سوالات جو دلچسپی رکھنے والے لوگ اکثر پوچھتے ہیں
اگر خدا محبت ہے تو وہ بدکاری کی اجازت کیوں دیتا ہے؟
خدا شرارت کی اجازت تو دیتا ہے لیکن زمین پر لاکھوں لوگوں نے دانستہ طور پر اسے اپنا دستور بنا لیا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ جنگیں کرتے ہیں، بچوں پر بم گِراتے ہیں، زمین کو تباہوبرباد کرتے ہیں اور قحطزدگیوں کا باعث بنتے ہیں۔ لاکھوں سگریٹنوشی کرنے کی وجہ سے پھیپھڑوں کے سرطان اور زناکاری کی وجہ سے جنسی طور پر لگنے والی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، بےتحاشا شرابنوشی کرنے سے جگر کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور اِسی طرح کی کئی مشکلات میں پھنس جاتے ہیں۔ درحقیقت ایسے لوگ تمام شرارت کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ وہ صرف سزاؤں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ جب وہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹتے ہیں تو چلّا اُٹھتے ہیں، ”میرے ہی ساتھ کیوں؟“ چنانچہ وہ امثال ۱۹:۳ کے مطابق خدا پر الزام لگاتے ہیں: ”آدمی کی حماقت اُسے گمراہ کرتی ہے اور اُس کا دل خداوند سے بیزار ہوتا ہے۔“ تاہم اگر خدا اُنہیں اُنکے بُرے کاموں سے روکتا ہے تو وہ اپنی آزادی کے سَلب ہو جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہیں!
یہوواہ کی طرف سے بدکاری کو روا رکھنے کی بڑی وجہ شیطان کے چیلنج کا جواب دینا ہے۔ شیطان ابلیس نے کہا تھا کہ زمین پر خدا ایسے انسان پیدا نہیں کر سکتا جو آزمائش کے تحت اُسکے وفادار رہینگے۔ (ایوب ۱:۶-۱۲؛ ۲:۱-۱۰) یہوواہ شیطان کو اپنے چیلنج کو ثابت کرنے کے لئے موقع دیتا ہے۔ (خروج ۹:۱۶) شیطان اب اپنے چیلنج کو ثابت کرنے کی خاطر انسانوں کو خدا کے خلاف کرنے کی کوشش میں مصیبتیں لاتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۲) تاہم، ایوب اپنی راستی پر قائم رہا۔ یسوع نے بھی ایسا کِیا۔ آجکل سچے مسیحی بھی ایسا کرتے ہیں۔—ایوب ۲۷:۵؛ ۳۱:۶؛ متی ۴:۱-۱۱؛ ۱-پطرس ۱:۶، ۷۔
زمینی فردوس پر ایمان اچھا ہے جہاں لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے لیکن کیا یہ ناقابلِیقین نہیں ہے؟
بائبل کے مطابق نہیں۔ یہ ناقابلِیقین لگتا ہے کیونکہ نوعِانسان صدیوں سے بُرائی سے نبردآزما ہے۔ یہوواہ نے زمین کی تخلیق کے بعد نوعِانسان کو اِسے راستباز مردوں اور عورتوں سے معمور کرنے کا حکم دیا جو اِسکی نباتاتی اور حیواناتی زندگی کی نگہداشت کرینگے اور اِسے برباد کرنے کی بجائے اِس کے حسن میں اضافہ کریں گے۔ (۱۲ اور ۱۷ صفحات کو دیکھیں۔) اِس موعودہ فردوس کے ناقابلِیقین ہونے کی بجائے، موجودہ افسوسناک حالت کا جاری رہنا نہایت بُرا ہے۔ فردوس یقیناً اِسکی جگہ لے لیگا۔
مَیں بائبل کا تمسخر اُڑانے والوں اور اُسے خرافات اور غیرسائنسی کہنے والوں کو کیسے جواب دے سکتا ہوں؟
اِن وعدوں پر ایمان خوشاعتقادی کا معاملہ نہیں ہے۔ ”ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے۔“ خدا کے کلام کا مطالعہ کرنے سے، اِسکی حکمت واضح ہو جاتی ہے اور ایمان بڑھتا ہے۔—رومیوں ۱۰:۱۷؛ عبرانیوں ۱۱:۱۔
بائبل سے متعلق اثریّات بڑی حد تک بائبل کی تاریخی صحتوصداقت کی تصدیق کرتے ہیں۔ حقیقی سائنس بائبل کیساتھ مطابقت رکھتی ہے۔ بائبل درجذیل حقائق کی بابت دُنیاوی سائنسدانوں کی دریافت سے پہلے بتا چکی تھی: ارتقائی مراحل جن سے گزر کر زمین موجودہ حالت تک پہنچی، جیسے کہ زمین گول ہے، جیسے کہ یہ خلا میں مُعلّق ہے اور یہ کہ پرندے نقلمکانی کرتے ہیں۔—پیدایش، باب ۱؛ یسعیاہ ۴۰:۲۲؛ ایوب ۲۶:۷؛ یرمیاہ ۸:۷۔
بائبل کا الہام تکمیلشُدہ پیشینگوئیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ دانیایل نے عالمی طاقتوں کے عروجوزوال، نیز مسیحا کے ظہور اور اُسکے ہلاک کئے جانے کی بابت بہت پہلے پیشینگوئی کر دی تھی۔ (دانیایل، ابواب ۲، ۸؛ ۹:۲۴-۲۷) آجکل، ”اخیر زمانہ“ کی نشاندہی کرنے والی دیگر پیشینگوئیاں تکمیلپذیر ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵؛ متی، باب ۲۴) پہلے سے کسی بات کا علم رکھنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ (یسعیاہ ۴۱:۲۳) مزید تصدیق کیلئے، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کی شائعکردہ کُتب دی بائبل—گاڈز ورڈ اور مینز؟ اور از دیئر اے کریئٹر ہو کیئرز اباؤٹ یو؟ کو دیکھیں۔
مَیں بائبل سے متعلق سوالات کا جواب کیسے دے سکتا ہوں؟
آپ کو بائبل کا مطالعہ اور اِس پر غوروفکر ضرور کرنا چاہئے نیز راہنمائی کیلئے دُعا میں خدا سے اُس کی روح کیلئے بھی درخواست کریں۔ (امثال ۱۵:۲۸؛ لوقا ۱۱:۹-۱۳) بائبل بیان کرتی ہے: ”اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خدا سے مانگے جو بغیر ملامت کئے سب کو فیاضی کے ساتھ دیتا ہے۔“ (یعقوب ۱:۵) نیز، بائبل کا مطالعہ کرنے کیلئے ایسی امدادی کتابیں بھی دستیاب ہیں جنکا استعمال کِیا جانا چاہئے۔ عام طور پر دوسرے اشخاص کی مدد درکار ہوتی ہے جیسے کہ فلپس کے حبشی خوجہ کے ساتھ مطالعہ کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔ (اعمال ۸:۲۶-۳۵) یہوواہ کے گواہ دلچسپی رکھنے والے لوگوں کے ساتھ اُن کے گھروں میں بِلامعاوضہ بائبل مطالعے کراتے ہیں۔ اس خدمت کیلئے بِلاجھجھک درخواست کریں۔
بہتیرے یہوواہ کے گواہوں کی مخالفت اور اُن کے ساتھ مطالعہ کرنے سے منع کیوں کرتے ہیں؟
یسوع کی منادی کی مخالفت کی جاتی تھی اور اُس نے کہا تھا کہ اُس کے پیروکاروں کی بھی مخالفت کی جائے گی۔ کچھ لوگوں کے یسوع کی تعلیم سے متاثر ہونے پر مذہبی مخالفین نے کٹھورپن سے جواب دیا: ”کیا تم بھی گمراہ ہو گئے؟ بھلا سرداروں یا فریسیوں میں سے بھی کوئی اُس پر ایمان لایا؟“ (یوحنا ۷:۴۶-۴۸؛ ۱۵:۲۰) آپ کو گواہوں کے ساتھ مطالعہ کرنے سے روکنے والے بیشتر لوگ یا تو لاعلم ہیں یا متعصّب ہیں۔ گواہوں کے ساتھ مطالعہ کر کے خود دیکھیں کہ آیا آپ کی بائبل سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے کہ نہیں۔—متی ۷:۱۷-۲۰۔
گواہ ان لوگوں کے پاس کیوں جاتے ہیں جنکا اپنا مذہب ہے؟
ایسا کرنے سے وہ یسوع کے نمونے پر چلتے ہیں۔ وہ یہودیوں کے پاس گیا۔ یہودیوں کا اپنا مذہب تھا جو کئی طریقوں سے وہ خدا کے کلام سے منحرف ہو چکا تھا۔ (متی ۱۵:۱-۹) ہر قوم کا کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہے، خواہ وہ دُنیائےمسیحیت سے تعلق رکھتے ہیں یا غیرمسیحی اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ لوگوں کیلئے یہ نہایت ضروری ہے کہ ایسے اعتقادات پر قائم رہیں جو خدا کے کلام سے مطابقت رکھتے ہیں اور ایسا کرنے میں اُنکی مدد کرنے کیلئے گواہوں کی کوششیں پڑوسی کیلئے محبت کو ظاہر کرتی ہیں۔
کیا گواہ صرف اپنے مذہب ہی کو درست خیال کرتے ہیں؟
اپنے مذہب کی بابت ہر سنجیدہ شخص کو سوچنا چاہئے کہ آیا اُسکا مذہب صحیح ہے۔ ورنہ وہ اُس کا حصہ کیوں ہے؟ مسیحیوں کو نصیحت کی گئی ہے: ”سب باتوں کو آزماؤ۔ جو اچھی ہو اُسے پکڑے رہو۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۲۱) ایک شخص کو یقین کر لینا چاہئے کہ اُسکے اعتقادات کو صحائف کی تائید حاصل ہے کیونکہ صرف ایک ہی سچا ایمان ہے۔ افسیوں ۴:۵ اِسکی تصدیق کرتی ہے ”ایک ہی خداوند ہے۔ ایک ہی ایمان۔ ایک ہی بپتسمہ۔“ یسوع نے جدید، بےضابطہ نظریے سے اتفاق نہیں کِیا تھا کہ بہت سے راستے، بہت سے مذاہب، سب نجات کی طرف لے جاتے ہیں۔ اِسکی بجائے، اُس نے کہا تھا: ”وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سکڑا ہے جو زندگی کو پہنچاتا ہے اور اُسکے پانے والے تھوڑے ہیں۔“ یہوواہ کے گواہ یقین رکھتے ہیں کہ اُنہوں نے اُس راستے کو تلاش کر لیا ہے۔ ورنہ، وہ کسی اور مذہب کی تلاش کرتے۔—متی ۷:۱۴۔
کیا وہ یقین رکھتے ہیں کہ صرف وہی نجات پائینگے؟
ہرگز نہیں۔ گزشتہ زمانوں کے لاکھوں اشخاص جو یہوواہ کے گواہ نہیں تھے قیامت پائینگے اور زندگی کا موقع حاصل کرینگے۔ تاہم، اِس وقت بہتیرے زندہ لوگ ”بڑی مصیبت“ سے پہلے سچائی اور راستبازی اختیار کر سکتے ہیں اور وہ نجات پائینگے۔ علاوہازیں، یسوع نے کہا تھا کہ ہم کسی کے منصف نہیں ٹھہر سکتے۔ ہم ظاہری شکلوصورت کو دیکھتے ہیں؛ جبکہ خدا دل کو دیکھتا ہے۔ وہ صحیح اندازہ لگا کر رحم کیساتھ عدالت کرتا ہے۔ اُس نے عدالت کو ہماری بجائے یسوع کے ہاتھوں میں سونپا ہے۔—متی ۷:۱-۵؛ ۲۴:۲۱؛ ۲۵:۳۱۔
کیا یہوواہ کے گواہوں کے اجلاسوں پر حاضر ہونے والوں سے مالی عطیات کی توقع کی جاتی ہے؟
مالی عطیات کے سلسلے میں، پولس رسول نے کہا: ”جس قدر ہر ایک نے اپنے دل میں ٹھہرایا ہے اسی قدر دے نہ دریغ کرکے اور نہ لاچاری سے کیونکہ خدا خوشی سے دینے والے کو عزیز رکھتا ہے۔“ (۲-کرنتھیوں ۹:۷) یہوواہ کے گواہوں کے کنگڈم ہال اور کنونشن آڈیٹوریمز میں کبھی کوئی چندے اکٹھے نہیں کئے جاتے۔ اس مقصد کیلئے بکس رکھے جاتے ہیں تاکہ عطیہ دینے کے خواہشمند آسانی سے ایسا کر سکیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کوئی کتنا دیتا ہے۔ بعض دوسروں سے زیادہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں؛ جبکہ بعض کچھ بھی دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یسوع نے یروشلیم میں ہیکل کے اندر خزانے کے بکس میں عطیہ ڈالنے والوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے صحیح نظریہ ظاہر کِیا: پیسے کی مالیت کی بجائے اصل اہمیت دینے کی صلاحیت اور جذبے کی ہے۔—لوقا ۲۱:۱-۴۔
اگر مَیں یہوواہ کا گواہ بن جاتا ہوں تو کیا مجھ سے اُنکی طرح منادی کرنے کی توقع کی جائیگی؟
جب کوئی مسیح کی بادشاہت کے تحت موعودہ زمینی فردوس کے علم سے معمور ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں کو اُس علم میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ آپ بھی ایسا کرنا چاہیں گے۔ یہ خوشخبری ہے!—اعمال ۵:۴۱، ۴۲۔
ایسا کرنا یہ ظاہر کرنے کا ایک اہم طریقہ ہے کہ آپ یسوع مسیح کے شاگرد ہیں۔ بائبل میں یسوع کو ”سچا اور برحق گواہ“ کہا گیا ہے۔ اپنی زمینی زندگی کے دوران اس نے یہ کہتے ہوئے منادی کی: ”آسمان کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے،“ نیز اُس نے یہی کام کرنے کیلئے اپنے شاگردوں کو بھیجا۔ (مکاشفہ ۳:۱۴؛ متی ۴:۱۷؛ ۱۰:۷) بعدازاں، یسوع نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا: ”پس تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بناؤ . . . اور اُنکو . . . تعلیم دو۔“ اُس نے یہ پیشینگوئی بھی کی تھی کہ خاتمے سے پہلے، ”بادشاہی کی اِس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو۔“—متی ۲۴:۱۴؛ ۲۸:۱۹، ۲۰۔
خوشخبری سنانے کے بہت سے طریقے ہیں۔ دوستوں اور واقفکاروں کیساتھ باتچیت اکثر ایسا کرنے کی راہ کھول دیتی ہے۔ بعض خطوط یا ٹیلیفون کے ذریعے ایسا کرتے ہیں۔ بعض اپنے کسی واقفکار کو ایسا لٹریچر بھیجتے ہیں جو اُنکے خیال میں اس کیلئے خاص طور پر دلچسپی کا باعث ہوگا۔ ہر ایک تک پہنچنے کی خواہش کیساتھ گواہ پیغام لیکر گھرباگھر جاتے ہیں۔
بائبل میں یہ پُرتپاک دعوت پائی جاتی ہے: ”روح اور دُلہن کہتی ہیں آ اور سننے والا بھی کہے آ۔ اور جو پیاسا ہو وہ آئے اور جو کوئی چاہے آبِحیات مُفت لے۔“ (مکاشفہ ۲۲:۱۷) فردوسی زمین اور اُس کی برکات کی بابت دوسروں کو بتانے کا کام خوشی کے ساتھ یعنی اُس خوشخبری میں دوسروں کو شریک کرنے کی خواہش سے معمور دل سے کِیا جانا چاہئے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کے یہوواہ کے گواہوں اور اُن کے اعتقادات کے متعلق اَور بھی سوال ہونگے۔ شاید ان سوالات میں سے بعض متنازع نوعیت کے ہوں۔ ہم آپکے سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس بروشر میں اتنی جگہ نہیں ہے، اس لئے ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ مقامی طور پر گواہوں سے پوچھیں۔ آپ اُنکے کنگڈم ہال میں اُن کے اجلاس پر یا جب وہ آپ کے گھر آتے ہیں تو ایسا کر سکتے ہیں۔ یا آپ اپنے سوالات نیچے فہرستکردہ مناسب پتے پر واچ ٹاور کو بھیج سکتے ہیں۔