ نزدیک ہوتے ہوئے دیکھتے ہو اُسی قدر زیادہ کِیا کرو۔“‏—‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏۔‏

جب ہم اُس روحانی خوراک کا بھرپور استعمال کرتے ہیں جو یہوواہ خدا مہیا کرتا ہے تو ہمیں کونسا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟ (‏یسعیاہ ۶۵:‏۱۳، ۱۴‏)‏

‏(‏۴)‏ کوئی انسان نہیں بلکہ یسوع مسیح ہی ہمارا پیشوا ہے۔‏ ”‏تُم ربّی نہ کہلاؤ کیونکہ تمہارا اُستاد ایک ہی ہے اور تُم سب بھائی ہو۔ اور زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہے جو آسمانی ہے۔ اور نہ تُم ہادی [‏یعنی پیشوا]‏ کہلاؤ کیونکہ تمہارا ہادی ایک ہی ہے یعنی مسیح۔“‏—‏متی ۲۳:‏۸-‏۱۰‏۔‏

کیا ہمیں خود کو کسی دوسرے سے افضل خیال کرنا چاہئے؟ (‏رومیوں ۳:‏۲۳، ۲۴؛‏ ۱۲:‏۳‏)‏

‏(‏۵)‏ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت ہی اُن تمام مسائل کو حل کرے گی جن کا انسان کو سامنا ہے۔‏ ”‏تُم اِس طرح دُعا کِیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تُم کو مل جائیں گی۔“‏—‏متی ۶:‏۹، ۱۰،‏ ۳۳‏۔‏

جب ہم ’‏پہلے خدا کی بادشاہی کی تلاش کرتے ہیں‘‏ تو اس سے ہمارا اتحاد کیوں برقرار رہتا ہے؟ (‏میکاہ ۴:‏۳؛‏ ۱-‏یوحنا ۳:‏۱۰-‏۱۲‏)‏

‏(‏۶)‏ یہوواہ کی پاک روح اُس کی عبادت کرنے والوں میں ایسی خوبیاں پیدا کرتی ہے جن سے اُن کا اتحاد برقرار رہتا ہے۔‏ ”‏روح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ [‏اور]‏ پرہیزگاری ہے۔“‏—‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏۔‏

خدا کی پاک روح کے پھل پیدا کرنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ (‏اعمال ۵:‏۳۲‏)‏

اگر ہمیں یہوواہ کی پاک روح حاصل ہے تو ہم اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں سے کیسے پیش آئیں گے؟ (‏یوحنا ۱۳:‏۳۵؛‏ ۱-‏یوحنا ۴:‏۸،‏ ۲۰، ۲۱‏)‏

‏(‏۷)‏ سچے خدا کی عبادت کرنے والے تمام لوگ اُس کی بادشاہت کی مُنادی کرتے ہیں۔‏ ”‏بادشاہی کی اِس خوشخبری کی مُنادی تمام دُنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“‏—‏متی ۲۴:‏۱۴‏۔‏

ہمیں اس کام میں بھرپور حصہ لینے کی خواہش کیوں رکھنی چاہئے؟ (‏متی ۲۲:‏۳۷-‏۳۹؛‏ رومیوں ۱۰:‏۱۰‏)‏

۱۱.‏ متحد ہو کر یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے ہمیں کونسا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟‏

۱۱ متحد ہو کر یہوواہ خدا کی عبادت کرنے سے ہم اُس کے اور اپنے مسیحی بہن‌بھائیوں کے اَور زیادہ نزدیک ہو جائیں گے۔ زبور ۱۳۳:‏۱ میں یوں لکھا ہے:‏ ”‏دیکھو!‏ کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم ملکر رہیں۔“‏ دُنیا میں ہمیں بدکاری، خودغرضی اور ظلم‌وتشدد کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں اُن لوگوں کے ساتھ جمع ہونا ہمارے لئے بہت ہی تسلی‌بخش ہے جو یہوواہ خدا سے محبت رکھتے اور اُس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔‏

دُنیاوی سوچ میں پڑنے سے خبردار رہیں

۱۲.‏ ہمیں اس سوچ سے کیوں کنارہ کرنا چاہئے کہ ہمیں خدا اور اُس کے احکام کی ضرورت نہیں ہے؟‏

۱۲ ہمیں ہر اُس بات سے خبردار رہنا چاہئے جس سے ہمارے آپس کے اتحاد کو خطرہ ہو۔ مثال کے طور پر ہمیں اس سوچ سے کنارہ کرنا چاہئے کہ ہمیں خدا اور اُس کے احکام کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا کے کلام سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ شیطان ہی نے یہ سوچ انسان کے دل میں ڈالی ہے۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴؛‏ مکاشفہ ۱۲:‏۹‏)‏ یاد کریں کہ شیطان نے آدم اور حوا کو خدا کے حکم کی خلاف‌ورزی کرنے پر اُکسایا تھا۔ اُس کی بات مان کر اُنہوں نے ایک ایسا فیصلہ کِیا جس کا بُرا نتیجہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ (‏پیدایش ۳:‏۱-‏۶،‏ ۱۷-‏۱۹‏)‏ دُنیا میں خدا کے احکام کو نظرانداز کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ ایسی سوچ کا اثر ہم پر بھی پڑ سکتا ہے اس لئے ہمیں اس سے کنارہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔‏

۱۳.‏ کس بات سے ظاہر ہوگا کہ ہم نئی دُنیا میں رہنے کی تیاری کر رہے ہیں؟‏

۱۳ یہوواہ خدا کا وعدہ ہے کہ وہ اس بدکار دُنیا کو تباہ کرکے نئے آسمان اور نئی زمین کو قائم کرے گا ”‏جن میں راستبازی بسی رہے گی۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏)‏ یہ جان کر ہمیں ابھی سے ہی اس آنے والے دَور میں رہنے کی تیاری کرنی چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں اس ہدایت پر عمل کرنا چاہئے کہ ”‏نہ دُنیا سے محبت رکھو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں۔ جو کوئی دُنیا سے محبت رکھتا ہے اُس میں باپ کی محبت نہیں۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵‏)‏ لہٰذا ہم اس دُنیا کی سوچ یعنی اس میں پائی جانے والی جنسی بدکاری، ظلم، خودغرضی اور نافرمانی سے دُور رہیں گے۔ خطاکار ہونے کے باوجود ہمیں یہوواہ خدا کی تعلیم پر دھیان دینے اور اس پر دل سے عمل کرنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ جی‌ہاں، ہمارے چال‌چلن سے صاف ظاہر ہونا چاہئے کہ ہم خدا کی مرضی پوری کرنے کی دلی خواہش رکھتے ہیں۔—‏زبور ۴۰:‏۸‏۔‏

۱۴.‏ (‏ا)‏ ہمیں یہوواہ خدا کی راہنمائی حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے میں دیر کیوں نہیں لگانی چاہئے؟ (‏ب)‏ پیراگراف میں جن صحیفوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان کا ہم پر کیسا اثر ہونا چاہئے؟‏

۱۴ یہوواہ خدا اپنے مقررہ وقت پر اِس بُری دُنیا کو اس کی سوچ اور طورطریقوں سمیت تباہ کر دے گا۔ اُس وقت یہوواہ ایسے لوگوں کا لحاظ نہیں رکھے گا جو اُس کی عبادت کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن جن کے دل میں اِس بُری دُنیا کی لگن ہے۔ لہٰذا، پورے دل سے خدا کی مرضی بجا لانے میں دیر نہ لگائیں۔ (‏لوقا ۱۳:‏۲۳، ۲۴؛‏ ۱۷:‏۳۲؛‏ ۲۱:‏۳۴-‏۳۶‏)‏ یہوواہ اپنی تنظیم اور اپنے کلام کے ذریعے تعلیم فراہم کر رہا ہے۔ یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ اس تعلیم سے فائدہ حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔ یہ لوگ متحد ہو کر یہوواہ کی راہ پر چل رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہوواہ کے بارے میں ہمارا علم جتنا زیادہ بڑھے گا اتنی ہی زیادہ اُس کے لئے ہماری محبت بھی بڑھے گی اور ہم دل‌وجان سے اُس کی خدمت کرنے کو تیار ہوں گے۔‏

اِن سوالات پر تبصرہ کریں

‏• عبادت کے سلسلے میں یہوواہ خدا شروع ہی سے کیا چاہتا تھا؟‏

‏• بائبل کی بنیادی سچائیوں کے بارے میں سیکھنے کے بعد ہمیں کس کوشش میں رہنا چاہئے؟‏

‏• ہم میں سے ہر ایک سچے خدا کی عبادت کرنے والوں کا اتحاد برقرار رکھنے کے لئے کیا کر سکتا ہے؟‏

‏[‏صفحہ ۴ پر تصویر]‏

‏”‏حلیم مُلک کے وارث ہوں گے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں